بازی دراز کا دورہ

محمد حسین قدمی

مترجم: سید نعیم حسین شاہ

2018-11-13


شہید محراب آیت اللہ عطا اللہ  اشرفی اصفہانی کی برسی کے موقع پر میرے ذہن میں ۱۹۸۱ء کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ بیتے دنوں میں بہادری کے قصے یاد آگئے ، یہ وہ دن تھے جب کرمانشاہ میں ہماری ہیڈکواٹر اور فوجی چھاؤنی تھی۔ تربیتی امور کے افراد، جواد ہاشمی ، اصغر نقی زادہ  کے ہمراہ نمائش لگانے اور نغمے سرائی کرنے والے گروپس کو اپنے ساتھ جنگی علاقوں میں لے جاتے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب "بازی دراز "کی  چوٹی نئی نئی آزاد ہوئی تھی  اور ابوذر چھاؤنی میں ہماری مصروفیت ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے تھی۔ وہاں پر منعقد نمائشوں سے متعلق جواد کا ایک نیا اور انوکھا  تخیل یہ بھی تھا کہ نمائش ہال میں تمام فوجی سربراہوں کو بھی مدعو کیا جائے ۔ اس وقت کمانڈر محمد کوثری موقع پر موجود نہ تھے  (کمانڈر محمدکوثری بعد میں ۲۷ ویں محمد رسول (ص) لشکر کے سربراہ بھی رہے ہیں)۔  جواد کمانڈر کوثری کو بلانے گیا۔ اگرچہ کمانڈر کوثری نمائش وغیرہ کو زیادہ مؤثر نہیں سمجھتے تھے لیکن جواد منت سماجت کرکے انہیں راضی کرکے ساتھ لے آیا تھا۔ اور جب کمانڈر کوثری نے نمائش دیکھی تو اتنے متاثر ہوئے کہ حتی بعد میں انہیں یہ کہنا پڑا کہ: نمائش تو بہت زبردست تھی  اگر یہ دوسرے علاقوں میں بھی دکھائی جائے تو بہت اچھا ہوگا۔

ہم اس چھاؤنی میں تھے کہ بسیج ریڈیو نے یہ خبر نشر کی عنقریب آیت اللہ  اشرفی اصفہانی "بازی دراز" والے علاقے کا دورہ کریں گے۔ یہ خبر سنتے ہی میں تصدیق کی خاطر کرمانشارہ روانہ ہوگیا وہاں پہنچ کر آیت اللہ کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کی اور وہاں پر تبلیغاتی امور سے متعلق قیام پذیر جوانوں سے گفتگو کے بعد یہ تصدیق ہوگئی کہ ریڈیو کی خبر درست ہے۔ اس کے بعد میں فوراً  آیت اللہ کے گھر پہنچا اور ساتھیوں سے صلاح مشورہ کرکے ہم بھی امام جمعہ کی گاڑی پر  ہی "بازی دراز" چوٹی کی طرف روانہ ہوگئے۔

آیت اللہ اشرفی اصفہانی کی خاصیت یہ تھی کہ وہ سپاہیوں کو اپنے بیٹوں کی طرح چاہتے تھے۔ طبیعت ناساز رہنے کے باوجود اس کبر سنی میں بھی اکثر جنگی علاقوں کا دورہ کرتے تھے ۔ ہر مورچے میں جاکر  بسیجیوں کو گلے لگاتے، ماتھا چومتے اور اپنی تقریر سے فیضیاب فرماتے تھے اور ان خاک نشینوں کے ساتھ وہیں مٹی پر ہی بیٹھ جاتے۔ ایک دفعہ جب ایک نگہبان اور سپاہی کی شہادت  کی اطلاع موصول ہوئی تو یہ خبر آیت اللہ پر بجلی بن کر گری!

میرے ساتھی نے بتایا کہ محاذ جنگ اور مورچوں کے رہائشی یہ مخلص جوان ہی آیت اللہ کے عشق کا سرمایہ ہیں۔ خود آیت اللہ کے بقول کہ جب بھی محاذ جنگ پر جانا ہوتا ہے واپس آنے کے ایک عرصے بعد تک معنوی نشاط کا احساس رہتا ہے ۔۔۔ ابھی بھی وہ وہ صرف "بازی دراز" والے علاقے کا ارادہ نہیں  رکھتے  بلکہ یہاں سے ہمیں شاید قصر شیریں، سرپ ذھاب ، مغربی گیلان  اور نوسود وغیرہ کے علاقوں کا بھی دورہ کرنا پڑے۔

گاڑی تیزی سے رواں دواں تھی۔ آیت اللہ کی زبان ذکر و دعا میں مشغول تھی۔ ہمارا رستہ مسلسل دشمن کی نگاہوں میں تھا۔ جب ہی چاروں طرف سے  ہمارے اطراف میں گولے آکر گر رہے تھے لیکن آیت اللہ کے چہرے پر بلا کا سکون تھا۔

میں نے اپنے ہم سفر دوست  سے گزارش کی کہ منزل مقصود تک پہنچتے پہنچتے مجھے آیت اللہ کے بارے میں مزید کچھ بتائے۔ جو اب میں وہ چپکے سے بولے: "حاج آقا کا تعلیمی دور بہت سختی میں گزرا ہے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ بدھ کے دن کے لیے ، کہ جو درسی ہفتے کا آخری دن ہوا کرتا تھا، آقا کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں بچتے تھے۔ آقا نے حصول علم میں اتنی سختیاں اٹھائی ہیں کہ حتی کوئی اور شخص ان سختیوں کا عشر عشیر برداشت کرنے کو تیار نہ ہو۔ بس اتنا کہوں گا کہ شروع سے لیکر فقہ و اصول کے اختتام تک آقا ایک کتاب بھی نہیں خرید  پائے تھے بلکہ وقف شدہ کتابوں سے استفادہ کرتے رہے اور اس قدر سخت محنت کی کہ آخرکار چالیس سال کی عمر میں درجہ اجہتہاد پر فائز ہوگئے۔"

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ ان کے کرمانشاہ جانے کے حوالے سے مزید کچھ بتائے ۔

"آیت اللہ جب حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر کرمانشاہ تشریف لائے تو انتہائی سادہ حالت  میں تھے؛   یہاں تک کہ حتی حافظ بھی ساتھ نہیں تھا! ۔۔۔ اور تو اور نہ صرف کسی کو ہمراہی کے لئے ساتھ نہیں رکھتے تھے بلکہ بعض اوقات مسجد آنے کے لیے اچھا خاصا وقت محض گاڑی کے انتظار میں نکل جاتا تھا ۔۔۔ پھر اس کے بعد کچھ عرصے تک ایک پڑوسی  ان کو مسجد تک  پہنچانے کا کام کرنے لگا ۔۔۔ کرمانشاہ کے گورنر  کے عہدے پر فائز رہنے کے کچھ عرصہ بعد ایک پرانی پیکان گاڑی ان کے اختیار میں دی گئی جو اکثر خراب رہتی تھی۔ آخر کار حفاظتی مسائل اور اہم شخصیات  کو دھمکیوں  اور قتل کے پیش نظر ایک نئی پیکان اور دو سپاہی تعینات کئے گئے۔  ۲۸ جون ۱۹۸۱ء کے دلخراش سانحے اور ۷۲ افراد کی شہادت نیز پہلے شہید محراب آیت اللہ سید اسد اللہ مدنی کی شہادت و ۔۔۔ کے بعد کرمانشاہ کے "ناظم"  کی طرف سے ایک گاڑی ان کی خدمت میں پیش کی گئی۔ تیسرے شہید محراب آیت اللہ محمد صدوقی کی شہادت کے بعد امام خمینی ؒ کے حکم پر ایک بلٹ پروف گاڑی آپ کے لئے مختص کی گئی اور حتی آقا کو زبردستی اس گاڑی میں سوار کرتے تھے۔"

خیر یہی گفتگو جاری تھی کہ ہماری گاڑی مٹی کے ٹیلوں کے پیچھے جاکر رک گئی اب یہیں سے ہی ہماری آنکھوں نے نئے مناظر دیکھنے تھے۔ کمانڈر کا منہ تعجب کے مارے کھلے کا کھلا ہی رہ گیا۔ درحقیقت اسے اس بات کا خوف تھا کہ کہیں آقا کو کچھ ہو نہ جائے۔ خوف بھری آواز میں اس نے استدعا کی آقا صاحب خدارا ! آپ گاڑی سے مت اترئیے گا اور ساتھ ہی اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ آقا صاحب کویہاں سے لے جائیں۔ یہاں خطرہ ہے۔ آیت اللہ کی خواہش کے خلاف عمل کرتے ہوئے ہم نے تیزی سے گاڑی موڑی اور گیلان کے مغربی علاقے کی طرف روانہ ہوگئے۔

آدھے گھنٹے کے بعد ہم "بازی دراز" کے قریب پہنچ گئے۔ حاج آقا نے چونکہ عراقی بعثی  فوجیوں کے فرار کے اوصاف سن رکھتے تھے سو اس لیے ان کا اصرار تھا کہ انہیں "بازی دراز" کا پہاڑ دکھایا جائے۔ یہ آئیڈیا ہمیں بھی برا نہیں لگا۔ گاڑی الٹے ہاتھ پر مڑی اور بغیر رکے اس پر پہاڑ پر چڑھنے لگی۔

عراقیوں نے چوٹی تک خود سڑک بنائی ہوئی تھی تاکہ جنگی ساز و سامان لے جاسکیں۔

حاج آقا گاڑی سے نیچے اترتے ہیں۔ بڑھاپے کا اتنا اثر تھا کہ حاج آقا سے لاٹھی بھی نہیں پکڑی جارہی تھی لیکن یہ سراسر عشق تھا جو انہیں وہاں خون کی وادی تک کھینچ لایا تھا۔ آقا کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آزاد شدہ سرحدی لائن کی وسعت کا مشاہدہ کریں لیکن جسمانی ضعف اور لرزے کے باعث دور بین صحیح سے پکڑ نہیں پا رہے تھے۔ سپاہی نے دوربین ہاتھ میں لے کر آقا کے آنکھوں پر لگائی۔ اب جوآقا کی نگاہ خون بھرے سرخ افق پر پڑی تو بے ساختہ ان کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوئے: اللہ اکبر، اس کامیابی میں ہم خدا کے احسان مند ہیں۔



 
صارفین کی تعداد: 101


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں