خاطرات جاوید میں کاوہ کے ساتھ ہم جنگ ہونے کا بیان

شیما دنیادار رستمی
ترجمہ: سید سمیر جعفری

2018-09-21


خاطرات جاوید  " خراسان کے جنگجووں  اور کمانڈروں کی تاریخ شفاہی" کا دوسرا مجموعہ ہے۔ جس کے انٹرویو اور تحریر علی رضا میری نے کئے ہیں اس کتاب میں جاوید [جواد] نظام پور،  جو دفاع مقدس کے دوران   شہدا کے لشکر کے اولین کمانڈر تھے ، سردار شہید محمود کاوہ کے بارے میں شفاہی بیانات دیتے ہیں۔


خاطرات جاوید[ جواد] نظام پور  کا آغاز ان کے والد کے بچپن اور مشہد کی آب و ہوا کے احوال کے بیان سے شروع ہوتا ہے۔ اس وجہ سے قاری نہ صرف ان کے اور ان کے والد کے اعتقادات کی جڑوں تک پہنچ جاتا ہے بلکہ  ان کا نام جاوید پڑنے ، ان کی تربت جام اور دوسرے شہروں کی جانب ہجرت  کے دلائل کو جان لیتا ہے اور ان کے بچپن کے حوادث اس کے لئےواضح ہو جاتے ہیں۔
'' ہماری منزل تربت جام میں صالح آباد تھی۔ وہاں ایک ایسا محلہ بھی تھا جس کے گھر حکومت نے بنائے تھے اور وہاں کے رہائشی بھی عموماً سرکاری ملازمین اور فوجی ہوا کرتے تھے۔ہم شہر میں داخل ہوئے تو اس شہر کےمہربان  لوگوں کی مہمان نوازی کی دل نشینی نے غربت کی گرد کو ہمارے  چہروں سے صاف کیا اور انس و محبت نے ہمیں اپنی چادر میں ڈھانپ لیا۔
شیریں اور تلخ واقعات اور تصویری روداد کے بیان کے ساتھ  پہلی فصل اپنے اختتام کو پہنچتی ہے جس کا نام  " امام کا سپاہی" رکھا گیا ہے۔


جواد نظام پور  جو اپنے والد کی وفات کے وجہ سے نوجوانی کے ایام میں مشہد کے بازاروں میں کام کرنے پر مجبور ہوئے تھے ، فصل " طلوع بیداری" کا آغاز  ۱۳۵۵   [ ۱۹۷۶،۷۷] کے اواخر میں مشہد کے بازاروں کی  شعلہ ور فضا  سے کرتے ہیں۔وہ پوری سچائی کے ساتھ عوام کی جانب سے پہلوی حکومت پر اعتراضات کے بارے میں اپنے احساسات نقل کرتے ہیں۔ صفحہ ۸۸ کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے۔ "میں سوچتا تھا کہ جو مشکلات مجھے اپنی زندگی میں درپیش ہیں ان کے سبب مجھے  ادھر ادھر کے جھمیلوں میں گرفتار ہونا روا نہیں  اور میں انقلاب کو بھی فرعی چیز سمجھتا تھا۔ میرا تمام ہم و غم  روزگار اور پیسہ کمانا تھا تاکہ میں  اپنے اس خاندان کی کفالت کر سکوں جوسال  چند  سال قبل  اپنے سرپرست کو کھو چکا تھا''۔ لیکن لوگوں کی حکومت سے لڑائی اتنی کم نہ تھی کہ اس سے با آسانی چشم پوشی کی جاسکے۔ دو صفحہ بعد صفحہ ۹۰ پر راوی کچھ اس طرح نقل کیا گیا ہے : " میں نے یہ محسوس کیا  کہ اپنے خاندان کے علاوہ ، معاشرے اور دیگر لوگوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں میرے کاندھوں پر ہیں۔۔۔ معاشرہ کی نسبت سے جو بھاری ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی تھی اس نے مجھے بہت بہترین احساس عطا کیا۔


نوجوان جاوید ان کوششوں میں  مصروف ہوگیا کہ روز بروز اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرے  اور نہ صرف شہر کے لوگوں کے ہمراہ اس جنگ میں حصہ دار بنے  تاکہ انقلاب اسلامی ثمر آور ہو، بلکہ انقلاب کمیٹی مشہد کی رکنیت بھی حاصل کرے تاکہ اس شہر کے لوگوں کی کی محنتوں کے ثمرہ کی حفاظت کرے۔


انقلاب سے پہلے شہر  کا   انتظام، ضد انقلاب اور مجاہدین خلق [منافقین]  سے مشہد اور کردستان میں رو برو ہونا، کردستان میں تعینات فوج سے  فوجی امور سیکھنا، ضد انقلاب عناصر کے ساتھ جھگڑے اور مشہد واپس پلٹنے کے واقعات اس کتاب کین دوسری فصل میں درج ہیں۔


لکھاری نے  کتاب کی تیسری فصل کو '' ایک جنگ مسلط کرنا" کا عنوان دیا ہے۔ روای ، مہر کے مہینے اور اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے انتظار میں تھا کہ جنگ کے بادل منڈلاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اس کی مادر وطن میں صدام کی فوجوں کی چیرہ دستی کا خیال اس کو ایک لمحہ چین سے  بیٹھنے نہیں دیتا۔  وہ جس وقت بھی امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوتا امام علیہ السلام سے صرف اس کا تقاضہ کرتا کہ اس کو جلد از جلد فوج کے ساتھ محاذ پر بھیجنے کا  بندوبست  کردیں۔  خدا کی کرنی کہ وہ اپنے ایک پرانے دوست نور اللہ کاظمیان کے توسط سے امام رضا چھاونی میں متعارف کرا دیا جاتا ہے اور وہاں پر سخت ترین جنگی مشقوں کے بعد اس کو مورچہ پر بھیج دیا جاتا ہے۔


کتاب کے صفحہ نمبر ۲۰۸  پر راوی کی زبان سے ہم موچہ کی رونمائی کرتے ہیں۔ " توپوں کے دھانوں کا باز ہونا، اور دشمن کے گولوں گرنا، یہ جنگ کا واقعی منظر تھا جو ایک جنگجو سپاہی کے لئے مقدمۃ الجیش میں شمولیت کا مژدہ   حساب ہوتا تھا۔ لیکن سب کے لئے ایسا نہ تھا۔ ہمارے درمیان قوی ہیکل اور بلند قامت  شخص بھی موجود تھا جو خود کو  عمو قلدر  سمجھتا تھا اور ہمیشہ اپنی قدرت اور شجاعت کا دکھاوا کرتا تھا۔چھوٹے قد کے دھان پان جوانوں کو وہ کسی گنتی میں ہی نہ لاتا تھا اور بڑے بڑے دعوے کرتا تھا۔ وہ عراقی فوج اور صدام کے لئے مسلسل نقشہ کھینچتا تھا مگر مورچہ پر صرف ایک دھماکے کی آواز  سے اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیااور اس کے ہاتھ پیروں پر کپکپکی طاری ہوگئی۔  اس نے بغیر کسی تمہید کے کہا: میں واپس جارہا ہوں  میں کوئی عذر پیش نہیں کر سکتا"۔


شوش مورچہ، شہر مقاوم، جنگ کےمیدان میں نئے سال کا آغاز اور جنوب میں پہلی لڑائی کتاب خاطرات جاوید کی تیسری فصل کے دیگر حصے ہیں۔


کتاب  کی چوتھی فصل،  کردستان میں ضد انقلاب  عناصر اور بعثی قابض  فوج کے ساتھ جنگ کی حکایت کرتی ہے سو اس کا نام " دوبارہ کردستان" تجویز کیا گیا ہے۔ 


اس بار کردستان نے راوی کا استقبال اس طرح کیا: زمین برف سے اٹی ہوئی تھی اور ہڈیوں کو توڑ دینے والی کردستانی سرد ہوا ہمارے استقبال کے لئے آئی تھی۔ہال میں بھی کوئی خاطر خواہ  گرمی  کا ماحول نہ تھا۔ مگر جو بھی تھا باہر کی جسم چیر دینے والی سردی سے تو محفوظ تھے۔ آہستہ آہستہ لوگوں کی سانسوں نے فضا کوبرمانا شروع کردیا، زیادہ تر جوان راستے کی تھکن سے چور تھے سو رات کا کھانا کھائے بغیر ہی نیند کی وادیوں کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے"۔ [صفحہ ۳۱۳]


بچپن کے دور کی جزئیات نگاری اور مورچوں کے طنز آمیز حوادث کو واقعات کے پیرائے میں بیان کرنے اور روای کے بیان کی صداقت نے اس حصہ کی سطور کو بہت ہی دلچسپ بنا دیا ہے۔ اسی طرح تمام قوموں اور قوتوں کا اکھٹا ہونا تاکہ ضد انقلاب  عناصر کے چنگل سے کردستان کو آزاد کرایا جائے  اس حصہ میں بہت واضح طور پر بیان ہوا ہے۔ ہم صفحہ ۳۹۲ کا کچھ حصہ بیان کرتے ہیں: "   جنرل صیاد شیرازی کو میں نے کئی بار فوجی کمانڈرز سے ملاقات کرتے دیکھا تھا۔ لیکن مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ اس دن کی فاتح بٹالین کاکمانڈر وہ ہوگا۔  وہ آیا اور اپنے ساتھ  جوش و جذبہ اور توانائی کی ایک دنیا لے کر  آیا۔ ہر سپاہی ایک بھپرے ہوئے شیر میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ سب شہداء جو خندق میں سو رہے تھے سب کے سب ہماری مدد کرنے کو آگئے ہیں۔  سورج ابھی آسمان کے درمیان میں ہی تھا کہ "آر بابا" جولان گاہِ افواج کرد اور کردی عوام ہوگیا۔ چوالیس دن ہماری استقامت اور چوالیس شہداء کا ہدیہ ہم نے کردستان کی زمین کو دیا"۔


راستہ کا نگہبان، رات کا گشت، آخر کار آپریشن، کامیاب آپریشن اور عمومی روابط وہ عناوین ہیں جو   اس فصل میں شامل ہیں۔ اس فصل کا اختتام کردستان کی جنگی تصاویر پر ہوتا ہے۔


" سر دشت کی جانب" یہ وہی فصل ہے جس میں راوی کی شناسائی محمود کاوہ سے ہوتی ہے۔ جوان سپہ سالار، لمبا قد، سفید چہرہ، خوش رفتار اورعشوہ گر،  فصل پنجم کی ابتدائی سطور میں ہی یہ جوان راوی کی نظر کو اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے۔ یہ فصل، سر دشت میں،  ضد انقلاب عناصر کے ساتھ جھڑپوں کی حکایت کرتی ہے۔ اس جنگ کا ماجرا صفحہ ۴۲۴ پر اس طرح بیان کیا گیا ہے:  " محمود سڑک کے درمیان کود پڑا اور برسٹ کو ایک مشین کے حوالے کردیا۔ اس گاڑی نے بھی اس کی اتباع میں گولیاں برسانہ شروع کردیں۔ دشمن کی فوجیں نیچے کود گئیں اور محمود اور اس کے ہمراہیوں کی گولیوں کے ختم ہوجانے کی امید لگا کر ان سے بھڑ بیٹھیں۔ میں نے اپنی آنکھیں محمود پر لگا رکھی تھیں یہاں تک کہ اس  نے گولی چلانے کا اشارہ کیا۔ میں نے بھی بغیر کسی وقفہ کے برسٹ کھول دیا۔  محمود کی یہ چال کامیاب ہوئی اور اس طرح گاڑیوں کے ڈرائیور بغیر فوجیوں کو سوار کئے اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے۔ پہلے انہوں نے یو ٹرن کی کوشش کی مگر چوڑائی کی کمی اس کام میں مانع بن گئی"۔
فریب خوردہ لڑکیاں، محل کا فرزند اور سفر سے واپسی اس فصل کے دیگر عناوین ہیں یہ فصل  سردشت کی جنگی تصایر  کے ہمراہ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔


خاطرات  جاوید کی پہلی جلد کی آخری فصل " محمود کے شانہ بشانہ" کے نام سے موسوم ہے۔ جاوید نظام پور جو ضد انقلاب عوامل سے جنگ کے خیال سے کچھ مطمئن ہوگئے تھے، اپنے شہر واپس آگئے تھے یہاں تک کہ خیابان مدرس میں، شہر مشہد کی عدالت کے سامنے، سنگنل کے پیچھے وہ راستہ چلنے سے رک جاتے ہیں اور یہیں سے وہ اپنی زندگی کی راہ بدل لیتے ہیں۔ صفحہ ۵۰۶ پر درج ہے: " میں نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل ، گاڑیوں کے درمیان سے نکل کر میرے سامنے آکر رک جاتی ہے۔ میں نے  بہت اطمینان سے سر اٹھا کر  موٹر سائیکل سوار کو دیکھا، مجھے یقین نہ آتا تھا کہ محمود کاوہ میرے پہلو میں کھڑا ہے۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر موٹر سائیکل کی چابی گھمائی اور بہت آرام سے دریافت کیا: خوب جواد جان آج کل کیا کر رہے ہو؟  میں نے کہا  اپنے ماموں کے کارخانےمیں پائے بنانے کا کام کر رہا ہوں۔ محمود حیرت زدہ ہو کر کہنے لگا: نوکری کر رہے ہو؟ تمہیں خبر بھی ہے اس وقت کردستان کو ان لوگوں کی کتنی سخت ضرورت ہے جو کردستان چھوڑ آئے ہیں؟  تمہیں پتا ہے کہ ہمارے پاس تجربہ کار افراد کی کتنی کمی ہے؟


تڑپتی ہوئی مچھلی، ایک آپریشن کے مقدمات، تھکن ناپذیر، مستقبل کی پگڈنڈی اور محمود رزمی کے ساتھ جنگی تصاویر کے ساتھ اس کتاب  کا خاتمہ ہوتا ہے۔


خاطرات جاوید کی پہلی جلد ، خراسان کے کمانڈوز اور جنگجووں کی تاریخ شفاہی کے مجموعے کی دوسری جلد کی صورت میں، نشر ستارہ ہا کے تحت ۱۱۰۰ نسخوں  کی صورت میں جن میں ہر نسخہ ۶۱۸ صفحات پر مشتمل ہے ۲۷ ہزار تومان قیمت کے حساب سے  بازار کتاب نشر کو روانہ ہوچکی ہے۔

 



 
صارفین کی تعداد: 69


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں