یادوں بھری رات کا ۲۹۳ واں پروگرام

شہدائے جنگ کی شوخیاں اور راز

مریم رجبی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-11-15


ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۳ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۶ جولائی ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں  داؤد امیریان، حسن علی دروکی اور حمید جہانگیر فیض آبادی  نے  عراق کی ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران اپنے  اپنے واقعات کو بیان کیا۔

 

اُن کے بارے میں ہماری تشخیص کا طریقہ

پروگرام کے سب سے پہلے راوی دفاق مقدس کے مجاہد اور مؤلف داؤد امیریان تھے، انھوں نے کہا: "سن ۱۹۸۷ یا ۱۹۸۸ کے  ایام بہت عجیب تھے، سن ۱۹۸۸ کے شروع میں تہران پر میزائلوں کی بارش کا آغاز ہوا،  ۲۵ یا ۲۶ مارچ کو جب میں کیمیائی حملے کے اثر میں مبتلا ہوکر تہران آیا، مجھے تہران کی ویرانی سے وحشت ہورہی تھی، حتی شاہراہ جمہوری یا ولی عصر (عج) اسکوائر پر  ایک دوکان بھی نہیں کھلی ہوئی تھی۔ سن ۱۹۸۸ کے شروع میں سیاسی اختلافات بھی شروع ہوگئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے محاذ اور جنگ کو فراموش کردیا گیا  ہے؛ انہی وجوہات کی بناء پر عراق نے قدرت حاصل کرلی،  وہ فاو پر قبضہ کرکے شلمچہ کے نزدیک آگیا  تھا اور  جولائی ۱۹۸۸ء میں  قرار داد نمبر ۵۹۸ قبول ہوگئی۔  قرار داد قبول کرنے کے بعد، عراق نے ایک اور وحشت ناک حملہ کیا۔ فوجی کم تھے، پانی اور وسائل نہیں تھے، سپاہیوں نے درّہ  ابو قریب پر جنگ لڑی اور اُن میں سے بہت سے پیاس کی شدت کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ ایسے حالات میں اسلام آباد اور غرب سے منافقان داخل ہوگئے۔  مسعود رجوی نے اپنے ایجنٹ ہونے کو ثابت کردیا تھا۔  میں اُس  سال (۱۹۸۸)تقریباً  ۲۵ یا ۲۶ جولائی کو دو کوھہ کی چھاؤنی پر پہنچا ، وہاں پر  ہو کا عالم تھا، افراد دشمن سے جنگ کرنے گئے ہوئے تھے،  میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں  اتنے میں، میں نے اپنے ایک دوست کو دیکھا، اُس نے کہا  اسلام آباد  کی طرف بہت بھیڑ ہے، میں بھی اُس کی گاڑی میں بیٹھ گیا اور ہم وہاں گئے۔  میرے پاس جنگی لاکٹ اور کارڈ تھا اور یہ بہت اہم تھا،  ہم پہنچے اور آپریشن میں حصہ لیا۔ ماحول اتنا درہم برہم تھا کہ بہت سے آنے والے ساتھیوں نے ذاتی لباس پہنے ہوئے تھے،  کیونکہ واقعاًٍ منافقین آرہے تھے۔  شہید صیاد ایوی ایشن کے ساتھ آئے  اور منافقوں کے پچھلے محاذ پر بمباری کرکے راستے کو بند کردیا تاکہ عراق اُن تک ساز و سامان نہ پہنچا سکے۔ منافقین درّہ چار زبر پر پہنچ گئے  اور انھوں نے بالکل بھی اس بارے میں سوچا نہیں تھا کہ  اُس طرف سے ایوی ایشن آگیا  اور اس طرف سے ہمارے ساتھی آگئے  اور وہ وہاں گرفتار ہوگئے۔

تلخ ترین آپریشنوں میں سے ایک جس میں، میں  نے شرکت کی وہ مرصاد آپریشن تھا۔ منافق اور ایجنٹ ہونے سے صرف نظر ہمارے مقابلے میں ایرانی تھے اور یہ بہت عجیب تھا۔ مرد اور عورتیں آپس میں ملے ہوئے تھے  اور مشخص تھا کہ اُن کے درمیان جو عورتیں ہیں اُن میں حتی چلنے کی بھی ہمت نہیں ہے  اور انھوں  نے صحیح سے ٹریننگ بھی حاصل نہیں کی تھی۔ وہ ہمارے وطن تھے لیکن دھوکے میں آگئے تھے   اور ایسے مناظر دیکھنا ہمارے لیے اذیت کا باعث تھا۔ ایک موقع پر وہ لوگ آئے اور مسلم بٹالین کے افراد کو پکڑلیا  اور دیہاتی کمروں میں قید کردیا۔ جب ہمارے اپنے افراد آئے،  وہ مسلم، مسلم کہہ رہے تھے،  ہمارے افراد سوچنے لگے وہ عراقی ہیں  اور کہہ رہے ہیں کہ مسلمان ہیں، وہ چلا رہے تھے کہ ہم ایرانی ہیں  اور بدبختی یہی تھی کہ منافقین بھی ایرانی تھے،  انھوں نے بھی بالکل ہماری طرح خاکی لباس پہنے ہوئے تھے، تشخیص دینا بہت مشکل تھا، اُن کے بارے میں ہمارے پاس تشخیص کا طریقہ  صرف وہی جنگی لاکٹ اور کارڈ تھے۔ درس عبرت دینے کیلئے کچھ منافقین کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا،  منافقین بھی جب ہمارے افراد کو پکڑتے، انھیں آگ لگا دیتے! وہ اتنے سارے افراد کے ساتھ آئے تھے اور مرصاد آپریشن میں شکست کھا گئے۔ اُن کے بہت سارے لوگ اسیر اور کافی سارے لوگ قتل بھی ہوئے۔  جیسا کہ مسعود رجوی ایک دھوکہ باز انسان ہے، جب آپریشن کے بعد منافقین واپس پلٹے،  اُس نے ایک منصوبہ بنایا اور کہا کہ  آپ لوگ جب اسلامی جمہوری سے جنگ کیلئے گئے تو آپ لوگ اپنی بیویوں اور بچوں کی فکر میں تھے،  آپ لوگوں کو بیوی بچوں کی قید سے رہا ہونا پڑے گا، آپ لوگ ایک دوسرے سے طلاق لے لیں۔ خانم نادرہ افشاری جو مجاہدین خلق کی خاتون کارکن تھیں۔ وہ کتاب کا مطالعہ کرتی تھیں اور اُنہیں ادبیات کا شوق تھا۔  یہ محترمہ یتیم خانوں، مسافرخانوں یا ٹریننگ سنٹر وغیرہ کی انچارج تھیں جہاں منافقین کے افراد کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ اُن کی "عشق ممنوع" کے نام سے ایک کتاب ہے  جس میں انھوں نے اُس جگہ کی یادیں لکھی ہیں، اُس کتاب میں ثابت ہوا ہے کہ وہ لوگ اپنے اہداف و مقاصد تک پہنچنے کیلئے کسی کام سے دریغ نہیں کرتے تھے اور ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ لوگ اس ملک  کے حاکم نہیں بنے۔"

خرم شہر سے دمشق تک

پروگرام کے دوسرے راوی حسن علی دروکی تھے، انھوں نے کہا: "ہم دو گروپس تھے جو سڑک کی دائیں اور بائیں طرف چلتے تاکہ دشمن کیلئے کمین لگا سکیں، دشمن نے ہمیں دیکھ لیا تھا، اُن میں سے کسی ایک نے سگریٹ سلگائی اور شہید محمود کاوہ نے بھی انہیں دیکھ لیا، وہ چیخ کر بولے کہ کھڑے ہوجاؤ، میں ڈر رہا تھا اور کھڑا نہیں ہو رہا تھا۔  میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ  ٹریسر گولیاں شہید  کاوہ کے پاؤں کے پاس سے گزر رہی تھیں۔  میں نے سوچا کہ اگر یہ گولیاں شہید کاوہ کو نہیں لگ رہیں تو پھر مجھے بھی نہیں لگیں گی،  پس میں کھڑا ہوگیا اور جھڑپوں میں شامل ہوگیا، میں نے جیسے ہی پہلی گولی چلائی میرا سارا خوف ختم ہوگیا۔ "

جناب دروکی نے مزید کہا: "خرم شہرکے آزاد ہونے سے پہلے، ایک سرنگ تھی کہ اس سرنگ کے دائیں اور بائیں طرف پانی موجود تھا۔ دشمن نے اس سرنگ کے سرہانے اینٹی فضائی لگائی ہوئی تھی۔ اینٹی فضائی ایسی چیز ہے کہ اگر گیارہ  لوگ ایک کے پیچھے ایک کھڑے ہوجائیں تو اُس کی گولی پورے گیارہ لوگوں میں سے گزرے گی۔ رات کو، جب افراد نے آپریشن شروع کیا، اُن کا سامنا اینٹی فضائی سے ہوا اور وہ واپس آگئے اور جب دن نکلا، عراقیوں نے اُن  ۱۰ سے ۱۵ افراد پر جو زخمی ہوگئے تھے پٹرول چھڑکا اور اُنہیں آگ لگادی۔ میں خود خرم شہر آزاد ہونے کے ایک ہفتہ بعد وہاں گیا اور دوسرے افراد کے ساتھ اُنہیں جمع کیا۔"

دفاع مقدس کے اس سپاہی نے کہا: "ہم نے سن ۱۹۸۵ میں آپریشن کیا تاکہ و الفجر ۸ میں فاو کو حاصل کرلیں، غوطہ خور دشمن کے خط کو توڑنے والے تھے اور یہ بہت بہترین آپریشن تھا جو لوگوں نے انجام دیا تھا۔ سن ۱۹۸۵ کے آخری ایام جس میں رجب کا مہینہ پڑ اتھا،  دشمن چاہتا تھا ہمارے اسی عقیدے کی وجہ سے، ان ہی دنوں میں ہم پر ایک زبردست حملہ کرے، پس اُس نے شدید ترین جوابی کاروائی کا آغاز کیا تاکہ ہم سے فاو کو لے لے۔ جب آپریشن شروع ہو اتو رات کے بارہ یا ایک بج رہے ہوں گے۔ میں محاذ کی صفوں میں تھا۔ میں ایک طرف گیا تو میں نے دیکھا تین بسیجی جوان فائرنگ کر رہے ہیں، وہ اس بات پر پریشان تھے کہ اگر گولیاں ختم ہوگئیں تو کیا کریں گے۔  مجھے گولیوں کا بکس لانے میں تقریباً دس سیکنڈ لگے ہوں گے، جب میں واپس پہنچا تو میں نے دیکھا اُن تینوں کے بدن کمر سے جدا ہوچکے ہیں، میں نے ایک شخص کو آواز دی اور کہا کہ ان کے پاؤں آپس میں نہ مل جائیں۔ ہمارے ساتھی صبح دس بجے تک ڈٹے رہے  اور حتی ایک میٹر بھی پیچھے نہیں ہٹے۔"

جناب دروکی نے آخر میں کہا: "ایک افغانی جوان تھا کہ جس کے گھر والے عراق میں رہتے تھے اور اُس نے ایک دمشقی خاتون سے عقد کیا ہوا تھا۔ میں پچھلے سال رمضان کے مہینے میں شام میں تھا۔ وہ افغانی جوان اُس گرمی میں بھی روزے رکھتا  اور اول وقت نماز پڑھتا تھا۔ اُس نے آکر ہمارے انچارج سے قرضے کی درخواست کی تاکہ اپنی بیوی کو رخصت کرکے گھر لے آئے، لیکن ایک آپریشن  شروع ہوگیا اور ہم ایک ساتھ اُس آپریشن پر گئے۔ میں نے اُس سے کہا جہاں سے تم گزر رہے ہو، احتیاط کرنا، داعشی تمہیں دیکھ رہے ہیں،  وہ نیچے جھکا اور وہاں سے گزر گیا اور سنیپر گن مین نے اُسے نہیں دیکھا۔ واپس آتے وقت ہم باتیں کرنے میں مشغول تھے، وہ بھی بھول چکا تھا، وہ گزرتے وقت نیچے نہیں جھکا  اور سنیپر گن مین نے اُس کی کھوپڑی پر فائر کیا اور جب میں اُس کی مدد کرنے کیلئے بڑھا،  میرے پاؤں پر بھی گولی لگی۔ ہمیں ایک ساتھ ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ شہید ہوگیا۔"

تیرہ شہید میرے خواب میں آئے

پروگرام کے تیسرے راوی"جنون مجنون" نامی کتاب کے مؤلف، حمید جہانگیر فیض آبادی تھے، انھوں نے کہا: " میں جس زمانے میں اس کتاب کو لکھ رہا تھا کم سے کم ۱۳ شہید میرے خواب میں آئے۔  میں غوطہ خوروں کی بٹالین یاسین کے کمانڈر شہید جلیل محدثی فر کے بارے میں لکھ رہا تھا۔ جب وہ شہید ہوئے، محمد رضا سمندری بٹالین کے کمانڈر  بنے۔  یہ دو افراد ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ محدثی فر کی شہادت کے بعد ، ایک ہفتے تک جناب سمندری کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا، وہ جلیل کی جدائی میں پہاڑوں اور بیابانوں میں چلے گئے تھے۔  جب میں اس حصے کو لکھنے میں مصروف تھا، مجھے سمندری کے بٹالین کمانڈر بننے کے بارے میں شک ہوا اور جیسا کہ بعد میں میری باتیں سند کے طور پر استعمال ہوں گی،  میں نے اس موضوع کے بارے میں کچھ نہیں لکھا اور مجھے نیند آگئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ شہید سمندری آئے ہیں اور  انھوں نے کہا میں یاسین بٹالین کا باقاعدہ کمانڈر بنا تھا، اس بات کو کتاب میں لکھ دو۔"

آر پی جی کا ماہر تیرہ سالہ جوان

انھوں نے مزید کہا: "ہم آٹھویں و الفجر آپریشن میں نہر خیّن کی طرف جا رہے تھے تاکہ وہ پل جو لوگوں نے نہر پر بنایا تھا اُسے اڑا دیں، کیونکہ عراقیوں نے جوابی حملہ کردیا تھا اور وہ  ولی عصر (عج) ٹاؤن پر قبضہ کرنا چاہتے تھے  تا لوگوں پر دباؤ ڈال سکیں اور وہ لوگ فاو کو چھوڑ دیں۔ بہت خطرناک  جنگ ہورہی تھی، اس طرح کی شدید جنگ میں نے محاذ پر  رہتے ہوئے پورے عرصے میں نہیں دیکھی تھی۔ شام کے تقریباً ۴ یا ۵ بج رہے تھے، ہم نہر کے قریب پہنچے، ہم تمام افراد جو پل کو توڑنے کیلئے آئے ہوئے تھے  اُن کی تعداد تقریباً ۱۶ یا ۱۷ تھی، ان میں سے چار لوگ باقی رہ گئے تھے، ہم اس فکر میں پڑے ہوئے تھے  کہ پل کو کس طرح اڑائیں، ایک عراقی نے سٹین گن سے ہماری طرف فائر کھول دیا، ایک گولی عطار پاشی  کے پیٹ میں لگی اور وہ زمین پر گر گئے اور اب ہم تین لوگ رہ گئے۔ ہمارا وائرلیس آپریٹر جس کا نام زارع تھا، وہ میرے برابر میں سٹین گن سے فائر کرنے والی کی رینج میں لیٹا ہوا تھا، ہم نے اُس کی طرف  اشارہ کیا کہ سینے کے بل چلتے ہوئے ہماری طرف آؤ، گن مین تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اُس کی پیٹھ پر بیگ بھاری تھا اور وہ سینے کے بل نہیں آ سکتاتھا۔ اُس نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے تاکہ میں اُس کی مدد کروں۔ میں نے جیسے ہی اُس کے ہاتھ پکڑے، گن مین نے اُسے دیکھ لیا  اور ہم پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ گولی میرے ہاتھ کی کلائی کے ایک طرف سے گھسی اور دوسری طرف سے باہر نکل گئی تھی۔ ایک گولی زارع کے گلے  پر بھی لگی تھی۔ اُس نے پلٹ کر اپنا رُخ آسمان کی طرف کیا اور ہنسنے لگا، اُس کے  بعد اپنے سر کو میرے پاؤں  کے قریب رکھا اور شہید ہوگیا۔ جب تاریکی چھائی تو افراد آکر ہمیں پیچھے لے گئے۔

اُسی علاقے میں کربلائے ۵ آپریشن  والی رات کو ہماری بٹالین کو نہر خیّن اور جزیرہ بوارین سے گزرنے  اور شہر بصرہ پر دباؤ ڈالنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ہم اس انتظار میں تھے کہ غوطہ خور دشمن کی فرنٹ لائن کو توڑ دیں ، اُس کے بعد اُس پل کے ذریعے جو ہمارے ساتھی انجینئرز نے بنایا تھا، جزیرہ بوارین کے اُس طرف جائیں  اور دشمن کے مورچے کو دھماکہ سے اُڑا دیں  تاکہ افراد اس ٹوٹے پھوٹے مورچے کے پاس سے گزریں اور جزیرہ ام الرصاص کی طرف سے نہ جائیں  کہ وہاں گولی لگنے  کا خدشہ تھا۔ ہم انتظار کر رہے تھے کہ ہم نے دیکھا تقریباً ۴۰ لوگوں نے پل کے نچلے حصے کو پکڑا ہوا ہے  اور اُسے لیکر آرہے ہیں۔  اُن افراد کے درمیان میری نظر ایک ۱۳ سالہ بسیجی جوان پر پڑی  جس نے اپنی پیشانی پر یا زہرا (س) کی پٹی باندھی ہوئی تھی۔ یہ تیرہ سالہ جوان ہمارے گروپ میں آر پی جی چلانے والا تھا  اور جیسا کہ اس کا ہاتھ پل کو پکڑنے کیلئے پہنچ نہیں پا رہا تھا، اس نے آر پی جی سے پل کے نچلے حصے کو پکڑا ہوا تھا۔ اُسی موقع پر عراقی سٹین گن مین نے ساتھیوں کو دیکھ لیا اور فائر کھول دیئے  اور میں نے دیکھا تقریباً ۲۰ سے ۳۰ افراد ایک کے اوپر ایک گر گئے  اور زخمی و شہید ہوگئے۔ پھر چھ سات افراد جو سوچ رہے تھے کہ جس طرف میں بیٹھا ہوں وہاں امن ہے، وہ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے، اچانک ہمیں نہیں پتہ چلا کہ کہاں آر پی جی چلی ہے،  میں نے صرف آسمان پر کچھ ہاتھ پاؤں دیکھے۔ ہم اسی طرح لوگوں کو سرنگ کی طرف بھیج رہے تھے تاکہ وہ واپس جائیں،  مجھے ایک دم کسی کے نالہ و فریاد کرنے کی آواز آئی جو کہہ رہا تھا: مجھے بجھاؤ، میں جل رہا ہوں، میں  نے واپس آکر دیکھا تو وہی تیرہ سالہ بسیجی جوان تھا جو زمین پر گرا ہوا تھا، اُس کی آر پی جی میں آگ لگ گئی تھی اور آر پی کی پچھلی طرف آگ لگی تھی۔ ہم نے اُس کے آر پی جی بیگ کو اُس کے بدن سے کھولنے کی کوشش کی، لیکن اس نے بیگ کو اتنی مضبوطی سے باندھ ہوا تھا کہ کھلا نہیں، ہم سے کچھ نہیں ہوسکا اور اُس بسیجی کا بدن آگ میں جل گیا۔

شہید امیر نظری کی شوخیاں

دفاع مقدس کے اس سپاہی نے کہا: " ایک شہید جن کا نام امیر نظری تھا وہ مائنز ناکارہ کرنے والے یونٹ میں ہمارے ساتھ تھے  جو ہمارے یونٹ کے افراد کیلئے خوشی اور شادمانی کا بم تھے۔ ایک دفعہ امام رضا (ع) بریگیڈ کے ایک ہیڈ کوارٹر میں صادق آہنگران  نوحہ پڑھنے کیلئے آئے ہوئے تھے۔ اس پروگرام میں بہت سارے لوگ آئے تھے۔ جب مجلس ختم ہوئی اور سپاہی مسجد کے چھوٹے سے دروازے سے باہر نکلنا چاہ رہے تھے، میں امیر نظری کےساتھ باہر آیا ، اُس نے کہا تمہیں پتہ ہے ابھی کس چیز کا وقت ہے؟ یہ آنسو نکالنے والی گیس کا وقت ہے!  وہ ہمیشہ سگریٹ کی طرح اپنی جیب میں آنسو نکالنے والی گیس  کا آلہ رکھتے تھے۔ وہاں پر اسٹور روم میں ایک بوڑھے مرد تھے، انھوں نے امیر سے کہا کہ میرے لیے سگریٹ جلا دو، اُس کے بعد انھوں نے وہ آنسو نکالنے والی گیس جو سگریٹ کی طرح تھی اُس بندہ خدا کی سگریٹ کے نیچے رکھ دی۔ اُن کی آنکھوں میں سفید دھواں گیا  اور انھوں نے رونا شروع کردیا، ہم فرار کر گئے۔ وہاں پر سب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے  اور کوئی بھی اپنے جوتے نہیں ڈھونڈ پا رہا تھا، سب چلا رہے تھے کہ کیمیائی بم کا حملہ ہوا ہے! امیر نظری نے اسی آنسو نکالنے والی گیس سے مشہد میں کچھ شادیوں کو خراب کیا تھا! ایسا ہوگیا تھا کہ شادی میں جانے کیلئے گیٹ پر ایک نگہبان کھڑا کردیتے تاکہ امیر نظری کو اندر آنے نہ دے۔ جلیل محدثی فر کی شادی میں، جب جلیل عام کپڑے اُتار کر شادی کا لباس پہننا چاہ رہے تھے، جب وہ اپنے آخری لباس پر پہنچے، امیر ،جلیل کے گرد جو تولیہ  پکڑ کر کھڑے تھے انھوں نے اُسے چھوڑ دیا اور بھاگ گئے اور اُسی طرح بھاگتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ لوگوں "جلیل بغیر کپڑوں کے اچھا لگتا ہے، جلیل بغیر کپڑوں کے اچھا لگتا ہے!" امیر چلا گیا اور کافی دیر بعد دلہن کی رخصتی کے وقت آیا۔ جب ہم جانا چاہ رہے تھے، ہم نے دیکھا کہ اُس نے دروازے کا ایک پٹ اپنے سر پر رکھا ہوا ہے اور گلی کی طرف فرار کر رہا ہے۔ دلہن کے والد اور بھائی اس کے بھیجے بھاگے  کہ دروازے کو جگہ پر لگاؤ، لوگ واش روم جانا چاہتے ہیں!

فاو میں، امیر ہمیں مائنز کا میدان دکھانے لے گیا۔ ہمیں لے گیا اور بہت آگے لے گیا، ہم سرنگ سے  بھی آگے چلے گئے  اور اچانک ہم نے سنا کہ عربی بولنے کی آواز آ رہی ہے۔ امیر ہمیں عراقیوں کے درمیان چھوڑ کر فرار کر گیا تھا!  ہم بھاگ رہے تھے اور عراقی بھی ہمارے پیچھے دوڑ رہے تھے۔

ہم اہواز میں مائنز ناکارہ والے یونٹ کی پانچ منزلہ  عمارت میں تھے کہ ہم نے دیکھا امیر نظری  تین مولانا صاحبان کو یونٹ کی طرف لا رہا ہے۔ اُنہیں راستہ پتہ نہیں تھا اور وہ مجبور تھے کہ امیر کے ساتھ آئیں۔ جب اُنہیں عمارت مل گئی اور راستہ سمجھ میں آگیا، ہم نے دیکھا کہ وہ امیر کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور امیر بھی فرار کر رہا تھا۔ جب مولانا حضرات پہنچے، انھوں نے ناراض ہوتے ہوئے پوچھا کہ یہ شخص کون تھا؟ منافق تھا! ہم نے کہا ہمارے یونٹ کا ایک فرد ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اُن کے عمامہ اور لباس  پر بہت مٹی لگی ہوئی ہے، ہم نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ اُنھوں نے کہا اُس نے راستہ شروع ہونے سے لیکر اس عمارت تک تقریباً چالیس مرتبہ واجب سجدے والی آیات کی تلاوت  کی اور اُن لوگوں کو سجدہ کرنا پڑا! امیر نظری کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور کربلائے ۵ آپریشن کی رات وہ اصرار کرکے آگے گیا اور وہ دشمن کی صفوف کو توڑتا چاہتا تھا۔ وہ پہلے آدمی کے عنوان سے گیا اور سرنگ کو کھولا تاکہ افراد جزیرہ بوارین  کی طرف جائیں۔ اُس نے جیسے ہی سرنگ سے سر باہر نکالا، عراقی سنیپر مین نے فائر کیا اور وہ شہید ہوگیا۔"

کربلائے ۴ کے غوطہ خور

جناب فیض آبادی نے آخر میں کہا: "افراد  نے تین سے چار مہینے تک دن رات غوط خوری کی ٹریننگ کا کورس کیا۔ میں ایک عرصے تک اُن کے ساتھ رہا اور غوطہ خوری کا مزہ اٹھایا لیکن میں جاری نہ رکھ سکا۔ ہمیں رات کے ایک بجے اٹھا دیا جاتا تھا اور ٹریننگ کیلئے کارون اور بھمن شیر کی نہروں کی طرف لے جایا جاتا۔ موسم بہت زیادہ سرد ہوتا تھا اور ہمیں غوطہ خوری کا لباس پہننے کیلئے اپنے پورے لباس کو اتارنا ہوتا تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں لگتیں۔ غوطہ خوری کے لباس کو پہلے گیلا کیا جاتا ہے تاکہ اُسے پہن سکیں۔ وہ لباس کو کارون کے ٹھنڈے پانی میں ڈال دیتے  اور انھیں آہستہ آہستہ اوپر لاتے۔ لباس کی زپ اوپر چڑھانے کیلئے سردی کے مارے ہاتھ کام نہیں کرتے تھے۔ دو افرار ایک دوسرے  کے لباس کی زپ اپنے دانتوں سے اوپر کرتے تھے اور وہ جیسے ہی پانی میں اترتے تھے، سردی اُن کے دماغ اور ہڈیوں میں گھس جاتی۔ افراد جس وقت سونا چاہتے تھے، تھکاوٹ کی وجہ سے اپنا لباس نہیں اتار سکتے تھے۔ ایسے حالات میں علی شیبانی پانی کی تلاش میں ہوتا تاکہ وضو کرے اور نماز شب پڑھے۔ جب میں علی کی والدہ کو نہر خیّن کے کنارے لے گیا تاکہ اُنہیں اُن کے بیٹے کی شہادت کی جگہ دکھاؤں، انھوں نے  کہا میں نے خود اپنے بیٹے کے بالوں میں کنگھی  کی تھی اور اُسے ٹرین پر سوار کیا تھا۔ جب سات سالوں بعد علی کی کچھ ہڈیاں واپس آئی تھیں، انھوں نے ہڈیوں کو نہیں دیکھا اور کہا میں چاہتی ہوں جس طرح کا علی میرے ذہن میں ہے، اُسی طرح  باقی رہے۔

افراد بہت تھکے ہوئے تھے اور وہ دن کے وقت نہیں سوتے تھے۔ وہ دو سے تین مہینوں  کے دوران ایک دوسرے کے بھائی بن گئے تھے اور اب انہیں ایک دوسرے سے جدا ہونا تھا  اور آپریشن کرنا تھا۔ آپریشن والی رات جلیل مورچے کے اندر آیا اور کہا  کہ ہم ایسا آپریشن کرنے جا رہے ہیں  کہ شاید کوئی بھی و اپس نہ آئے۔مورچے کے اندر دو بڑی لالٹینیں جل رہی تھیں  اور تقریباً ۶۰ سے ۷۰ غوطہ خور  افراد آپریشن کیلئے آمادہ تھے۔ بالکل کربلا میں امام حسین (ع) کی شب عاشور کی طرح کا منظر تھا، جلیل نے چاہا کہ چراغوں کو بجھا دیا جائے تاکہ جو بھی شخص نہیں آنا چاہتا وہ مورچے کے پچھلے دروازے سے باہر نکل جائے۔ ان باتوں سے افراد کے درمیان جوش و ولولہ پیدا ہوا  مگر کیا ہم واپس جانے کیلئے آئے ہیں؟ ہم آئے ہیں تاکہ امام کی بات کا بھرم باقی رہے۔ اس آپریشن میں (کربلائے ۴) وہ ۱۲۰ افراد جو گئے تھے ، اُن میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا۔ بہت عرصے بعد ایک یا دو لوگ واپس آنے میں کامیاب ہوئے، ایک شہید حسن دیزجی تھے جو کچھ راتیں عراقیوں کے پاس گزارنے کے بعد واپس آسکے تھے۔ حسن نے اپنی شہادت سے پہلے میری طرف رُخ کیا اور کہا  میں چند مہینوں بعد شہید ہوجاؤں گا۔ وہ سترہ سال کا تھا اور مشہد کے ایک اچھے محلے سے اُس کا تعلق تھا۔ وہ کس چیز کی تلاش میں تھا  کہ وہاں کو چھوڑ کر محاذ پر آگیا تھا؟ انھوں نے مجھ سے کہا میں تمہیں دو باتیں بتا رہا ہوں اور میں اس بات پر بالکل راضی نہیں ہوں کہ میری شہادت سے پہلے اُنہیں کہیں پر بیان کرو، پہلی بات تو یہ کہ جب میں جزیرہ بوارین پر کھو گیا تھا، چوتھی رات میرا دل بالکل ٹوٹ چکا تھا، میرے پاس نہ پانی تھا نہ کھانا، آلودہ پانی اور شہید ہونے والے غوطہ خوروں کی بچی کچھی غذا استعمال کر رہا تھا۔ میں نے چوتھی رات حضرت زہرا (س) سے توسل کیا اور اُسی وقت مجھے نیند آگئی، میں نے عالم خواب میں دیکھا کہ ایک معظمہ آئی ہیں اور انھوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا  اور مجھ سے مہربانی کرتے ہوئے کہا: " حسن جان! آپ لوگ ہمارے اپنے افراد ہیں، آپ لوگ ہمارے فرزند کے دین کی مدد میں جنگ لڑ رہے ہیں" اور انھوں نے مجھے واپسی کا راستہ دکھایا۔ میں نیند سے اٹھا اور  پانی میں جانا چاہتا تھا کہ میں نے دیکھا عراقی چاروں طرف سے علاقے پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں، میں ڈر گیا اور جزیرہ کی طرف واپس آگیا ، مجھے یاد آیا کہ خواب میں معظمہ نے مجھ سے کہا تھا کہ  میں ایران واپس پلٹوں گا، لہذا میں خیّن  میں کودا اور ایران کی طرف تیرنے لگا۔ کرمان ڈویژن کے افراد نے اُنہیں پکڑ لیا تھا اور وہ گمان کر رہے تھے وہ عراقی ہے اور اُن کی مار بھی لگائی تھی۔ دوسری بات یہ تھی کہ جواد کافی جو مائنز ناکارہ کرنے والے یونٹ سے تھا اور چوڑے ہیکل کا مالک تھا، حسن دیزجی کہہ رہے تھے کہ میں سینے کے بل عراقیوں کی سمت بڑھ رہا تھا  اور میں جواد کافی کے پیچھے تھا، مجھ سے غلطی سے ایک گولی فائر ہوگئی جو جواد کافی کے پاؤں پر لگی،  جواد چلانے لگا کہ عراقیوں نے ہم پر فائر کھول دیئے ہیں، حسن نے کہا کہ میں یہ بتانے سے کہ میں نے فائر کیا ہے ڈر گیا ، میں کچھ نہیں بولا اور بات ختم ہوگئی۔ حسن کی شہادت کے بعد، میں نے یہ بات جواد کو  بتائی تو جواد نے مذاق میں کہا کہ میں جب بھی حسن کی قبر پر جاؤں گا، پہلے میں اس کی قبر پر لات ماروں گا، پھر فاتحہ پڑھوں گا! "

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۳ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۶ جولائی ۲۰۱۸ء کو  آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم  میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام ۲۳ اگست کو ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 78


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں