دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن نجمہ جمارانی سے گفتگو

فدائیان اسلام اور آبادان کا محاصرا ہونے والے دنوں کے واقعات

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-04-24


آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران امدادی کاروائیوں میں شرکت کرنے والی سرگرم اور جوان لڑکیوں میں سے ایک نجمہ جمارانی ہیں  جو عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے پہلے سال سے  اُس کے آخری سالوں تک اجتماعی، ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جنگ کے مختلف علاقوں میں امدادی کاروائیوں اور تہران کے ہسپتالوں میں مصروف رہی ہیں۔ آبادان کے محاصرے کے وقت اُن کا وہاں ہونا اور اُن کی فدائیان اسلام گروپ سے واقفیت اس بات کا سبب بنی  کہ ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کا صحافی اُن  تک پہنچے  اور اُن سے بیٹھ کر اُن سالوں کےواقعات کے بارے میں گفتگو کرے۔

 

آپ نے کس زمانے میں تہران سے آبادان جاکر امدادی کاروائیوں میں شرکت کرنے کا  فیصلہ کیا؟

جنگ شروع ہوئے کچھ مہینے گزر چکے تھے  کہ میں اور میری دوست تہمینہ اردکانی – کہ ہم دونوں کی جہاد سا زندگی کے ادارے میں جان پہچان ہوئی تھی – نے فیصلہ کیا کہ امدادی کاروائیوں میں حصہ لینے اور رپورٹ تیار کرنے کیلئے آبادان چلتے ہیں۔

 

آپ نے اتنے سارے جنگی علاقوں میں سے آبادان کا  انتخاب کیوں کیا؟

آبادان محاصرے میں تھا  اور ہم نے سن رکھا تھا کہ وہاں پر کھانے پینے کی اشیاء، امدادی کارکنوں اور نرسوں کی کمی ہے۔ جیسا کہ ہم لوگوں امدادی کارکن بھی تھے اور ہمیں اسلحہ چلانا بھی آتا تھا، ہم نے فیصلہ کیا کہ وہاں جایا جائے۔

 

اس بات کے مدنظر کہ آبادان محاصرے میں تھا آپ لوگ آسانی سے جاسکے؟

نہیں،  کسی صورت میں ہمارے جانے پر راضی نہیں تھے۔ وہ لوگ کہتے : "شہر تو محاصرے میں ہے، آپ لوگ کہاں جانا چاہتے ہیں؟" بالآخر تہمینہ کے بھائی کے ذریعہ ہمارے جانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ ہم نے سن ۱۹۸۰ء کی سردیوں کے آغاز میں جانے کیلئے فوج سے حکم نامہ حاصل کیا تاکہ سی ۱۳۰ طیارے کے ذریعے جاسکیں۔ ہم ہوائی جہاز کے ذریعے ماہ شہر تک گئے۔ ہمیں اپنے ساتھ لے جانے کیلئے فوج کی طرف سے بہت زیادہ تبلیغاتی پلے کارڈ ملے تھے جس پر احادیث اور امام خمینی ؒکے جملے لکھے ہوئے تھے۔ وہاں سے ہم ہیلی کاپٹر پر سوار ہوئے اور چوئبدہ نامی گاؤں  پہنچے پھر وہاں سے فوج کی ریو گاڑی پر سوار ہوکر پٹرول کمپنی کے ہسپتال کی طرف گامزن ہوئے۔

 

آبادان شہر کے حالات کیسے تھے؟

شہر میں بہت سناٹا تھا۔  وہاں کے شہری بہت کم دکھائی دے رہے تھے۔ بہت سے گھروں کے سامنے مورچے بنے ہوئے تھے ۔ شہر میں فوجی گاڑیاں اِدھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھیں اور وہ لوگ حیرت سے مجھے اور تہمینہ کو دیکھ رہے تھے۔ تہمینہ جن مناظر کو دیکھتی اُن کی تصویریں بنالیتی۔  بمب دھماکوں اور گولی برسنے کی آواز کے علاوہ کوئی دوسری آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ہسپتال پہنچ کر ہم لوگ گاڑیوں سے نیچے اُترے۔ عراقیوں نے ہسپتال پر حملہ کیا ہوا تھا، آپریشن تھیٹر میں موجود ڈاکٹر اور زخمی افراد شہید ہوچکے تھے۔ حالات بہت خراب تھے۔ انھوں نے کہا ہم ایسے حالات میں کسی کارکن کی بھرتی نہیں کریں گے۔ وہاں پر موجود ایک صاحب نے کہا: "آئیے میں آپ لوگوں کو طالقانی ہسپتال تک لے جاتا ہوں۔" ہم ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر شاہ حسینی سے ملنے گئے۔ ڈاکٹر شاہ حسینی نے ہمارے سابقہ کام کے بارے میں پوچھا، ہم نے ہلال احمر کی ٹرین میں اپنے سابقہ سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت پیش کی اور کہا کہ ہمیں سارے کام آتے ہیں، ٹانکے لگانا، پٹی کرنا، مریضوں کو دوائی دینا۔ ہم جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ہلال احمر کی ٹرین میں جنوب کے علاقہ میں رضاکارانہ طور پر گئے تھے۔ ہم نے اُس ٹرین کے ساتھ اتنا آنا جانا کیا کہ ہمیں اُس کا مستقل رکن سمجھا جانے لگا۔ ڈاکٹر صاحب بہت خوش ہوئے اور پوچھا:"کیا آپ لوگ تیار ہیں کہ ایمرجنسی وارڈ میں اپنے کام کو شروع کریں؟" ہم نے کہا ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا جہاں ضرورت ہوگی، ہم  کام کریں گے۔ 

 

ہسپتال کی کیا حالت تھی؟

آبادان اور خرم شہر کے کچھ رہنے والے  عام لوگ وہاں کام کر رہے تھے جو جوانی کے جوش و جذبہ کے تحت آئے تھے اور انہیں زیادہ کام بھی نہیں آتا تھا۔ ہسپتال میں خون کی بوتلوں کی کمی بہت زیادہ تھی۔ میں اور تہمینہ شہر میں موجود چھاؤنیوں میں جاتے اور  جو بھی دلچسپی رکھتا اُس سے خون لےلیتے۔ وہاں پر رہنے والے ایسے لوگ جنہیں خون دینے کے بارے میں کم معلومات تھیں وہ بہت مشکل سے اس کام کیلئے تیار ہوتے اور کہتے : "میرے اندر خود خون نہیں ہے میں کیسے خون دوں؟!"

 

ہسپتال کے حالات آپ کیلئے قابل برداشت تھے؟

حالات تھوڑے سے سخت تھے۔ زیادہ تر جو کھانا بنایا جاتا تھا وہ ملکہ مسور کی دال ہوتی تھی جس میں تیز مصالحہ ڈالا جاتا تھا۔ تیز مصالحہ خون بہنے والے مریضوں کیلئے نقصان دہ تھا چونکہ مرچیں خون کو پتلا کرتی ہیں جس سے خون زیادہ بہتا ہے۔ دن میں دو گھنٹے ہماری چھٹی ہوتی تھی۔ ہسپتال میں رفت و آمد کرنے والا، خرم شہر کا ایک بہت ہی اچھا اور شریف لڑکا تھا جس کا نام محمد رضا ہمہ وند تھا، ہم نے اُس سے درخواست کی کہ وہ ہمیں مینو جزیرہ لے جائے تاکہ ہم وہاں پر موجود سپاہیوں سے انٹرویو لے سکیں۔ وہاں پر ہمیں پتہ چلا کہ بہت ساری کھجوروں کو توڑ کر اُنہیں چھوٹی کشتیوں میں رکھا  گیا ہے لیکن اُن کے مالکان جنگی حالات کی وجہ سے اُنہیں بیچ نہیں سکے ہیں۔ ہم نے پوچھا: "کیا ان کھجوروں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟" انھوں نے کہا: ہاں۔ اگر یہ یہاں پڑی رہیں یا تو خراب ہوجائیں گی یا  اگر کوئی شیل آکر لگا تو سرے سے ہی ختم ہو جائیں گی۔" ہم جب بھی وہاں جاتے جتنا ہوسکتا تھا ہسپتال میں موجود زخمیوں کیلئے کھجوریں لے آتے تھے۔ اُس زمانے میں طور و اطوار فرق کرتے تھے اس طرح نہیں تھا کہ ہر کوئی یہ کہہ دے کہ میرا کام مشخص ہے۔ جس سے جو کام ہوسکتا تھا وہ انجام دیتا تھا۔

 

بیرونی دشمن جو ہم سے کھل کر اور باقاعدہ طور پر جنگ کر رہا تھا اس کے علاوہ اندر سے پانچواں ستون بھی مخفی کاروائیاں کرتا تھا۔ اُن میں سے بعض لوگوں نے ہسپتالوں میں نفوذ کر لیا تھا اور کام کو خراب کر رہے تھے۔ آپ نے طالقانی ہسپتال  میں اپنی ڈیوٹی کی مدت میں ان افراد میں  سے کسی کو دیکھا تھا؟

ہاں۔ ایک خاتون ہسپتال کے کسی حصے کی انچارج تھی جو پردے کا خیال نہیں رکھتی تھی۔ بغیر پردے کے وارڈ میں آجاتی تھی اور زخمیوں کے ساتھ بہت ہی بد اخلاقی سے پیش آتی۔ ایک دفعہ ایک زخمی کو لایا گیا، جس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ ہمیں اُس کے پیروں کے نیچے تکیہ رکھنا تھا لیکن نہیں تھا۔ ہم نے جتنا اصرار کیا کہ ہمیں تکیے کی ضرورت ہے وہ کہتی: "نہیں ہے!" میں نے کہا: "مجھے کچھ دنوں پہلے تکیہ چاہیے تھا اور تمہارے پاس تھا؛ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اس وقت نہیں ہو؟" ہم نے ڈاکٹر شاہ حسینی سے کہا: "ہمیں اس خاتون پر شک ہے! آپ اُسے نظر میں رکھیں اور کسی کو اُس پر نظریں رکھنے کیلئے مقرر کریں! " انھوں نے کچھ دنوں کیلئے کسی شخص کو مقرر کردیا جو اُس پر نظریں رکھے اور بالآخر ہم نے جو اندازہ لگایا تھا وہ بالکل صحیح ثابت ہو اور اُسے گرفتار کرلیا گیا۔  مشخص ہوگیا کہ اُس کا انقلاب مخالف گروپس سے رابطہ ہے۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے اُس نے اپنے کنٹرول میں موجود کمرے کے اندر تقریباً سو سے لیکر ایک سو پچاس کمبل اور تکیہ جمع کئے ہوئے تھے اور وارڈ والوں کو نہیں دیتی تھی! بعد میں ہونے والی تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ چار بہنیں تھیں جن کا انقلاب سے پہلے امریکی انجینئرز کے ساتھ رابطہ تھا! ہمارے ساتھ کام کرنے والی ایک اور خاتون جس نے اپنے شوہر اور بچوں کو ماہ شہر بھیج دیا تھا اُس کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا۔ ایک دن اُس نے مجھ سے اور تہمینہ سے کہا: "میں اپنے گھر کا ایک چکر لگا کر آنا چاہتی ہوں کیا تم دونوں بھی میرے ساتھ چلو گی؟" ہم نے کہا: "ہاں" اور اُس کے ساتھ چلے گئے۔ ہمیں ایک گھر کے دروازے تک لے گئی۔ اُس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہوگئی اور کچھ منٹوں بعد واپس آئی۔ اُس کا رویہ بدلا ہوا تھا۔ ریڈیو کی طرح کی کوئی چیز جو ریڈیو نہیں تھی اُس کے ہاتھ میں تھی۔ ہم نے ہسپتال کے انچارج کو بتایا۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ وہ بھی دشمن کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور اُن کیلئے اطلاعات لے جاتی تھی اور اُس دن اپنے کام کو چھپانے کیلئے ہمیں اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ اُس زمانے میں ہمیں بہت سے لوگوں پر شک ہوتا تھا۔ ایک دفعہ ہم آبادان کی طرف سفر کر رہے تھے، ماہ شہر میں ایک جوان لڑکی میرے اور تہمینہ کے پیچھے لگ گئی۔ ہم جہاں بھی جاتے وہ ہمارے پیچھے آتی۔ اُس کا کسی سیاسی گروپ سے تعلق تھا۔ ہمارے ساتھ ہسپتال میں بھی آئی لیکن اُسے امدادی کام کرنا نہیں آتا تھا۔ ہم نے ہسپتال کے انچارج کو بتایا یہ لڑکی ہمارے ساتھ نہیں ہے اور ہم اُسے نہیں جانتے۔ چند دنوں کے بعد وہ غائب ہوگئی!

 

طالقانی ہسپتال کے زخمیوں اور شہداء کے بارے میں آپ کو کوئی واقعہ یاد ہے؟

ہاں، واقعات تو بہت زیادہ ہیں۔ ایک دن فوج کے کسی بڑے عہدیدار کو بہت سارے سپاہی ایک ساتھ مل کر ہسپتال لا رہے تھے۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں کو دو سپاہیوں کی گردن میں ڈالا ہوا تھا  اور جھولتے ہوئے آرہے تھے۔ اُن کا پیر کسی ضعیف سی ڈوری جیسے جوتے کے بند سے بندھا ہوا تھا، لیکن وہ کسی صورت میں بھی واویلا نہیں کر رہے تھے۔ جب اُنہیں ایمرجنسی وارڈ کے بیڈ پر لٹا دیا گیا تو میں نے اُن سے پوچھا: "آپ کیسے ہیں؟" انھوں نے کہا: "اس سے پہلے کہ میں کسی کمزوری کا اظہار کروں مجھے بیہوش کردو۔" اُن کے سپاہی بہت بے چین ہو رہے تھے اور کہہ رہے تھے وہ ہمارے والد کی طرح ہیں۔جب اُن کا آپریشن ہوگیا اور وہ ہوش میں آگئے، میں اُن کے پاس گئی اور اُن سے پوچھا: "آپ اتنا درد ہونے کے باوجود آہ و بکا کیوں نہیں کر رہے تھے؟" انھوں جواب دیا:  "ان میں سے کچھ سپاہی میرے ماتحت ہیں، ان کے حوصلے کمزور نہیں ہونے چاہیے۔" زخمیوں کو ایک دو دنوں تک طالقانی ہسپتال میں رکھا جاتا اور پھر دوسرے شہروں میں بھیج دیا جاتا تھا۔ انھوں نے دوسرے شہر جانے سے انکار کردیا اور کہا: "آپ لوگ مجھے تہران نہ بھیجیں میں یہیں رہ کر خدمت کرنا چاہتا ہوں۔"

 

کیا شہید اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق صرف فوج سے تھے؟

نہیں۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دن ایک جوان عورت کو ہسپتال میں لایا گیا جس کا سر الگ ہوچکا تھا اور وہ شہید ہوگئی تھی۔ اُس کی عمر تقریباً سترہ سال تھی اور عربوں میں سے تھی۔ اُس کے اوپر تلے کے تین بچے تھے۔  ایک سالہ، دو سالہ اور تین سالہ۔ اُس کا شوہر ستر سال کا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سپاہ کے افراد، اُس کے شوہر کو راضی کرنے کیلئے کئی بار نخلستان میں گئے تھے  کہ شہر میں آجاؤ اور کسی امن کی جگہ پر زندگی بسر کرو، لیکن وہ نہیں مانا۔ میں نے اور تہمینہ نے بہت کوشش کی کہ اُس بچوں کو لیکر کسی امن کی جگہ پہنچا دیا جائے، لیکن اُن کے والد نے اجازت نہیں دی۔ ایک دفعہ ایک ادھیڑ عمر شخص کو لائے جو شہید ہوچکا تھا۔ اُس کی عمر تقریباً بیالیس یا تینتالیس سال ہوگی۔ اُس کے  جسم کا اوپر والا آدھا حصہ باقی رہ گیا تھا اور اُس کی آنتیں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔ میونسپلٹی کا کارکن تھا۔ جب میں نے اُس کی جیب میں ہاتھ ڈالا، اُس کے چند مہینوں کی تنخواہ بارہ ہزار تومان، ایک دستخط شدہ کاغذ کے  ساتھ اُس کی جیب میں تھے۔ وہ ماہ شہر میں ساکن اپنے گھر والوں کو بھیجنے کیلئے اپنی تنخواہ لے چکا تھا۔

 

آپ کس زمانے تک طالقانی ہسپتال میں کام کرتی رہیں؟

ہم تقریباً تین مہینے تک وہاں رہے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ ہسپتال کے اطراف میں دن میں دو یا تین بار حملہ ہوتا تھا۔

 

آپ لوگ تہران واپس آگئے؟

نہیں۔ ہم فدائیان اسلام گروپ میں شامل ہوگئے۔

 

آپ لوگ فدائیان اسلام گروپ سے کیسے واقف ہوئیں؟

ہم اس گروپ سے جناب ہمہ وند کے ذریعہ واقف ہوئے۔ ہم لوگ فدائیان اسلام کے ہیڈ کوارٹر گئے اور ہم نے کہا کہ ہم لوگ فرنٹ لائن پر جانا چاہتے ہیں۔ ہم نے اُن سے کہا کہ ہمیں امدادی کام کرنا آتا ہے، ہم فلمیں اور تصاویر بنانا چاہتے ہیں۔ میں اور تہمینہ سینما کی فیلڈ میں پڑھائی کر رہے تھے۔ یونیورسٹی میں ثقافتی انقلاب آیا اور وہ بند ہوگئی تھی۔

 

آپ نے اُن کے کمانڈر سید مجتبیٰ ہاشمی کو بھی دیکھا؟

ہاں؛ اُسی رات جب تہران سے خبر آئی تھی [ابو الحسن] بنی صدر [اُس وقت کا صدر] نے تہران یونیورسٹی میں بہت سخت تقریر کی ہے اور وہاں بنی صدر کے چاہنے والوں اور  شہید [آیت اللہ سید محمد حسینی] بہشتی کے چاہنے والوں میں جھڑپ ہوگئی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی ہر کوئی سٹپٹا گیا۔ بعض لوگوں نے کہا ہم اپنے اسلحوں کو زمین پر رکھتے ہیں پہلے تہران جاکر بنی صدر کا کام تمام کریں گے پھر واپس آکر عراقیوں سے جنگ کریں گے۔ مجھے یاد پڑتا ہے شہید سید مجتبیٰ ہاشمی اور شہید علی اصغر شعلہ ور نے لوگوں کے سامنے تقریر کی اور اُن لوگوں سے پرسکون رہنے کی  درخواست کی۔ شہید ہاشمی نے کہا: "اگر ہم نے یہ جگہ چھوڑ دی تو عراقی یہاں آجائیں گے اور پھر آہستہ آہستہ تہران پر بھی قبضہ کرلیں گے۔ ہمیں صبور و بردبار ہونا چاہیے اور تہران کو وہاں کے انقلابی  سپاہیوں کے سپرد کردیں۔"

 

فدائیان اسلام گروپ کون سے محاذ پر ٹھہرا ہوا تھا؟

ذوالفقاری محاذ پر۔

 

آپ لوگ طالقانی ہسپتال میں زیادہ امنیت  ہونے کے باوجود کام چھوڑ کر ذوالفقاری محاذ پر کیوں آگئے ؟

ہسپتال میں کام کرنے والے لوگ بہت تھے۔ امدادی کارکنوں نے بھی آہستہ آہستہ کام سیکھا لیا تھا۔ ہمارا دل چاہتا تھا کہ ہم جنگی محاذ کے قریب ہوں کہ اگرکوئی آپریشن ہو تو ہم  وہاں پر ہوں۔ تہمینہ امدادی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ صحافت کا کام بھی کرتی تھی اور وہ بہترین رپورٹس تیار کرنا چاہتی تھی۔ ہم اس سے پہلے کوت شیخ بھی گئے تھے۔ کوت شیخ، خرم شہر کا ایک ایسا حصہ ہے کہ جس کے اس طرف ایک نہر تھی اور عراقی اُس کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکے تھے۔ ہم نے دیکھا ہوا تھا کہ ہمارے فوجیوں نے اُس جگہ پر آسانی سے حرکت کرنے کیلئے جو عراقی فائرنگ کی رینج میں تھی، گھروں میں سوراخ کئے ہوئے تھے تاکہ اُن کے پاس ایک مستقل راستہ  ہو۔ ہم نے کبھی اِدھر چکر لگایا کبھی اُدھر چکر لگایا یہاں تک کہ جناب ہمہ وند مل گئے اور انھوں نے ہمیں فدائیان اسلام سے واقف کروادیا۔ اُن کا ہیڈ کوارٹر پرشین ہوٹل میں تھا۔ وہاں پر گروپ والوں کیلئے کھانا تیار ہوتا اور وہاں سے محاذ پر بھیجا جاتا۔ تہران سے آنے والے افراد کی پہلے وہاں جانچ پڑتال ہوتی پھر اُنہیں مختلف علاقوں میں بھیجا جاتا۔ ہسپتال میں جیسے ہی ہمارا کام ختم ہوا ہم ایک گاڑی کے ذریعہ ذوالفقاری کی طرف روانہ ہوگئے۔ ہمارا ڈرائیور ہمیں ایسی جگہ لے گیا جہاں بالکل ہمارے قریب سے گولیاں گزر رہی تھیں۔ ہمیں مجبوراً رکنا پڑا۔ دو آذری بولنے والے برادران تھے جنہوں نے پٹرول کمپنی کے پائپوں کے نیچے پناہ لی ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا: "فوراً گاڑی سے اُتر جائیں! " ہم گاڑی سے اُتر گئے۔ انھوں نے گاڑی کو دھکا لگا کر ایک کونے میں پارک کردیا۔ انھوں نے ہم سے پوچھا: "آپ لوگ یہاں کیا کر رہی ہیں؟" ہم نے کہا: "ہم ذوالفقاری جا رہے ہیں! " انھوں نے کہا: "آپ لوگ غلط آگئے ہیں! اپنا سر اٹھا کر دیکھیں آپ لوگ بالکل عراقیوں کی فائرنگ رینج میں ہیں۔ عراقی ہم سے دوسو میٹر سے بھی کم فاصلہ پر موجود ہیں!"

 

آپ لوگ ذوالفقاری میں کیا کام انجام دیتے تھے؟

امدادی کام، خبریں بنانا اور تصویریں کھینچنا، حتی ہم لوگوں نے مردوں کے ساتھ مل کر مورچے بھی کھودے ہیں اور راتوں کو ڈیوٹی بھی دی ہے۔ تہمینہ نے بہت زیادہ تصویریں کھینچی اور وڈیو بنائی۔

 

تہمینہ اردکانی کون سے اخبار کیلئے یہ تصاویر کھینچتی تھیں؟

مجھے یاد نہیں، لیکن اُس کا بھائی عباس جہاد سازندگی ادارے میں کام کرتا تھا اور زیادہ تر تصویروں کو ادارے کے ذریعے  مختلف نمائش گاہوں میں دکھایا جاتا تھا۔

 

وہاں پر صرف آپ دو خواتین تھیں؟

ہاں؛ کبھی کبھار خرم شہر کی ایک جوان لڑکی آتی جس کا نام خواہر دریا تھا، جس نے بعد میں فدائیان اسلام کے ایک کارکن سے شادی کرلی۔

 

آپ ذوالفقاری محاذ پر کہاں رہتی تھیں؟

وہاں پر سب لوگ مورچوں میں رہتے تھے۔میں اور تہمینہ بھی ایک مورچے میں تھے۔ ہم وہاں نماز پڑھتے اور آرام کیا کرتے۔  جب فضا پرسکون ہوتی اور فائرنگ کا نام و نشان نہیں ہوتا  تو شہید سید مجتبیٰ ہاشمی با جماعت نماز پڑھاتے اور ہم اُن کی اقتدا میں نماز پڑھتے۔

 

وہ کس طرح کے کمانڈر تھے؟

بہت منظم انسان تھے۔ وہ چیتے والا لباس پہنتے اور ٹوپی کو ٹیڑھا کرکے پہنتے تھے۔ بہت عظمت والے تھے۔ اُن کا اپنے فوجیوں کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا اس کے باوجود وہ لوگ ان سے مرعوب بھی رہتے تھے ۔وہ ضروری موقعوں کے علاوہ جنگی علاقوں کو ترک نہیں کرتے تھے۔ اگر کسی رات وہ فدائیان اسلام کے ہیڈ کوارٹر جاتے، فوراً علاقے میں واپس آجاتے۔ مجھے اور تہمینہ کو خواہر کہہ کر بلاتے تھے۔

 

وہاں کے حالات کیسے تھے؟

بعض لوگ سوچتے ہیں کہ محاذ پر وسائل موجود تھے اور کوئی مشکل نہیں تھی!سرحدی لائن پر جنگی وسائل روزانہ گن کر دیئے جاتے تھے۔ ہمیں اسلحہ کی کمی کا سامنا تھا۔ کبھی آر پی جی سے فائر کرنے کیلئے تین سے چار گولیاں سہمیہ  کے طور پر دیتے۔ جبکہ دشمن پچاس میٹر کے فاصلے سے پے در پے فائرنگ کر تا تھا۔ بنی صدر ضروری وسائل نہیں پہنچا رہا تھا۔ ضرورت کے مطابق گولیاں نہیں دی جاتیں۔ جب دشمن کی طرف سے جنگ بہت شدت اختیار کر جاتی تو کسی صورت میں کھانا لانے کا امکان نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے پیٹ کو ایک بسکٹ سے بھرنا ہوتا تھا۔ یہ اُن لوگوں کیلئے کچھ بھی نہیں تھا جن کا کام سخت تھا اور جنہیں مورچے بنانے ہوتے تھے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ کھانے میں، لوگوں کی طرف سے ہدیہ کے طور پر آئے ہوئے پیکٹ ہوتے تھے۔ ایک دفعہ  ہیڈکوارٹر سے پانچ دنوں تک سرحدی لائن پر کھانا نہیں آیا۔ کچھ دنوں بعد ایک پتیلی میں چاول اور لوبیا سبزی کا سالن آیا جو بالکل ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ ہر کسی کے نصیب میں دو چمچے آئے؛ لیکن میرا اور تہمینہ کا کھانا بہت زیادہ ہوتا تھا۔ ہم نے اس کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا برادران میں سے کچھ لوگ اپنا حصہ دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں: "ہمارے کھانا ہماری بہنوں کیلئے لے جاؤ۔ ان لوگوں میں ہم سے کم قوت ہوتی ہے۔"صاف پانی پینے کیلئے ہمیں دشواری کا سامنا تھا۔ ایک دفعہ مجھے اور تہمینہ کو پیاس لگ رہی تھی، ہم نے ایک ڈبے سے پانی نکالا اور پی گئے۔ ہمیں پانی کا مزہ نہیں آیا۔ ہم نے بھائیوں سے پوچھا: "پانی کا ذائقہ کیوں بدل گیا ہے؟" انھوں نے کہا: "یہ تو پانی نہیں ہے! لالٹین کا پٹرول ہے!" پٹرول کی بو شدید گرمی کی وجہ سے اڑ چکی تھی!بھائیوں نے اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کرکے تھوڑا سا لیموں کا عرق ڈھونڈا اور ہمیں دیا تاکہ پٹرول کا اثر ختم ہوجائے۔ وہاں ہر وقت مسلح رہنا پڑتا تھا تاکہ اگر کوئی حملہ ہو تو ہم اپنا دفاع کرسکیں۔ میں نے انقلاب سے پہلے اسلحہ چلانا سیکھا ہوا تھا۔

 

آپ لوگ صفائی کیلئے کیا کرتی تھیں؟

واش روم کیلئے ایک بہت بڑا گڑھا کھودا ہوا تھا کہ انسان کو ڈر ہی لگتا رہتا کہ کہیں اُس میں گر نہ جائے۔ اُس کے اطراف کو لوہے کے کچھ ٹکڑوں سے چھپایا ہوا تھا۔ چھت نہیں تھی اور ہمیں وہاں لوٹا استعمال کرنا پڑتا تھا۔ جب ہم واش روم جانا چاہتے تھے تو ہمیں بہت ڈر لگتا تھا کہیں کوئی میزائل آکر وہاں نہ لگ جائے۔ نہانے کیلئے ہفتہ میں ایک دفعہ شہر جاتے تھے۔ شہر میں ایک حمام تھا جو ریکس سینما کے قریب تھا۔ حمام میں ہمیشہ شور و غوغا رہتا تھا۔ ہر کسی کو دھونے دھلانے کیلئے کم ہی وقت ملتا تھا۔

 

جتنے عرصے تک آپ آبادان میں تھیں بنی صدر وہاں نہیں آیا؟

ایک دن کہا گیا اپنے حلیےکو صحیح کریں اور اپنے مورچوں کو صاف ستھرا کریں، بنی صدر علاقے کا دورہ کرنے آنا چاہتا ہے۔ کچھ سپاہیوں کو غصہ آگیا اور وہ ناراض ہوگئے۔ انھوں نے کہا: "ہم اپنے حلیے کو کیسے صحیح کریں ہمارے پاس یہی کپڑے ہیں۔  ہم شادی میں تو نہیں آئے یہ محاذ ہے۔" بہرحال  کچھ گھنٹوں بعد  اعلان کردیا کہ بنی صدر نہیں آئے گا اور اُس نے کہا ہے آج میرے پاس وقت نہیں ہے میں کسی اور دن آؤں گا کہ وہ دن کبھی نہیں آیا!

 

آپ نے کس زمانے تک فدائیان اسلام گروہ کے ساتھ کام کیا؟

ہم نے اُن کے ساتھ دو دو مہینے والے تین دورے کیے۔ جب ہم پہلی دفعہ اپنے گھر والوں سے ملنے کیلئے تہران گئے تو سید مجتبیٰ ہاشمی نے ایک لیٹر دیاتھا کہ جس کے ذریعے ہم دوبارہ آبادان واپس آسکتے تھے۔ ہم نے تہران میں اعلان کیا کہ کمبل، لحاف اور دوسری چیزوں کی محاذ پر ضرورت ہے۔ ہم نے تین ، چار ٹرک سامان جمع کیا اور بھجوا دیا۔ وہ آدمی جو ہمارے محلے سے سامان دینے کیلئے گیا تھا اُس نے واپس آکر محلے والوں سے کہا تم مرد لوگ یہاں بیٹھو ہو اور یہ جوان لڑکیاں جنگ پر جاتی ہیں! جہاں یہ لوگ جاتی ہیں وہاں آسمان پر اڑتے پرندے کو مار گراتے ہیں۔ کیا آپ لوگوں یقین کرتے ہیں کہ جناب جمارانی کی بیٹی وہاں  تک گئی ہوگی؟

 

فدائیان اسلام گروپ میں سے شہید سید مجتبیٰ ہاشمی کے علاوہ آپ کو کون لوگ یاد ہیں؟

ایک سید تھے جو مارچ سن ۱۹۸۱ء میں شہید ہوئے۔انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم پانچ بھائی ہیں، ہمارے والد کی وفات کے بعد ہماری والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کرکے ہمیں پالا ہے۔ ابھی مجھے ڈیوٹی پر جاتے ہوئے چھ مہینے ہوئے تھے کہ جنگ شروع ہوگئی۔  میں نے اپنی والدہ سے اجازت لی اور محاذ پر آگیا لیکن میں نے اُن سے وعدہ کیا ہے کہ جنگ کے بعد  میں اُنہیں ایک پرسکون اور آسائش سے بھرپور زندگی دوں گا لیکن میری ماں نے کہا: "میں نے جس طرح اب تک کام کیا ہے اور زندگی کے اخراجات اٹھائے ہیں دوبارہ بھی کام کروں گی۔" مالی لحاظ سے کمزور ہونے کے باوجود وہ نظریاتی حوالے سے بہت مالدار تھیں۔ ایک دن دشمن نے فائرنگ کی ، سید اور چار دوسرے افراد شہید ہوگئے۔ رات کو مورچے میں سید مجتبیٰ ہاشمی نے مجلس رکھی۔ پہلے دعا ہوئی اس کے بعد سید مجتبیٰ ہاشمی نے اپنی رقت بھری آواز میں مصائب پڑھے اور جنگی اشعار پڑھے۔ ہچکیاں لے کے رونے کی آواز اتنی زیادہ اور  اونچی تھی کہ میں اور تہمینہ سوچنے لگے کہ ہم دو کے علاوہ بھی  کچھ خواتین وہاں پر ہیں۔ جب لائٹیں جلائی گئیں تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد اب بھی اُن کے رونے کی آواز میرے کانوں میں ہے۔ ایک دفعہ کچھ لوگ زخمی ہوگئے تھے لیکن اُن کو لے جانے کیلئے ایمبولنس نہیں تھی۔ اُنہیں سوزوکی پر سوار کیا گیا۔ میں نے اور تہمینہ نے زخمیوں کے زخم پر پٹی باندھ دی تھی۔  وہ برادر جو زخمیوں کو ہسپتال لے کر جاتا تھا اُس کا نام نصر اللھی تھا۔ اُس نے اُسی دن ہمیں بتایا تھا کہ میری خالہ زاد بہن میری منگیتر ہے، میں جنگ کی صورتحال واضح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں اور اُس کے بعد ہم شادی کرلیں گے۔ وہ زخمیوں کو ہسپتال والوں کے حوالے کرچکا تھا اور راستے میں کہیں اور چلا گیا تھا تاکہ اگر کوئی کام جو اُس سے ہوسکے تو انجام  دے لے، اتنے میں اُس کی گاڑی پر حملہ ہوا اور وہ شہید ہوگیا۔ فدائیان اسلام گروپ والوں کے چہرے کبھی بھی مجھے نہیں بھولتے۔ ان سپاہیوں کے پاس سر پر رکھنے کیلئے جنگی ٹوپی نہیں تھی۔ بہت سارے لوگ خاک آلود کپڑے پہنے رہتے تھے۔ بعض لوگوں کے پاس صرف ایک جوڑی لباس تھا۔ رات کو دھوکر پھیلا دیتے اور دوبارہ اُنہیں پہن لیتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فدائیان اسلام گروپ کے لوگ فقیر اور جاہل تھے۔ یہ بات لازمی نہیں تھی۔ شہید علی اصغر شعلہ ور امریکا میں ڈاکٹر ی پڑھ رہا تھا۔ بہت باشعور، کم بولنے  اور زیادہ کام کرنے والا لڑکا تھا۔ وہ آبادان کے الذوالفقاری میں زخمی ہوئے اور اُنہیں ماہ شہر کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا۔ میرا اور تہمینہ کا تہران جانا قرار تھا۔ جانے سے پہلے ہم نے ہسپتال کا ایک چکر لگایا اور اُن سے ملاقات کی۔ انھوں نے ہمیں اپنے گھر  کا ٹیلی فون نمبر دیا اور کہا: "میرے گھر والوں کو فون کرکے کہیں کہ میں خیریت سے ہوں!" تہران میں جب میں نے اُن کے گھر فون کیا تو قرآن کی آواز آرہی تھی۔ میں نے کہا "ہم جنگی علاقے سے آئے ہیں!" جنہوں نے ٹیلی فون اٹھایا تھا انہوں نے کہا: "جی،  آج اُن کی شہادت کی خبر آئی ہے!" میری حالت بہت بگڑ گئی۔

 

آپ نے کون سے سال تک فدائیان اسلام گروپ کے ساتھ کام کیا؟

ہم لوگ اکتوبر ۱۹۸۱ء تک اُن کے ساتھ رہے۔ جب ہم آخری مرتبہ تہران کیلئے واپس آ رہے تھے تو ہمارے فوجی آبادان محاصرے کو توڑنے کیلئے مقدمات فراہم کر رہے تھے۔ ایک سرنگ کھودی ہوئی تھی اور اطلاعات جمع کرنے کیلئے اُس طرف، عراقیوں کی سمت جاتے۔ انھوں نے آبادان کا محاصرہ توڑنے کیلئے چھ مہینے تک  دن رات بالکل خاموشی سے کام کیا۔ ایک گروہ سرنگ کے اندر جاتا کام کرتا، جب تھک جاتا تو واپس آجاتا پھر دوسرا گروہ جاتا۔ بہت خاموشی سے یہ کام انجام دیتے تھے چونکہ عراقی گاڑیاں چکر لگا رہی ہوتی تھیں۔ اگر ہم مورچے سے اپنا سر باہر نکالتے تو ہم اپنی آنکھوں سے غیر مسلح عراقیوں  کو دیکھتے۔ میں نے اور تہمینہ نے شادی کرلی تھی۔ آبادان کا محاصرہ ٹوٹنے سے چند دن پہلے ہم لوگ تہران واپس آگئے۔

 

ہم اس بات پر آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت ایران کی زبانی سائٹ کو دیا۔



 
صارفین کی تعداد: 74


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔