جنگی اسناد کے نہ تھکنے والے سردار کی یاد میں

"احمد سوداگر" کی زندگی اُن کی زوجہ کی زبانی

مریم اسدی جعفری
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-03-05


"سوداگروں" جیسی شخصیات بار بار نہیں ملتیں۔ اُن کے نہ ہونے کا فاصلہ جتنا زیادہ بڑھتا جائے گا، اُن کی خالی جگہ کا احساس اُتنا ہی زیادہ بڑھے گا۔ میں نے پہلی مرتبہ "اُنہیں" دفاع مقدس کی علوم و معارف یونیورسٹی میں دیکھا۔ اُن کا انداز گفتگو جنوب میں رہنے والوں کی طرح تھا لیکن اُن کا چہرہ علاقے کے لوگوں جیسا نہیں لگتا تھا۔ انھوں نے پریس کانفرنس کے بعد بہت ہی حوصلے اور دلچسپی کے ساتھ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیئے اور صحافت کا یہ تعلق "کمانڈر احمد سوداگر"  کے ساتھ 5 سال سے زیادہ  عرصہ تک جاری رہا۔وہ جنگی اسناد کو مرتب اور منظم کرنے کی بہت سی آرزوئیں اور مقاصد رکھتے تھے؛ ایسی جنگ جس میں اپنی پوری جوانی کو وقف کردیا تھا۔ مرحوم "کمانڈر احمد سوداگر" دفاع مقدس کے کمانڈروں اور آپریشن  کا نقشہ کھینچنے والوں میں سے تھے کہ جنہوں نے ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد، تحقیق کی طرف قدم بڑھایا اور دوسری فوجی ذمہ داریوں کے ساتھ، علوم و معارف دفاع مقدس یونیورسٹی کی بنیاد ڈالی۔"دائرۃ المعارف دفاع مقدس" کی تالیف اور اشاعت، دفاع مقدس اور یونیورسٹیوں کے درمیان رابطہ ایجاد کرنا اور مبانی دفاع مقدس سے آگاہی کیلئے اس موضوع کو کلاس میں پڑھائے جانے کی منظوری، اس اچھی سوچ رکھنے والے کمانڈر کے نمایاں کاموں میں سے ہیں۔ انھوں نے دفاع مقدس کے بارے میں یونیورسٹیوں کے نظریات کو بدل ڈالا  اور اس وجہ سے اس شعبہ سے متعلق تھیسز کو تقویت حاصل ہوئی۔ اسی طرح دفاع مقدس سے متعلق چار خصوصی مضامین  کی پڑھائی"ہنر"، "ادبیات"، "انجینئرنگ" اور "جغرافیہ" کو تقریباً اپنی شہادت سے دو مہینے پہلے منظور کروالیا۔

کمانڈر احمد سوداگر کی شہادت کی خبر  نے دس فروری سن 2012ء  اور اُن کی 51 سالہ عمر میں، سب کو غم کی وادیوں میں دھکیل دیا۔ اُن کا جنازہ  13 فروری کو دزفول کے گلزار شہداء میں سپرد خاک کردیا گیا۔ ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ نے سردار احمد سوداگر کی شہادت کی چھٹی برسی کی مناسبت سے، اُن کی زوجہ محترمہ "خدیجہ صندوق ساز" سے ایک انٹرویو لیا ہے جسے ذیل میں آپ ملاحظہ کریں گے۔

 

محترمہ صندوق ساز، آپ ہمیں اپنی شادی اور سردار سوداگر سے تعلق قائم ہونے کے بارے میں بتائیں۔

میں اور حاج احمد دونوں دزفول میں پیدا ہوئے تھے اور جنگ کے تمام سالوں میں حتی جب میزائل برس رہے تھے ہم دزفول میں رہے، سوائے ان موقعوں کے جب میزائل برسنے میں شدت آجاتی، ہم عارضی طور پر دزفول کے اطراف میں چلے جاتے۔ حاج احمد بالکل روایتی طریقے سے رشتہ لیکر آئے تھے اور اُس زمانے میں، میں 17 سال کی اور تعلیم یافتہ تھی۔ پہلی مرتبہ رشتہ سن 1982ء کے شروع میں اُن  کی والدہ اور چچی کے ذریعے آیا۔ دزفول، ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ ہر کسی کا دوسرے سے کسی نہ کسی طرح کوئی رابطہ تھا۔ مثلاً میرے ماموں حاج احمد کے جنگی ساتھیوں میں سے تھے اور میرا بھائی بھی اُسی محاذ پر تھا۔ ہمارا گھر حاج احمد کے گھر سے ایک سڑک کے فاصلے پر تھا اور ہم پڑوسی تھے۔ انھوں نے ہمارا پتہ بھی پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے پوچھا تھا۔ جب رشتہ آیا تو حاج احمد کسی آپریشن میں مصروف تھے اور اپنی ماں سے کہا تھا کہ رشتہ لیکر جائیں ، جب آپریشن ختم ہوگا وہ خود بھی آجائیں گے۔ اُن کی والدہ دوسری مرتبہ ہمارے گھر تشریف لائیں اور رشتہ لیکر آنے والوں میں حاج احمد کے نہ ہونے کی وجہ اور اُن کے سپاہی ہونے کے بارے میں بتایا۔ گویا سن 1980ء میں مائنز کی شناخت کے دوران، مائن پر پیر پڑنے کی وجہ سے  وہ اپنے سیدھے پاؤں کو گنوا بیٹھے تھے اور وہ پچاس فیصد جانباز تھے۔

اُن کی والدہ کو آئے ہوئے تقریباً چھ یا سات ماہ گزر چکےتھے۔ 1981ء کی سردیوں کا آخری زمانہ اور غروب کا وقت تھا کہ گھر کی گھنٹی کو بجایا گیا۔ محاذ سے میرے ماموں اور حاج احمد آئے تھے۔ میرا بھائی ناصر بھی اُن سے تھوڑا پہلے آچکا تھا۔ میرے ماموں کو پتہ تھا کہ حاج احمد کی والدہ میرے لیے رشتہ لیکر آئی تھیں۔ حاج احمد نے میرے بھائی سے کہا ہوا تھا کہ وہ اپنے مصنوعی پاؤں کو نکالنے آیا ہے تاکہ مجھے اطمینان ہوجائے کہ مجھ میں اُن کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ ہے یا نہیں۔ میرے بھائی نے مجھے حاج احمد کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ میں نے بھی کہہ دیا کہ اگر وہ یہ کام کرنا چاہتا ہے، اسی وقت اپنے گھر واپس چلا جائے، چونکہ ہم زمانہ جنگ میں زندگی گزار رہے ہیں اور سب کو پتہ ہے کہ پچاس فیصد جانباز کے ساتھ زندگی گزارنا کتنا سخت اور دشوار ہے۔ بہرحال حاج احمد نے اپنا پاؤں نہیں نکالا اور ایک گھنٹے تک ہمارے پاس بیٹھے رہے۔ جب میں پہلی مرتبہ کمرے میں داخل ہوئی، میں اُن کے خوش و خرم اور  مہربان چہرے کی طرف متوجہ ہوئی۔ میں کچھ منٹوں سے زیادہ کمرے میں نہیں بیٹھی اور کچھ بولے بغیر کمرے سے باہر آگئی۔ حاج احمد جب گھر گئے تھے تو انھوں نے اپنی والدہ سے کہہ دیا تھا کہ وہ ہمیں دیکھنے آئے ہیں۔ حاج احمد کا رویہ اس طرح کا تھا کہ جب آپ ان سے پہلی مرتبہ ملیں گے تو ایسا لگے کہ جیسے صدیوں سے  انہیں جانتے ہوں۔ یعنی اتنے خوش اخلاق اور مہربان تھے۔

 

یعنی جب رشتہ لیکر آئے تو دونوں نے بالکل بات نہیں کی؟

جو لوگ جنگ پہ جاتے ہیں،  اُن کے پاس گھر والوں کے ساتھ رہنے کا زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا۔ حاج احمد بھی کردستان جانے کیلئے جنوب سے آئے ہوئے تھے ۔اسی وجہ سے ہمارے پاس گفتگو کرنے کا وقت نہیں تھا اور وہ فقط نکاح سے ایک دو گھنٹہ پہلے  میرے ماموں کے ساتھ آئے اور ہم نے ایک دوسرے سے باتیں کی۔ دو تین مہینے بعد شادی بھی ہوگئی۔ اصل میں طے یہ پایا تھا کہ حاج احمد کے بھائی محمود سوداگر کی شادی کے ساتھ ہی ہم بھی شادی کریں لیکن سن 1982ء میں شادی سے ایک ہفتہ پہلے، جب ہم شادی کیلئے  خریداری کر رہے تھے، حاج احمد کے کٹے پاؤں میں کوئی مسئلہ ہوگیا اور شادی میں دو ہفتہ تاخیر ہوگئی۔ جب مجھے اطلاع دی گئی کہ حاج احمد ہسپتال چلے گئے ہیں، میں اپنی والدہ کے ساتھ ہسپتال گئی۔ جب میں نے حاج احمد کو آپریشن تھیٹر میں دیکھا، میں نے خود کو اُن کی شہادت کیلئے آمادہ کرلیا۔ میں اُنہی دنوں اُن کے زخمی ہونے اور شہادت کی منتظر تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ سترہویں سال سے میری ذمہ داری شروع ہوگئی اور خداوند متعال مجھے سمجھانا چاہتا ہے کہ ابھی سے تمہیں تیار رہنا چاہئیے۔

 

سرجری کے بعد کیا ہوا؟

جب وہ آپریشن تھیڑ سے باہر آئے اور ہم نے اُنہیں دیکھا، ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اُن کی سرجری ہوئی ہے۔ حاج احمد اتنے فعال اور خوشحال تھے  کہ اُنہیں دیکھنے سے سب کو حوصلہ ملتا تھا۔ شادی کی خریداری اور مہمانوں کو دعوت دینے کی وجہ سے پروگرام میں تبدیلی کا امکان نہیں تھا پس میرے دیور کی شادی اُسی وقت ہوگئی۔ حاج احمد نے بھی ہسپتال سے ایک گھنٹے کی چھٹی لی تاکہ شادی میں شریک ہوں۔ دو ہفتے بعد جب حاج احمد ہسپتال سے گھر آگئے، ہماری شادی کی تقریب بھی بہت سادگی سے اور کم لوگوں میں منعقد ہوئی۔

 

کمانڈر سوداگر آپ سے بیوی کے عنوان سے کیا مطالبات اور معیارات رکھتے تھے؟

انھوں نے مجھے سب سے پہلے ولایت فقیہ پھر صبر اور حوصلے کی دعوت دی۔وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم لوگ شہداء کی تشییع جنازہ میں شرکت نہ کروں اور اُنہیں تنہائی میں دفنایا جائے۔ جب میرے دو فرزند تھے، ایک کو میں گود میں اٹھاتی اور دوسرے کو میری ساس  اٹھاتی اور ہم شہداء کی تشییع جنازہ میں شرکت کیلئے جاتے۔

کمانڈر سوداگر کی شہادت سے ہم سب کو شاک لگا، چونکہ وہ دیکھنے میں بالکل صحیح لگ رہے تھے۔

کوئی بھی حاج احمد کی شہادت کا یقین نہیں کر رہا تھا، حتی اُن کے بچے۔ حاج آقا دس لوگوں کے برابر کام کرتے تھے۔ صبح 6 بجے دفاع مقدس کی علوم و معارف یونیورسٹی چلے جاتے اور جب رات ہوتی تو بقول خود اُن کے ابھی تو اُن کی دوسری موٹر اسٹارٹ ہوئی ہے۔ تھکاوٹ اور دل کی تکالیف اور پیر میں ہونے والے درد  کی وجہ سے اور یہ کہ وہ 70 فیصد جانباز ہوچکے تھے، اُن کیلئے سونا بہت دشوار ہوگیا تھا۔ ہر روز صبح بچوں کو پتہ چلے بغیر، اپنے پیر میں ہونے انفیکشن کو سرم کے ذریعے نکال دیتے۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا کہ بچے اس چیز کو دیکھتے۔ راتوں کو درد میں مبتلا رہتے، لیکن جو بھی اُن کی صبح کو دیکھتا، وہ کہتا بالکل ٹھیک ہیں۔ صرف تین گھنٹے سوتے تھے۔ اگر درد ہوتا، وہ تین گھٹنے بھی نہیں سوپاتے۔ لیکن صبح چھ بجے، ہمت اور حوصلے کے ساتھ کام پر جاتے۔ حتی پڑوسی بھی بعض اوقات جب اُنہیں دیکھتے، یقین نہیں کرتے کہ جانباز ہیں۔ اُن کا اخلاق اور رویہ ایسا نہیں تھا کہ وہ سوئیں اور کوئی اُن کی تیمارداری کرے۔

 

مجھے معلوم ہے کہ ان واقعات کی یاد بہت تلخ اور کٹھن ہے، لیکن سردار کی زندگی کے آخری ایام کے بارے میں ہمیں بتائیں۔

زندگی کے آخری ایام، یقین نہ کرنے والے دن تھے۔ وہ اپنی شہادت سے بیس دن پہلے، شہید احمد سیاف زادہ کے پروگرام میں شرکت کیلئے بہشت زہرا گئے تھے۔ میں نے بہت صبر کیا لیکن وہ آکر نہیں دے رہے تھے۔ میں نے فون کرکے کہا: "حاج آقا اتنی دیر کیوں کردی؟" انھوں نے کہا: "امام کے مرقد پہ ہوں۔" وہ تقریباً چھ گھنٹوں تک امام خمینی (رہ) کے حرم میں بیٹھے رہے۔ جب وہ آئے، بالکل الگ ہی حالت تھی۔ طے تھا کہ یونیورسٹی کے کام کیلئے مازندران  کی طرف سفر کریں۔ میں نے کہا اچھا ہوتا کہ اگر اپنے کام کو کچھ کم کردیتے اور اپنے بچوں اور گھر والوں کے ساتھ گزار  لیتے۔ انھوں نے میرے جواب میں کہا :مازندران سے آنے کے بعد میں ریٹائر ہوجاؤں گا۔ اگرچہ میں بعد میں سمجھی کہ اُن کا ایسا ارادہ نہیں تھا اور وہ بیرونی ممالک میں دفاع مقدس کے مبانی سے آگاہی کے درس کی ترویج کیلئے مازندران گئے تھے۔ قرار یہ تھا کہ میں بھی اُن کے ساتھ مازندران جاؤں گی۔ لیکن اُن کے رشتہ دار تہران آگئے  اور میں مہمان داری میں لگ گئی۔ ہر ایک گھنٹے بعد وہ مجھے ٹیلی فون کرتے اس طرح سے کہ میں تعجب میں پڑ گئی تھی۔ مسلسل مہمانوں اور بچوں کے بارے میں پوچھنے کیلئے فون کر رہے تھے۔ صرف میں ہی نہیں بلکہ اُن کے تمام دوست کہہ رہے تھے، انھوں نے ہمیں بھی فون کیا ہے۔ جیسے انہیں کسی چیز کا احساس ہوگیا تھا۔ انھوں نے شمال سے ایک پیغام بھیجا جس میں لکھ تھا: "میں خدا کو دوست رکھتا ہوں اور اسی دوست رکھنے کی رسم کی وجہ سے آپ کو خدا کے سپرد کرتا ہوں۔" میں نے تمام پیغام پڑھے تھے، صرف یہی نہیں پڑھا تھا۔ اس پیغام کو میں نے حاج احمد کی شہادت کے تیسرے دن دیکھا۔ سب اُداس بیٹھے ہوئے تھے۔ فون کی گھنٹی بجی اور ایک لحظہ کیلئے یہ پیغام میرے آنکھوں کے سامنے آیا۔ بچوں نے کہا: "امی جان کیا آپ نے یہ پیغام دیکھا ہی نہیں تھا؟" میں نے کہا: "نہیں اس والے کو نہیں دیکھا تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ میں اُنہیں اس وقت تک بھول جاؤں۔"



 
صارفین کی تعداد: 485


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں