یادوں بھری رات کا ۲۸۶ واں پروگرام

خلاء بازوں کے قابل فخر واقعات

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2018-12-27


ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۶ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۵  اکتوبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں حسین کاتوزیان، علی رضا نمکی اور محمود محمودی نے دفاع مقدس کے دوران پائلٹوں کی بہادری  کے واقعات کو بیان کئے۔

 

ایک مہینے والا مشن جو ایک سال طولانی ہوگیا

پروگرام کے پہلے راوی پائلٹ حسین کاتوزیان تھے۔ انھوں نے کہا: "جنگ سے ایک مہینے پہلے  اُس وقت کے صدر اور کمانڈر انچیف نے مجھے ایک مہینے کیلئے کسی کام سے شیراز بھیجا۔ میرے کام کے بالکل آخری دن، میری ذمہ داری لگائی کہ میں طیارے کی تعمیر اور اس کی دیکھ بھال کیلئے اُسے تہران کی طرف لے جاؤں۔ اس ہوائی جہاز کی مرمت ہوئی اورطے پایا کہ یہ شام کو پانچ بجے شیراز جانے کیلئے تیار ہوجائے۔ اُسی دن [۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ء] دوپہر کے دو بجے مجھے پتہ چلا کہ مہر آباد ایئرپورٹ اور ملک کے دوسرے ایئر پورٹوں پر حملہ ہوا ہے۔ میں ایئر پورٹ پہنچا تو مجھے پتہ چلا جہاں پر طیاروں کو پارک کیا جاتا ہے وہاں ایک ۷۰۷ طیارے کو آگ لگ گئی ہے اور دھماکے کے اثر سے جو ٹکڑے گرے تھے، اُس کی وجہ سے دوسرے طیاروں کو بھی نقصان پہنچا تھا، اُن میں وہ طیارہ بھی تھا جسے میں تعمیر کیلئے  لایا تھا۔ میں نے پرواز والے گروپ سے کہا جس حد تک تعمیر کرنا ممکن ہو اس کی تعمیر کردیں۔ انھوں نے میرے پرواز کرنے کیلئے رن وے پر طیارے کے حرکت کرنے کی جگہ کو آمادہ کردیا ۔ میں کم بلندی اور رفتار کے ساتھ شیراز کی طرف پرواز کرگیا۔ شاید یہ میرا افتخار تھا کہ میں ایسے طیارے کا پائلٹ بنا تھا جو بعثیوں کے حملے بعد ایران کے آسمان پر ظاہر ہوا۔ میں نے جہاز کو سلامتی کے ساتھ شیراز ایئرپورٹ پر پہنچا دیا ۔ اس کے باوجود کہ  شیراز میں میری ڈیوٹی کا آخری دن تھا لیکن میں نے ایک سال تک شیراز میں رہنے کو قبول کرلیا۔

شیراز میں ہماری ڈیوٹی شروع ہوگئی۔ میرے نصیب میں یہ افتخار آیا کہ میں اپنے طیارے کے ذریعے خصوصی پیکٹ (کوریئر) کو چھاؤنیوں تک پہنچاؤں۔ فضائی آرمی اسٹاف  میں ایک کمرا تھا جس کا نام جنگ کا کمرہ تھا، تجربہ کار اور ماہرین اس کمرے میں ایک ساتھ جمع ہوتے اور جنگی منصوبوں کو تشکیل دیتے۔ اُسے قلم سے لکھتے اور اُسے ایسے لفافے میں رکھتے جو اندر سے کالے رنگ کا ہوتا  اور اُسے کسی صورت میں حتی سورج کی روشنی میں بھی نہیں پڑھا جاسکتا تھا۔ یہ مختلف مشنز  کا مجموعہ ایک خاص بیگ میں رکھا جاتا کہ اس کا کوڈ اُن کے پاس ہوتا جہاں یہ بیگ جاتا تھا۔ میری ڈیوٹی یہ تھی کہ میں عام طور سے شام کو تین سے چار بجے کے دوران  اس بیگ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مہر آباد ایئرپورٹ لے جاتا۔ ملک کے مشرقی علاقوں میں موجود چھاؤنیوں کی ذمہ داریاں بھی مجھ پر تھیں۔ اصفہان ایئرپورٹ سے بندر عباس کی طرف جاتا۔ میں اپنا کام انجام دینے کے بعد وہاوں سے بوشہر کی طرف روانہ ہوتا۔ متاسفانہ تمام مشنز میں دفاعی یونٹ بھی ساتھ ہوتا اور ہم وہاں سے شیراز کی طرف روانہ ہوتے۔ ہماری ڈیوٹی دوپہر کو تین چار بجے  مہرآباد ایئرپورٹ سے شروع ہوتی اور رات کو بارہ بجے کے بعد ختم ہوتی۔ میں نے اس کاروائی کو جاری رکھا، اس طرح سے کہ میں جنگ کے پہلے چھ مہینوں میں، مہر آباد کی پہلی چھاؤنی کے پائلٹوں اور شیراز کی ساتویں چھاؤنی کے پائلٹوں کے درمیان، دوسری پوزیشن لینے والے سے ۱۹ نمبر کے اختلاف کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤں اور چند مہینوں میں میری باری آئے بغیر میری ترقی (پرموشن) ہوگئی۔ اس ذمہ داری کے علاوہ میں نے ساتویں چھاؤنی کے سیکیورٹی افسر کا عہدہ بھی قبول کرلیا  اور نسبتاً اچھی خدمات انجام دیں۔

مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک ایندھن پہنچانے والے طیارے نے آدھی رات کو شیراز ایئرپورٹ کے تیرہویں رن وےسے پرواز کی۔ وہ طیارہ بہت بھاری تھا ، اُس کا پر رن وے کی انتہا پر  ایک گڑھے کے سریے سے ٹکرا گیا۔ اُس طیارے کے دائیں طرف کے پر کا تقریباً چار میٹر کا حصہ جدا ہوگیا۔ یہ ۷۰۷ طیارہ اسی طرح اپنے مشن پر چلا گیا۔ ایک جگہ ایندھن بھرتے وقت جب وہ دائیں پر کی طرف سے ایندھن بھرنا چاہ رہے تھے تو اُنہیں پتہ چلا کہ پر کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ پائلٹ نے کتنی ذہانت اور مہارت سے طیارے کو صبح سات بجے شیراز ایئر بیس تک پہنچایا۔ حفاظت والے شعبے میں میری ڈیوٹی یہاں سے شروع ہوئی۔ میں نے تصویریں اور ویڈیوز آمادہ کی، اس طرح سے کہ جب کمانڈر نے سوال کیا: کیا ہوا ہے؟ میں تمام حالات کی ویڈیو بناکر اور ہوائی جہاز کا وہ حصہ جو رہ گیا تھا، چھاؤنی لیکر آگیا۔

ایک دفعہ میں اپنے مشن پر جاتے ہوئے ایک بہت بڑے حادثے سے بچ گیا ، ماجرا یہ تھا کہ میں اپنی ڈیوٹی کے مطابق اہواز سے شیراز کی طرف پرواز کر رہا تھا، راستے میں، میرے طیارے کے بائیں طرف کا پر ایک لڑاکا طیارے  سے ٹکرا گیا۔ ہم نے ہاتھ ہلاکر ایک دوسرے کو خوش آمدید کہا اور میں جاکر شیراز ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ کچھ دنوں بعد رشتہ داروں میں سے کسی کے ہاں دعوت میں، میزبان نے اُسی لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو بھی دعوت پر بلایا ہوا تھا۔ اُس نے مجھے پہچانے بغیر واقعہ سنایا کہ وہ ایک ہفتہ پہلے جنگی علاقے میں تھا اور ہوائی گشت کر رہا تھا۔ ریڈار نے خبر دی کہ دشمن کا ایک طیارہ ملک کے حساس اداروں کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ لوگ اسے سرنگون کرنے کیلئے آمادہ رہیں۔ وہ میرے نزدیک آیا اور اسے نہیں پتہ تھا کہ میں تو اپنا ہی آدمی ہوں۔ پائلٹ انچارج اور پیچھے والی سیٹ پر بیٹھنے والے پائلٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے، کیونکہ پیچھے والی سیٹ پر بیٹھے پائلٹ کو کئی بار فائرنگ کرنے کا حکم ملتا ہے کہ اگر تم نے فائر نہیں کیا تو میں مجبور ہوں کہ لینڈ کرتے ہی تمہاری شکایت کردوں، وہ اس بات سے غافل تھا کہ وہاں پر کوئی اورعلم کار فرما ہے۔ اگر وہ لڑاکا طیارہ فائر کردیتا، میرے طیارے کی سطح بڑی ہونے کی وجہ سے  حتماً مجھ سے ٹکراتا۔

 

رضا لَبیبی کی بہادری کا واقعہ

۲۹۶ ویں یادوں بھری رات کے پروگرام میں دوسرے راوی، جنگی فانٹوم طیارے کے پائلٹ استاد ہیں۔ جنہوں نے آبادان کا محاصرہ توڑنے والی لڑائی میں حصہ لیا اور بوشہر کی فضائیہ ایئربیس کے پائلٹوں میں سے ایک ہیں۔ پائلٹ علی رضا نمکی نے کہا: "فضائی افواج کے جنگی واقعات زمینی افواج اور بحری افواج کے واقعات سے بہت مختلف ہیں۔ پائلٹ جب ہدف پر پہنچتے تھے، وہاں تن بہ تن جنگ کی صورت ہوتی تھی، حتی کہا جاسکتا ہے ایک آدمی کی کئی آدمیوں سے جنگ۔ فضائی افواج کے دو طرح کے مشن تھے؛ اسٹریٹجک  مشن اور منصوبہ بندی کے ساتھ مشن۔ اسٹریٹجک مشن والے شعبے میں، میں گروپ لیڈر کے عنوان سے جاکر کسی ریفائنری پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ مجھے مسلح دفاع کی ضرورت تھی اور اُس کے لیے ہمارے ساتھ دوسرے طیاروں کو آنا چاہیے تھا۔ گروپ لیڈر ہدف کے بارے میں معلومات اور خبریں حاصل کرسکتا ہے۔ ہمیں حتماً دفاع کی ضرورت تھی کیونکہ اگر دشمن کی سرزمین پر کوئی پائلٹ سقوط کر جائےتو اُسے پتہ ہو تاکہ وہ ہیلی کاپٹر لاکر اُسے لے جائے۔

ہمارے ساتھ ایک بہادر اور بے مثال پائلٹ تھا جس کا نام رضا لَبیبی تھا۔ ایک ایسی پرواز میں جب ہم ایک ساتھ تھے اُس پر حملہ ہوا اور وہ اسیر ہوگیا۔ اسیری کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ ایران میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوا چونکہ وہ بہت ہی شجاع جنگجو تھا۔ ایک آئل ریفائنری کو متعارف کروایا گیا اور کہا گیا اس جگہ کو حتماً تباہ ہونا چاہیے۔ ہم نے اس آئل ریفائنری پر تین دفعہ حملہ کیا، دو مرتبہ ہمیں ناکامی ہوئی اور ہم اُسے اُڑانے میں کامیاب نہیں ہوسکے لیکن آخری دفعہ کامیابی کے ساتھ اُسے نابود کردیا۔ ہم نے اس مشن کیلئے دو ٹولی کی صورت میں پانچ دن تک مشقیں کیں اور چھٹے دن مشن پر روانہ ہوگئے۔ وہ شخص جو ہماری پروازوں کو منظم کرتا تھا اور جو محمود ضرابی کی جگہ سربراہ بن گیا تھا، وہ میرے پچھلے  کیبن میں بیٹھ گیا۔ وہ لیزر کا ماہر تھا  اور وہ لیزری شعاعوں کے ذریعے مقصد کو روشن کر سکتا تھا۔ رضا لَبیبی کے ساتھ دوہزار پاؤنڈ وزن کے دو بمب تھے۔ ہم بالکل خاموشی کے ساتھ اوپر اٹھے اور پورے راستے کو نچلی سطح کے ساتھ طے کیا، اس طرح سے کہ عراقی توپوں کے ریڈار نے بھی ہمیں نہیں پکڑ ا۔ ہم نے اپنے مقصد تک اسی طرح راستہ طے کیا۔ ہم ایک دفعہ اس آئل ریفائنری پر حملہ کرچکے تھے اور اس دفعہ ہم چاہتے تھے اس کی عمارتوں کو اڑا دیں۔ اس طرح سے کہ ایک طیارہ لیزری شعاعوں کو ہدف پر روشن کرتا اور ایک طیارہ بمبوں کو  گراتا۔  بمب لیزری شعاعوں کا پیچھا کرتے اور بالکل ہدف پر لگتے۔ ہمارے دو طیارے گئے تھے۔ ہم ہدف پر پہنچ کر ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ ہم نے پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت بلند سطح پر گئے ۔ ہر چیز منصوبہ کے مطابق تھی۔ اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا تو میں کہہ دیتا کہ رضا بمب نہیں گراؤ۔ میں نے لیزر کی شعاع پھینکی اور رضا نے بمبوں کو چھوڑا اور اوپر اٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک میزائل اُس کے پیچھے گیا ہے۔ وہ اُس میزائل سے فرار کر رہا تھا۔ میں زیادہ بلندی پر تھا  ، اگر وہ لوگ نیچے سے میزائل مارتے تو مجھ تک نہیں پہنچتا۔ میں اسی طرح نظریں دوڑا رہا تھا کہ دیکھوں بمب ہدف پر لگتے ہیں، میں نے دیکھا کہ بمب ہدف کے کنارے لگے ہیں۔ میں سمجھ گیا کہ جس لمحے میں رضا سے کہہ رہا تھا: تمہارے پیچھے میزائل ہے، وہ شخص جو میرے پچھلے کیبن میں بیٹھا ہوا تھا، اُس نے نشانہ لگانے والی  سکرین سے اپنا سر یہ دیکھنے کیلئے اٹھالیا تھا  کہ وہ میزائل اُسے تو نہیں لگ رہا، حالانکہ پائلٹ میں تھا ، اگر میزائل ہم سے ٹکرانا چاہتا، طیارے کو میں اڑا رہا تھا اور میں ایسا واقعہ پیش آنے نہیں دیتا۔ متاسفانہ بمب ضائع ہوگئے۔ میں اس بات سے ناراض ہوا اور ہدف پر گولے برسانا شروع کردیئے اور  میں نے پچھلے کیبن کے پائلٹ سے لڑائی کی کہ تم نے یہ کام کیوں کیا۔ پائلٹوں کو حتی پیشہ ور پائلٹوں کو ہدف کے اوپر کسی بھی چیز کے بارے میں فکر نہیں کرنی چاہیے سوائے اس چیز کے کہ وہ اپنا کام صحیح سے انجام دیں۔

ایک دوسرے آپریشن میں ایک ریفائنری پر حملہ کرنا تھا۔ رضا بھی ہمارے آگے پرواز کرنے والے گروپ  میں تھا۔ انھوں نے ہدف پر پہنچ کر بمبوں کو گرا دیا، لیکن رضا  کے طیارے کو مار دیا گیا۔ اُس نے جانے سے پہلے مجھ سے کہا تھا کہ "اب مجھ سے جنگ نہیں ہوتی، میں تھک گیا ہوں۔" وہ اُس دن اسیر ہوگیا اور تقریباً دس سال تک اسیر رہا ۔ اُن کے بعد ہم گئے اور اُس ریفائنری پر حملہ کیا۔"

 

اسیری کی سختی اور دوستوں کی ہمراہی

پروگرام کے تیسرے راوی رہائی پانے والے بریگیڈیئر، پائلٹ محمود محمودی تھے۔ انھوں نے کہا: "شہید اکبر بورانی جیسے افراد پر اسیری کے زمانے میں اتنا زیادہ دباؤ تھا کہ انھوں نے اسیری کے بعد  بہت آسانی سے ہمیں چھوڑ دیا۔ میں ہمیشہ ان سے کہا کرتا خدا نے آپ کے لیے اسیری کو لکھا ہے تاکہ آپ ہمارے یار اور دوست بنیں۔ وہ بے مثال تھے۔ خدا نے اُن کی انگلیوں کو ہنر اور بہترین کاموں کیلئے خلق کیا تھا۔ وہ درزی، باورچی، بڑھئی، مستری اور لوہار تھے  اور اُنہیں ڈرائنگ بنانا اور بہترین لکھائی بھی آتی تھی۔ وہ عالی سطح پر ان تمام ہنروں پر مسلط تھے۔ وہ واقعاً صرف اس لیے قیدی بنے تھے تاکہ ہمارے کام آسکیں۔ جب میں ہمدان چھاؤنی  میں ڈیوٹی انجام دیا کرتا تھا، مجھے ان کے ساتھ رہنے پر فخر ہوتا تھا اور میں فقط مراتب کے لحاظ سے بٹالین کا کمانڈر تھا۔ میں بوشہر چھاؤنی میں جناب عالی علی رضا نمکی کی خدمت میں تھا۔ وہ بہت ہی پڑھے لکھے پائلٹ اور انھوں نے بہت ہی بہترین پروازیں کی ہیں۔ وہ بہت ہی ذہین اور بے مثال جوان تھے کہ انھوں نے سردار رضا لَبیبی کا بہترین موقع پر اچھی طرح سے ذکر کیا۔ وہ بھی واقعاً بے مثال پائلٹوں میں سے تھے۔ میں ان لوگوں کے ساتھ رہنے پر فخر کرتا ہوں۔

میں یہاں پر اپنے دو سپاہی  ساتھیوں کا تعارف کراتا ہوں جنہوں نے  اپنے گھر والوں سے رابطے کے بغیر اور ریڈ کراس سے ملاقات کے بغیر دس سال گمشدگی کی حالت میں گزارے ہیں: پائلٹ یوسف احمد بیگی اور پائلٹ محمد حدادی۔ ہم ۲۸ پائلٹ اور ۳۰ غیر پائلٹ افراد تھے کہ جن کے بارے میں یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ صدام نے ہمیں بوری میں ڈالا ہوا تھا۔ میں اسیر ہونے والے گروپ میں سینئر (انچارج) تھا۔ انھوں نے شروع میں ہمیں دو مختلف  جیلوں میں رکھا ہوا تھا۔ وہ لوگ ہمیں حتی ایک ساتھ ہوا کھانے کیلئے بھی جانے نہیں دیتے تھے لیکن ہم لوگ جب باہر آتے تھے، جیل میں ہوا کھانے والی چھوٹی کھڑکیوں سے ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ جیل کے انچارج سے مسلسل رابطہ کرکے اور مسلسل جرح بحث کرکے ، وہ دروازہ جو ہماری جیل اور اُن کی جیل کے درمیان لگا ہوا تھا اُسے کھول دیا گیا اور ایک دوسرے کے پاس آنے کی اجازت دیدی گئی۔ ہم ایک دوسرے کے پاس جاتے ، ایک دوسرے کے کمروں میں بیٹھتے اور ایک ساتھ ہوا کھانے جاتے تھے۔ ہمارے ہوا کھانے کا وقت ہفتہ میں ایک دو گھنٹے سے آہستہ آہستہ بڑھ کر  یہاں تک پہنچ گیا کہ صبح سے شام تک اُس دروازے کو کھلا رکھنے لگے، یہ تمام کام بھوک ہڑتال اور بار بار تکرار کرنے سے انجام پائے۔ میرے ان دو دوستوں کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جو صبر و استقامت میں بے مثال تھے، اس طرح سے کہ میں نے کمانڈر کے عنوان سے اسیری کے دوران کبھی کسی مشکل یا مسئلہ کا احساس نہیں کیا۔

امریکا میں دو سال پائلٹ کورس کرنے کے علاوہ، میں اپنی ڈیوٹی کے دوران بھی دو مرتبہ وہاں گیا۔ اُن میں سے ایک چھ مہینے کا کورس تھا جو الیکٹرانک جنگ اور  آپریشن کی معلومات کے بارے میں تھا۔ آپریشن کی معلومات میں اسیری، اسیر کی دیکھ بھال، اسیر کی تفتیش اور تفتیش  میں استقامت دکھانا بھی شامل تھا۔ میں جس چھاؤنی میں ڈیوٹی انجام دیتا تھا وہاں کے کمانڈر کے دستور کے مطابق، آٹھ سالوں تک روزانہ صبح میں اس چیز کا پابند تھا کہ میں نے جو ٹریننگ حاصل کی تھی، میں روزانہ ۱۵ منٹ تک پائلٹوں کو اس چیز کی ٹریننگ  دوں۔ پائلٹ ٹریننگ کورس، اسیری کے دوران بہت اہم تھا۔ میں نے جن پائلٹوں کو ٹریننگ دی تھی وہ جانتے تھے کہ اسیر کو اسیری کے زمانے میں مار دینے کا امکان نہیں ہے۔ اسیر کی بہت اہمیت ہوتی ہے؛ پہلی بات تو یہ کہ اس کے ذریعے معلومات حاصل کی جاتی ہیں اور دوسری بات یہ کہ اسیروں کے تبادلےمیں اسیروں کی تعداد بہت اثر رکھتی ہے۔ میں اپنے اسیر  ہونے کی ابتدا یعنی  ۶ فروری ۱۹۸۱ء سے سو دن کی مدت تک جیل میں تنہا رہا اور اس کے بعد سب لوگوں کے ساتھ مل گیا۔ جب میں لوگوں میں شامل ہوا، میں نے دیکھا بعض پائلٹوں نے اسیروں کی دیکھ بھال کی صورت حال سے واقفیت  نہ  ہونے کی وجہ سے حتی ایسے کام کئے ہوئے تھے کہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیا تھا۔ وہ (دشمن) قیدی کا گوشت اور کھال تک اتار یتے ہیں لیکن اُس مارتے نہیں ہیں۔"

محمودی نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: "میں ۷۵ سال کا ہوں اور میں ساری میں پیدا ہوا۔ میں سن ۱۹۶۴ء میں پائلٹ کالج میں داخل ہوا۔ ابتدائی دورہ مکمل کرنے، ابتدائی پروازوں کی ٹریننگ مکمل کرنے اور اُس میں قبول ہونے – کہ امریکی ہم سے لینگویج اور پرواز کا امتحان لیتے ہیں – کے بعد  میں امریکا روانہ ہوا اور میں نے وہاں پر اپنی پرواز کی ٹریننگ  حاصل کرنے کو دو سال کی مدت تک جاری رکھا۔ جب میں تہران واپس آیا، میری ڈیوٹی مہرآباد میں ایف ۵ لڑاکا طیاروں کی بٹالین  میں لگی۔ سن ۱۹۶۶ء یا ۱۹۶۷ ء میں فانٹوم لڑاکا طیاروں کی بٹالین میں منتقل ہوگیا۔ سن ۱۹۶۸ء میں ہمدان بھی منتقل ہوا اور میں لڑاکا طیارے کا افسر تھا  کہ بوشہر چلا گیاوہاں کی بٹالین کا کمانڈر بن گیا اور مجھے وہاں جناب نمکی کے ساتھ کام کرنے کا افتخار نصیب ہوا۔ مہر آباد میں چھاؤنی کا سرپرست تھا اور اُسی دن جب صدام نے حملہ کیا، تقریباً دو بج رہے تھے جب میں گھر پہنچا تھا اور ابھی تک میرے جسم پر لباس موجود تھا کہ فون کرکے کہا گیا: فوراًٍ چھاؤنی میں واپس آجاؤ، ہماری تمام چھاؤنیوں پر حملہ ہوا ہے۔ میں مہر آباد پہنچا تو میں نے دیکھا وہ لڑاکا طیارے جو اپنے آشیانوں میں موجود تھے، اُنہیں کوئی صدمہ نہیں پہنچا تھا لیکن وہ طیارے جو تعمیر والی ورکشاپ کے سامنے کھڑے تھے اُنہیں نقصان پہنچا تھا۔ پوری دنیا میں تمام فضائی اور فوجی یونٹ، اپنے بہترین ہمسایہ اور دوست ممالک کے بارے میں بھی یہ پیشن گوئی کرتے ہیں کہ ایک دن یہ پڑوسی اُن کا دشمن بن جائے گا۔ جس طرح عراق ہمارا پڑوسی اور ہمارے ہی مذہب والا ملک تھا، اچانک صدام کے ذہن میں کیا خیال آیا اور اُس نے ۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ ء کو ہماری چھاؤنیوں پر حملہ کردیا ۔

ہمارے پاس آپریشن کیلئے ہمیشہ منصوبہ ہوتا تھا اور میں ٹریننگ کورس کرنے کی وجہ سے ، منصوبہ لکھنے والے گروپ کا حصہ تھا۔ اُن منصوبوں کی بنیاد پر وہ طیارے جو تیار ہوچکے تھے ، ہم نے اُن سے آپریشن انجام دیا اور ۲۳ ستمبر کی صبح اُن کی چھاؤنیوں پر حملہ کیا ۔جس میں سے ہم نے تہران سے آٹھ طیاروں کی ٹولی کے ساتھ ایک حملہ الرشید چھاؤنی پر کیا  اور مجھے اُن آٹھ میں سے ایک کے پائلٹ ہونے کا افتخار نصیب ہوا۔ میں نے چند ہوائی مشنز میں عراقیوں کے توسط سے آبادان اور اہواز میں اسیر ہوجانے والے اپنے فوجیوں کے دفاع کا کام بھی انجام دیا، کیونکہ ہم سب سے پہلے دن جب عراق میں آپریشن کیلئے گئے تو ہمیں  پٹرول کے حوالے سے مشکل کا سامنا ہوا اور جب ہم مہر آباد واپس پہنچے تو پٹرول ختم ہوجانے کی علامت دینے والی لال بتی جل رہی تھی۔ واپس آتے وقت جب فضا میں ایندھن بھرا جا رہا تھا، ہماری تعداد اتنی زیادہ تھی کہ  میں ایندھن کی لائن میں نہیں لگ سکتا تھا کیونکہ اس بات سے اس چیز کا امکان تھا کہ میرے طیارے کا پٹرول اتنا بھی نہ رہے کہ میں اس سے تہران پہنچ پاؤں۔ اس طرح کے حالات تھے اور ہمارے پائلٹوں نے جان کی بازی لگادی اور اپنی پوری شجاعت کے ساتھ لڑے اور صدام کے سر کو نیچے جھکا دیا۔ جب میں قیدی تھا، میں ان طیاروں کے غرانے کی آواز سنا کرتا تھا کہ وہ آکر الرشید چھاؤنی پر حملہ کرتے تھے۔ میں ان طیاروں کی آواز سن کر ہمت پکڑتا تھا۔ بہرحال دس سال گزرنے کے بعد  میں گمشدہ حالت میں ایران واپس پلٹا۔ ۵ سے ۶ دن قرنطینہ (جہاں اسیروں کا چیک اپ ہوتا ہے کہ اُنہیں کوئی بیماری تو نہیں ہے) میں گزارنے کے بعد ہمیں ہمارے گھر والوں کے حوالے کردیا گیا۔ "

اس خلاء بان نے مزید کہا: "میں ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۰ء سے ۶ فروری۱۹۸۱ء تک کہ جب سب لوگوں میں شامل ہوتا، انفرادی کوٹھڑی میں تھا اور وہ بہت ہی سخت زمانہ تھا۔ جس زمانے میں اسیروں کے انچارج آتے تھے اور صدام  کی طرف سے ہمارے لیے کھانے پینے کی چیزیں، برف اور پھل لاتے تھے ، میں اُن تحائف کو واپس لوٹا دیا کرتا تھا، کیونکہ مجھے جنیوا کے قوانین پتہ تھے۔ میرے ان چیزوں کے قبول نہ کرنے پر عراقی سپاہی میرا شکریہ ادا کرتے تھے، چونکہ وہ خود اُن چیزوں کو لے جاتے تھے۔ وہ صدام کو قائد اعظم کہا کرتے اور میں اُسے صدام حسین کی آواز لگاتا تھا۔ میں اعتراض کرتا تھا کہ ہم لوگ اپنے سامنے والے کمروں میں قید ہوئے غیر پائلٹ اسیروں سے  کیوں رابطہ نہیں کر سکتے؟ ہم کیوں اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں رکھ سکتےاور کیوں تصویروں کو ردّ و بدل نہیں کرسکتے؟جدا کرنے سے پہلے، میں ایک سال تک دوستوں کے ساتھ رہا کہ اُس کے بعد اُنہیں الگ کردیا گیا۔ آدھے لوگوں کو ، جن میں سے مجھے اور اُن دو دوستوں کو  جن کے  میں نے نام لیے، اُسی ابو غریب جیل میں رکھا گیا اور دوسرے آدھے لوگوں کو کیمپ لے گئے۔ جو بھی کیمپ میں گیا، اُس نے جس سے بھی رابطہ کیا، اپنے خط میں ہمارے ناموں کا ذکر کیا تاکہ ہمارے گھر والوں کو ہمارے بارے میں پتہ چل جائے۔ ہمارے جیسے افراد جنہیں گمشدگی کی حالت میں رکھا ہوا تھا، ہماری کوئی خاص برتری اور خصوصیت نہیں تھی۔ مجھ سے لیکر کہ میں سینئر افسر تھا دوسرے عہدہ رکھنے والے افراد بھی ہمارے درمیان موجود تھے۔ بحری ا فواج کے لوگ بھی ہمارے درمیان تھے۔ پائلٹ شہید لشکری بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ سب سے پہلے قیدی تھے۔ وہ لیفٹیننٹ نعمتی کے ساتھ سرحدی انفارمیشن حاصل کرنے گئے تھے اور عراق کی اینٹی ایئر کرافٹس گنوں نے اُنہیں مارا۔ عراقیوں نے اُس زمانے میں حتی ہماری سرحدی چیک پوسٹوں سے ہمیں پکڑا تھا اور صدام ہماری سرز مین میں گھس آیاتھا۔ نعمتی شہید ہوگئے اور لشکری کو قیدی بنالیا گیا۔ جس زمانے میں ہم آزاد ہوئے، صدام نے لشکری کو روک لیا۔ اُسے ہمارے آٹھ سال بعد آزاد کیا اور اسیری کی مشکلات کے باعث اُنہیں کم سنی میں  سکتہ ہوگیا تھا۔"

محمودی نے آخر میں کہا: "ہم جس الرشید زندان میں تھے اُس کے احاطے میں بجری اور ریت پڑی ہوئی تھی۔ ہمیں جوتے نہیں دیئے گئے تھے اور ہم چپل پہن کر چلتے تھے۔ میرے بیٹے کا نام سام تھا اور عراقی مجھے ابو سام کہتے تھے۔ میں اپنے جنگی ساتھیوں کے اتنا قریب تھا کہ وہ لوگ مجھے بابا سامی کہتے تھے۔ اکبر بورانی جو ہر فن مولا تھے، انھوں نے مجھ سے کہا: اگر تم اُن سے ضروری سامان لینے میں کامیاب ہوجاؤ تو میں تمہاری مدد سے یہاں کی زمین پر سیمنٹ کا فرش کردوں۔ ہمارا ایک عرب سرپرست تھا جو شیعہ تھا اور میری اُس سے گہری دوستی تھی۔ میں نے اُس سے کہا ہمارے احاطے کے باہر جو ریت اور بجری پڑی ہے، وہ ہمیں دیدو تاکہ ہم اس جگہ پر فرش ڈال دیں۔ میرے وہ جنگی ساتھی جن کا  میں نے تعارف کروایا، وہ بجری اور ریت کی بوریاں بھر کر اندر لاتے، ہم اُنہیں خالی کرتے اور اکبر بورانی ایک مستری کی طرح  اینٹوں کو سیٹ کرتے۔ انھوں نے پانی کا راستہ بنایا کہ اگر بارش ہو تو ڈھلان ہونی چاہیے  اور پانی باہر والے دروازے سے باہر نکل جائے۔ وہ افسران جو زندان کا دورہ کرنے آئے تھے، انھوں نے تعجب کے ساتھ پوچھا کہ یہ سب کس نے بنایا ہے؟ اُس شیعہ انچارج نے ہماری طرف اشارہ کیا اور کہا: انہی لوگوں نے بنایا ہے۔ اُن افسروں نے پوچھا مگر یہ لوگ پائلٹ نہیں ہیں؟ انھوں نے کس طرح یہ بنالیا؟ اُس نے اکبر بورانی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس کی نظارت میں اسے بنایا ہے۔ ہم نے آخر میں انہیں ہمارے لیے جوتے لانے پر مجبور کردیا۔ شروع میں انھوں نے ہمیں ہفتہ میں دو دفعہ چہل قدمی کی اجازت دی، لیکن بعد میں صبح سے لیکر شام تک جاسکتےتھے اور ہم نے شیڈول بنالیا تھا کہ ایک گھنٹہ فوٹبال ہو، ایک گھنٹہ باسکٹ بال ہو اور باقی وقت چہل قدمی اور دوڑنے کیلئے لوگوں کے اپنے اختیار میں تھا۔ میں ان تمام کاموں کو ان دو دوستوں کی مدد سے انجام دیتا تھا اور میں اُن پر فخر کرتا ہوں۔ ان لوگوں کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ انھوں نے کبھی بھی کسی چیز کا تقاضا نہیں کیا، چونکہ اگر تقاضا ہوتا تو ہمیں اصرار کرکے عراقیوں سے لینا پڑتا۔ ہمارے حصے میں جو چیز آتی ہم اُسی کو کھا کر خدا کا شکر ادا کرتے تھے۔ ہمیں جو گوشت دیا جاتا  ہم اُسے اپنے پاس موجود پلاسٹک کے گلاسوں سے کوٹ لیتے۔ اکبر بورانی اسی گوشت سے کھانے اور کباب بنالیتا۔ عراقی افسران مجھ سے کہتے کہ مگر یہ کون سی جگہ ہے؟ آپ لوگوں کے خیال میں آپ لوگ یہاں کتنے دن رہیں گے جو ان مطالبات کو پیش کر رہے ہیں؟ میں کہتا: ہم حضرت علی (ع) کے راستے پر چلنے والے لوگ ہیں  اور ہم اس طرح زندگی گزارتے ہیں کہ جیسے کسی بھی لمحہ اس دنیا سے چلے جائیں اور اس طرح بھی زندگی گزارتے ہیں جیسے ہمیشہ کیلئے اس دنیا میں رہنا ہے۔

مجھے فوٹبال بہت پسند تھی اور ابھی بھی ہے۔ ہم ایک دفعہ فوٹبال کھیل رہے تھے، پائلٹ حسین ذوالفقاری سامنے والی ٹیم میں تھا۔ ہم فوٹبال کو سر سے ٹکر مارنے کیلئے ایک ساتھ اچھلے۔ میری گردن کے پیچھے ریڑھ کی ہڈی کے سرے پر شدید چوٹ لگی اور  میری حالت خراب ہوگئی۔ خدا احمد کُتَاب کی مغفرت کرے جو ہمارے ساتھ اسیر تھے، اُس واقعہ کی بنیاد پر جو کئی عرصوں بعد میری زوجہ نے مجھ سے بیان کیا، میرے زمین پر گرنے کے بعد، اُس نے اپنے ہاتھ کو میرے منھ پر رکھ دیا اور میرے منھ بند ہونے، زبان کے واپس منھ کے اندر پلٹنے اور میرے مرنے میں رکاوٹ بنا۔ اُس کے ہاتھ پر کافی عرصے تک میرے دانت کا نشان باقی رہا۔ اس حادثہ کے بعد مجھے ہر چیز دو نظر آنے لگی۔ وہاں ہمیں ہر ہفتہ میں دو کھجوریں دی جاتی تھیں  اور مجھے کھجوریں بہت اچھی لگتی تھیں۔ اکبر بورانی میرے پاس آتا اور کہتا: باباسامی یہ چار کھجوریں تمہارے لیے ہیں اور میں اس سے کہا کرتا: اکبر تم مجھ سے چالاکی کر رہے ہو۔ تمہیں پتہ ہے کہ مجھے ہر چیز دو نظر آتی ہے ، تم دو کھجوریں لائے ہو لیکن مجھ سے کہہ رہے ہو کہ میں چار کھجوریں لایا ہوں اور اکبر ہنسنے لگتا۔ آخر میں افراد کے دباؤ اور بھوک ہڑتال کی وجہ سے مجھے ہسپتال لے جایا گیا اور میں وہاں ایک ہفتہ تک ڈاکٹر کے پاس زیر علاج رہا۔ میرے سر کا ایکسرے لیا گیا اور خوش قسمتی سے سر میں کوئی اندرونی چوٹ نہیں  لگی تھی۔ کچھ عرصے بعد ایک دن صبح میں نے اپنی آنکھوں کو کھولا تو بلب کو ایک دیکھا۔ "

اس پروگرام کے آخر میں سیکنڈ بریگیڈیئر پائلٹ اکبر صیاد بورانی کے واقعات پر مشتمل کتاب "کتیبہ ای بر آسمان" کی تقریب رونمائی اُن مرحوم کی زوجہ کی موجودگی میں ہوئی۔

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۶ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۵ اکتوبر  ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۲ نومبر کو منعقد ہوگا۔"



 
صارفین کی تعداد: 232


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔