تنہائی والے سال – اُنیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-07-21


شروع میں جو باتیں ہم ریڈیو سے سنتے تھے وہ مختلف طرح کی ہوتی تھیں۔ ریڈیو حتی بی بی سی  اور دوسرے چینل بھی پکڑلیتا۔ لیکن ایک ہفتے بعد نیا قانون تشکیل  پانے کے ساتھ، ریڈیو کا ریسیور صرف ایران کی فریکوینسی کو پکڑتا تھا۔ اس طرح سے ریڈیو کا پروگرام خبروں سے مخصوص ہوگیا کہ کبھی ہم رات کو ۸ بجے لگاتے اور کبھی رات کے ۱۲ بجے لگاتے۔ حتی آپس میں بھی ریڈیو سے نشر ہونے والی باتوں کے بارے میں گفتگو کرنا  ممنوع قرار دیدیا گیاتھا۔

اب ہمارا سارا ہم و غم ریڈیو بن چکا تھا، ہم کسی صورت میں بھی اُس کے چلے جانے پر راضی نہیں تھے۔ اُس تنگ سے پنجرے میں خدا کے بعد ہمارا واحد مونس و ہمدم  یہی ریڈیو تھا اور ہم اس وسیلے کے ذریعے خود کو اپنے پیارے وطن اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ رابطے میں  رکھتے تھے۔

بستر سے اٹھنے کے بعد سے ہی ، باتیں جاننے کیلئے ہم ایک ایک لمحہ کو شمار  کرنے لگ جاتے۔ لوگوں کو بہت اچھا حوصلہ اور ہمت مل گئی تھی اور دشمن کا گھٹیا پروپیگنڈہ ہماری سوچوں اور دلوں پر کوئی تاثیر نہیں رکھتا تھا اور حقیقت میں کوئی اثر ڈال ہی نہیں سکتا تھا۔

ہم نے ریڈیو کا سب سے پہلا نام "چچا نوروز"رکھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ خداوند متعال کےلطف و کرم سے یہ ہمیں عید نوروز کے قریب ملا تھا اور ہم اسے اصطلاح میں "چچا" کہتے۔

اُس سال،۱۹۸۲ میں  ہم نے عید نوروز  سے پہلے مشین سے بننے والی روٹی  کو گول گول کرکے کاٹ لیا ، اُسے اندر سے خالی کرلیا اور پھر کھجور کو باریک باریک کاٹ کر اُس کے اندر بھردیا  اور اُسے ایک دو دن خشک ہونے کیلئے رکھ دیا ، اصل میں ہم نے اس طرح عید کیلئے مٹھائی بنائی تھی۔

عید والے دن ، ہم نے کسی وقت کو تحویل سال قرار دے لیا اور سب افراد دائرے کی شکل میں ایک ساتھ جمع ہوگئے۔ کیسا چھپا ہوا، خاموش اور  خوبصورت جشن تھا! ایک دوسرے سے گلے ملے ، مبارک باد دی اور ہم نے ایک دوسرے کو شیرینی پیش کی۔

واقعاً یہ ہماری دلی آرزو تھی کہ ہم لوگوں کے چہروں پر غم و دکھ کی رمق تک نہ دیکھیں۔ اس وجہ سے کوشش یہ کی گئی کہ گھر والوں کے بارے میں کوئی بات چیت نہ ہو۔ میں خود مطمئن تھا کہ میری بیٹی آزادہ، اپنی ماں مہری کی آغوش میں اکیلی نہیں ہے اور مہری پر میر ا اطمینان اس حد تک تھا کہ  جس میں مجھے ایک فیصد کا بھی شائبہ نہیں تھا۔

میجر انصاری نے پہلے سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ سب لوگوں کو  اچھی سی عیدی دیں گے  کہ ہم قید  میں بہت زیادہ محدود وسائل  کی وجہ سے بہت تعجب میں مبتلا ہوگئے تھے۔ لیکن انھوں نے عید پر گلے ملتے وقت، ایک ایک ساتھی کے کان میں، تین بار آیہ مبارکہ " فالله خیر حافظاً و هو ارحم الراحمین "کی تکرار کی  جو بہت ہی قیمتی اور حوصلہ بڑھانے والی عیدی تھی۔

اس زندان میں ہیڈ کوارٹر والے کمرے سے غذا کی حالت بہتر تھی۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ عراق کی انٹیلی جنس نے اس وجہ سے کہ کسی کو سیاسی قیدیوں اور اسی طرح ہم لوگوں کی تعداد کے بارے میں پتہ نہ چلے، باورچی خانوں میں  لوگوں کی صحیح تعداد  نہیں بتاتی تھی۔ چونکہ وہ پولیس کا زندان تھا  اور انٹیلی جنس نے ہمیں رکھنے کیلئے اس دو منزلہ عمارت کو  اپنے اختیار میں رکھا ہوا تھا۔

ہماری عمارت کے برابر میں جو عمارت تھی، خاص طور سے راتوں کو وہاں سے فریاد اور دلخراش چیخوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، اس طرح کی آواز کہ کوئی شخص  شکنجوں کے اثر سے اپنی تمام قوت سے چیخ رہا ہو۔ کبھی کبھار چیخ و پکار کئی گھنٹوں تک جاری رہتی  اور ہمارے وجود کا ان آوازوں کے اثر سے پیدا ہونے والی تلخی  سے بچنا ناگزیر تھا۔

انہی شروع کے دنوں میں، ہم نے کم سے کم دو لوگوں کو دیکھا کہ طولانی شکنجہ دینے کے  بعد،  اُن کی آوازیں  آنا بند ہوگئیں اور اگلے دن صبح  ایک ایمبولنس آئی اور اُس شخص کے جسم کو کہ جس کے بدن پر کپڑا تھا اور اُس کے برہنہ پیر باہر نکلے ہوئے، اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ گھنٹوں بعد نگہبانوں نے، ایک تکیہ، ایک کمبل اور قیدی کے لباس کو صحن کے ایک گوشہ میں آگ لگادی، پتہ چل رہا تھا کہ اذیت و آزار میں مبتلا شخص، اپنی جان سے ہاتھ دھو چکا ہے۔

ہم چچا نوروز کی موجودگی کی وجہ سے اتنے خوش تھے کہ ہر چیز اُس کے زیر اثر چلی جاتی، لیکن اُس کی بیٹری کا انتظام کرنا کہ جسے ہم "ب" کہتے تھے، ہمارے لیے ایک دشوار مسئلہ بن گئی تھی۔ جو " ب" موجود تھیں وہ تقریباً استفادے کے قابل نہیں رہی تھیں اور ہمیں  حتماً دوسری بیٹری کا انتظام کرنا چاہیے تھا۔

کچھ عرصے تک – آتے جاتے وقت- وہ پرانی بیٹریاں جنہیں نگہبان کچرے دان میں پھینک دے دیتے، ہم اُنہیں اُٹھالیتے  اور چند پرانی بیٹریوں کو ملا کر ریڈیو چلا لیتے۔ متاسفانہ کچھ عرصے بعد  نگہبانوں کو ہمارے  بیٹری اٹھانے کے بارے میں پتہ چل گیا   اور وہ اُسے کھڑکی سے باہر پھینکنے لگے، ایسی جگہ جہاں تک ہماری کسی بھی صورت میں دسترسی ممکن نہیں تھی۔

حاصل شدہ معلومات کے مطالعہ اور تحقیق کے بعد، چونکہ ہم اُسی طرح نگہبانی دے رہے تھے اور حالات کے بارے میں باخبر رہنے والا کام اُسی طرح جاری تھا، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک اور ریڈیو اٹھایا جائے تاکہ اس طرح اُس کی بیٹری  سے بھی استفادہ کرلیا جائے اور اگر ریڈیو خراب بھی ہوگیا تو ہمارے پاس دوسرا ریڈیو ہونا چاہیے۔

ایک منصوبہ بندی کے تحت – پانی لاتے وقت – ایک فرد نے مورد نظر ریڈیو کو اٹھالیا اور اپنی پینٹ میں چھپالیا۔ جس ریڈیو کو اٹھایا گیا تھا وہ آن تھا، لیکن اچانک ریڈیو سے معمول سے زیادہ آواز کے ساتھ  موسیقی  کی آواز نشر ہوئی جس کی وجہ سے نگہبان کو پتہ چل گیا۔ وہ کیمپ کے اندر آیا اور ریڈیو مانگا۔ ہمیں مجبوراً ریڈیواُسے واپس کرنا پڑا۔ نگہبان نے کہا:

- میں تمہارے اس  کی رپورٹ کرنے پر مجبور ہوں۔ آپ لوگ خلاء بان ہیں، آپ لوگوں نے ایسا کام کیوں کیا؟ اچھی بات نہیں ہے!

چونکہ ہمیں اُس سے کوئی سروکار نہیں تھا اس لئے میں نے اُس سے بحث نہ کرنے کو ترجیح دیا، میں  نے صرف یہ کہا: "کوئی بات نہیں، آپ رپورٹ کردیں! "

وہ بھی دروازہ بند کرکے چلا گیا۔

اُسی دن شام کو موٹے پیٹ والا – ہمارا اور نگہبانوں کا انچارج- آیا اور مجھے بلایا۔ میں رضا احمدی کو مترجم کے عنوان سے اپنے ساتھ لے گیا۔ اُس نے بغیر مقدمے کے روکھے انداز میں کہا:

- ریڈیو کیوں اٹھایا تھا؟ کیا تم لوگوں کو کھانا کم دیاجاتا ہے؟ ہم تم لوگوں کا اتنا خیال رکھتے ہیں، اُس کے بدلے میں تم لوگ ایسے اکام انجام دے رہے ہو؟ اگر  …

وہ آہستہ آہستہ اپنی آواز کو اونچا کر رہا تھا اور غصہ کررہا تھا کہ:

- اگر نہیں بتاؤ گے کہ کس نے ریڈیو اٹھایا تھا، تو میں بھی اسے کے بدلے میں تمہارے ساتھ  …

وہ نشان اور لائنیں کھینچ رہا تھا اور رپورٹ دینے کی دھمکی دے رہا تھا و … کہ جن میں سے کوئی کام بھی ہماری بہتری میں  نہیں تھا۔ حقیقت میں مجھے اس بات کا زیادہ ڈر تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلا والا ریڈیو بھی ہمارے ہاتھ سے چلا جائے، میں نے جواب دیا:

پہلی بات ، ریڈیو میں نے خود اٹھایا تھا، تم جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہو، میرے ساتھ کرو! دوسری بات، پانی اور کھانا دینا تمہاری ذمہ داری ہے۔ ریڈیو اس وجہ سے اٹھایا گیا ہے کہ آپ لوگوں نے ہماری بنیادی ضروریات کو  بھی پورا نہیں کیا ہے۔ آپ خود دیکھیں! ہمیں ابھی تک – حتی ایک لحظہ کیلئے – ہوا خوری  کیلئے نہیں لے جایا گیا اور کاغذ اور قلم دینے پر اتنی سخت پابندی ہے، ابھی تک کھڑکیاں بند  ہیں، مناسب اور کافی ہوا نہیں ہے۔ ڈاکٹر اور دوائی کے لحاظ سے ہمیں مشکل کا سامنا ہے اور  … اور جب تک یہ ضرورتیں پوری نہیں ہوں گی، نہ صرف ریڈیو، بلکہ اگر ٹیلی ویژن بھی ہماری دسترس میں ہوا تو ہم اُسے بھی اٹھالیں گے۔ اگر آپ ہماری جگہ ہوتے، کیا کرتے؟

موٹے پیٹ والے نے جب دیکھا کہ میں اُس کی ہر بات کا جواب دے رہا ہوں، اُس نے اپنی آواز کو دھیما کیا اور مسکراتے ہوئے کہا:

- اے میرے بھائی! ان سب باتوں کا ریڈیو اٹھانے سے کیا تعلق! ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور تم لوگ ہمارے مہمان ہو، مہمان بغیر اجازت اور چھپ کر کوئی غلط کاانجام نہیں دیتا۔

حالانکہ وہ کوشش کررہا تھا کہ اپنے آپ کو پرسکون اورٹھنڈا دکھائے، کمرے سے نکلا اور چلا گیا۔ جو چیز اُسے سب سے زیادہ راضی رکھے ہوئے تھی، اُس کی کمانڈ کے تحت پرسکون ماحول کا برقرار رہنا تھا۔

الحمد للہ خیریت سے معاملہ نمٹ گیا۔ لیکن وہ واحد بات جس سے ہمیں ڈر لگ رہا تھا وہ کیمپ کی احتمالی تفتیش اور تلاشی تھی کہ جس میں ممکن تھا کہ ہم چچا نوروز کو ہاتھ سے کھو دیں۔ ایسے چچا جنہوں نے ہماری زندان اور قیدی کی کٹھن زندگی کو قابل تحمل بنا دیا تھا۔

ہم نے  "ب"  کو پانے کیلئے بہت کوشش کی، لیکن کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔

ہماری ایک کوشش یہ تھی، جیسا کہ دوسرے جگہوں سے حمام اور واش روم والا احاطہ زیادہ تاریک تھا ، ایک دفعہ ہم نے اپنے کسی دوست کی شادی کی انگوٹھی  ڈھونڈنے کے بہانے جو حمام کے گڑھے میں گر گئی تھی، نگہبان سے ٹارچ مانگی تاکہ شاید ایسا ہوسکے کہ ہم اُس کی بیٹری کو "ب" والی پرانی بیٹری سے تبدیل کرلیں، لیکن متاسفانہ ٹارچ کی بیٹری کسی اورقسم کی تھی اور وہ نہیں لگی۔

اس عرصے میں، "ب" نہ ہونے کی وجہ سے چچا نوروز سے استفادہ – جو ہمارے وطن  اور روزانہ کی خبروں اور ہمارے درمیان رابطے کا ایک پل تھا – عملی طور پر بند ہوگیا  ، جس کی وجہ سے تمام لوگ افسردہ ہوگئے۔

بالآخر ایک دن خبر ملی کہ ایک نگہبان نے  نئی بیٹریوں کا ایک پیکٹ خریدا ہے اور اُسے نگہبانی والے کمرے میں موجود میز کی دراز میں رکھا ہے۔ بہت اچھی اور مسرت بخش خبر تھی کہ ہم لوگ فوراً ایک نقشہ کھینچنے میں مصروف ہوگئے اور ایک بہت دقیق منصوبہ بندی کے ساتھ، سیکندوں میں پیکٹ کو – کہ جس میں تقریباً چھ عدد بیٹریاں تھیں –  اٹھالیا۔

کچھ عرصے تک تو ہم اس کام کے نتائج کا انتظار کرتے رہے، لیکن جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور ہم بھی یہی چاہ رہے تھے۔ ہمارے لئے "ب"تروتازہ اور جوش کھاتے خون کی طرح تھی کہ جس کی ہمیں سخت حیاتی ضرورت تھی۔

اب ہماری صورت حال اچھی ہوگئی  اور پھر سے چچا نوروز کی باتیں سننے کیلئے کہ جس ہم اصطلاح میں "داستان" کہتے تھے، آغاز کیا۔ داستان ، ہمارے لئے بہت زیادہ خوشیاں لے کر آتا، خاص طور سے اُس زمانے میں کہ جب ایران مختلف محاذوں  پر حملہ کرتا  اور دشمن کو بہت زیادہ نقصان اور خسارت کا سامنا  کرنا پڑتا۔ ان دنوں میں ہمارے پاس شاد اور خوشحال کرنے والی خبریں بہت زیادہ ہوتیں   اور دشمن کو بہت سخت تاوان دینا پڑتا۔

دوسرے اقدامات جو ہم نے ان دنوں میں انجام دیئےیہ تھے، چونکہ ہم ہوا خوری کیلئے نہیں جاتے تھے، ہم مجبوراً اُسی کیمپ میں ورزش کرتے  اور اُس کی وجہ سے ہونے والا شور شرابہ ، نگہبانوں کے اعتراض کرنے کا باعث بنتا، وہ لوگ کتنا چاہتے تھے کہ ہم ہمیشہ سوتے رہیں اور پرسکون رہیں اور ہم نہیں تھے۔

اسی طرح، ظہر اور رات کے وقت ہم نماز جماعت قائم کرتے اور نماز کے آخر میں بھی بلند آواز سے "اللہ اکبر، خمینی رہبر" کے نعرے لگاتے  تھے۔ ایک تو اس وجہ سے  کہ ہم اُس پر فخر اور ناز کرتے تھے، دوسرے اس وجہ سے، کہیں نگہبان یہ تصور نہ کریں کہ ہم دباؤ  میں رہنے کی وجہ سے اور خمینی کے دوست سننے کی وجہ سے اندرونی طور پر ضعیف اور خوف کا شکار ہوگئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قضیہ اس کے برعکس تھا؛ یعنی نگہبان پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اعتراض کرتے  اور ہماری اندرونی طاقت  اُنہیں چین اور سکون نہیں لینے دیتی۔ وہ چیز جو میں نے واقعاً اس ماحول میں دریافت کی، حق گوئی اور حق طلبی میں سکون اور اطمینان تھا، ہر حالت اور ہر شرائط میں۔

جاری ہے …



 
صارفین کی تعداد: 197


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں