آخر کار یہ طے پایا کہ امام خمینی کے لئے کوئی مخصوص جگہ بنائی جائے

قم کو امام خمینی کی آمد کے لئے تیار کرنا

روایت کنندہ:آیت اللہ محمد یزدی
ترجمہ: سید سمیر جعفری

2018-10-14


جس وقت امام خمینی علیہ الرحمہ نے ایران آنے کا حتمی اعلان کیا، فدوی  نے اپنے دوستوں کو قم  میں اپنے گھر مدعو کیا اور کہا: " جس طرح  کہ سننے میں آیا ہے جلد یا بدیر امام خمینی ایران واپس آنے والے ہیں۔ حتمی طور پر وہ قم آئیں گے۔ کیا وہ آنے کے بعد اپنے پرانے گھر جو کہ محلہ یخچال قاضی میں واقع ہے وہاں رہیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو تنگ گلیوں سے گذر کر ان کے گھر تک جانا ، ان سے ملنے والوں کے لئے بہت مشکل ہوگا۔ ہمیں ابھی سے اس مسئلے کے بارے میں سوچنا ہوگا"۔

اس ملاقات میں تقریباً سات، آٹھ لوگ ہونگے ، انہوں نے یہ پیش کش کی کہ اس  بارے میں بات کرنے کے لئے شہر سے باہر کوئی جگہ چنی جائے جہاں پولیس اور گرفتاری کے ڈر کے بغیر اطمینان کے ساتھ اس مسئلے پر غور کیا جائے۔  فیصلہ یہ ہوا کہ صبوری صاحب کے گھر جایا جائے  جن کا گھر ان مذکورہ خصوصیات کا حامل بھی ہے اور وسیع بھی ہے۔

انہی ملاقاتوں میں سے ایک میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ امام خمینی کی عمومی تقریروں کے لئے سب سے مناسب جگہ مدرسہ فیضیہ ہے۔ بالخصوص امام  خمینی کی وہ شعلہ ور تقاریر جن سے اس تحریک کا آغاز ہوا تھا وہ مدرسہ فیضیہ میں ہی کی گئی تھیں، لہذا بہتر یہی تھا کہ اسی علمی اور سیاسی مکان کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے۔  اس سلسلے میں جب مدرسہ میں داخل ہونے کے راستے کے بارے میں بحث ہوئی تو بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے داخلی اور خارجی راستے  اس طرح کے اجتماعات اور جلسوں کے لئے مناسب نہیں ہیں اور لوگوں کو بالخصوص خواتین کو بہت سی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لئے اتقاق رائے ہوا۔

امام خمینی کی رہائش کے بارے میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ ان کا پرانا گھر تو اب ان حالات میں ان کے رہنے کے لئے مناسب نہیں ہے اور ملاقات کرنے والوں خصوصاً خواتین یہاں آ کر مشکل میں پھنس جائیں گی اس لئے کسی ایسی جگہ کی تلاش کا فیصلہ کیا گیا جو مدرسہ فیضیہ  سے بھی نزدیک  ہو اور لوگوں کے لئے بھی وہاں کوئی مشکل نہ ہو۔

چند دنوں بعد ایک گھر ملا جو خیابان ساحلی پر امام بارگاہ آیت اللہ مرعشی نجفی کے نزدیک تھا  اس کا مالک قم کا ایک قالین فروش تھا لہذا ہم اس گھر کو دیکھنے گئے تاکہ پسند آنے کی صورت میں بعد کے کام انجام دئیے جائیں۔ ہم گھر دیکھنے گئے، اس گھر میں کئی کمرے تھے اور کمروں کے سامنے کا احاطہ بھی کافی وسیع تھا  جو جلسوں کے لئے بھی مناسب تھا سو اس کو امام خمینی کی رہائش کے لئے چنا گیا۔

امام خمینی کے تقریر کے لئے فیضیہ آنے کے لئے مسجد اعظم کے شمالی جانب سے کتاب خانہ کے اوپر سے ایک راستہ بنایا گیا تاکہ امام خمینی جس وقت تشریف لائیں پوری حفاظت کے ساتھ کتابخانہ میں داخل ہوں اور تقریر کے مقام کے بالکل پیچھے آ کر بیٹھیں۔

اس کے بعد میں نے کہا: " امام خمینی اکیلے تو نہیں آ رہے۔ ان کا خاندان بھی ان کے ساتھ ہے اور ان کے لئے علیحدہ کمروں کی ضرورت ہے"۔ وہ گھر جو ہم نے تلاش کیا تھا اس میں اس لحاظ سے نقص پایا جاتا تھا کہ اس کے کمرے بڑے تو تھے مگر کم تھے۔  یہ مشورہ دیا گیا کہ اسی آس پاس کوئی اور گھر امام خمینی کے گھر والوں کے لئے بھی تلاش کیا جائے اور ایک راہداری بنا کر ان دونوں گھروں کو آپس میں جوڑ دیا جائے۔  اس مشورے کو قبول کر لیا گیا۔ فدوی نے ان تمام مسائل کو جزئیات کے ساتھ مرحوم جناب اشرافی کے گوش گذار کیا اور محترم منتظری صاحب کا ہم نظر ہوگیا۔  ایک بار منتظری صاحب کے ہمراہ مدرسہ فیضیہ گئے  اور خود  کو کتاب خانہ کی کھڑکی تک پہنچادیا جو مدرسہ فیضیہ کے صحن میں کھلتی تھی۔ ہم وہاں منتظری صاحب کے ہمراہ، اس جگہ کھڑے ہوئے جہاں امام خمینی کو آنا تھا۔میں نے کہا: " فرض کریں امام خمینی ابھی تشریف لے آئیں اور اس جگہ کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرنا چاہیں، تو  کھڑکی کا یہ کنارہ تو کسی بھی طرح اس کام کے لئے مناسب نہیں ہے"۔

آخر کار یہ طے پایا کہ امام خمینی کے لئے کوئی مخصوص جگہ بنائی جائے۔ چند دن کے بعد ہم نقشہ لئے منتظری صاحب کے پاس چلے گئے۔ منتظری صاحب  نے مجھ سےکہا: " آپ اس جگہ کی تعمیر کا دستور صادر کر دیں جب تعمیر ہو جائے گی تو میں خود آکر دیکھ لوں گا"۔  اس کا حاصل وہ جگہ تھی جو آپ لوگ ان دنوں کی تصاویر میں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہاں لوہے کی سیڑھیاں بھی تھیں اور امام خمینی کا تقریر کے بعد ان سے با آسانی نیچے آنا ممکن تھا جہاں سے وہ آسانی کے ساتھ سیڑھیوں سے فیضیہ کے کتابخانہ کے اس کمرے میں جا سکتے تھے جو ان کے آرام کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔

اس جگہ کی تعمیر کے بعد ایک دن ہم منتظری صاحب کے ساتھ فیضیہ گئے۔  منتظری صاحب نے جب اس جگہ کو دیکھا تو اوپر گئے اور امام کی جگہ پر بیٹھ کر فرضی لوگوں کی جانب نگاہ کرنے لگے اور مجھ سے کہا: " چلو یہ بھی کوئی برا نہیں ہے"۔ اس کے بعد مسجد اعظم گئے اور ان جگہوں کا جائزہ لیا جہاں سے امام کو گذرنا تھا۔

جس دن ہم  نے مسجد اعظم میں یہ سب انتظامات کئے تھے اس دن شہید عراقی نے مجھ سے کہا: " آپ نے تمام تر فکر کو لوگوں کے آنے جانے اور ان کی رفاہ پر مرکوز کیا ہوا ہے اور امام خمینی کی جان کی حفاظت کی کوئی فکر نہیں کی"۔ ان کی یہ یاد دہانی بالکل بجا تھی اور انہوں نے امن و امان کی کیفیت کی جانب  اشارہ کیا تھا۔ اس کے باوجود شہید عراقی کو میں نے اتنے عذر پیش کئے کہ بالآخر وہ قانع ہوگئے۔ میں نے کہا:ن " میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ قم کے لوگ امام خمینی کو اپنی جان سے بڑھ کر چاہتے ہیں اور کوئی اس بات کی اجازت کسی کو نہیں دے گا کہ وہ امام خمینی کو کسی قسم کا نقصان پہنچا سکے"۔بعد میں ، میں نے خود سے سوال کیا: " تم نے آخر کس بنیاد پر اتنا بڑا وعدہ عراقی صاحب سے کر لیا؟"

  بہر  حال جیسے بھی ہوا ، یہ مرحلہ بھی نمٹ گیا اور ہم امام خمینی کے استقبال کے لئے تیار ہوگئے۔ ان کے استقبال کے مرکز میں ہر روز یا ایک دن چھوڑ کر ہم میٹنگ کرتے تھے اور تمام دوست مل کر اس شخصیت کے استقبال کے مسائل ہر گفتگو کرتے تھے جس کا وجود پر برکت سالوں  وطن سے دور رہا تھا اور اب وہ آ رہا تھا کہ ایران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دے۔ لوگوں نے امام خمینی کے استقبال کی تقریبات کے انعقاد کے لئے  ہر ممکن مدد کی، مالی اور غیر مالی غرض کسی قسم کی امداد سے صرف نظر نہیں کیا۔  ایک بکس جو  مرکز استقبال کے مالی امور کے انچارج سلیمانی صاحب کے کمرے کے اوپر لگا دیا گیا تھا وہ  مسلسل نوٹوں سے بھرتا رہتا ہے اور اس کو مستقل خالی کیا جاتا تھا۔ اس کا حساب کتاب مخصوص کاپیوں میں لکھ لیا جاتا تھا۔[1]

 

 

 

 

 

[1] آیت اللہ محمد یزدی کے واقعات، تہران، انتشارات مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۱۳۸۰، صفحہ ۲۷۱ تا ۲۷۵



 
صارفین کی تعداد: 168


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں