کتاب " دادی امی کا باغ" میں کردی خاتون کے واقعات

اکرم دشتبان
ترجمہ: سید سمیر جعفری

2018-09-21


کتاب " دادی امی کا باغ"  ایک کردی خاتون ،  خان زاد مرادی محمدی کے واقعات  پر مشتمل قصہ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اس کی مصنف مہناز فتاحی ہیں یہ کتاب دفتر ادبیات و  ہنر مقاومت اور انتشارات سورہ مہر کی کاوش سے ۱۳۹۶ میں چھپی۔ یہ کتاب ۲۸۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ " ایک اور اردی بہشت"، " فرنگیس" اور " جنگی دلہنیں" اس مصنف کی دیگر تصنیفات ہیں۔
مہناز فتاحی اس کتاب" دادی امی کا باغ"  کی ۷ فصلوں میں  خان زاد کی زندگی کے حالات بیان کرتی ہیں اور مقدمہ کتاب میں درج کرتی ہیں کہ ان واقعات کی راوی ان کی دادی ہیں: "  ایک دن میری دادی نماز پڑھ رہی تھیں اور وظیفہ میں مشغول تھیں میں نے ان کی جانب دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ جنگ کے زمانے کے واقعات ان کی زبانی سن کر ان کے واقعات کو ضبط تحریر میں لاوں۔ میں مناسب وقت کی تلاش میں تھی تاکہ ان کو راضی کر سکوں، یہاں تک کہ ایک دن   میں اور دادی دادا کے مزار پر  گئے اور ان کی قبر کے کنارے لگے درخت کے نیچے آرام کرنے بیٹھ گئے میں نے موقع غنیمت جانا اور کہا : دادی۔۔  میں چاہتی ہوں کہ آپ کے واقعات تحریر کروں۔ آپ اپنے قصہ مجھے سنائیں گی؟ جنگ کے قصے اور آوارہ وطن لوگوں کی داستانیں؟ انہوں نے پوچھا: تم ان کو لکھ کر کیا کرو گی؟ تم کیا چاہتی ہو کہ جو اچھے کام  کئے ہیں ان سب کو برباد کردوں؟ کیا تم چاہتی ہو کہ سب کو بتاو کہ میں ایک بہت نیک عورت ہوں؟ خدا کو معلوم ہونا چاہئے کہ کس نے کیا کیا ہے؛ اور وہ جانتا ہے۔ لیکن میں بھی پیچھے نہ ہٹی اور وہاں ان سے اتنا اصرار کیا کہ آخر کار وہ واقعات سنانے پر راضی ہو ہی گئیں"۔
جیسا کہ کتاب کے سرورق پر نام " کردی خاتون، خان زاد مرادی محمدی کے واقعات " سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ کتاب واقعات کی شکل میں لکھی گئی ہے۔ پہلی فصل کا آغاز  راوی کے تعارف سے ہوتا ہے جو اس نے خود اپنی زبان میں کرایا ہے: " میرا نام خان زاد ہے اور میں روانسر کے گاوں گلہ چرمہ سے تعلق رکھتی ہوں کُرد ہوں اور ۹۲ سال میری عمر ہے۔۔۔"  آگے چل کر وہ اپنے خاندان کا تعارف پیش کرتی ہیں ۔ مصنف اس کتاب کے آغاز سے ہی حاشیہ برداری کی جانب متوجہ ہوجاتی ہیں اور وہ کُردی اصطلاحات جن کا استعمال خان زاد گاہے بگاہے کرتی ہیں  اور ان کے بیان کردہ علاقوں کے بارے میں حاشیہ میں  توضیح دیتی جاتی ہیں۔
کتاب کی نثر مکمل زنانہ ہے اور مصنف چونکہ خود اس  علاقے  اور وہاں کی ثقافت سے آشنا ہے جہاں کی باتیں خان زاد کر رہی ہیں ، سو جزئیات کو بیان کرتی جاتی ہیں اور اس علاقے  کے لوگوں کی مذہبی اور ثقافتی باتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کی مہمان نوازی، مہربانی اور سادہ زندگی کی تصویر بناتی جاتی ہیں۔ متن کتاب میں منظر نگاری سے استفادہ کرنے کے ساتھ جزئیات نگاری کی جانب بھی توجہ دی گئی ہے۔  جزئیات کی جانب مصنف کا رجحان اس بات کا سبب بنتا ہےکہ  قاری واقعہ پیش آنے کے زمانے کے معاشرتی آداب و رسوم سے بھی آگاہ ہوجائے۔ مصنف نے اس زمانے کی سماجی حالت کو بھی بیان کیا ہے۔
اس  کتاب صفحہ ۳۶ پر درج ہے: " روانسرا میں ۳ خان تھے ہم سہ کو [ تین من میں سے ایک من گندم] دیتے تھے، مگر وہ ہم سے زیادہ خراج طلب کرتے تھے۔ ہم ہر ماہ ٹیکس ادا کرتے تھے  ہمیں دو مرغیاں اور دومن روغن فی جوڑا گائے کے حساب سے ادا کرنا ہوتا تھا۔چند لوگ گئے اور کارندوں سے کہا کہ کسی اور وقت آ جائیں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا: خراج کو جلد از  جلد جمع کرو ہم پھر آئیں گے تم سے خراج وصول کرنے۔ باوکم [والد] کا دل  ان خانوں سے خون تھا۔ وہ ان کی جانب گئے تاکہ ان سے جھگڑا کریں لیکن  کچھ لوگ مزاحم ہو گئے  اور ان سے کہا: بس کرو کاک علی۔ اپنے خون کو گندہ نہ کرو۔ چھوڑ دو انہیں جانے دو۔"
فتاحی نے اس کتاب میں خان زاد کے بچپنے کے خوبصورت دنوں کو بیان کرنے کے بعد ان کی فتاح صاحب کے ساتھ شادی کا قصہ بھی نقل کیا ہے۔  فتاح ایک خدا شناس مرد مومن تھے۔ اس کتاب میں لوگوں کے آداب و رسوم میں سے جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ لوگوں کا رزق حلال کے لئے کوشاں رہنا اور اپنی ہم نوعوں کی امداد کرنا ہے یہاں تک کہ ایران عراق جنگ کے آغاز پر یہ ثقافت اور  کھل کر سامنے آجاتی ہے۔  عراقی آوارہ  وطن لوگوں کی مدد اور حلبچہ کے لوگوں کو پناہ دینا اور اس کے بعد خان زاد کے بیٹوں میں سے ہر ایک جنگ میں شامل ہونا  اور ہر ایک کا مشکلات میں گھر جانا،  خان زاد کا اپنے بچوں کے لئے پریشان ہونا اور ان کی اولاد اور پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کا ان کے گھر جمع ہونا ، سب واقعات بہت دقت کے ساتھ  اور جاذب نظر انداز میں ، مصنف نے خود راوی کی زبان سے بیان کئے ہیں۔
مہناز فتاحی جو کہ خود ان واقعات کے کرداروں میں شامل ہیں، اس کتاب " دادی امی کا باغ "  اور اس کی تاریخ شفاہی سے نسبت کے بارے میں لکھتی ہیں : " کتاب "دادی امی کا باغ"  ایک ہی وقت میں ایک آدمی کی روایت بھی  ہے اور تاریخ شفاہی کا قالب بھی لئے ہوئے ہے۔ کیونکہ اس کتاب میں صرف خان زاد کے  بیان کردہ واقعات اور ان کی گفتگو پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ میں ۴۰ دیگر لوگوں  مثلاً خان زاد کی اولاد، روانسرا کے لوگ، وہ عراقی جو خان زاد کے مہمان رہے تھے اور علاقائی عہدہ داروں اور ذمہ داروں سے بھی انٹرویوز کرکے ان کو کتاب کے متن میں اضافہ کر دیا  ہے۔  کتاب " دادی امی  کا باغ" اس کے باوجود کہ واقعات کی کتاب ہے اور دادی کے بچپن سے بڑھاپے تک کے واقعات پر محیط ہے، لوگوں کے ذہنوں میں جنگ کے واقعات کو دوبارہ لے آتی ہے۔ ان واقعات میں آپ مہم ترین اتفاقات کو پائیں گے، جیسے عراقیوں کا  ایران کے مغربی حصوں میں داخلہ اور اس کے بعد حلبچہ پر بمباری  سانحہ"۔
وہ مزید کہتی ہیں : " خان زاد کے واقعات کے ساتھ ساتھ،  اس کتاب میں روانسرا کے لوگوں کی ثقافت ، آداب رسوم ، لوگوں کی ایمانی کیفیت اور اس علاقے کے جغرافیہ کو سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ میں  چاہتی تھی کہ اس کتاب میں اور زیادہ تصاویر اور اسناد شامل ہوں مگر نہیں کر سکی۔ میرے زیادہ تر کاموں میں نقص اسی فقدان اسناد کا ہے، ان دنوں ایسا ماحول ہی نہیں ہوا کرتا تھا کہ تصاویر آرام سے حاصل کی جاسکیں یعنی اس وقت تصویر بنانا آج کی طرح آسان نہیں تھا۔ میں حلبچہ کے لوگوں کے ایران آنے کی تصاویر اس کتاب میں شامل کرنا چاہتی تھی مگر یہ ہو نا سکا لیکن  کلی طور پر میں سوچتی ہوں جو بہترین صورت اس کتاب کو میں سے سکتی تھی وہ میں نے دے دی اور میں مطمئن ہوں"۔

 



 
صارفین کی تعداد: 235


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں