تنہائی والے سال – اُنتیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-12-20


پہلا گروپ زیادہ تھک اور ٹوٹ چکا تھا؛ ہمارے ویٹ لفٹنگ کے چیمپئن برادر والی، جن کے ہاتھ میں دھلے ہوئے کپڑوں اور چادر کی ایک بالٹی تھی، چھت کے ستونوں پر جہاں رسیاں بندھی ہوئی تھی، وہ سیدھا اُس طرف جا رہے تھے۔

گروپ کا انچارج ہمارے دروازے اور کھڑکی کے قریب آیا اور سلام اور خوش آمدید کہنے کے ساتھ اُس نے آہستہ اور احتیاط سے کہا:

چونکہ آسانی سے بات چیت نہیں ہوسکتی اور خطرے کا احتمال ہے، اسی وجہ سے میں نے آپ کیلئے تمام باتوں کو مختصراً   ایک خط میں لکھ دیا ہے تاکہ آپ لوگ ہمارے بارے میں اور زیادہ جان لیں اور ہماری وضعیت سے آگاہ ہوجائیں! ارے ہاں، آپ لوگ چچا (ریڈیو) کو لائے ہیں؟

- نہیں!

- نہیں؟!مجھے یقین نہیں ۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آپ  نے اُسے کھو دیا ہو۔ آپ چچا کو اپنے آپ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔

اس حال میں، اُس کے اصرار کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اُسی وقت دور سے ایک نگہبان گزر رہا تھا اور امکان تھا کہ وہ ہمیں دیکھ لے؛ اسی وجہ سے پہلے گروپ کا انچارج فوراً وہاں سے چلا گیا۔

خط یا بہتر ہوگا یہ کہوں کہ ہم نے مصیبت بھرے خط کو پورے کیمپ میں ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچایا اور سب نے پڑھا۔ اُن پر بہت ہی سختیاں اور مشکلات گزری تھیں۔ اُس نے زندان اور قیدیوں کا تعارف کروانے کے ساتھ لکھا تھا:

جس وقت سے ہمیں آپ لوگوں سے جدا کیا تھا، اُسی وقت ہمیں یہاں لے آئے تھے۔ شروع میں سب ایک گروپ کی صورت میں پہلے اور دوسرے حصے میں رہتے تھے۔ ان دونوں حصوں کے درمیان میں کوئی دیوار نہیں تھی  اور راہداری کے اندر سے دونوں حصوں کا راستہ تھا۔ ایک ہال بھی تھا جو ہمارے نماز با جماعت پڑھنے اور قرآنی نشستیں رکھنے کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اب اس جگہ کو ملٹری پولیس کنٹرول کر رہی ہے؛ لیکن اُس زمانے میں، بری افواج جن کی فوجی ٹوپی کالے رنگ کی ہوتی ہے، وہ لوگ انچارج تھے۔ ملٹری پولیس کی فوجی ٹوپی لال رنگ کی ہے۔ کالی ٹوپیوں کا انچارج، ایک  کرنل تھا جو ہمیں سہولت کا سامان مہیا کرنے کیلئے کوشش کرتا تھا؛ مثلاً زندان کا وہ دروازہ جو ہوا کھانے والی جگہ کھلتا ہے، پورے دن کھلا رہتا تھا۔ انھوں نے احاطے میں ایک ٹیبل ٹینس کی میز بھی رکھ دی تھی۔

تقریباً چھ مہینے بعد تمام افراد کے مشورے سے طے پایا ریڈ کراس والے مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا جائے اور اُن پر دباؤ ڈالا جائے  تاکہ ہمیں ریڈ کراس  کے عالمی ادارے میں متعارف کروایا جائے؛ کیونکہ ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ جنگ ختم ہونے کی صورت میں بھی ایک نامعلوم وضعیت ہمارے انتظار میں ہے۔

جب بھی کرنل آتا، ہم اُس سے اس بارے میں وضاحت طلب کرتے۔ وہ صحیح جواب دینے سے کتراتا اور اس کے بجائے، یہاں پر جو اس نے ہماری فلاح و بہبود کیلئے کام کیئے تھے اس بارے میں باتیں کرنے لگتا۔ ہمارے نزدیک ان تمام چیزوں کا ریڈ کراس والوں سے تعارف کروانے سے مقایسہ نہیں ہوسکتا تھا اور ہم اُسی طرح اپنے اصرار پر ڈٹے ہوئے تھے۔

ایک دن غروب کے وقت، کرنل کچھ سپاہیوں اور کچھ اینٹوں اور سیمنٹ کو لیکر ہوا کھانے والے احاطے میں داخل ہوا اور ہم سے کہا:

اندر چلے جاؤ، ہم ہوا خوری والے احاطے میں کھلنے والی کھڑکیوں کو بند کرنا چاہتے ہیں۔

ہم نے تعجب سے پوچھا:

آپ کیوں یہ کام کرنا چاہتے ہیں؟ آپ لوگ ہماری مطالبات کا قانونی جواب دینےکے بجائے کھڑکیوں کو پلاسٹر کرکے بند کر رہے ہیں؟

کرنل نے چیخنا چلانا اور توہین کرنا شروع کردیا۔ ایک ساتھی جو ہمارے گروپ کا انچارج تھا، اُس نے توہین آمیز باتیں اور گالیاں سننے کے بعد غیرت میں آکر کرنل کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مار دیا  تو فوراً ہی سپاہیوں نے ہم پر حملہ کردیا! ہم جو اس غافلانہ حملے  میں پھنس گئے تھے، کیمپ کے اندر چلے گئے  اور ہم نے اپنے پیچھے  آنے والے ایک سپاہی  کو یرغمال بنالیا!

کرنل نے جب دیکھا کہ وہ ہمارا مقابلہ نہیں کرسکا ہے، اُس نے فوراً باغیوں کے خلاف عمل کرنے والے ایک کمانڈو گروپ  کو بلوالیا اور اچانک پورے احاطے اور چھت پر کچھ افراد ہاتھوں میں اسٹین گنیں اور ڈنڈے لیے جمع ہوگئے جنہوں نےمخصوص لباس اور آنسو گیس سے بچنے والے ماسک پہنے ہوئے تھے!

کرنل نے فاتحانہ انداز میں ہم سے یرغمال سپاہی کو آزاد کرنے کا کہا  اور خود ہمارے بھی باہر نکلنے اور تسلیم ہونے کا کہا ؛ لیکن کسی نے بھی اس پر توجہ نہیں دی۔ اُس نے حملہ کرنے کا حکم دیدیا۔ ہم نے پہلے سے ہی اس چیز کا احتمال دیا ہوا تھا، ہم نے اُن کے راستے میں کچھ رکاوٹیں  کھڑی کردیں۔ اُن میں آسانی سے اندر داخل ہونے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ لوگ سامنے والے دروازے تک  کچھ قدم  آگے بڑھے، لیکن عمارت میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے؛ خاص طور سے کہ ہمارے پاس ایک یرغمال موجود تھا۔ بہرحال بہت زیادہ کشمکش کے بعد، انھوں نے فائرنگ اور عمارت کے اندر کچھ آنسو گیس گولے پھینکنے کا اقدام کیا۔ لوگوں کیلئے – عمارت کے بند ماحول میں – آنسو گیس کو برداشت کرنا ممکن نہیں تھا؛ اسی وجہ سے ہم کرنل سے مذاکرات کرنے پر مجبور  ہوگئے  اور ہم نے اُس سے کہا کہ  ہم اس صورت میں یرغمالی کو آزاد کریں گے جب ہم پر حملہ نہ کیا جائے۔ کرنل نے مان لیا اور ہم یرغمالی کے ساتھ باہر نکل گئے۔ تین افراد زخمی ہوگئے تھے اور اُنہیں علاج اور پٹی  کی ضرورت تھی۔

ہمارے باہر نکلنے کے بعد کرنل نے تمام کھڑکیوں کو بند کرنے کا حکم دیدیا اور ہمیں پرسکون رہنے کا کہا؛ اُس نے ریڈ کراس والوں کے بارے میں بھی کہا:

آپ لوگ بلاوجہ اس معاملے میں اصرار کر رہے ہیں  اور یہ کام کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے؛ چونکہ اس خاص موضوع کے بارے میں جو شخص فیصلہ کرسکتا ہے وہ صرف صدام ہے۔

دو دن بعد، تفتیش کرنے والے دو افراد زندان میں داخل ہوئے اور ان کے ہاتھوں میں جو لسٹ تھی، اُس سے دیکھ کر ایک ایک کا نام لیکر پکارا اور تفتیش کیلئے لے گئے۔ تفتیش ختم ہونے کے بعد کہ جس میں پورا ایک دن لگا، ہم میں سے چھ افراد کو الگ کردیا اور ہر کسی کو دوسری عمارت کے "ب"زندان  کی ایک کوٹھڑی میں ڈال دیا۔ باقی افراد کو بھی دو گروپس  "الف" اور "ج"میں تقسیم  کرنے کےبعد ان دو الگ عمارتوں میں ڈال دیا۔ اُس وقت سے، ہوا کھانے کا وقت کم ہو کر صرف ڈیڑھ گھنٹے رہ گیا۔

لیکن اُن چھ لوگوں کے بارے میں؛ اُن کے ہاتھوں کو اُن کے پیروں کے ساتھ باندھ دیا گیا اورہر کسی کو ایک الگ کوٹھڑی میں بغیر کمبل اور دوسرے کسی سامان کے بغیر ڈال دیا گیا۔ وہ دن میں تین مرتبہ اُسی ہاتھ اور پاؤں بندھی حالت میں کوڑے اور پائپ کھاتے تھے۔ ٹوائلٹ اور واش روم کے لیے بھی اُنہیں کمرے سے باہر نہیں نکالتے تھے اور صرف کھانا کھانے کے وقت – وہ بھی صرف چند منٹوں کیلئے – اُن کے ہاتھوں کو کھولتے تھے۔ حالات اتنے سخت اور عجیب تھے کہ ہمارے تصور میں اُن میں سے کسی ایک کا بھی زندہ  بچ جانا ممکن نہیں لگ رہا تھا!

اچھائی کی واحد کرن، خداوند متعال  کے لطف و کرم کی امید تھی اور بس۔

یہ رقت آمیز کیفیت ایک مہینے سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ ایک دن ایک افسر اندر آیا اور ہم سے کہا:

آج سے ہم نے آپ لوگوں کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ ماضی میں جو مشکلات پیش آئی تھیں ، اب اُس کا تکرار نہیں ہوگا۔ بری افواج کے مسئولین نے آپ لوگوں کو ہماری کہ ہم ملٹری پولیس والے ہیں، کی تحویل  میں دیدیا ہے  اور میں آپ کے اُن چھ ساتھیوں کی آزادی والے معاملے کو بھی حل کردوں گا ۔۔۔

اگلے دن، وہ تمام چھ افراد جو بہت ہی کمزور اور بے جان ہوچکے تھے، آزاد ہوگئے۔ اس طرح ہم اُس دن سے دو گروپس کی صورت میں ایک ساتھ رہ رہے ہیں؛ ہمارے ہوا کھانے کی جگہ الگ، ہمارا ایک  دوسرے سے رابطہ کرنا ممنوع ہے  اور اگر نگہبان کو پتہ چل جائے تو وہ فوراً فائرنگ کردیتا ہے! رابطہ صرف کپڑے لٹکانے والی رسی پر لٹکانے والے لباسوں کی جیب میں خط رکھنے کی صورت میں   انجام پاتا ہے اور درحقیقت ہر چیز کے بارے میں بہت زیادہ سختی ہوتی ہے۔

ہم سب خط پڑھنے اور اپنے بھائیوں کی کیفیت اور صورت حال جان کر بہت متاثر اور غمگین ہوگئے؛ حالانکہ اُس وقت ہم سے شاید دعا مانگنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہوسکتا تھا۔

یہ کہ افراد کیمپ میں جانے کیلئے اصرار کر رہے تھے، وہ اصرار اس وجہ سے نہیں تھا کہ کیمپ دوسری جگہوں سے بہتر ہے؛ بلکہ ہم ایسا سوچتے تھے کہ وہاں پر ریڈ کراس والے ہمیں دیکھ لیں گے  اور ہم اپنی اس خفیہ اور پوشیدہ حالت سے نجات پیدا کرلیں گے کہ جنگ کے بعد بھی ہمیں اپنی قسمت کے بارے میں معلوم نہیں تھا ورنہ تو کیمپ میں بھی بہت سی مشکلات اور مسائل موجود تھے  جو زندگی کو دشوار اور کبھی کبھار جان لیوا بنا دیتے تھے۔

"الف" گروپ کے ہوا کھانے کا وقت تمام ہونے کے ساتھ، اُن کی طرف کا دروازہ بھی بند ہوگیا اور ہماری ہوا کھانے کی باری آگئی۔ ہم بھی ڈٰیڑھ گھنٹے تک احاطے میں رہے۔ افراد ایک ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے اور کچھ لوگ جیمناسٹک کا ایک کھیل بارفیکس (جسم کو اوپر نیچے اچھالنا، گھمانا)کھیل رہے تھے۔ بارفیکس کی اونچائی نسبتاً بلند  اور اطراف کے ماحول اور وضعیت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے اچھی تھی۔ حاصل ہونے والی معلومات سے پتہ چل رہا تھا کہ زندان سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک  چوڑی سی چھ میٹر لمبی  دیوار موجود ہے کہ جس کے ہر کونے پر ایک واچ مین کا چھوٹا سا کمرہ بنا ہوا ہے جس کے او پر سرچ لائٹ لگی ہوئی ہے۔ دیوار کے اوپر خاردار تاریں بھی گچھوں کی صورت میں لگائی گئی تھیں۔ دیوار کے پیچھے سے جنگلی اور سرسبز علاقہ دکھائی دے رہا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ تھوڑا اُس طرف، کمپنیوں کے گھر بنے ہوئے ہیں۔ چھت کے اوپر نگہبان گشت کر رہا  تھا۔ ہمارے آنے کے بعد چھت پر خاردار تاروں کو لگا دیا گیا تھا۔

عراقیوں کے حفاطتی اقدامات نسبتاً مضبوط اور قوی تھے؛ حتی ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ایک جگہ ٹی وی کیمرہ بھی نصب ہے جو دیوار کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تسلط رکھتا ہے اور اسے دور سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے کہ جس طرف چاہیں اُس کو گھما سکتے ہیں۔

یہاں پر ہماری وضعیت کچھ زیادہ اچھی نہیں تھی؛ لیکن نگہبانوں کو ہم سے کوئی سروکار نہیں تھا اورہم جو چاہتے تھے کہ ہر رات خدا بخش (ریڈیو) کی فریکوینسی سیٹ کریں، اس بات سے راضی تھے۔ دوسرا مسئلہ اس زندان کے کمرے تھے چونکہ کچھ لوگ ایک ساتھ رہتے تھے،  یہ بات ہمارے لیے اور زیادہ سکون کا باعث بنی؛ کیونکہ ہر کمرے میں ہماری تعداد کم اور مناسب تھی  اور سونے اور جاگنے کے اوقات ہمارے اپنے اختیار میں ہوسکتے تھے۔ اسی طرح ہمیں پنکھے اور لائٹ پر کنٹرول تھا  اور ہمیں سب کی بات  ماننی نہیں پڑتی تھی۔ سب سے اہم بات، ہر گروپ کا کمرہ اُن افراد کیلئے خصوصی احاطہ  اور پرسکون جگہ شمار ہوتی ۔ ان سب کے باوجود اور وہ خوبیاں جو میں نے گنی ہیں ان کے علاوہ، جگہ کی تنگی، کھڑکیوں کا بند ہونا، ہوا خوری کیلئے وقت کا کم ہونا ، قرآن اور  دوسری کتابوں کا نہ ہونا ، یہ ایسے مسائل تھے جنہیں تکلیف دینے اور افسردہ کرنے والے مسائل سمجھا جاتا۔

ایک مہینے بعد، جب کچھ مسئولین دورہ کرنے آئے تو ہم نے اپنی مشکلات کو اُن کے سامنے پیش کیا  اور طے پایا کہ ہمارے ۲۵ افراد کے گروپ کو "الف" والی عمارت میں لے جایا جائے اور ۱۲ افراد والے گروپ کو ہماری عمارت میں لے آئیں۔ انھوں نے یہی کام انجام بھی دیا۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 105


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں