"نظریہ تاریخی شفاہی" نامی کتاب کی اشاعت

محمد علی فاطمی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-08-01


کتاب "زبانی تاریخ کی تھیوری" لین آبرامز نے تحریر کی ، جس کا ترجمہ علی فتح علی آشتیانی نے کیا۔ اور پھر ۲۰۱۸ میں ادارہ ادبیات برائے انقلاب اسلامی اورانتشارات سورہ مہر نے اس کی نوک پلک  سنوار کر بازار کی زینب قرار دیا۔

۴۲۱ صفحات پر مشتمل اس کتاب کے آٹھ باب ہیں: مقدمہ: عملی امور کو نظریے کے قالب میں ڈھالنا، زبانی تاریخ کی خصوصیات، خود، ذہنیت ،تعصب، یادیں، روایتیں، پیش کرنے کا ہنر، استحکام بخشی۔ ان آٹھ ابواب سے پہلے دیباچہ اور مقدمہ ذکر ہوا ہے اور پھر آٹھ ابواب کی فہرست ہے۔

کتاب کے مقدموں میں ایک جگہ اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ: "ایران میں ۔۔۔ زیادہ تر گفتگو  جوسامنے آتی ہے  زبانی تاریخ کے حوالے سے انجام پاتی ہیں اور وہ غیر ایرانی دانشمندوں کے احکام و بیانات سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ امر مسلم ہے کہ مناسب اور مطلوبہ تھیوری اور پریکٹیکل کا  فریم جب تک حاصل نہیں ہوتا تب تک ایران کے تاریخی موضوعات اور مسائل ، تھیوریکل اداروں میں تربیت اور زبانی تاریخ کی روش جیسے معاملات پر گرفت پانا ضروری ہے اور ترجمہ اس مشکل کے حل  کے لئے ایک راہ سے ۔۔۔۔۔ اس کتاب کا ترجمہ بھی اسی نکتہ نظر کے تحت کیا گیا ہے ۔۔۔۔"

کتاب کے مترجم نے بھی یہ بات تفصیل سے بیان کی ہے کہ "زبانی تاریخ کا علم ابھی ایران میں گھٹنیوں کے بل چل رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس علم میں بروئے کار لائی جانے والی فارسی اصطلاحات و تعریفات مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ سو میں نے بھی اپنی پوری کوشش کی ہے تاکہ مغربی ثقافت سے آئی ہوئی اصطلاحات کے مقابلے میں ان جیسی ہی ہم وزن اصطلاحات پیش کروں۔

اس کتاب کے متن میں ایسے عنوانات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو  زبانی تاریخ کی روش کے طلبگار افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتے ہیں۔ جیسے: زبانی تاریخ کیا ہے؟ انٹرویو اور متن ریکارڈ کرنا، فرد واحد کی گفتگو کا انداز،  زبانی تاریخ میں مروجہ قرار دادیں۔ اپنی سوانح حیات خط  و کتابت کی شکل میں، تحقیق کے لوازمات، روایت کرنے کے کئی زوایے، انٹرویو میں متعصب باتوں  کا سامنا ہونا پر رد عمل، وجدان اور ضمیر پر وارد ہونے والے خدشات مشترکہ اور اجتماعی یادگار واقعات۔ کسی فردی واقعے کا اجتماعی واقعے سے ربط کیا اور روایت کیا ہے؟ روایت کی تحلیل، ڈھانچہ، حوالہ، زبانی تاریخ کا آغاز اور اجرا پر بحث، اجرائی نظریات کی کارگردگی نیز زبانی تاریخ اور اس کے درخشاں افراد کی کارکردگی وغیرہ۔

کتاب کے آخری صفحہ پر کاتب سے یہ یاد دہانی کروائی ہے کہ اس کتاب کی تحریر سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم زبانی تاریخ کے لکھاریوں کو سادہ زبان میں زبانی تاریخ کے مطالب اور متن کی تحلیل پر بروئے کار لائے جانے والے موثر نظریات سے آشنا کروائیں۔ ہم نے اپنے طور پر یہ راہ و روش اختیار کی ہے ۔۔۔ زبانی تاریخ کی عملی راہ و روش کے دلچسپ ہونے کی وجہ فقط منابع اولیہ اور ان سے مانوس ہونا ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تفسیر اور تحلیل کرنے کی ایک نئی روش بھی ہے جو ہمارے جواب دینے اور معنی کو سمجھنے سے  وجود میں آتی ہے ۔۔۔ زبانی تاریخ کچھ اس طرح کی چیز ہے؛ ہمارے احباب ہمیں اپنے قصے سناتے ہیں اور اس قصہ گوئی سے پہلے اور بعد کے مرحلے میں طرفین کے لئے قصہ کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ اس کتاب میں ذکر شدہ یہ نظریات اور ان کی کارکردگی قصہ کو بہتر درک کرنے اور سمجھنے میں مدد دیں گے۔



 
صارفین کی تعداد: 192


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں