جون ۱۹۶۳ میں ارومیہ کے علماء کی گرفتاری

راوی: آیت اللہ سید علی اکبر قریشی

2018-12-20


سن ۱۹۶۳ء میں امام خمینی کی گرفتاری کے بعد ایران کے لوگوں نے قیام کیا کہ جس کے نتیجے میں اعتراض کرنے والے لوگوں کا ۵ جون والے دن  تہران، تبریز، ورامین اور ملک کے دوسرے شہروں میں پہلوی حکومت کے کارندوں نے قتل عام کیا؛ لہذا حکومت نے لوگوں کے اس قیام  کو کچلنے کیلئے برجستہ، مؤثر اور انقلابی علماء کو گرفتار کرنے کا اقدام کیا۔ اُسی دن علمائے ارومیہ میں سے بھی پانچ چھ لوگوں کو پولیس تھانے لے جایا گیا ؛ کیونکہ حکومت کو اُن کے وجود سے خطرے کا احساس ہو رہا تھا اور وہ اس بات کا احتمال دے رہے تھے کہ یہ علماء امام کی گرفتاری پر اعتراض کرتے ہوئے  لوگوں کو مخالفت اور اعتراض کرنے پر اکسائیں گے۔ ان مولوی حضرات کے ساتھ بندہ بھی گرفتار ہوا تھا۔ ہمیں ارومیہ کے پولیس تھانے لے گئے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے بعض لوگوں سے ایک تحریری تعہد نامہ لیا کہ حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گےاور انہیں آزاد کردیا۔ لیکن تین لوگوں نے تحریری تعہد نامہ نہیں لکھا  وہ لوگ یہ تھے مشہور فلسفی اور عظیم عالم دین مرحوم شیخ محمد امین رضوی، مرحوم سید حمزہ موسوی عجب شیری اور میں۔ ہم تین لوگوں نے یہ بہانہ کرتے ہوئے کہ ہم اصلی طور پر ارومیہ کے رہنے والے نہیں ہیں  اور آپ لوگ ارومیہ کے علماء سے تعہد لے رہے ہیں، تحریری تعہد نامہ نہیں لکھا۔ تھانے کے سپاہیوں نے کہا: " اگر تعہد نہیں لکھیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ حکومت کے مخالف ہیں اور  آپ لوگ منبروں اور مساجد میں جاکر لوگوں کو اعلیٰ حضرت کے خلاف بھڑکانا چاہتے ہیں؛ لہذا ہم پابند ہیں، معذور ہیں اور مجبور ہیں کہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا کر آپ لوگوں  کو تہران بھیج  دیں۔ پولیس والا ٹرک آپ لوگوں کو اسی وقت تہران لے جانے کیلئے تیار کھڑا ہے اور وہاں لے جاکر آپ لوگوں قزل قلعہ زندان کی تحویل میں دیدیں گے! لہذا اگر آپ شاہ کی مخالفت کا ا رادہ نہیں رکھتے تو آکر تعہد نامہ پر دستخط کریں اور آزاد ہوجائیں۔"

ہم اُن کی باتوں کے اثر میں نہیں آئے اورہم نے دستخظ نہیں کیے۔ انھوں نے بھی ہمیں چھوڑا نہیں۔ آدھی رات گزر چکی تھی۔ تھانے کا انچارج تبریز کا رہنے والے  تھا، اُس کا نام کھنمویی تھا، وہ ہمارے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اُسے کبھی اونگھ  آجاتی! ۔۔۔ وہ ہم سے کہتا: "واللہ باللہ، اگر تعہد نہیں دو گے، میں تم لوگوں کو تہران بھیج دوں گا، وہاں آپ لوگوں پر زندگی تنگ ہوجائے گی! بہتر ہے مان جائیں، عہد کرلیں اور تعہد نامہ پر دستخط کرلیں، تاکہ آپ لوگ بھی پرسکون ہوجائیں اور ہم بھی، تعہد نامہ لکھ دیں، ہم آسودہ خاطر ہوجائیں گے۔ آپ لوگ اپنے گھر اور گھر والوں کے پاس چلے جائیں، ہم بھی جاکر استراحت کریں۔"

پھر وہ کھڑا ہوا اور ہمیں کوریڈور میں لے آیا۔ وہاں پر ایک افسر کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں تین ہتھکڑیاں تھیں۔ کھنمویی نے اس سے کہا: "ان تین لوگوں کو ہتھکڑیاں لگاؤ اور لے جاؤ! "

ہم نے کہا: "ہم کوئی فراری تھوڑی ہیں کہ ہمیں ہتھکڑی لگائی جائے، تم جہاں لے جانا چاہتے ہو لے جاؤ، ہم چلیں گے، ہتھکڑی کیوں لگا رہے ہو؟!"

اُس افسر نے کہا: "اوپر سے حکم ہے، اگر تھانے کا انچارج بھی کہے کہ ہتھکڑی نہ لگاؤ، ہم لگائیں گے اور آپ لوگوں کو تہران بھیج دیں گے! "

ہم نے دیکھا کہ حالات کچھ بدلے ہوئے ہیں، یہ لوگ اپنے کام میں سنجیدہ ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ واقعاً ہمارے ہاتھوں پر ہتھکڑی لگا دیں، اُس کے بعد بھی نہیں معلوم کہ ہمیں کہاں لے جائیں۔

ایسے میں مرحوم رضوی نے ہم سے کہا: "اگر ہم سے تعہد بھی لے لیں تو ہم باہر جاکر اُس پر عمل نہیں کریں گے! ہم اپنا کام کریں گے؛ لہذا ہماری گرفتاری اور تہران یا کسی اور جگہ بھیجنے کا نتیجہ ایسا نکلے جو قابل جبران نہ ہو۔ ہمیں لوگوں کے درمیان رہنا چاہیے اور اپنے وظیفے پر عمل کرنا چاہیے۔ میری نظر میں اچھائی اس چیز میں ہے  ہم تعہد نامہ پر دستخط کریں اور آزاد ہوجائیں اور منبروں پر جاکر اپنی مرضی کے مطابق باتیں کریں۔ یہ تعہد ہماری مذہبی اور انقلابی سرگرمیوں کو کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچائے گا۔"

مرحوم رضوی کی یہ بات سننے کے بعد ہم نے سوچا کہ بھلائی اسی میں ہے کہ دستخط کردیں۔ میں نے تعہد نامہ پر دستخظ کرتے وقت کہا: "ہم اس مسلط کردہ تعہد پر عمل نہیں کریں گے!۔۔۔ "

کھنمویی غصے سے اپنے ساتھیوں پر چلایا کہ یہ ابھی سے کہہ رہا ہے کہ اپنے تعہد پر عمل نہیں کرے گا ۔۔۔ دستخط کرنے کے بعد بھی ہمیں کچھ دیر تک بٹھا کر رکھا اور آدھی رات کے بعد ہمیں آزاد کردیا۔ ہم اپنے گھر واپس آگئے۔ اگلے دن سے ہم اپنے شرعی وظیفہ پر عمل کرنے  چلے گئے  اور اُس تعہد نامہ پر کوئی توجہ نہیں دی؛ نہ میں نے نہ اُن دو شخصیات نے۔ البتہ اُس کے بعد ارومیہ کی ساواک نے کسی نہ کسی بہانے سے مجھے اور دیگر تعہد دینے والے علماء اور مذہبی افراد کو  حکومت کے خلاف کام کرنے پر گرفتار کیا اور تعہد نامہ لیا، ہمیں خبردار کیا، توہین کی اور اس کے بعد کام نظارت، کنٹرول اورعلماء کی ایک بڑی تعداد کی جلاوطنی پر ختم ہوا۔



 
صارفین کی تعداد: 227


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔