امام خمینی ؒ کی آزادی کے بعد اُن سے ملاقات

راوی: حجت الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدوی خراسانی
مترجم: سید نعیم حسین شاہ

2018-08-19


روز عاشورا ۳ جون سن ۱۹۶۳ء کو حضرت امام خمینی ؒ نے جو تقریر مدرسہ فیضہ میں کی اس کے دو ہی دن کے بعد یعنی ۵ جون کو شاہ کی خفیہ ایجنسی ساواک نے حضرت امام  کو رات کے وقت گرفتار کرلیا اور پھر تہران منتقل کردیا۔ جس کے نتیجے میں اگلے دن ۵ جون کا مشہور قیام سامنے آیا اور اسی وقت جن علما و واعظین حضرات نے منبر سے امام خمینی ؒ کی گرفتاری کی مذمت کی اور اعتراض کیا تھا انہیں  بھی گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ لیکن جلد ہی عوامی کوششوں اور دباؤ کے بعد پہلوی حکومت ان علما کو آزاد کرنے   پر مجبور ہوگئی لیکن ان سب کو ایک ایک کرکے آزاد کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس حکومت نے گھبرا کا امام کا محاصرہ بھی ختم کردیا  اور پھر حضرت امام ۱۸ اپریل سن ۱۹۶۴ کو رہا ہوکر قم واپس تشریف لے آئے۔ اور یہ وہ دن تم جس کے بعد حضرت امام خمینی ؒ ایک سیاسی اور مذہبی لیڈر کے طور پر  کھل کر سامنے آئے اور ان کے گھر ایسے افراد کا آنا جانا شروع ہوگیا جو شاہ سے ٹکرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

میں جب جیل سے رہا ہوا تو تقریباً ۱۸ افراد کےساتھ قم حضرت امام کی خدمت میں پہنچا۔ ان اٹھارہ افراد میں مرحوم مہدی عراقی، شہید سید علی اندرزگوہ، میرا برادر نسبتی حاج علی حیدری اور دیگر افراد شامل تھے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑ رہا ہے عید بعثت  کا دن تھا۔ اُس وقت امام اپنے داماد جناب اشراقی کے گھر پر تھے، حرم سے لیکر حضرت امام  کے گھر تک لوگ قطار بنائے  کھڑے تھے صرف اس لیے کہ باری باری امام کی زیارت اور ان کی دست بوسی کریں۔

ہم جب جناب اشراقی کے گھر سے حضرت امام کے گھر پہنچے  تو دروازہ بند تھا کچھ دیر کے بعد دروازہ کھلا اور ہم اندر چلے گئے۔ حضرت امام ابھی آقائے اشراقی کے گھر سے ہی تشریف نہیں لائے تھے۔ اور ادھر سے لوگ جو تھے وہ جوق در جوق آرہے تھے۔ سب کی کوشش تھی کہ حضرت امام کے گھر کے اندر جائیں۔ گھر البتہ پرانی طرز تعمیر کا تھا، جبھی مجھے اس کے گرنے کا خدشہ ہوا …۔ دروازہ بند کردیا گیا۔حضرت امام جب گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے ناراضگی کے ساتھ امام نے بلند آواز میں فرمایا: "دروازہ کیوں بند کر رکھا ہے؟ … کیا یہ ساواک کا اڈا ہے ؟ جائیے جاکر دروازہ کھولئیے…" دروازہ کھول دیا گیا اور لوگ گھر میں د اخل ہونے لگے۔

گھر کے اندر صحن میں انار کے چند درخت تھے۔ لوگوں کا ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ حاج مہدی عراقی اور دیگر تیس چالیس افراد ہاتھوں میں ہاتھ دیئے پوری طاقت سے آگے کھڑے ہوگئے تاکہ لوگوں کو آگے بڑھنے سے روک سکیں۔ لوگوں کے ہجوم نے انار  کے درختوں کو کچل دیا تھا۔ حضرت امام کا گھر مربع شکل میں تھا اور کسی حد تک تہہ خانے کے انداز میں تھا۔ چاروں طرف کمرے تھے اور دروازے سے داخل ہونے والےے لوگ صحن میں حضرت امام کی خدمت میں مشرف ہونے کے لیے جمع ہو رہے تھے اور خود حضرت امام اوپر بالکونی میں کھڑے تھے۔



 
صارفین کی تعداد: 593


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔