تنہائی والے سال – گیارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-04-16


وہ غصے میں آگیا اور چیخ کر بولا کہ:

- نہیں ہوسکتا، جلدی سے دو!

اور بالآخر غصے میں آکر ، شور و غوغا مچا کر وہ اخبار چھین کر لے گیا۔ اس پرانے اخبار کے چلے جانے سے مجھے اتنا افسوس ہوا تھا جیسے مجھ پر کوئی بہت بڑی مصیبت آگئی ہے۔ جیسے اُس نے میرا سارا سامان لے لیا ہو۔

ایک ایک کرکے دن گزرتے جا رہے تھے۔ ایک دن میں نے کھڑکی کو کھٹکھٹایا اور نگہبان سے کہا:

- میرے ناخن بہت بڑے ہوگئے ہیں، مجھے نیل کٹر چاہیے۔

- بعد میں۔

میں چند دنوں تک تکرار کرتا رہا یہاں تک کہ ایک دن نگہبان نے کھڑکی کھولی اور ایک نیل کٹر دیا جس میں چاقو لگا ہوا تھا۔ اُس نے کھڑکی کو کھلا رکھا تاکہ واپس لینا نہ بھول جائے، لیکن پھر نہیں آیا۔ گویا نگہبانی کی پوسٹ بدل گئی تھی اور وہ بھول گیا تھا۔ نیا نگہبان کھڑکی کے سامنے آیا اور تعجب سے پوچھنے لگا:

- کھڑکی کیوں کھلی ہوئی ہے؟

میں نے محسوس کیا کہ اچھا موقع ہے، میں نے بے تفاوتی سے جواب دیا:

- مجھے نہیں معلوم!

وہ کھڑکی کو بند کرکے چلا گیا اور چاقو والا نیل کٹر میرے پاس رہ گیا۔ میں نے اُسے چھپانے کیلئے کمبل کے اطراف میں لگی پٹی میں جگہ بنائی۔

کچھ دنوں بعد، ایک پاجامہ اور ایک بنیان دیا گیا۔

میں نے اپنے اوقات کا ٹائم ٹیبل بنایا ہوا تھا۔ میں صبح کی نماز کے بعد کچھ دیر کیلئے سوتا تھا۔ جس وقت سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوتی تھی، ناشتہ کیلئے سوپ دیدیا جاتا تھا۔ سورج ایک آدھی میٹر لائن کی شکل میں کمرے کے مغربی گوشہ سے داخل ہوتا اور غائب ہونے کیلئے مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا۔ اس وقت ٹائم تقریباً صبح کے دس بج رہے ہوتے تھے۔ اس کے بعد پھر سورج کوٹھڑی پر نہیں چمکتا تھا۔ میں ناشتہ کے بعد سے لیکر ظہر کے وقت تک اُسی کمرے میں ٹہلتا رہتا اور کچھ ورزشی حرکات انجام دیتا۔

صبح اور ظہر کے درمیان، دو سینڈوچ والی روٹیاں جو اینٹ کی طرح ہوتی تھی!کمرے کے اندر پھینکتے اور جب کبھی وہ دیوار سے ٹکراتیں تو واقعاًٍ اینٹ کی آواز آتی تھی، چونکہ خشک اور کچی ہوتی تھی۔ یہ روٹی،  ۲۴ گھنٹے کا سہمیہ شمار ہوتی تھی۔

ظہر کے وقت دوپہر کا کھانا لاتے جو عام طور سے چاول اور سالن ہوتا تھا، البتہ یہ چیز بھی باورچی پر منحصر تھی کہ وہ کہاں سے کھانا تقسیم کرنا شروع کرے! چونکہ جن کوٹھڑی والوں کو آخر میں کھانا دیا جاتا تھا، اُنہیں یا سالن نہیں ملتا تھا یا صرف سالن کا تھوڑا سا پانی ملتا تھا۔

شام کو ۵ اور ۶ بجے کے درمیان رات کا کھانا لاتے تھے جو بغیر کسی استثناء کے سالن کا پانی ہوتا تھا۔ بعد والے دنوں میں کھانے کی صورتحال مزید خراب ہوگئی، اس طرح سے کہ اکثر لوگ بغیر ٹھہرے ہوئے آٹے کی پکی ہوئی روٹیاں لاتے اور اُسے خشک کرنے کے بعد، چائے یا شوربے سے کھاتے!

سگریٹ کے معاملے میں بھی شروع کے دو دنوں کے علاوہ  جب پورا پیکٹ تھا، روازنہ چار سگریٹیں دیتے تھے اور اُسے بھی جلانے کیلئے نگہبان ہر کھانے کے بعد ماچس یا شعلہ دیا کرتا تھا۔

میں نے اپنا ٹائم ٹیبل اس طرح سے منظم کیا ہوا تھا کہ جو باتیں مجھ پر اثر ڈالتیں یا مجھے پریشان کرتیں، اُن کے بارے میں سوچنے کیلئے مجھے کم وقت ملتا۔ زیادہ تر میری کوشش ہوتی تھی کہ میں اپنے وقت کو دعا، راز و نیاز اور نماز میں گزاروں اور میں صرف اُسی وقت سوتا تھا جب مجھے تھکاوٹ کا احساس ہوتا تھا۔

تقریباً ایک ہفتہ کے بعد ، جب میں رات کو سونے کیلئے آمادہ ہوتا، مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ  موسیقی کی بہت ہی آہستہ سے آواز آرہی ہے، ایرانی گلوکارہ کے کسی نغمے کی آواز۔ آواز کے درمیان، اچانک اذان کی صدا سنائی دیتی! اذان کے درمیان بہت سارے لوگوں کی تکبیر اور مظاہرے میں نعرہ بازی کی آواز کانوں سے ٹکراتی کہ بہت سارے لوگ استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ اُس کے بعد کسی مرد گلوکار کی آواز۔ پھر شدید بارش کی آواز اور اُس کے  ساتھ مینڈک کی ایسی آواز جیسے وہ ٹھہرے ہوئے پانی میں بولتا ہے۔

ابتدائی راتوں میں جب میں نے اِن ملی ہوئی آوازوں کو سنا تو  مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔ میں سوچنے لگا شاید میں وسواسی ہوگیا ہوں، تھوڑا یہ احساس بھی میرے وجود میں ابھرتا تھا کہ شاید میرے لئے بات چیت کرنا مشکل ہوگیا ہے اور میں الفاظ کو صحیح سے ادا نہیں کرسکتا۔ ٹائلز پر بنی لال رنگ کی تصویریں، میری آنکھوں کے سامنے مختلف شکلیں ظاہر کر رہی تھیں۔

میں نے اس حالت سے چھٹکارا پانے کیلئے دن میں ٹہلتے وقت، اپنے آپ سے زور زور سے باتیں کرنا شروع کردیااور مجھے اس کام سے سکون میسر ہوتا کہ میری نفسیاتی حالت متوازن ہے۔ راتوں کو واقعاً مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آواز ، پہاڑوں سے منعکس ہوکر آنے والی آواز کی طرح ہر جگہ سنائی دی جا رہی ہے۔

انہی دنوں میں، کمرے سے واش بیسن کو اکھاڑ کر لے گئے!

مجھے ایک دفعہ پھر تفتیش کیلئے بلایا گیا، جیسا کہ سوالات تکراری تھے تو مجھے ایسا لگا شاید یہ تفتیش میری پرانی باتوں کی تائید کیلئے ہو۔

جب نگہبان آپس میں ایک دوسرے  سے بات کر رہے ہوتے تو میں دروازے کے نیچے سے کان لگا کر سنتا تاکہ کچھ معلومات حاصل ہوجائیں، لیکن متاسفانہ عربی زبان نہ جاننے کی وجہ سے مجھے کوئی بات سمجھ نہیں آتی۔

ایک دفعہ میں نے اپنے کان کھڑے کئے ہوئے تھے اور نگہبان ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات کر رہا تھا، مجھے چند خواتین کی آواز سنائی تھی جو آپس میں گفتگو کر رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اُن خواتین کو اُن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر اعتراض تھا اور وہ زندان  کے انچارج سے ملنا چاہ رہی تھیں۔ میں نے دریچہ بند ہونے کی آواز اور نگہبان کے چلے جانے کے بعد، دروازے کے نیچے اپنے منھ کو رکھا اور زوردار آواز سے چلایا:

- میں ایرانی پائلٹ ہوں، آپ لوگ کون ہیں؟ اگر آپ لوگ میری آواز سن رہے ہیں تو جواب دیں ...

میں نے دو تین دفعہ ایسا کیا، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ میں دوبارہ تکرار کرنا چاہتا تھا کہ نگہبان نے دریچہ کھولا اور غصے سے پوچھا:

- کیوں چیخ رہے تھے؟

مجھے ایک افسر ہونے کے عنوان سے اُس سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے تھا ، میری ذرا سی لچک کی وجہ سے وہ مجھے دبا دیتا۔ میں نے یہ چاہے بغیر کہ اُس کا جواب دوںِ اُس سے پوچھا:

- وہ خواتین جو کچھ دیر پہلے باتیں کر رہی تھیں، ایرانی تھیں؟

- تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے ...

اور دھمکی دی کہ ایسا ویسا کردوں گا اور دریچہ بند کرکے چلا گیا۔

کچھ عرصے تک میرا ذہن اسی مسئلے میں الجھا رہا۔ ایک دن صبح جب نگہبان نے سوپ دینے کیلئے دریچہ کھولا تو اُس نے میرے جوتوں کی طرف دیکھا اور کہا:

- کتنے خوبصورت جوتے ہیں!

میں نے جوتے اُسے دیدیئے اور فوراً اُس سے پوچھا:

- میرے علاوہ یہاں پر دوسرے ایرانیوں کی تعداد کتنی ہے؟ صحیح صحیح بتاؤ، وہ خواتین جو کچھ دن پہلے باتیں کر رہی تھیں، وہ ایرانی ہیں؟

وہ اپنے جواب دینے کا انعام  پہلے ہی لے چکا تھا، اُس نے آرام سے کہا:

- ایرانی مرد قیدیوں کی تعداد ۲۰ ہے اور کچھ ایرانی خواتین جو نرسیں ہیں۔

ہم دونوں کیلئے بہت ہی قیمتی معاملہ تھا۔ مجھے اطمینان ہوگیا کہ میں نے جو آوازیں سنی تھیں وہ ایرانی خواتین کی آوازیں ہیں۔ صدام اور اُس کے نوکروں سے کوئی چیز بعید نہیں تھی۔ جس کو پکڑ سکتے تھے، پکڑ لیتے تھے؛ بچے، بوڑھے اور خواتین و غیرہ کو اُن کے گھروں سے باہر نکال لیتے اور انہیں جنگی قیدی کے عنوان سے شمار کرتے تھے۔

جاری ہے ...



 
صارفین کی تعداد: 354


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں