یادوں بھری رات کا ۲۹۰ واں پروگرام

یادیں استقامت کی

مریم رجبی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-06-12


ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس میں یادوں بھری رات کا ۲۹۰ واں پروگرام، ۲۶ اپریل ۲۰۱۸ کو جمعرات کی شام، آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں محمود کمن، محترمہ جومای احمد کروفی  اور سید صالح موسوی نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ اور نائجیریا کی اسلامی مقاومت کی تحریک  میں اپنے واقعات کو بیان کیا۔

 

حلال زادے کی  داستان!

پروگرام کے سب سے پہلے راوی امیر محمود کمن تھے۔ انھوں نے کہا: "میں اور صیاد شیرازی  کیڈٹ کالج میں ایک ساتھ تھے، وہ مجھ سے ایک سال سینئر تھے، کیڈٹ کالج سے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد، وہ توپخانہ کی فیلڈ میں چلے گئے اور میں ٹیلی کمیونیکیشن کی فیلڈ میں۔ جس زمانے میں انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا ، جب کردستان میں درگیری اپنے عروج پر تھی، میں ۲۸ ویں ڈویژن کے ساتھ کردستان منتقل ہوا۔ صیاد اُس زمانے میں غرب میں آپریشن کرنے والے ہیڈکوارٹر کے کمانڈر تھے۔ ہیڈ کوارٹر میں، کردستان کے ۲۸ ویں ڈویژن، ارومیہ کے ۲۴ ویں ڈویژن، مہاباد کے سرکاری بریگیڈ اور بسیج اور سپاہ کے گروپ پرکردستان کے آپریشن والے علاقے کی امنیت برقرار رکھنے کی ذمہ داری تھی۔ ہمیں کردستان میں بہت سی مشکلات کا سامنا تھا، جنگ کے دوران جب ہم جنوب میں تھے، ہمیں پتہ تھا کہ ہمیں دشمن کا ایک طرف سے سامنا ہے، لیکن کردستان میں ہمارے چاروں طرف دشمن تھا، خاص طور سے ۱۹۸۰ کے شروع میں کہ جب کوملہ پارٹی، ڈیموکریٹک پارٹی، فدائیان خلق کے گوریلا  حملہ کرنے والے اور منافقین تھے اور ہر کسی کا اپنا ہیڈکوارٹر اور اسٹاف موجود تھا اور شہر اُن کے کنٹرول میں تھا  اور اگر کبھی ہم ڈویژن سے شہر کے اندر چلے جائیں تو شرمندگی ہوتی تھی، میں جو کہ ایک فوجی تھا، مجھ سے پوچھتے تھے کہ میں شہر میں کیوں آیا ہوں اور کہتے تھے چھٹی کی درخواست دکھاؤ۔ یعنی کوملہ اور ڈیموکریٹک مجھے سے چھٹی کی درخواست مانگتے تھے!

جب ہم کردستان ۲۸ ویں لشکر میں منتقل ہوئے، ہم لوگ ایئر پورٹ پر اترے، طے یا تھا کہ ایک بٹالین آکر لشکر سے ملحق ہو۔ ہم ایئر پورٹ پر ۴۸ گھنٹوں تک انتظار کرتے رہے لیکن ان لوگوں نے ہمیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ وہ کہتے تھے کہ اگر جانا چاہتے ہو تو شہر کا چکر کاٹ کر جاؤ، کیونکہ اصلی سڑک جو ڈویژن سے جاکر ملتی تھی، اُس سڑک پر سریوں کو ویلڈ کردیا تھا کہ وہاں سے گزرنے کیلئے ہمارے یونٹ کو زگ زیگ کی صورت میں سریوں کے درمیان سے گزرنا پڑتا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اُن لوگوں نے اُن سریوں کے درمیان پرائمری اسکول کے بچے اور بچیوں کو بٹھایا ہوا تھا اور اُنہیں پڑھا رہے تھے اور انھوں نے اس طریقے سے روڈ کو گھیرا ہوا تھا کہ ہم لوگ ڈویژن تک نہ پہنچ پائیں۔ ہمیں ایئرپورٹ سے ڈویژن تک کا راستہ جو بیس منٹ کا تھا اُسے طے کرنے میں تین دن لگ گئے۔ آخر میں ہم مجبور ہوگئے کہ شہر کا چکر کاٹ کر ڈویژن تک پہنچا جائے۔ اس طرح یوں پورا شہر اُن کے اختیار میں تھا، جس کام کا دل چاہتا تھا وہ انجام دیتے تھے اور رات کے آخر میں چل پڑتے اور دوکانوں سے اپنے خرچہ مانگتے تھے اور اگر کوئی شخص پیسے نہیں دیتا تو رات میں اُس کا حساب چکانے پہنچ جاتے! اس طرح سے کردستان کا علاقہ نا امن تھا۔

غرب میں آپریشن کمانڈر، شہید صیاد شیرازی نے مقرر کیا ہوا تھا کہ کردستان کے ۲۹ ویں  ڈویژن کو حتماً ڈویژن سے شہر کے اندر آکر پریڈ کرنی ہے اور پھر ہیڈ کوارٹر تک واپس جانا ہے۔ انھوں نے کہاکہ میں آپ لوگوں کو پریڈ کے دن کا  نہیں بتاؤں گا، پہلی فروری سے لیکر ۱۲ فروری تک جو دہہ فجر کا زمانہ تھا، ہمیں پریڈ کیلئے ہر دن تیار رہنا ہوتا تھا۔ ایک مرکزی سڑک تھی کہ ہم ڈویژن کے دروازے سے نکلتے اور میدان انقلاب کا چکر کاٹ کراُس کے ساتھ والی سڑک سے واپس ہیڈ کوارٹر پہنچ جاتے۔ میں بٹالین کا کمانڈر تھا۔ ہم ہر دن فوجی ساز و سامان سے لیس ہوتے، اپنی بٹالینز کو تیار کرتے اور شہر میں داخل ہونے کیلئے ڈویژن کو مرکزی سڑک کے دروازے پر لائن سے کھڑا کردیتے۔ صبح ۱۰ بجے تیار ہوجاتے اور ۱۱ بجے ہم سے کہا جاتا کہ آج پریڈ نہیں کی جائے گی۔ اِدھر سے، [ابو الحسن] بنی صدر [ملک کا صدر] تہران میں ہماری پریڈ کی مخالفت کر رہا تھا اور حکم دیا ہوا تھا کہ آپ لوگوں کو یہ کام انجام دینے کا حق نہیں ہے، اُدھر سےبری اور آرمی فورس کے ہیڈکوارٹر نے صیاد کو حکم دیا ہوا تھا کہ تم لوگ ضرور پریڈ کرو۔ بالآخر ۷  فروری ۱۹۸۳ والے دن ، ہم تمام فوجی ساز و سامان کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔ سنندج کے امام جمعہ ، گورنر اور جناب مہدوی کنی بھی سٹیج پر موجود تھے۔ پریڈ انجام دی گئی اور ہم دوسرے راستے سے واپس آگئے ، کوئی بھی حادثہ پیش نہیں آیا۔ شام کو جب ہم شہر کے اندر آئے، ہم نے دیکھا تمام گروہوں کے کمانڈر اور تمام بٹالینز کے کمانڈروں کے ناموں کو ہاتھ سے لکھا ہوا ہے کہ یہ سب ضد خلق کے افسران ہیں! اس پریڈ کے بعد  سنندج کے ڈویژن میں ایک برا حادثہ پیش آیا۔ منافقین کے ہاتھوں بکے ہوئے ایک شخص نے دستی بم بنایا تھا جسے اُس نے آپریشن روم میں  نصب کردیا تھا، یہ بم خاص دن کیلئے لگایا گیا تھا کہ جس دن وہاں ایک اجلاس ہونا تھا اور اُس میں ڈویژن، گورنر ہاوس، وزیر اعلی ہاوس اور سیکیورٹی اداروں کے اعلی افسران نے شرکت کرنی تھی؛ خوش قسمتی سے یہ جلسہ ملتوی ہوگیا اور صرف دو تین افراد شہید ہوئے اور عمارت کا کچھ حصہ ٹوٹ پھوٹ گیا اور آخر میں وہ شہر سے فرار کر گیا۔ وہ میری بٹالین میں کام کرتا تھا ، اُس کا نام بھی "حلال زادہ "تھا!"

 

شیراز کا سفر

جناب امیر کمن نے بات کا جاری رکھتے ہوئے کہا: "اپریل ۱۹۸۲ یا ۱۹۸۳ میں جو حادثہ بری افواج میں پیش آیا تھا کہ کچھ لوگ فوج میں داخل ہوگئے تھے اور دس سے تیرہ لوگوں شہید کیا اور پھر فرار بھی کر گئے، اس کے بعد،مجھے سنند ج سے تہران میں بری فوج کے ہیڈ کوارٹر میں کمانڈ لائن کے سامنے پیش کیا گیا۔ میں اُن سالوں میں شہید صیاد شیرازی کے قریب تھا اور اُن کے ساتھ کام کرتا تھا۔ میں نے وہاں ایک سال ڈیوٹی انجام دی ہوگی کہ انھوں نے کہا میں تمہاری پوسٹ کو تبدیل کردوں گا۔ میں نے پوچھا پھر مجھے کیا کرنا ہوگا؟ انھوں نے کہا تمہیں جنوبی ہیڈکوارٹر آنا پڑے گا، لیکن آج  ۱۳ مارچ (۲۲ اسفند) ہے، چند دنوں کے بعد چھٹی پر جاؤ ، آرام کرو، اُس کے بعد آنا۔ میں اپنے گھر آگیا اور ہم مشہد جانے کیلئے تیاری میں مصروف تھے کہ رات کو ہمارے گھر میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میری زوجہ نے بتایا کہ جناب کرنل صیاد شیرازی ہیں، میں نے فون اٹھایا اور انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہا ں جانا چاہتے ہو؟ میں نے کہا میں مشہد جانا چاہتا ہوں، انھوں نے کہا مشہد جانے کی ضرورت نہیں ہے، شیراز چلے جاؤ، میرے گھر والے پانچ سالوں سے گھر میں ہیں، میں نے تم لوگوں کیلئے ایک جگہ دیکھ رکھی ہے۔ انھوں نے کہا تم سے ایک درخواست ہے، تم میری گاڑی لیکر اُس پر آجاؤ۔ اُن کے پاس کریم کلر کی ایک پیکان تھی جس پر اصفہان کی نمبر پلیٹ تھی۔ شہید صیاد نے کہا میں نے تمہارے گھر والوں اور اپنے گھر والوں کیلئے جہاز کا ٹکٹ لے لیا ہے، تم ایک دن پہلے گاڑی  لیکر نکل جانا۔ میری زوجہ اس بات پر اضی نہیں ہوئی کہ میں ہزار کلومیٹر دور شیراز تک تنہا جاؤں۔ ہم ایک دن پہلے نکل گئے اور وقت پر ائیر پورٹ پہنچ گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایئرپورٹ کے مائیک سے مسلسل مجھے بلایا جا رہا ہے۔ میں نے احاطہ پر نظر دوڑائی تو مجھے شیراز کے زرہی مرکز کے کمانڈر نظر آئے۔ وہ مجھے نہیں پہچانتے تھے، لیکن میں انہیں جانتا تھا۔ جب میں ایئرپورٹ کی پارکینگ میں داخل ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی صاف ستھری بنز کار جس کے ساتھ ایک زیرو میٹر پیکان کھڑی تھی ، اُس طرف سے دو ڈرائیور سپاہی مجھے مسلسل آوازیں دے رہے ہیں کہ ہم اُن کے ساتھ گیسٹ ہاؤس چلیں۔ میں نے کوئی دھیان نہیں دیا اور گھر والے ہوائی جہاز سے اتر کر باہر آگئے۔ شہید صیاد کی زوجہ اپنی بہن اور دو بچوں کے ساتھ اور میرے گھر والے سب پیکان میں سوار ہوگئے۔ ہم باہر نکل رہے تھے کہ اُس کرنل نے شیشہ کو کھٹکھٹایا اور کہا وہ لوگ گاڑی میں پھنس کر بیٹھے ہیں، میں نے آپ کیلئے پہلے سے گاڑی تیار کی ہوئی ہے۔ میں نے کہا آپ مجھے اجازت دیجئے، میں گیسٹ ہاؤس میں آپ  سے بات کروں گا۔ انھوں نے اصرار کیا اور صیاد شیرازی کی زوجہ نے کہا کہ کرنل صاحب، اجازت دیجئے تاکہ ہم گیسٹ ہاؤس میں آپ کو وضاحت پیش کریں۔ خلاصہ یہ کہ ہم دو تین دن تک گیسٹ ہاؤس میں رہے۔ شہید صیاد اپنے گھر والوں سے ملنے کیلئے وہاں آئے ، مجھ سے گلے ملتے وقت انھوں نے میرے کان میں کہا وہ گاڑیاں جو فوجی نمبر پلیٹ کے ساتھ آئی تھیں اُس میں تو نہیں بیٹھے ناں؟ میں نے کہا نہیں، ان چند دنوں میں ہم پیکان پر ہی بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا مجھے بوسہ لینے دو کہ تم نے میرے گھر والوں کو فوج کی گاڑی میں بیٹھنے نہیں دیا۔"

 

تمہیں فوجی کو نہیں جگانا چاہیے تھا؟

جناب محمود کمن نے کہا: "کچھ آپریشنوں میں مشکلات کا سامنا تھا اور رات کے بارہ  بجے ٹریننگ رکھی ہوئی تھی۔ ہم شیراز کے ۵۵ ویں فضائی ڈویژن میں مہمان تھے۔ ہم نے اپنے کام کو انجام دیا اور رات کے تقریباً ڈیڑھ یا دو بج رہے تھے کہ ہم واپس جانا چاہتے تھے۔ صیاد نے کہا ہیڈ کوارٹر چلتے ہیں۔ ہمارے دو ہیڈکوارٹر تھے ایک بلغازہ میں تھا جو فکہ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور دوسرا دزفول میں ہمارے پیچھے تھا۔ میں بلغازہ چلا گیا ، انھوں نے کہا یہاں کیوں آگئے ؟ میں ہمیشہ اُن کے ساتھ ہوتا تھا۔ میں آگے بیٹھتا تھا اور وہ پیچھے والی سیٹ پر بیٹھتے تھے۔ انھوں نے کہا ہم دزفول چلتے ہیں۔ جب ہم دزفول پہنچے، انھوں نے کہا کیا ایسا ہوسکتا کہ میرے نہانے کیلئے پانی گرم ہوجائے؟ میں نے فوراً ہیڈ کوارٹر کے فوجی کو اٹھایا او اُس نے پمپ اسٹارٹ کردیا۔ چونکہ وہاں پہ پانی پمپ کے ذریعے گیزر تک جاتا اور گرم ہوتا تھا۔ وہ نہائے اور میرا شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ کس طرح یہ کام کیا؟ میں نے کہا پمپ چلانے والے فوجی کو اٹھایا، جیسے ہی میں نے یہ بات کہی، وہ بہت چراغ پا ہوگئے۔ میں نے کہا کہ آپ کے ساتھ رہنا ہماری ڈیوٹی ہے ، پھر میں اس وقت کیوں بیدار ہوں؟ انھوں نے کہا میرا اور تمہارا معاملہ الگ ہے، تم نے فوجی کو کیوں جگایا؟ میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور تم نے اُسے خراب کردیا۔ میں نے کچھ نہیں کہا اور افسردگی کی حالت میں باہر آگیا۔ اگلے دن صبح انھوں نے مجھے ۲۱ ویں لشکر کے ہیڈکوارٹر چلنے کیلئے  آواز دی ۔ میں نے دیر لگادی، انھوں نے مجھے ناشتہ پر بلانے کیلئے اپنے محافظ کو بھیجا ۔ میں نے کہا میں ناشتہ کرچکا ہوں، انھوں نے کہا: آؤ آکر ناشتہ کرو، زیادہ حساس نہیں بنو! کل را ت ناراض ہوگئے۔ تمہیں فوجی کو نہیں جگانا چاہیے تھا، تم مجھ سے کہہ دیتے کہ میں نہیں کرسکتا، گرم پانی نہیں ہے، پانی کی ٹنکی خالی ہے ، میں ناراض نہیں ہوتا۔ میں نے کہا: میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتا ہوں، آپ کے کام انجام دینا میری ذمہ داری ہے۔

اُن کی استقامت اور مقاومت نے مجھے تعجب میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ راتوں کو صرف دو یا ڈھائی گھنٹے سویا کرتے تھے۔ وہ اپنی نماز شب کو صبح کی نماز سے ملا دیتے تھے اور صبح سات بجے ناشہ کرکے تیار ہوتے تھے۔ وہ تمام کاموں اور مسائل کیلئے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اُن کے کندھوں پر جو بیچ لگے ہوئے تھے وہ عارضی تھے، وہ میجر تھے میں بھی میجر تھا۔ اُن کی تنخواہ لینے والی پرچی پر آپریشن کمانڈر اور فورس کمانڈر لکھا ہوا تھا، لیکن وہ ایک میجر کی تنخواہ لیتے تھے۔ یہ درجہ عارضی تھا، اس لیے کہ ہماری فوج کے زیادہ تر افسر جن کی عمر یں زیادہ تھی جیسے شہید منفرد نیاکی، مفید، اقبال محمد زادہ، ان میں سے زیادہ تر کا درجہ  آفیسر کا تھا۔ فوج پر ان کا شرف باقی رہنے کیلئے، ان کو عارضی درجہ دیا گیا تھا کہ وہ فوج کے کمانڈر تھے، لیکن وہ مراحل طے ہونے تک میجر کی تنخواہ لیتے تھے اور مقررہ وقت پر اُنہیں درجات دیدیئے تھے۔"

امیر محمود کمن نے اپنی شہید صیاد شیرازی کے ساتھ ایک تصویر کے بارے میں بھی توضیح دی : "یہ تصویر تقریباً سن ۱۹۸۴ کی  ہے، وہ بچہ جو اُن کے برابر میں بیٹھا ہوا ہے، وہ مہدی ہے کہ صیاد کو اس بچے کے سامنے شہید کیا، دائیں طرف اُن کی بیٹی مریم خانم ہیں جو اس وقت ماہر نفسیات ہے۔ بائیں طرف اُن کی زوجہ بیٹھی ہوئی ہیں۔ میں اور میرا بیٹا تصویر کے کونے میں ہیں۔ شہید صیاد کی زوجہ کے برابر میں میری زوجہ ہے۔"

اپنے سے نیچے کے افراد پر توجہ

اسی طرح انھوں نے کہا: "شہید صیاد نے ایک رات ساتھ کھانا کھانے کیلئے مجھے بلایا۔ میں جیسے ہی اُن کے مورچے میں داخل ہوا، فوجی نے مجھے آواز دی اور کہا آپ کا فون ہے۔ میں نے جاکر فون اٹھایا تو دوسری طرف میری زوجہ تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ بات نہیں کر پا رہی ہے، میں نے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ اُس نے کہا میری عقل داڑھ میں درد ہو رہا ہے، میں اُسے نکالنے کیلئے گلی کے کونے تک گئی، لیکن ڈاکٹر نے اُس کے چار ٹکڑے کرکے اُسے نکال دیا، میری حالت بہت بری ہے، دونوں بچوں کو بھی بخار ہورہا ہے۔ میں نے کہا: میں تم سے ہزار کلومیٹر دور ہوں، میں کچھ بھی نہیں کرسکتا اور تم نے بھی اس وقت صرف مجھے پریشان کیا ہے۔ میری زوجہ میں عزت نفس اتنی زیادہ تھی کہ اس کے باوجود کہ میرا بھائی میرے گھر کے نچلے طبقہ پر رہتا تھا ، اور ایک گلی اس طرف اور ایک گلی اُس طرف خود اس کا بھائی اور بہن رہتے تھے ، لیکن وہ کہتی تھی کہ میں رات کے اس پہر میں کسی کو زحمت دینا نہیں چاہتی۔ میں نے فون رکھا اور مورچہ میں واپس آگیا۔ صیاد نے میری طرف دیکھا اور کہا: کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: کوئی بات نہیں ہے، انھوں نےکہا: جاتے ہوئے تمہاری حالت الگ تھی اور اس وقت الگ ہے۔ وہ اچھے چہرہ شناس تھے۔ میں نے اُنہیں پورا ماجرا سنایا اور انھوں نے تہران میں بری فوج کے ہیڈکوارٹر فون ملایا اور کہا: ایک گاڑی سپاہی کو لیکر فلاں ایڈریس پر جائے۔ میرے بچوں کو ہسپتال لیکر جایا جائے، پھر واپس گھر چھوڑا جائے پھر اُنہیں اس کام کی رپورٹ دی جائے۔ وہ اپنے سے نچلے اسٹاف اور کمانڈروں پر توجہ رکھتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے یہاں ایک فوجی تھا جس کی عمر تیس سال سے کچھ زیادہ ہوگی اور وہ احتیاط کرنے والوں میں سے تھا ، حتی اُس کے منہ میں ایک بھی دانت نہیں تھا۔ میں ایک دن اُن کے ساتھ اکیلا تھا ، میں نے کہا ہمارے اس فوجے کے دانت نہیں ہیں، انھوں نے پوچھا؛ کتنے پیسے لگیں گے؟ میں نے کہا: میں ایک دانتوں کے ڈاکٹر کو جانتا ہوں جو اس کام کو انجام دے لےگا ، انھوں نے کہا: اس کا پروگرام سیٹ کرو، پیسے ہیں۔ ہم مختلف شہروں کے امام جمعہ کے پاس جاتے اور سب اُن کا احترام کرتھے تھے، وہ بغیر کسی حساب کتاب اور بغیر کسی سند کے فوج کے اخراجات کو قبول کرلیتے تھے۔"

لوگوں نے جنگ کو چلایا ہے

امیر محمود کمن نے مزید کہا: "ایک آپریشن میں ہمارے پاس شہید مسعود منفرد نیاکی نام کے ایک  افسر تھے۔ آپ آج کل جس وقت بھی سید خندان پل سے رسالت چورنگی کی طرف جائیں، آپ اپنی دائیں طرف دیکھیں،آپ کو  دیوار پر اُن کی تصویر نظر آئے گی۔  اس افسر کی اٹھارہ سالہ جوان بیٹی ایک آپریشن کے دوران فوت ہوگئی۔ میں ہیڈ کوارٹر میں تھا کہ صیاد نے مجھے خط لکھا اور مجھے حکم دیا تاکہ میں ۹۲ ویں لشکر کے ہیڈ کوارٹر جاؤں، جہاں نیاکی ۹۲ ویں ڈویژن کی ذمہ داری اپنے معاون کو سونپے اور میں ہیلی کاپٹر تک اُن کے ساتھ جاؤں تاکہ وہ جہاز کے ذریعے تہران جائیں اور اپنی بیٹی کے کفن ، دفن میں شرکت کرلیں۔ میں نے صیاد کے حکم کی تعمیل کی اور دارخوین میں موجود ۹۲ ویں ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر گیا۔ جیسا کہ ڈویژن کے معاون انچارج نے میرے ساتھ ٹریننگ حاصل کی تھی، میں ہمیشہ پہلے اس سے ملنے جاتا اور پھر دستور لینے کیلئے ڈویژن کے کمانڈر کے پاس جاتا تھا۔ جب میں ہیڈ کوارٹر میں اپنےدوست کے مورچے میں پہنچا، تو میں نے دیکھا صحرائی فون بج رہا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ جناب کرنل نیاکی ہیں۔ پھر میں نہیں بیٹھا، اُن کے مورچے میں چلا گیا ، جب میں نے اُنہیں دیکھا تو ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اُن کی بیٹی کا انتقال ہوا ہے، وہ بہت ہی محکم انداز میں اپنی کام والی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور ڈویژن کے تمام افراد اپنے کاموں کو انجام دے رہے تھے، چونکہ ہم کسی ایک آپریشن میں تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا: یہاں پر کس لئے آئے ہو؟ میں نے کہا: میں یہاں آپ کو فوج کے کمانڈر  کے احکامات پہنچانے  آیا ہوں۔ میں نے حکم نامہ دیا، اُنھوں نے پڑھا۔ کچھ نہیں کہا۔ میں نے دیکھا کہ وہ لکھ رہے ہیں۔ لکھا اور کاغذ کو تہہ کرکے لفافے میں رکھا اور میرے ہاتھوں میں تھما دیا۔ میں نے کہا: کرنل صاحب! وظائف کا سونپنا؟ ڈیوٹی بدلنا؟ میں آپ کو ہیلی کاپٹر تک پہنچانے کیلئے تیار ہوں، انھوں نے کہا: نہیں جناب! یہ لوگ جو میرے اطراف میں ہیں یہ کچھ نہیں کہیں گے، وہ لوگ جو دوسرے یونٹوں میں ہیں، پہلی بریگیڈ، دوسری بریگیڈ، تیسری بریگید، وہ سپاہی جو جنگی علاقے اور دشمن کے مورچوں کے نزدیک ہیں، وہ کیا کہیں گے؟ وہ کہیں گے کہ ڈویژن کا کمانڈر اس آپریشن میں چھٹی پر چلا گیا؟ وہ نہیں جانتے کہ معاملہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے فوج کے کمانڈر کا حکم آپ تک پہنچا دیا ہے، انھوں نے کہا: جاؤ، میں نے کمانڈر کیلئے جواب لکھ دیا ہے۔ میں نے حکم کی تعمیل کی، سیلوٹ مارا اور مورچے سے باہر آگیا۔ میں اپنے دوست کے مورچے میں آیا اور میں نے اُس نامہ کا خلاصہ بتایا۔ میں اور میرا دوست دونون رونے لگے۔ انھوں نے لکھا تھا: "بسمہ  تعالی،  فوج کے محترم کمانڈر کی عنایایت پر شکر گزاری کے ساتھ۔ ان حساس حالات میں، میں اپنی ڈیوٹی کی جگہ کو کسی بھی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا، میرے گھر والے کفن، دفن، سوم، ہفتم کے امور انجام دے لیں گے، آپ کا مخلص مسعود منفرد نیاکی" یہ کوئی دوسرے ا فراد نہیں ہیں، میری اور آپ کی طرح کے افراد نے جنگ کو چلایا ہے۔

ایک سال امام خمینی نے اعلان کیا کہ ہم عید نہیں منائیں گے، ہماری عید محاذ ہے، مسئولین، چاہے وہ پارلیمنٹ کے ہوں یا جنرل ڈائریکٹرز ہوں سب محاذ کی طرف دوڑے اور اپنے ساتھ تحفہ تحائف بھی لائے۔ ہمارے پاس ایک باورچی تھا جو بہت ہی محنتی تھا۔ ہم عام طور سے ہیڈ کوارٹر کے سپورٹنگ اسٹاف کو دو تین مہینے بعد تبدیل کرلیتے تھے۔ میں نے اُس سے کہا بس بہت ہے، تمہیں یہاں رہتے ہوئے چہار مہینے ہوگئے ہیں، وہ کہتا: جب تک تم یہاں ہو میں بھی یہیں رہوں گا۔ اہواز کی گرمی میں صبح سے لیکر شام تک چولہے کے پاس کھڑے ہوکر کھانا پکانا واقعاً بہت سخت تھا۔ مسئولین جو تحفہ ، تحائف لائے تھے ہم نے ایک ایک کرکے سپاہیوں، افسروں، اور اپنے سے نیچے کام کرنے والے افراد کو  دیئے، ایک ابراہیم کو بھی دیا۔ میں گزر رہا تھا کہ میں نے دیکھا ابراہیم سیڑھیوں پر بیٹھا  رو رہا ہے، میں نے پوچھا: کیا ہوگیا ؟ اُس نے تحفہ کھول کر مجھے  دکھایا۔ میں نے دیکھا کہ سجدہ گاہ کے نیچے رکھنے والا ایک چھوٹا سا رومال ہے کہ جس پر لال دھاگے سے اللہ اکبر لکھا ہوا تھا، ایک مٹھی چنے اور کشمش بھی تھے، ایک کاغذ پر یہ بھی لکھا ہوا تھا: "امی جان! میں اسے مشہد سے لایا ہوں، میرے پاس آپ کو دینے کیلئے کچھ اور نہیں تھا۔" ان ماؤں نے جنگ کو چلایا ہے۔ صرف ایک دفعہ کے علاوہ، ایسا نہیں ہوا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ہو اور دوسری طرف سے میری یا صیاد کی زوجہ نے کوئی شکایت کی ہو۔ ایک دفعہ ایک مسئلہ ہوگیا تھا ، بارڈر لائن بند تھی اور ہم چھٹی پر نہیں جاسکے تھے۔ میری زوجہ پریشانی میں روئی تھی   تو شہید صیاد کی زوجہ نے کہا درگزر اور ایثار کرنا چاہیے۔ واقعاً یہ لوگ تھے جنہوں نے جنگ لڑی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جس علاقے میں ہم ڈیوٹی انجام دے رہے تھے وہاں کی مٹی آلودہ تھی۔ لوڈر کام کر رہا تھا اور مورچہ بنا رہا تھا۔ اصلی مورچہ کھودتے وقت، سپاہی میرے پاس آئے اور کہا کہ ایک جنازہ نکلا ہے۔ میں نے جاکر دیکھا تو میرے ساتھ ٹریننگ کرنے والے جناب  توکلی تھے۔ اُن کا لباس صحیح و سالم تھا، لیکن لباس میں کچھ ہڈیاں تھیں۔ ہمارے لیے دزفول سے کھانا آتا تھا اور جس وقت ہم نے تقسیم کرنا چاہتے تھے، ہوا چلتی اور یہ آلودہ مٹی کھانے میں گرجاتی اور اگلے دن صبح ، سب لوگ مریض ہوجاتے۔ ہم نے ایک جگہ رجوع کیا اور اور کہا کہ ہمیں کچھ مقدار میں خاکشیر دی جائے تو انھوں نے دو کلو دی! میں نے مذاق میں کہا کیا اسٹاف والوں کو اس کے دانے دیں؟ اس نے کہا: ہمارے پاس آپ کو دینے کیلئے اس سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ صاحب جن کا ستر سے اسی گاڑیوں پر مشہد سے سامان آتا تھا، وہ اُس کی چابیاں ہمیں دیکر چلے جاتے تھے۔ میں نے تہران میں موجود جہاد شمیران ادارے میں فون کیا۔ میری پھپھو کی بیٹی وہاں خواتین کے امور کی انچارج تھی، میں نے اُس سے کہا مجھے ایسی خاکشیر چاہیے جس میں آلودگی کی دوا ڈلی ہوئی ہو، اُس نے کہا کہ مجھے شام چھ بجے فون کرنا۔ میں نے ۲۰۰ سے ۳۰۰ کلو خاکشیر کا تقاضا کیا تھا۔ میں نے چھ بجے فون کیا تو اُس نے پوچھا کہ دو ٹن خاکشیر کافی ہے؟! آج کل سپاہی اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ جب ہم انہیں ۴۸ گھنٹے کی چھٹی دیں تو اُس میں دو دن کا اضافہ کر دیں، لیکن اُن دنوں میں میرے پا س ایک سپاہی تھا جس کے پاس ۱۲ دن کی چھٹیاں تھیں، ہم دیکھتے کہ ابھی چھ دن نہیں ہوئے ہیں اور وہ واپس آگیا ہے۔ ہم نے اُس سے پوچھا کیوں واپس آگئے؟ وہ کہتا: مجھے وہاں کوئی کام نہیں ہے! میرا کام تو یہاں ہے۔"

 

شیخ زکزاکی اور نائیجریا مقاومت کی اسلامی تحریک

شیخ ابراہیم یعقوب زکزاکی نے جرأت و ہمت سے نائیجریا میں شیعیت کو زندگی بخشی۔ اُن کے بیٹے شہید ہوگئے اور اُن کی اپنی جان بھی خطرے میں ہے۔ شیخ نے بہت زیادہ زحمات اٹھائی ہیں اور وہاں پر بہت سے سارے لوگ اُن کے وسیلے سے اسلام اور مذہب شیعہ کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ پروگرام کی دوسری راوی، شیخ کی زوجہ کی دوست تھیں۔ محترمہ جومای احمد کروفی، نائیجریا میں جدوجہد کرنے والوں میں سے ایک ہیں کہ جن کے تین بیٹے لاپتہ ہوچکے ہیں اور دو لے پالک بیٹے جو حقیقت میں ان کی بہن کے بیٹے تھے، شہید ہوچکے ہیں۔ وہ چند کتابوں کی مؤلفہ ہیں، ہدایت کاری اور ڈاکومنٹری بنانے کا کام انجام دیتی ہیں، استاد ہیں اور انھوں نے مواصلات اور لائبریرین میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ جومای احمد کروفی نے کہا: "میں آج یہاں آئی ہوں تاکہ آپ لوگوں حادثہ زاریا اور وہ واقعہ جو نائیجریا میں اسلامی جدوجہد کرنے والے میرے بہن بھائیوں کے ساتھ  پیش آیا، بتاؤں۔ شیخ زکزاکی میرے رہبر ہیں، آج جنہیں پوری دنیا جانتی ہے، جنہوں نے میرے ملک میں ظلم کے خلاف قیام کیا ہے۔ اُن کے مشہور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کے بارے میں ہمارے ملک کے لوگوں اور آفریقا کے لوگوں پر بہت گہر اثر چھوڑا ہے۔ ان کی کاوشوں کے سبب مختلف مناسبتوں پر، کچھ ائمہ (ع) کے حرم کے پرچم  جیسے پرچم حرم امام رضا (ع)، حرم امام حسین (ع) اور حضرت ابو الفضل (ع) اس عظیم ہستی تک پہنچے۔ ہم خود اپنی نائیجریا مزاحمتی تحریک میں  اہل بیت (ع) کے مختلف پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں، چاہے وہ اہل بیت (ع) کی ولادت کے سلسلے میں میلاد ہو یا اُن کی عزاداری کی مجلس ہو۔ ہمارے یہاں جتنے بھی پروگرام ہوتے ہیں، اُن میں امام حسین (ع) کے حرم کے پرچم اور امام حسین (ع) کے پروگرام کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے؛ مثال کے طور پر ہمارے یہاں ایک بڑا پروگرام جو ہوتا ہے ، یہ ہے کہ ہم محرم کے پہلے دن ، بقیۃ اللہ (عج) امام بارگاہ میں پرچم حرم امام حسین (ع) کو نصب کرتے ہیں اور تمام شیعوں کی طرح، محرم اور صفر کے مہینے میں خاص طور سے چہلم کے موقع پر آنحضرت کی عزاداری کرتے ہیں۔ چہلم پر پیدل چلنے والا پروگرام، نائیجریا میں مختلف جگہوں سےشروع ہوتا ہے اور لوگ پرچم امام حسین (ع) کی زیارت کیلئے شہر زاریا آتے ہیں۔ یہ کام صرف نائیجریا سے مختص نہیں ہے، افریقا کے مختلف ملکوں کے لوگ بھی یہ کام انجام دیتے ہیں۔ اس تعداد نے اس وجہ سے نائیجریا حکومت کیلئے حساسیت ایجاد کرلی کہ وہ زائرین جو چہلم پر پیدل چل کر زاریا آتے ہیں، وہ ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہیں اور یہ جہان کفر ، منجملہ امریکا ، اسرائیل اور اسی طرح سعودی عرب کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے وہ دور سے ایک ساتھ بیٹھ کر شیخ کے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے انہیں قتل کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں، لیکن خدا  کے لطف و کرم سے ایسا ہوا نہیں۔

جب ہمارے دور کے صدر، محمدو بوھاری صدر بنے، انھوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور جب واپس آئے، ربیع الاول کے پہلے دن سے، جس وقت محرم اور صفر کی عزاداری ختم ہوچکی تھی اور زاریا کے شیعہ بقیۃ اللہ (عج) امام بارگاہ میں جمع تھے تاکہ پیغمبر اکرم (ص) کی ولادت اور خوشی کا پرچم امام بارگاہ یی بلندی پر لگائیں، وہاں پر جمع ہونے والے شیعوں پر حملہ کردیا گیا۔ جس وقت بوھاری فوج کے سپاہی اپنی منحوس سازش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امام بارگاہ کی طرف آئے ہیں ، شیعہ اور دوسرے افراد جو امام بارگاہ میں موجود تھے، وہ وہاں کی سجاوٹ اور تقریب کیلئے پروگرام کو منظم کرنے آئے تھے ۔ ان لوگوں نے گاڑیوں سے اترتے ہی فوراً اپنے اسلحوں کو لوڈ کیا اور لوگوں کی طرف فائر کھول دیئے۔ میں اُس زمانے میں امام بارگاہ میں نہیں تھی اور جو کچھ امام بارگاہ میں رونما ہوا  مجھے اس کی اطلاع دی گئی۔ شروع میں جب نائیجریا فوج کے سپاہیوں کو اس پروگرام کے بارے میں پتہ چلا اور انھوں نے حملہ کیا، اس وقت تک پروگرام شروع نہیں ہوا تھا اور شیعہ افراد پروگرام کی تیاری میں مصروف تھے، اسی وجہ سے وہاں پر موجود لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ جیسے ہی اس حملہ کی خبر پھیلی، شہر میں موجود تمام شیعوں نے  کوشش کرکے خود کو وہاں تک پہنچایا اور دس ہزار سے زیادہ لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ دوسرے افراد بھی وہاں پر آنا چاہتے تھے، لیکن جیسا کہ فوج نے بہت سے راستوں کو بند کردیا تھا، لوگ وہاں تک نہیں پہنچ سکے۔ راستے بند ہونے کی وجہ سے مجھ جیسے دوسرے بہت سے افراد شیخ کے گھر گئے تاکہ وہاں جاکر دیکھیں کیا حادثہ پیش آیا ہے۔ بہت سارے لوگ نائیجریا مزاحمتی تحریک سے مربوط دفاتر کی طرف گئے۔ بہت سارے لوگ شیخ کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ شیخ کے گھر کے اطراف میں جو لوگ جمع ہوئے تھے، شاید وہ پانچ ہزار  کے قریب لوگ تھے۔

بقیۃ اللہ (عج) امام بارگاہ پر ہونے والے حملے کے علاوہ، رات کے تقریباًٍ ۹سے دس بجے تک، نائیجریا آرمی کے کافی سارے لوگوں نے شیخ کے گھر کو چاروں طرف سے محاصرے میں لے لیا  اور نائیجریا مزاحمتی تحریک کے بہت سارے افراد نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے رہبر کیلئے  اپنی جان نچھاور کردیں اور اُن کے گھر کے اطراف میں ایک انسانی سپر بنائیں تاکہ فوجی اُن کے رہبر تک نہ پہنچ پائیں۔ اس معاملے میں تحریک کے بہت سے جوان اور افراد شہید ہوگئے، چونکہ اُنھوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا ہوا تھا اور شیخ کے گھر تک پہنچنے کیلئے اُن کے بدن آرمی فورسز کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ ہمارا اسلحہ، اللہ اکبر، تکبیر اور یا مہدی (عج) تھا، ہمارے بہت سے بچے پتھروں کے ذریعے شیخ کی حفاظت کرنا چاہتے تھے۔ رات کے اُس پہر سے لیکر اگلے دن شام تک وہ لوگ، ہمارے  لوگوں کے قتل عام میں مصروف تھے۔ میرے گھر کے تمام افراد اور میرے رشتہ دار، اُن میں سے میری بہن، ان سب نے شیخ کی جان کی حفاظت کیلئے اپنی کوششیں انجام دی تھیں۔ ہم پوری رات تک کوئی کام انجام نہیں دے سکے؛ کیونکہ وہ لوگ گولیاں  برسانے میں مصروف تھے اور ہم شہداء اور زخمیوں کو جمع کرنے میں مصروف تھے۔ تقریباً ۱۱ بجے کا وقت تھا کہ ایک خاتون نے مجھ سے کہا کہ شیخ کے گھر کی دیواروں کی طرف دیکھو، شیخ کے گھر کی دیواروں پر ۲۲ سے زائد سوراخ ہوچکے تھے جس سے پتہ چل رہا تھا کہ انھوں نے اُن تک پہنچنے کیلئے مختلف قسم کے اسلحوں سے استفادہ کیا تھا۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ ہم اندر چلتے ہیں اور شیخ کی زوجہ سے بات کرتے ہیں اور اُنہیں قائل کرتے ہیں کہ کسی طرح شیخ کو ان حالات سے باہر نکالا جائے، جیسے حالات گزر رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ اُن کی شہادت نزدیک ہے۔ جب ہم شیخ کے گھر میں داخل ہوئے، ہمیں اُن کی زوجہ نظر نہیں آئی ہمیں صرف اُن کے فرزند نظر آئے۔ ہم نے اپنی بات کو شیخ کے ایک فرزند تک پہنچایا تو اُس نے جواب میں کہا کہ میرے والد نے کہا ہے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، چونکہ حکومت اور فوج میرے شیعوں کا قتل عام کر رہی ہے لہذا میں بھی یہاں اُن کے ساتھ ہوں۔ اُس زمانے میں شیخ کے گھر کے اطراف ہمارے  ۷۰۰ سے زائد شہداء اور زخمی زمین پر پڑے ہوئے تھے۔

جب میں بات کرچکی اور شیخ کے گھر سے باہر نکلی، میں نے دیکھا دو بچیاں زمین پر لیٹی ہوئی ہیں۔ جن کی عمریں تقریباً ۶ سے ۸ سال کی ہوں گی۔ میں نے اُن دو بچیوں کی جان بچانے کیلئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس کے باوجود کہ سپاہی فائرنگ کر رہے تھے، میں سڑک سے گزری اور خود کو اُن تک پہنچایا۔ میں نے ایک کو اٹھانے کیلئے بلند کیا، لیکن بہت بھاری تھی۔ میں نے اُس سے کہا کہ اپنے آپ کو نجات دینے کیلئے کوشش کرو، اُس نے کہا نہیں کرسکتی چونکہ مجھے گولی لگی ہے۔ دونوں کو گولی لگ  گئی تھی اور وہ اپنے لئے کوئی کام انجام نہیں دے سکتی تھیں۔ میں اُس وقت تنہا تھی۔ میں نے اُن بچوں کو اٹھانے میں مدد حاصل کرنے کیلئے اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائی۔ میں نے اُسی لمحے اپنے بچوں کو دیکھا۔ اُنہیں جیسے ہی پتہ چلا کہ مجھے مددکی ضرورت ہے، وہ مجھ تک پہنچ گئے۔ میرے بچے شہر زاریا میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور جب اُنہیں پتہ چلا کہ تحریک اور شیخ کیلئے کیا حادثہ پیش آیا ہے، وہ شیخ کی جان کی حفاظت کی خاطر وہاں پہنچ گئے تھے۔ میں اُن سے بات کر رہی تھی، لیکن چونکہ فائرنگ اور اطراف میں شور کی آواز زیادہ تھی، وہ میری آواز نہیں سن پا رہے تھے۔ میں نے اُنہیں اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ ایک بچہ  مجھ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تاکہ ہم دونوں مل کر اُس بڑی والی بچی کو وہاں سے اٹھا لیں۔ ہم نے کوشش کی کہ اُسے اطراف میں موجود کسی گھر تک لے جائیں۔ جب ہم اُسے کسی گھر میں لے جانے کیلئے کوششوں میں لگے ہوئے تھے، دوسری بچی جو وہاں لیٹی ہوئی تھی اُس تک ایک سپاہی پہنچ گیا اور اُس نے اُس بچی کی پیشانی پر بندوق رکھی اور فائر کردیا۔ جب میں اُس بچی کو گھر کے اندر چھوڑ کر باہر آئی اور میں نے یہ منظر دیکھا، اُس کیلئے کوئی کام انجام نہ دینے کی وجہ سے میں زمین پر بیٹھ گئی اور بس  رونے لگی۔ اطراف میں موجود تمام فوجیوں کی کوشش یہ تھی کہ وہ کسی طرح شیخ کے گھر تک پہنچ جائیں اور انہیں قتل کردیں۔ چونکہ تمام فوجیوں کی توجہ شیخ کے گھر کی طرف تھی، اسی وجہ سے بہت کم فوجیوں کی توجہ ہماری طرف تھی اور ہم اُن بچیوں میں سے ایک کو گھر تک لے جانے میں کامیاب ہوسکے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ فوجیوں کو ہماری موجودگی کا احساس ہو گیا ہے اور وہ فائرنگ کرنا چاہتے ہیں، میں نے بچوں سے کہا کہ وہ زمین پر لیٹ جائیں۔ انھوں نے ہماری طرف فائر کھول دیئے۔ گولیاں ہمارے پیچھے موجود دیوار سے ٹکراتیں اور ہماری طرف آتیں۔ ایک لڑکا میری مدد کرنے کیلئے میری طرف آیا  تو اُن لوگوں نے اُسے گولی مار دی۔ میں اُسی وقت بیہوش ہوگئی اور اُس کے بعد میں نے اس حادثہ میں اپنے پانچ بیٹوں کو کھو دیا۔ یہ پانچ فرزند لاپتہ ہیں۔ جب مجھے ہوش آیا تو مجھے پتہ چلا کہ اُنھوں نے شیخ پر فائرنگ کی ہے اور شیخ کو اُن کے گھر سے نکال کر لے گئے ہیں اور اُن کے گھر کو آگ لگادی  ہے اور شیخ نے اتنی محنت سے جو مساجد، امام بارگاہ وغیرہ بنائے تھے اُن سب کو آگ لگادی ہے۔ اُس دن شیخ کی گرفتاری کے بعد، اُن کی زوجہ اور نائیجریا تحریک کے بہت سے سرگرم  کارکنوں کو بھی گرفتار کر کے لے گئے اور اُس دن کے بعد سے جو مظاہرہ یا ریلی شیخ کی اسارت پر اعتراض اور اُن کی آزادی کیلئے ہوتا ہے، اُس میں شیعوں کو گولی ، شیل اور خاک و خون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے یہ حادثہ پیش آیا اور آج بھی مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ ہمارے بہت سے ہم وطنوں کو مظاہرے میں شہید کردیا گیا ہے۔ آج بھی آبوجا میں ہونے والے مظاہرے میں خون بہایا گیا، وہ مظاہرہ جو ہمارے بیمار رہبر کیلئے ہوا تھا۔ آج ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے خود اپنی زبان سے اعتراف کیا ہے کہ دولت بوھاری سے ہم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ شیخ کے کاموں کا جو انقلاب اسلامی ایران کی تاثیر کی وجہ سے ہے اور نائیجریا میں بڑھتی ہوئی شیعیت کا خاتمہ کرے! اُن کا ہمارے رہبر سے یہ مطالبہ ہے کہ اگر ہم تمہیں آزاد کریں  تو تمہیں جدوجہد سے پیچھے ہٹنا پڑے گا تاکہ ہم دنیا میں شیعوں کی بڑھٹی تاثیر سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ وہ یزید اور ابن زیاد کی طرح شیعوں کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں؛ انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا۔ ہم آج اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے ہم اُسے مقاومت کی کامیابی کے راستے میں دینے کیلئے حاضر ہیں اور اس بارے میں ہم خوش ہیں اور ہمارے پاس جو کچھ ہے، اُسے شیخ اور اسلام کی حفاظت کیلئے لوٹا دیں گے۔ "

۱۳ سالہ نوجوان کی بہادری

محترمہ جومای احمد کروفی نے پروگرام کے میزبان کے سوال کے جواب میں جو پچھلے سال یادوں بھری رات کے پروگرام میں رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کی موجودگی  کے بارے میں پوچھا گیا، کہا: "اُس پروگرام میں ایک فلم دکھائی گئی تھی جو ایک انڈین صحافی  کی اُس ۱۳ سالہ نوجوان (مہدی طحانیان) سے لئے گئے انٹرویو سے مربوط تھی جو عراقیوں کے ہاتھوں اسیر ہوگیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُسے بھی اس پروگرام میں واقعات بیان کرنے کیلئے دعوت دی گئی تھی۔ وہاں پر، انڈین صحافی نے اُس سے پوچھا  کہ تمہاری تو ابھی عمر ہی نہیں ، تم کس لیے جنگ کرنے آئے ہو؟ صحافی نے کہا جناب صدام حسین جو انسانیت کا دوست ہے، وہ تمہیں تمہاری حکومت کے حوالے کرنا چاہتا ہے، لیکن امام خمینی (رہ) کہتے ہیں یہ میرے افراد نہیں ہیں! اُس نے بڑی دلیری سے جواب میں کہا امام خمینی میرے رہبر ہیں وہ جو کہہ دیں، ہم وہی کام انجام دیں گے۔ یہ بات میرے لئے بہت حیرت انگیز تھی اور میرے لیے تاثیر گزار تھی۔ جناب طحانیان کی قید کے دوران چھاؤنی کا کمانڈر فیصلہ کرتا ہے کہ اُنہیں ڈنڈے سے اس طرح مارے کہ  ریڑ ھ کی ہڈی ٹوٹ جائے، جناب طحانیان یا مہدی (ص) کی فریاد بلند کرتے ہیں اور معجزہ ہوجاتا ہے اور وہ ڈنڈا بیج سے دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور کمانڈر صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔ جب مجھے یہ بات سمجھ میں آئی، ایک لحظہ کیلئے مجھے میری جراحت یاد آگئی، کیونکہ اس وقت میرے جسم میں ۲۲ سے زیادہ گولیاں ہیں اور جب سے میں ہسپتال سے واپس آئی ہوں، گولیاں لگنے  کی جگہ مجھے زیادہ درد نہیں ہوتا۔ ان دو واقعات نے مجھ پر ثابت کردیا کہ اگر آپ خدا کے راستے پر ہوں  اور خدا آپ کا حامی و ناصر ہو، حتی آپ کو فطری درد سے بھی نجات مل جائے گی۔ جب میں ہسپتال میں تھی اور وہ گولیوں کو نکالنا چاہتے تھے، میں نے دیکھا کہ اُن کا ظرف خون سے بھرا ہوا ہے ، مجھے اس وقت پتہ چلا کہ مجھے گولی لگی ہے۔ میں سمجھ گئی کہ میری زندگی اور جناب طحانیان کی زندگی کی داستان سے پتہ چلتا ہے کہ اگر آپ واقعاً خدا کیلئے کام کریں تو خدا کس طرح ساتھ دیتا ہے۔ میں آج آپ لوگوں سے بات کرنے کی وجہ سے بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ "

خانم جومای احمد کروفی کی مترجم نے کہا: "ایک گولی اُن  کے دل پاس اور ایک گولی اُن کی کمر کے نزدیک ہے۔ اگر دل کے نزدیک والی گولی کو نکالتے ہیں تو ان کی جان کو خطرہ ہے اور اگر کمر کے نزدیک والی گولی نکالتے ہیں تو ممکن ہے ریڑھ کی ہڈی  کو نقصان پہنچے۔ اُن کے بدن میں سات سے آٹھ بڑے گولیوں کے ٹکڑے موجود ہیں، لیکن وہ اس حال میں بھی کہتی ہیں کہ وہ مجھ جیسے لوگوں کو جتنی زیادہ تکالیف دیتے ہیں اور جتنا ہمارا خون بہاتے ہیں، ہم پہلے سے زیادہ مقاومت کرتے ہیں۔"

 

اپنے آپ کو اس حد تک بھلا دیا تھا…

پروگرام کے تیسرے راوی، سید صالح موسوی تھے۔ انھوں نے کہا: "سن ۱۹۸۱ میں ہونے والے آپریشن طریق القدس میں ہمیں شمال مغرب میں واقع سوسنگرد کی طرف جانا تھا۔ ہماری ڈیوٹی انجام دینے کی جگہ مگاصیص نامی ایک گاؤں میں تھی۔ اُس رات، پہلے ہمارے کمانڈر کو اُن کے وائرلیس آپریٹر کے ساتھ مار دیا گیا، لیکن جب آپریشن کے کوڈ ورڈز بتا دیئے گئے، ہم نے  اللہ کے اذن سے آپریشن شروع کردیا۔ ہم ایک مرکز سے چکر کاٹ کر اُن کے پیچھے سے آگئے اور ہمارے افراد نے صبح ہونے تک دشمن کے ۷۵۰ افراد کو مار دیا تھا۔ ایک بہت ہی کامیاب آپریشن تھا اور ہمارا یونٹ ایک کامیاب  یونٹ کے عنوان سے پہچانا گیا۔ ہم محفوظ مقام پر تھے، لیکن دفاع کیلئے، عراقیوں نے پل سابلہ پر سے جو حملہ کیا تھا، اگر وہ بستان اور سوسنگرد کے درمیان گھیر لیتے، ہم اُس فتح العظیم یا فتح المبین  کو اتنی جلدی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ ہمیں وہاں بھیجا گیا۔ محور کی ذمہ داری کمانڈر  محمد نورانی کے کندھوں پر تھی  اور تین دن بعد اُنہیں مار دیا گیا۔ شہید رضا موسوی نے مجھے بلایا اور محور میرے حوالے کردیا۔ ہمارے فوجیوں کو آپریشن والے علاقے میں رہتے ہوئے دو مہینے سے زیادہ ہوگئے تھے۔ کچھ افراد تھک گئے تھے اور احتمال تھا کہ دشمن اُس جگہ دوبارہ حملہ کردے۔ اُس زمانے میں فوجی بھی زیادہ نہیں تھے۔ ایک دن ہم سے کہا گیا کہ آپ کو کمانڈر کے ٹیکنیکی ہیڈکوارٹرجانا چاہیے۔ وہ ہم سے کچھ فاصلہ پر تھا۔ جو افراد اعتراض کر رہے تھے میں اُن میں سے ایک کو،  دوسرے اعتراض کرنے والوں کی نمائندگی میں ہیڈکوارٹرلے گیا۔ ہم نے دیکھا وہاں پر صرف شہید صیاد شیرازی اور کمانڈر محسن رضائی ہیں۔ میں نے اپنا اور اپنے دوست کا تعارف کروایا۔ وہ دو افراد ہم سے اُس محور کو نہ چھوڑنے کی التجا کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ہم کچھ دوستوں کے ساتھ محور میں ہیں، آپ میرے اس بھائی کو قائل کردیں۔ اُنھوں نے اسے راضی کرنے کیلئے آدھا گھنٹہ صرف کیا۔ اس طرح نہیں تھا کہ حکم چلائیں اور فوجی حکم دیں۔ اس بات سے میرا دوست قائل ہوگیا اور وہ محور میں رہے۔ ہم واپس آنا چاہتے تھے کہ اچانک اُن میں سے ایک نے میرے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا اور اُسے چوم لیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ شہید صیاد شیرازی تھے۔ اللہ اکبر اس انسان میں اتنی بڑائی اورعظمت ہے کہ اُس نے اپنے آپ کو اس حد تک بھلا دیا ہے  اور خدا کی ذات میں گم ہوگیا ہے ، اگر اس کے علاوہ ہوتا تو اُن میں فوج کو چلانے کی صلاحیت نہ ہوتی۔"

 

خرم شہر میں مقاومت کا تجربہ

جناب موسوی نے کہا: "سن ۱۹۷۹ میں صدامی افواج کے سپاہی واقعاً اپنے گندے جوتوں کے ساتھ ہماری گردنوں کو دبانے آئے تھے۔ بہت سے ممالک نے سنگین طریقے  سے ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا ہے ۔ ہمارا ملک جغرافیائی ، سیاسی اور معاشی اعتبار سے ایک اہم اور اسٹراٹیجک جگہ  پر تھا اور یہ لوگ ہماری تمام قیمتی چیزوں کو چاہے وہ ہمارے مذہبی عقائد ، ثقافت، ناموس اور سرزمین ہو، اپنا بنانا چاہے تھے۔ نوجوان اور جوان اس تجاوز کے سامنے ڈٹ گئے۔ میں اٹھارہ سال کا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا مقاومت کے ایک بڑے نام احمد شوش نے اپنا سر قربان کردیا۔ میں نے جاکر اُن کے پیکر کو  گاڑی میں رکھا۔میں ۱۸ سال کا تھا جب عراقیوں نے خرم شہر میں جدوجہد کرنے والے ایک کمانڈر علی ہاشمی  کے سر کو ٹینک کے ذریعے کچل دیا۔ میں سید ابراہیم علامہ، رضا کریم پور، محسن شمشیری اور جمشید پناہی کی شہادت کا عینی شاہد ہوں۔  یہ سب میرے ہم عمر یا مجھ سے چھوٹے ہوں گے۔ میں ۱۸ سال کا تھا جب میں نے پرویز علی عرب کو بغیر سر کے بھاگتے ہوئے دیکھا؛ ٹینک کا گولہ لگنا سے ان کا مغز سیدھا میرے چہرے پر آکر لگا۔ وہاں میرے سر میں بھی ایک ٹکڑا لگا۔ میں ۱۳ سالہ بہنام محمدی کی شہادت کا گواہ ہوں کہ اگر وہ میرے پیچھے نہ کھڑے ہوتے اور ان کے دل اور چہرے پر وہ ٹکڑے نہ لگے ہوتے، تو وہ ٹکڑے میرے نصیب میں آنے تھے۔ میں اُن سالوں میں شیخ شریف  کی شہادت کا گواہ ہوں، ایک ایسے مولانا جو میرے لئے شیعوں کی علامت تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ۴۰ میٹر والی سڑک پر مولانا صاحب کے سر پر گولیاں برسائی  گئیں اور اُن کا جبڑا الگ ہوگیا تھا۔ اُن کے عمامہ کو اُن کے گردن کے گرد لپیٹ کر اُن کے بدن کو گھمایا گیا اور انھوں نے بلند آواز سے کہا: "ہم نے ایک خمینی کو مار دیا!"میں خرم شہر کی جوان اور نوجوان لڑکیوں کے جدوجہد کرنے کا گواہ ہوں کہ شہداء میں اُن کی عظمت کی نشانی، شہناز محمدی اور شہناز حاجی شاہ تھیں۔ ہم شہید محمد جہان آراء کے حکم پر اسلحہ کے زور پر اُنہیں شہر سے باہر لے گئے تھے۔

شہر ویران تھے اور گھرانے پریشان تھے۔ ہمیں اپنے گھر والوں کی کوئی خبر نہیں تھی۔ شہر پر قبضہ ہوچکا تھا اور ہم زخمی تھے۔ میں پانچ جگہ سے زخمی تھا۔ ہم دن رات میں مسلسل جوتے پہنے رہتے تھے، جب میں نے چاہا کے اُنہیں اُتاروں تو جوتے کی زبان کے ساتھ میرے پیر کا گوشت بھی نکل آیا۔ خرم شہر کی مقاومت کی خوبصورتی اس میں تھی کہ ہر شخص مقاومت کر رہا تھا، یا عوامی فورس باغی تھی یا فوج کی فورس باغی تھی، کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سب سے پہلے کمانڈر، ابو الحسن بنی صدر نے ہم سے خیانت کی۔ اُس کی خیانت کی وجہ سے ۱۳ سالہ بہنام نے کھڑے ہوکر جدوجہد میں حصہ لیا، اُس کی خیانت کی وجہ سے فوج اور سپاہ کا اختلاف کچھ عرصہ تک جاری رہا، بنی صدر کی خیانت کی وجہ سے شہر مقاومت نہیں کرسکا اور جدوجہد کرنے والا آخری آدمی شہید امیر رفیعی ہے کہ جس کے وجود کا کوئی اثر باقی نہیں ملا۔ شہر پر قبضہ ہوگیا اور جہان آرا نے ہمیں پکار کر کہا: صالی کیا تم جنت جانا چاہتے ہو؟ شہر پر قبضہ ہوئے تقریباً دو ہفتے گزر چکے تھے اور ابھی تک عراقیوں نے جگہ نہیں سنبھالی تھی۔ مجھے ہنسی آگئی اور میں نے کہا: کہاں؟ کیسے؟ انھوں نے کہا: جاؤ رضا دشتی اور دوسرے افراد کو بلاکر لاؤ۔ میں لوگوں کو لیکر آیا۔ جہان آرا نے کہا: آپ لوگوں کی ڈیوٹی یہ ہے کہ شہر میں جاکر عراقیوں کی وضعیت سے آگاہی حاصل کریں۔ ہمارا فاصلہ ایک نہر تھی جس میں ۳۰۰ میٹر سے زیادہ موجیں اٹھاتا ٹھنڈا پانی تھا۔ ہمیں کسی آسان راستے کو ڈھونڈنا تھا۔ ایسا کام جس کا ہمیں کوئی تجربہ نہیں تھا اور ہم نے اُس کی ٹریننگ بھی نہیں لی تھی۔ کچھ وسائل بھی نہیں تھے۔ بس ہمیں پانی میں اُتر کر اُس پار جانا تھا۔ ہمارے پاس اورکت کیمرے، وائر لیس اور حتی ٹارچ بھی نہیں تھی۔ ہمارے پاس غذا اور اسلحہ نہیں تھا۔ رضا دشتی جیسا کہ وہ جنوب کا رہنے والا تھا، اُس نے ایک تختہ اٹھالیا تھا،  اس نے اُس کے چاروں طرف سوراخ کرکے اُس میں ٹیوب لگا دی تھی۔ یہ ہماری ٹیکنک تھی۔ ہمیں ایک رسی باندھنی چاہیے تھی اور رسی باندھنا بھی ایک درد سر تھا۔ ہمیں رسی کو لیکر پانی میں اترنا چاہیے تھا اور اُسے دوسری طرف لے جاکر وہاں وصل کرنا تھا۔ وہ واحد شخص جو رسی کو باندھ سکا وہ ناجی شری زادہ تھا، وہ بھی اس وجہ سے کہ اُس کے شانے بہت مضبوط تھے۔ وہ پیٹ تک پانی کے اوپر آکر تیرتا تھا۔ سب سے پہلی دفعہ علاقے سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے ہم تین گروہ گئے۔ رضا دشتی جوہری توانائی کا قابل طالب علم تھا۔ اُس نے یہ کام شروع کیا اور ہم اُس کے ساتھ تھے۔ ہمارے پاس پٹرول والا ایک لائٹر تھاجو ہم اپنے ساتھ لے گئے تاکہ جب پہنچ جائیں تو اس کو جلا کر سمجھائیں کہ ہم پہنچ گئے ہیں۔ جب میں نے اُسے جلایا تو دیکھا اُس میں سے تو بہت زیادہ روشنی نکل رہی ہے۔ واپس آتے ہوئے ہم رضا کو پوزیشن پر چھوڑ آئے تھے۔ میں نے اُس سے بات کی اور اُس سے پوچھا کہ علاقے کے بارے میں معلومات کا کیا ہوا؟ اُس نے کہا ساری معلومات ناجی شری زادہ کے پاس ہیں۔ رضا کا خون میرے انگلیوں سے گزرتا ہوں نہر میں گرا اور نہر کو پاک کرگیا۔ ہم نے اس طرح شہید نچھاور کئے ہیں کہ اُس عظمت کے ساتھ بیت المقد س آپریشن انجام پایا۔ ہم نے مقاومت کو خون کے ساتھ تجربہ کیا ہے اور کوئی چیز بھی خدا کی حمایت اور پھر ہمارے عظیم لوگوں  کی طرح اثر گزار نہیں تھی۔

دفاع مقدس کے سلسلے میں یادوں بھری رات کا 2۹۰ واں پروگرام، ثقافتی تحقیق، مطالعات اور پائیدار ادب کے مرکز اور ادبی و مزاحمتی فن کے مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام،۲۶ اپریل ۲۰۱8ء کو  آرٹ گیلری کے سورہ آڈیٹوریم  میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام ۲۴ مئی کو ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 345


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں