دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۴۰واں حصّہ

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-03-30


کچھ دوسرے لوگوں نے بھی ہمیں خوش آمدید کہا اور ہماری پذیرائی کی۔ پھر ایک عہدیدار نے ہمارے منظم پروگرام کی اس طرح سے وضاحت دی:

- ہم لوگ یہاں سے میڈیکل چیک اپ کیلئے فضائی ڈپارٹمنٹ میں جائیں گے اور خلاء بان حضرات دوسروں سے  جدا ہوجائیں گے۔ اور اس کے بعد انشاء اللہ ۴۸ گھنٹے بعد آپ لوگ اپنے گھر والوں سے ملیں گے۔

بس میں جاکر بیٹھنے تک کے راستے میں، میں استقبال کرنے کیلئے آئے لوگوں میں اپنی بیوی اور اپنی بہن کو ڈھونڈتا رہا؛ لیکن میں انہیں ڈھونڈ نہیں سکا۔ ہال کے باہر سے چیخنے، رونے وغیرہ کی آوزیں آرہی تھیں کہ بس ایئرپورٹ سے ایئرفورس کی طرف  روانہ ہوئی۔ میں بس میں آگے کی طرف، ڈرائیور کے پاس کھڑا ہوگیا تاکہ شیشے سے باہر کی طرف اچھی طرح سے دیکھ سکوں۔ ابھی ہم ایئرپورٹ سے زیادہ دور نہیں ہوئے تھے کہ میں نے سڑک کے کنارے اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں کو دیکھا۔ میری بیوی بس کے قریب آگئی اور مجھے صحیح سے دیکھنے کیلئے وہ بس کو روکوانے کی کوشش کر رہی تھی۔ جیسے وہ کبوتر کی طرح پھڑپھڑا رہی ہو۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں سب سے زیادہ اُسے پسند کرتا ہوں اور میں اُس سے پہلے زیادہ محبت کروں گا۔ خدایا شکر،  خدایا میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے محبت کرنے کی نعمت سے مالا مال کیا۔ خدایا تو کس قدر رحیم ہے!

بس کو نہ روکنے کا حکم تھا؛ میں نے مسکراتے ہوئے سلام کیا اور ہاتھ کے اشارے سےمہری سے پرسکون رہنے کی درخواست  کی؛ لیکن وہ اُسی طرح مجھے پکار رہی تھی اور بس پر مکے برسا رہی تھی۔ میں اسے اچھی طرح سمجھ رہا تھا اور مجھے پتہ تھا کہ دس سال جدائی کا غم و غصہ اُس کے صبر اور تنہائی پر حاوی ہو رہا تھا۔ خدایا! صرف تو ہے جودلوں کے مخفی رازوں سے آگاہ ہے؛ صرف تو۔

گھر کے کچھ اور افراد بھی بس گزرنے والے راستے پر انتظار کر رہے تھے، وہ راستے میں کچھ دیر تک ہمارے ساتھ بھاگتے رہے اور وہ خوشی سے ہاتھ ہلاتے رہے۔

ہم تہران شہر سے نکل گئے؛ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ سڑکوں پر رش زیادہ اور لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ وہ افراد جو ہمارے نزدیک اور کنارے سے گزر رہے تھے، وہ خوش ہوکر مہربانی سے ہاتھ ہلا رہے تھے  اور اپنی مسکراہٹ سے ہمیں خوش آمدید کہہ رہے تھے؛ میں سوچتا ہوں کہ ایسے لوگ بے نظیر ہیں۔

ہم قصر فیروزہ نامی علاقے کی حدود میں پہنچ گئے۔ ہمیں ایک چند طبقوں کی عمارت  میں لے گئے جس کے تیسرے طبقے پر چند بیڈ لگے ہوئے تھے۔ دوسرے طبقات پر ہمارے وہ ساتھی تھے جو ہم سے پہلے آزاد ہوگئے تھے اور اُن کا میڈیکل چیک اَپ آخری مراحل میں تھا۔ جس کی بھی ہم سے ملاقات ہوتی وہ خندانہ پیشانی اور محبت سے  ہمارا استقبال کرتا؛ ہمارے لیے ہر چیز دلچسپ تھی اور ہم وہاں کی ہر چیز کو غور سے دیکھ رہے تھے۔

اس مدت میں، مسئولین نے ہمارے لیے پرسکون اور دلپذیر ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں کپڑے، جوتے اور دوسرے ضروری سامان کے ساتھ کچھ پیسے بھی دیئے گئے۔ فضائی افواج کے کچھ عہدیدار پائلٹ ہم سے ملنے آئے۔ ہماری نائب صدر سے ملاقات ہوئی اور اُس کے بعد میں نے اپنی بہن کے گھر فون کیا۔ الٰہی شکر! میں نے پرواز کرنے سے کچھ منٹ پہلے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ جب میں واپس آؤں گا تو تمہیں فون کروں گا اور اب دس سالوں بعد میں نے اپنے وعدے کو پورا کردیا۔ میں نے اُس سے کہا:

-  خدا نے مجھے یہ توفیق دی کہ میں بالآخر دس سال بعد تمہاری مہربان آواز سن سکوں۔ بچوں کے بارے میں بتاؤ، ۔۔۔

ٹیلی فون لائنیں مصروف ہونے کی وجہ سے میں اپنی بیوی سے فون پر رابطہ نہیں کرسکا۔ میں نے اگلے دن صبح فون کیا، مہری کے بات کرتے ہی میں اُس کی آواز کو پہچان گیااور میں نے اپنے ضمیر کو کنٹرول کرتے ہوئے جس میں دس سال صبر اور عشق کا تلاطم اٹھ رہا تھا اُسے مبارک باد دی۔ اُس نے جو جواب دیا اُس میں مجھے نسوانی خوشی کا احساس ہوا۔ خدایا شکر، الٰہی شکر کہ میرے فرزند کی ماں، محبت سے سرشار ایک انمول ہیرا ہے!

اس عرصہ میں میرے کچھ رشتہ دار مجھ سے ملنے کیلئے آئے؛ میں اپنی اسیری کے دوران اپنی زوجہ کی والدہ اور بہن کی وفات سے بہت ہی افسردہ اور غمگین ہوا۔ یہی ملاقاتیں تھیں کہ جس میں سب میری چھوٹی بہن کی بہت تعریفیں کر رہے تھے؛ اُس نے فداکاری کے ساتھ گھر میں میری خالی جگہ کو پر کیا تھا اور ایک پروانے کی طرح میری والدہ، زوجہ اور میرے فرزند کی دیکھ بھال کی تھی۔ مجھے اُس حوصلے، صبر اور فداکاری کے سامنے شرمندگی کا احساس ہو رہا تھا  اور میں اُس کیلئے دعائے خیر اور دنیوی و اُخروی سعادت کی آرزو کے علاوہ  کچھ نہیں کرسکتا تھا۔

میڈیکل چیک اَپ کی مدت ختم ہونے پر، نماز جماعت کی ادائیگی اور دوپہر کا کھانا دینے کے بعد، ماموں میرے پاس آئے  اور انھوں نے مجھے گھر والوں اور رشتہ داروں کے آنے  کے بارے میں بتایا۔ کچھ نیسان گاڑیوں کو پھولوں سے سجایا ہوا تھا اور ہر گاڑی کو ایک آزاد ہونے والے فرد سے مخصوص کر دیا  تھا۔ ہم لوگ ایک قافلے کی شکل میں، جلتی لائٹوں اور ہارن بجاتے ہوئے فضائی افواج کے شہداء اور فداکاروں کے احاطے کی طرف بڑھے۔ سب سے آگے میری گاڑی تھی۔ جب ہم لوگ وہاں پہنچے، سڑک کے دونوں اطراف پر لوگوں کا ٹھاٹے مارتا ہجوم ہمارے انتظار میں تھا۔ گاڑی پرجوش اور با وفا لوگوں کے درمیان سے بہت ہی مشکل سے آگے بڑھ پا رہی تھی۔ ہم کچھ میٹر آگے بڑھے ہوں گے کہ میں نے اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو دیکھا؛ انھوں نے اپنے ہاتھوں اور چہروں کو کھڑکی سے باہر نکالا ہوا تھا، میں اُن تک پہنچا۔ کتنا زبردست اور عظیم لمحہ تھا۔ ہر کوئی روتے ہوئے، ہنستے ہوئے مجھے گلے لگا رہا تھا ، پیار کر رہا تھا اور خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ میری تو ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ میری آنکھوں سے بے اختیار اشکوں کی بارش ہو رہی تھی۔میں اپنے ہر رشتہ دار کو دیکھ کر اپنے آپ سے کہتا: آہ! یہ فلاں ہے، دیکھو تو سہی ماشاء اللہ کتنا بڑا ہوگیا ہے؛ یا یہ ۔۔۔ کتنے  بوڑھے اور ڈھل گئے ہیں۔ ہر کسی کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ گاڑی میں چڑھ جائے لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ صرف میری بہن، ماموں، خالو اور میری بیٹی گاڑی میں آئے۔ میں نے آزادہ کو اپنی گود میں بٹھالیا اور میری گردن میں جو پھولوں کا ہار تھا وہ میں نے اُس کی گردن میں ڈال دیا؛ وہ اُن پھولوں کے درمیان ایک پھول لگ رہی تھی؛ میں اسے پیار کر رہا تھا اور آنسو بہا رہا تھا۔ میں کچھ دیر کیلئے تمام شور شرابے، دیوانگی اور لوگوں وغیرہ کو بھول گیا اور آزادہ سے باتیں کرنے میں مگن ہوگیا؛ میں نے اُس کی پڑھائی، اُس کے اسکول، گھر والوں اور ہرچیز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ اپنے میٹھے لہجہ اور خوبصورت  انداز میں جواب دیتی اور کہتی:

-    ہم سالوں سے آپ کے منتظر تھے اور ۔۔۔

وہ بولتی جا رہی تھی اور میں اُسے پیار کر رہا تھا ۔۔۔

ہمارے ساتھ چلنے والی ایک اور گاڑی میں ایک گروپ ویڈیو بنا رہا تھا۔ بھیڑ کی قربانی کر رہے تھے۔ پھول نچھاور کر رہے تھے۔ ٹافیاں اور سکے اچھال رہے تھے۔ اور پورا ماحول مہربانی، وفاداری اور دوستی سے بھرپور تھا۔ ایئرپورٹ میں کہ جہاں ہمارا گھر تھا وہاں بھی دس کبوتروں کو آزاد کیا  جو اپنے پر ہلاتے ہوئے نیلے آسمان کے گرد چکر لگا رہے تھے؛ یہ علامتی اور خوبصورت حرکت میرے لئے کس قدر دلنشین تھی۔

گھر کے قریب، جب گاڑی روکی تو میں نے مہری کو دیکھا جو بہت مشکل سے لوگوں کو چیرتی ہوئی میری والدہ کے ساتھ آگے آرہی تھی۔ اُن کے ہاتھ میں قرآن اور لوبان بھی تھا؛ لیکن جوش و جذبات سے سرشار عوام نے اُنہیں اور آگے آنے کا موقع نہیں دیا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور لوگوں نے مجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھالیا ۔ خدایا! خدایا! تو جانتا ہے کہ مجھ میں اس قدر محبت برداشت کرنے کی ہمت نہیں۔ میں نے اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا؛ جنگ تو ان لوگوں نے لڑی ہے، انھوں نے شہیدوں کا نذرانہ دیا ہے اور بمبوں اور راکٹوں کی وجہ سے ان کے گھر ویران ہوئے ہیں؛ ان لوگوں نے دشمن کو باہر نکالا ہے اور فداکاری سے اسلام اور وطن کی شرافت کی حفاظت کی ہے؛ تو پھر یہ لوگ کیوں مجھے ہاتھوں پر اٹھا رہے ہیں اور مجھے شرمندہ کر رہے ہیں؟ خدایا، تو جانتا ہے کہ مجھ میں اس قدر مہربانی اور بڑائی کا احسان چکانے کی ہمت نہیں۔ خدایا! میری مدد کر۔ پروردگار، میں ہزار مرتبہ شکر کرتا ہوں کہ یہ لوگ تیرے دین کے محافظ ہیں؛ عشق اور مسئولیت کے محافظ۔ وفاداری اور فداکاری کے محافظ ۔۔۔

گھر کی خوشبو سے میرا سینہ معطر ہو رہا تھا۔ میں نے مہری کو اپارٹمنٹ میں داخل ہونے والی سیڑھیوں کے پاس دیکھا: میں نے اُسے اپنی آغوش میں لیا اور اُسے جدائی ختم ہونے کی خوشخبری سنائی۔ آنسوؤں سے امان! میں نے اپنی بہن کو – جو بہت زیادہ رو رہی تھی – گلے سے لگایا،  اُس کے ہاتھوں کو چوما۔ میں نے اپنی ماں کو شوق اور دیوانگی کی شدت سے اپنی بانھوں میں بھینچ لیا ۔۔۔

ہم سیڑھیوں سے اوپر گئے؛ میری واپسی کا استقبال کرنے والے اُسی طرح اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے۔ میں نے ایک چھوٹی سی تقریر میں اس قدر محبت و بڑائی کا مظاہرہ کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کرنے کے بعد جنگ اور اسیری کے اہم ترین مسائل کا خلاصہ پیش کیا؛ اور یہ کہ ایران نے کس طرح تن تنہا خداوند متعال پر بھروسہ کرکے پوری دنیا کی طاقت اور سازشوں کا سامنا کیا اور اپنے آپ کو جھکنے نہیں دیا۔  اور ۔۔۔

آخری دنوں میں اور عراق کے کویت پر حملہ کرنے کے بعد، ایک عراقی فوجی افسر نے  ہم سے ایک گفتگو میں کہا:

-  تم لوگوں  –  ایرانیوں-  نے اس طولانی مدت میں پوری دنیا سے مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے؛ اب ہم تمہارے ساتھ ملنا چاہتے ہیں؛ شاید ہم کامیاب ہوجائیں!

اگرچہ شاید اُس کا مقصود خلیج فارس میں ہونے والی پٹرول کی جنگ میں ایران کا بھی مداخلت کرنا تھا کہ ایران نے بہت ہی سیاسی ذہانت اور ہوشیاری سے اس موذی سازش  کو کوئی اہمیت نہیں دی، لیکن پھر بھی، دشمن کا  یہ اعتراف کرنا کہ  ایران پوری دنیا کے مقابلے میں جنگ میں کامیاب رہا، ہماری لیے بہت ہی لذت بخش ، خوشحالی اور فخر کا باعث تھا۔

دس سالہ اسیری کا بوجھ ختم ہوا اور ہم خدا کی مدد سے اپنے محبوب گھر والوں کی آغوش میں واپس آئے۔ شروع کے دنوں میں، میں بہت زیادہ دقت سے معاشرے کی سوچ میں آنے والی بہت سی گہری تبدیلیوں کے بارے میں سوچتا رہا؛ جن میں سے جوانوں اور بچوں کے اندر ہونے والی بہت اہم تبدیلیاں تھیں کہ اُن کی آگاہی اور ذہانت میرے لئے بہت ہی تعجب آور تھی۔ یہ بچے دس سال پہلے والے بچوں سے کتنا بدل چکے تھے اور اپنی رائے دینے کے قابل ہوگئے تھے۔ مجھے عظیم امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد آئی کہ جو کہتے تھے:

-   ایران کو یونیورسٹی بننا چاہیے اور اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے میڈیا کے گروپس سے مدد لینی چاہیے۔

اب میں واضح طور پر اس مطلب کو سمجھ رہا تھا؛ جہاں تک کہ میں جوانوں سے بات چیت کرنے سے ڈرتا تھا کسی مسئلہ کو اٹھانے یا اس کی وضاحت دینے سے، میری عدم آگاہی آشکار ہوجائے۔

سب سے اہم مسئلہ جو قیامت تک مجھے اپنا احسان مند رکھے گا، لوگوں کا پرجوش، گرم اور مشتاقانہ استقبال تھا کہ جس کی شرمندگی کا احساس مجھے ہمیشہ ہوتا رہے گا؛ جو میں نے کیا تھا، وہ صرف میرا فوجی اور اسلامی فریضہ تھا اور بس؛ اور میں واقعاً اس قدر محبت اور پاکیزہ و سچے احساسات کے اظہار کا لائق نہیں تھا۔

میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں کا پڑوسی ہوں۔ انشاء اللہ میں اپنی آخری سانس تک خداوند متعال کے لطف و کرم اور اپنے اسلامی ملک کے اچھے لوگوں کی محبت کا قدر دان رہ سکوں۔

اختتام



 
صارفین کی تعداد: 444


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

علی کے ساتھ میری شناسائی اور ہماری ذمہ داریاں انقلاب کے ایام میں
اس کی مسکراہٹ کھانے سے اٹھتے دھویں کے پیچھے کھو گئی تھی اس نے فنگر چپس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ڈرانے کے لئے چمچہ اٹھا لیااس نے گرم گرم چپس اپنی انگلیوں میں دبایا اور مسکراتے ہوئے باہر کی راہ لی میں نے اس کا پیچھا کرنا چاہا مگر نہ کرسکی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔