تنہائی والے سال – بائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2018-08-11


اسکندری، علی رضائی اور میں نے پہلے سے ہماہنگی کی ہوئی تھی کہ ہر کسی کے ساتھ چچا (ریڈیو) کا ایک سامان ہو – اور خود چچا -  میرے ساتھ تھے۔ ہم ایک سیل میں داخل ہوئے۔ ہم نے کوئی بھی کام شروع کرنے سے  پہلے سب سے پہلے  پورے کمرے کا جائزہ لیا تاکہ چچا نوروز کو چھپانے کیلئے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈیں۔ البتہ  ہم نے چچا کو سامان کے درمیان چھپایا ہوا تھا؛ لیکن اگر وہ لوگ دقت کے ساتھ تفتیش کرتے  تو اُس کے  مل جانے کا احتمال تھا۔ علی رضائی نے چچا نوروز کو روئی والے تکیے میں اس طرح چھپایا تھا کہ اُس پر ہاتھ پھیرنے سے  اصلاً پتہ ہی نہیں چلتا تھا؛ لیکن صرف تکیے کا غیر معمولی بھاری ہوجانا – اگر نگہبان ہوشیار ہوتا – شک پیدا کرنے کا باعث سکتا تھا۔

اس سیل نما کمرے کی دیواریں، سیمنٹ کی  بنی ہوئی اور چار میٹر لمبی تھیں، ایک سلاخ دار دروازہ تھا جس سے باہر کی چیزیں دکھائی دے رہی تھیں۔دوسری طرف چھت کے نزدیک، ایک چھوٹی سی کھڑکی لگی ہوئی تھی۔ جس وقت نگہبانوں کا گشت کم ہوتا، ہم ایک آدمی کی ڈیوٹی لگا دیتے کہ وہ دھیان رکھے ، پھر ماحول  و حالات کا جائزہ لیتے۔

ایک مناسب موقع پر جب ایک شخص نگہبانوں کی طرف دھیان لگائے ہوئے تھا، اسکندری نے رسی پکڑی اور میں اوپر چڑھ گیا، میں نے چھت پر لگی چھوٹی کھڑکی سے باہر کی موقعیت کا جائزہ لیا؛ کھڑکی اور کمرے کی باہر والی دیوار، چھت پر موجود راہداری سے ملی ہوئی تھی۔ ہم نے فرار کے احتمالی منصوبے کے تحت کچھ تیز اور کاٹنے والی چیزوں کو تیار کیا ہوا تھا، ہم نے اُنہیں ایک چھوٹے سے تھیلے میں ڈالا اور ایک دھاگے کے ذریعے اُسےکھڑکی کے ساتھ لٹکا دیا اور ڈوری  کو وہیں اوپر مضبوطی سے باندھ دیا۔ اگر احتمالاً ان چیزوں کا راز فاش ہوجاتا تو اس کی اتنی اہمیت نہیں تھی؛ لیکن وہاں پر چچا (ریڈیو) کیلئے کوئی مناسب جگہ نہیں تھی۔

اس عمارت میں ایک کوریڈور کی مانند ایک بہت بڑا ہال تھا کہ اُس کے نیچے – پہلے طبقے پر- دونوں طرف،  دو اور ڈھائی میٹر کے کمرے بنے ہوئے تھے جن میں دھات کے دروازے لگے ہوئے تھے اور ہال کے ایک کونے میں موجود سیڑھی کے ذریعے ہم اوپر والے سیل میں پہنچتے تھے۔ اوپر والے طبقے کے کمرے بھی نیچے  کی طرح کے تھے؛ اس فرق کے ساتھ کہ اُس کے سامنے گزرنے کیلئے ایک باریک سا  راستہ حفاظت کرنے والی راڈوں  سے بنایا گیا  تھا۔

سیل کے دروازے سے، باہر کا احاطہ اور دوسرے سیل بھی دکھائی دیتے؛  بعض سیل خالی پڑے ہوئے تھے اور بعض میں صرف دو یا چند قید ی موجود تھے کہ جن میں سے اکثر لوگ ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے …

تقریباً ایک گھنٹہ گزرنے کو تھا کہ کچھ نگہبان ہمارے سیل میں آئے جو کہ پہلا سیل تھا، اور چیختے چلاتے ہوئے اسکندری اور علی رضائی کو باہر لے گئے۔ دروازے سے باہر نکلتے ہی اُنہیں چھڑی اور تار سے مارنے لگے اور نیچے والی سیڑھیوں اور ہال کی طرف دوڑایا۔ نیچے بھی آٹھ ، نو نگہبانوں نے چھڑی اور تار کی طرح کی کسی چیز سے لوگوں کو مارنا شروع کردیا،وہ لوگ اُنہیں فوٹبال کی طرح ایک دوسرے کو پاس دے رہے تھے  اور اُن کے چہرے ، سر اور بدن پر مار رہے تھے۔ صحیح سے مارنے اور کچھ چکر لگانے کے بعد، اُسی طرح چھڑی اور تار سے مارتے ہوئے سیل تک لائے اور دروازہ بند کردیا اور اب دوسرے لوگوں  کی باری تھی۔

بعثیوں کے وحشت ناک طریقے سے مارتے وقت، چند نگہبان سیل کے دروازوں  کے سامنے چیختے ، چلاتے ہوئے اور  گالیاں بکتے ہوئے اِدھر سے اُدھر گھوم رہے ہوتے اور کہہ رہے ہوتے:

-  دیوار کی طرف منہ کرکے بیٹھو، کوئی باہر کی طرف نہ دیکھے، ایسا ہوگیا ہے ویسا ہوگیا ہے۔

اگر کوئی ان کی باتوں پر دھیان نہیں دیتا تو سیل  کے اندر گھس کر وہیں اُس کے سر اور بدن پر چند دفعہ مارتے  یا کہتے اے دیوانے آگے آؤ اور سلاخوں سے اپنا ہاتھ باہر نکال کر رکھو تاکہ اس کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر چھڑی یا تار سے ماریں۔

وہ عذاب جو انسان مارنے کھانے کے وقت جھیلتا ہے، اُس عذاب سے کم ہوتا ہے جب انسان اپنی باری کے انتظار میں  یا اس انتظار میں ہوتا ہے کہ اُسے مارنے کیلئے کب لینے آئیں۔

ہم مکمل طور پر غافل گیر ہوچکے تھے ، اور ہمارے پاس اصلاً سوچنے کا وقت  نہیں تھا۔ ہر چیز بہت جلدی اور بغیر کسی توقع  کے واقع ہوئی تھی، ہم نے صرف یہ اندازہ لگایا کہ ان کاموں اور وحشی گری کی شاید صرف ایک وجہ ہوسکتی ہے، وہ یہ کہ ہم نماز کے وقت تکبیر اور نعرے لگاتے تھے، چونکہ ایک دفعہ ایک نگہبان نے کہا تھا:

-  تم لوگ تو خود کو  مسلمان کہتے ہوپھر کیوں خدا کیلئے شریک کے قائل ہو؛ کیا خدا ایک نہیں ہے؟

-  مجھے پتہ تھا کہ اُس کے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ پھر بھی میں نے اُس سے پوچھا:

-  ہم کہاں خداوند متعال کیلئے شریک کے قائل ہوئے ہیں؟

-  تم لوگ نماز کے بعد کہتے ہو:"اللہ اکبر، خمینی اکبر!"

-  ایسا نہیں ہے؛ خمینی "رہبر" ہے، نہ کہ "اکبر"!

لیکن وہ اسی بات پر مصر تھا کہ ہم لوگ مشرک ہیں۔

بہرحال نگہبانوں نے ایک ایک کرکے سب کو باہر گھسیٹا اور صحیح سے کوٹا، کوئی نیلا کوئی پیلا اور کوئی سوجھا ہوا واپس آیا۔ تقریباً ہمارے تمام ساتھیوں کو مارا تھا، سوائے میرے کہ میں سینئر  تھا اور میں گنجے کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہمیشہ نگہبانوں کیلئے قابل احترام رہا تھا۔ حالانکہ غصے کی شدت کی وجہ سے میرے اندر ہمت نہیں ہو رہی تھی، میں نے ایک نگہبان کو بلایا اور اُس سے کہا:

-  تم لوگ  ہمیں یہاں کیوں لائے ہو  اور اس طرح سے لوگوں کو بڑی بے دردی سے کیوں  مار رہے ہو؟ سب کومارا ہے، مجھے کیوں نہیں مارا؟

نگہبان کہ جسے تعجب بھی ہوااور جس کے چہرے پر تھکاوٹ بھی عیاں تھی، اُس نے بھنوئیں چڑھا کر بلند آواز میں جواب دیا:

-  کہیں ایسا تو نہیں تمہارا بھی مارا کھانے کو دل چاہ رہا ہے؟

-  البتہ! اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ سب مار کھائیں  لیکن میں استثنا ء رہوں۔

اُس نے مجھے باہر نکالا اور میری کمر اور سر پر پائپ سے مارتے ہوئے مجھے کوریڈور کی طرف لے گیا اور  …

بھاگنے کی وجہ سے پھولی ہوئی سانس کی حالت میں اور تار اور لکڑی کی مار کو برداشت کے بعد جب میں اوپر والے طبقے میں واپس آیا،  میں شیر کی طرح چھلانگ لگا کر کمرے میں  کودا، جبکہ میرا چہرہ اور سر سوجھا ہوا تھا، میرے بدن کا پور پور دکھ رہا تھا اس کے باجود میرا دل راضی تھا۔

سب کی پٹائی لگانے کے بعد، رات کا کھانا لائے اور عمارت میں داخل ہونے والے مین گیٹ کے سامنے رکھ دیا ۔  نگہبانوں کے ساتھ دو عراقی قیدی بھی آئے جنہوں نے نگہبانوں کے ساتھ مل کر تقسیم کیا۔ جیسے ہی ہمارے سیل تک پہنچے، نگہبان نے سخت لہجے میں کہا:

-  بہت کم دینا!

تقسیم کرنے والے بے قصور شخص نے بھی اُبلے ہوئے گوشت کا ایک ٹکڑا  اٹھا کر رکھا  اور آگے بڑھ گیا۔ اُس کے بعد چائے کی باری تھی، اُسے بھی تھوڑا سا جگ میں ڈالا اور گزر گیا۔ لیکن ہم میں سے کسی کو بھی کھانے اور چائے کی رغبت نہیں تھی، ہم زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔

زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ دوبارہ نگہبان آگیا۔ اُس نے دروازہ کھولا اور غصے سے چلاتے ہوئے بولا:

- یالا ، یالا، واش روم چلو!

پورے راستے میں حتی سیڑھیوں پر بھی نگہبان کھڑے ہوئے تھے اور ہر کوئی اپنی حدود کے اندر – کوڑے اور پائپ سے – لوگوں کے سر اور منہ پر  مار رہا تھا۔ ایک نگہبان واش روم  کے گیٹ کے سامنے بھی کھڑا ہوا تھا جو مسلسل کہے جا رہا تھا: "یالا، یالا!"  اور لکڑی سے واش روم   کے گیٹ کو پیٹے جا رہا تھا۔ تمام واش روم کی لائنیں بھری ہوئی تھی اور وہ گندگی سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے اپنے کام سے فارغ ہوکر فوراً وضو کیا۔ واپس آتے وقت وہی پذیرائی تھی؛ تار، لکڑی اور پائپ۔ دوسرے افراد بھی آگئے اور دروازہ پر تالا  لگ گیا۔ دوسرے افراد کو دیکھ کر میں اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ ہمیں پینے یا وضو کرنے کیلئے  پانی لانے کیلئے اپنے ساتھ جگ لے جانا چاہیے تھا؛ لیکن اب دیر ہوچکی تھی۔

ہم تینوں نماز جماعت میں مصروف ہوگئے۔ لیکن کمرا چھوٹا ہونے کی وجہ سے، آسانی سے پڑھنا ممکن نہیں تھا۔ ہم نے پہلے سے ہوا خوری والے احاطے سے سجدہ گاہ کے عنوان سے صاف اور مناسب پتھر اٹھالیا تھا۔ اس سے پہلے ہم گتے سے استفادہ کرتے تھے اور اُس کے بعد لکڑی سے کہ اُسے سخت سیمنٹ والے فرش پر رگڑ کر، ہم نے  اپنی مرضی کے مطابق سجدہ گاہ کی طرح کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنالیے تھے۔

ہم نے وہ پوری رات صبح تک – تھکاوٹ، درد اور کڑھتے ہوئے – سوتے اور جاگتے میں گزار دی۔ صبح وضو کرنے کیلئے ہمارے پاس پانی نہیں تھا، ہم نے مجبوراً تیمم کیا۔ صبح کے ناشتہ میں وہی ہمیشہ والا سوپ تھا، جسے عراقی نگہبان نے سلول کے دروازے پر رکھ دیا۔ میں نے تھوڑا سا کھایا اور دوسرے دوستوں کو بھی دیا۔ برادر اسکندری کا روزہ رکھا  تھا۔ میں نے اُس کا روزہ قبول ہونے کی دعا کی اور کہا:

- شاباش، میری تھکاوٹ اُتر گئی!

جاری ہے …



 
صارفین کی تعداد: 110


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

    محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

    مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

    ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
    جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

    امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

    گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں