باتیں جو ڈاکٹر محمد علی ابو ترابی کی یاد میں بیان ہوئیں

ہم ایمرجنسی سروسز کو فرنٹ لائن تک لے گئے

مریم رجبی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-02-22


ایرانی شفاہی تاریخ کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، یادوں بھری رات کے سلسلہ کا 288 واں پروگرام، 25 جنوری 2018، جمعرات کی شام، آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں بہزاد رستگاری، حسین علی نجفیان اور نصر اللہ فتحیان نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے واقعات اورمرحوم ڈاکٹر محمد علی ابوترابی کے بارے میں گفتگو کی۔  

 

لوگوں کو ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ

پروگرام میں سب سے پہلے اپنی یادوں کو بیان کرنے والی شخصیت ڈاکٹر بہزاد رستگاری تھے، وہ مرحوم ڈاکٹر محمد علی ابوترابی کے دوستوں اور اُن کے ساتھ محاذ پر رہنے والوں میں سے تھے۔ انھوں نے کہا: "ہمارا شہر شور شرابے  سے بھرا ہوا تھا اور ہر طرف سے گولوں کی آواز آرہی تھی، اس آواز کے خلاف سب سراپا احتجاج تھے۔ کبھی بعض گلیوں اور سڑکوں سے نالہ و شیون کی آواز بلند ہوتی اور ہمارے شہر کی واحد ایمبولنس مستقبل زخمیوں کو لے آکر آتی؛ ان لوگوں سے اتنی بے رحمی، کینہ اور غصے کی کیا وجہ سے تھی؟ ہمارے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد بہت کم تھی، سب پریشان تھے، اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اتنے زخمیوں کے ساتھ کیا کریں کہ اچانک جیسے ایمرجنسی وارڈ میں روشنی پھیل جائے اور میں نے دیکھا کہ ایک بلند قد کا مرد، جس نے سفید لباس پہنا ہوا ہے ہماری مدد کرنے آیا ہے۔میں نے قریب جاکر دیکھا تو وہ ڈاکٹر ابوترابی تھے، جیسے سب کو توانائی مل گئی تھی، ہم نے تھکاوٹ کو بھلا کر اُن کے دستور کے مطابق عمل کرنا شروع کردیا۔ ہمارے کام کو کچھ گھنٹے گزرے تھے کہ ہسپتال کے فون کی گھنٹی بجی اور کہا گیا: جناب ڈاکٹر سے کہیں کہ اپنے گھر نہ جائیں، وہاں گولے برسائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب گئے، لیکن اُس وقت گئے جب معاملہ ٹھنڈا ہوچکا تھا۔

ڈاکٹر، زخمیوں اور لوگوں کی پناہگاہ تھے۔  جب انقلاب کامیاب ہوا، انھوں نے ہم سب کوجمع کیا اور کہا: آگے بڑھو اور لوگوں کو سکھاؤ کہ مشکل وقت میں کس طرح  اپنا خیال رکھنا چاہیے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم لوگوں ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ دیں۔ کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگی اور ہم نے ایک اسکول کے ہال میں لوگوں کو دعوت دی اور اُن لوگوں کو ابتدای طبی امداد کی  ٹریننگ دی۔ وہ ہمیں کنٹرول کرتے تھے۔ ہم سکھائے جانے والے موارد ڈاکٹر کو دکھاتے، وہ تائید کرتے پھر ہم لوگوں کو اُن کی ٹریننگ دیتے تھے۔ سب کو پتہ تھا کہ ہمارا انقلاب ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھا کہ جنگ شروع ہوگئی؛ ایک نامتوازن جنگ۔ جنگ میں زخمیوں کا ہونا ایک فطری سی بات ہے اور زخمیوں کو ڈاکٹر کی بھی ضرورت ہوتی ہے؛ پس ڈاکٹر ابو ترابی محاذ کی طرف لپکے اور ہم محرم آپریشن کے بعد سے اُن کے پاس کام کرنے لگے۔"

انھوں نے مزید کہا: "بیت المقدس آپریشن میں، شہر سوسنگرد میں ہم کسی ہسپتال میں کام میں مصروف تھے۔ ہم تین دن کام کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ تھکے ہوئے اور بھوکے تھے، ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ طے کیا کہ جہاد سازندگی کے ہیڈکوارٹر چلتے ہیں اور وہاں جاکر کچھ کھائیں اور اپنا پیٹ بھریں۔ ہم نے اُس اسکول کو ڈھونڈ لیا جہاں نجف آباد کا جہاد سازندگی یونٹ ٹھہرا ہوا تھا۔ جب میں اسکول میں داخل ہوا، میں نے دیکھا نلکے کے پاس بیٹھا ایک شخص اپنے کپڑے دھو رہا ہے، میں قریب گیا ، دیکھا تو ڈاکٹر ابوترابی ہیں۔ وہ سر سے پاؤں تک خون میں لت پت تھے، حتی اُن کے جوتوں میں بھی خون تھا۔ میں نے پوچھا: "جناب ڈاکٹر کہاں تھے؟" انھوں نے کہا: "میں اللہ اکبر کی پہاڑیوں پر تھا، وہاں اکیلا کام کر رہا تھا۔" اُس آپریشن کے بعد، ہم اُن کے ساتھ مل گئے اور ایک ٹیم بن گئے۔ تمام آپریشنوں کے لئے ڈاکٹر کو بلایا جاتا اور ڈاکٹر بھی ہمیں بلاتے۔ یہ جنگ کی خاصیت ہے کہ افراد کبھی افسردہ اور غمگین ہوجاتے ہیں، خاص طور سے ہمارے کام میں جہاں مسلسل چیخ و پکار، زخم اور زخمی سے کام پڑتا ہے، لیکن ڈاکٹر ترابی ایسا نہیں ہونے دیتے تھے کہ ہم ذرا سا بھی افسردگی کا احساس کریں؛ ہمیں جیسے ہی کچھ فراغت ملتی، وہ کوشش کرتے ہمیں اسلامی تعلیمات، احادیث اور قرآنی آیات کے بارے میں بتائیں، یا بعض اوقات دلچسپ کھیل اور مذاق کرتے کہ جس سے ہم خوش ہوجاتے۔"

 

زخمیوں کو بہت زیادہ توجہ دینا اور اُن سے محبت کرنا

جناب رستگاری نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "ہماری ڈاکٹروں کی ٹیم میں کچھ لوگ مستقل طور پر اور کچھ لوگ عارضی طور پر کام کرنے والے تھے۔ جنگی قوانین کے مطابق، میڈیکل کیمپ فرنٹ لائن سے دور لگنے چاہئیے، لیکن ہم جنگ میں کیمپوں کو فرنٹ لائن تک لے گئے، حتی بعض آپریشنوں میں، فرنٹ لائن سے بھی آگے لے گئے، ایسی جگہ جہاں بعد میں پہنچنا قرار تھا۔ جناب ڈاکٹر ابوترابی اور اُن کی ٹیم میں ہمیشہ سے یہ حوصلہ اور توانائی تھی اور وہ ان کیمپوں کو اپنی تحویل میں لے لیتے۔ ڈاکٹر صاحب کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ جب بھی کسی زخمی کے پاس جاتے، وہ اپنی محبت اور توجہ سے اُس زخمی کی نفسیاتی حالت کو بہتر کر دیتےاور اُسے حوصلہ دیتے۔ ڈاکٹر صاحب کی موجودگی میں کیمپ میں بڑے بڑے کام انجام پاتے تھے۔ وہ اس بات پر راضی نہیں تھے کہ کوئی کہے میں تھک گیا ہوں، وہ خود مستقل کیمپ میں چکر لگاتے رہتے اور تمام بیڈوں کو کنٹرول میں رکھتےتھے۔

مجھے یاد ہے و الفجر ابتدائی آپریشن میں، ہمارے میڈیکل کیمپ میں 11 سے 12 بیڈ تھے اور ہر بیڈ پر کام انجام دینے کیلئے کچھ ذمہ دار افراد موجود تھے، ڈاکٹر صاحب ٹہلتے رہتے اور سب کو کنٹرول کرتے جاتے کہ کہیں کسی سے کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ جب آپریشن آگے بڑھا ، جو میڈیکل کیمپ آگے تھا اُسے ہماری تحویل میں دیدیا گیا۔ بہت سخت آپریشن تھا اور بہت سے زخمی لائے جا رہے تھے۔ میں تھوڑی دیر کیلئے کیمپ سے باہر آیا تو دیکھا کہ کیمپ کے پورے احاطے میں زخمی لیٹے ہوئے ہیں اور اُنہیں محاذ سے پیچھے لے جانے والی گاڑی ، ابھی تک نہیں آئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے پریشان ہونے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی زخمی کیمپ میں آئے اور اُس کا کام صحیح سے انجام نہ پائے؛ اسی وجہ سے وہ ہمیں ایسے کاموں کی فکر کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے جو ہم سے مربوط نہیں تھے اور اُن کی کوشش ہوتی کہ ہماری توجہ ہماری ذمہ داری اور اپنے کاموں کی طرف دلائیں۔ میں ایک مجاہد کے کٹ جانے والے پیر کو باندھ رہا تھا کہ ایک ڈرائیور آیا اور کہنے لگا: کچھ شہیدوں کو لایا ہوں۔ اُن میں سے ایک شہید نہیں  ہے، تم آکر اُس پر ایک نگاہ ڈالو گے؟ میں نے کہا: شہید اور غیر شہید، کسی میں فرق نہیں ہے، اُسے اٹھاؤ اور اندر لے آؤ۔ وہ شخص گیا اور زخمی سپاہی کو لے آیا۔ میں نے دیکھا اُس کے دونوں پیر مائن پر پڑ گئے تھے اور بالکل تہس نہس ہوگئے تھے۔ میں اُسے کیمپ کے اندر لایا اور بیڈ پر لٹا دیا۔ اُس میں زندگی کی کوئی علامت نہیں تھی۔ میں نے اُس کی سانس کی نالی میں ایک نلکی ڈالی اور اُسے سانس لینے والا ماسک پہنایا تاکہ اُس کی سانسیں بحال ہوجائیں۔ ڈاکٹر صاحب وہاں سے گزر رہے تھے۔ ہم نے اُن سے کہا: ایسا لگ رہا ہے جیسے اب کوئی فائدہ نہیں! وہ بولے: ابھی تمہارے پاس زیادہ کام نہیں ہے، اپنے کام کو جاری رکھو۔ ہم نے سانس بحال کرنے والے کام کو اُس جوان پر 20 منٹ تک انجام دیا کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا، اُسے کے کٹے ہوئے پاوں کی رگ ہلی۔ میں نے کہا کام جاری رکھو۔ باری باری اُسے سانس لینے والا ماسک پہنانے لگے۔ آہستہ آہستہ اُس کے لٹکے ہاتھ سمٹ گئے۔ ڈاکٹر نے کہا: کام جاری رکھو اور ہم لگے رہے یہاں تک کہ اُس کے پیروں سے خون نکلنے لگا۔ آہستہ آہستہ زخمی کو سانس میں لگی نلکی کی وجہ سے پریشانی اور بے چینی ہونے لگی، ہم نے اُسے باہر نکال لیا۔ میں نے اُس سے پوچھا: "عزیز بیٹے تمہارا نام کیا ہے؟" اُس نے کہا: "اکبر" اچانک پورے کیمپ والوں نے ایک ساتھ کہا: اللہ اکبر۔ وہ جوان ابھی زندہ ہے، اُس کے دونوں پاؤں نہیں ہے، تین بچے ہیں۔

و الفجر ابتدائی آپریشن، بہت سخت آپریشن تھا۔ نجف اشرف کیمپ اور چند دوسرے کیمپ ایک ہی راستے میں تھے اور عقب نشینی ہوچکی تھی۔ بہت سے لوگ اپنے کیمپ لپیٹ کر چلے گئے تھے، لیکن ہم نے اپنا کیمپ نہیں سمیٹا تھا، ڈاکٹر صاحب نے آکر کہا: جو کوئی بھی جانا چاہتا ہے ، جائے، میں یہاں پر ہوں۔ ہمارے ساتھ ایسی ٹیم تھی جو بری خبریں ملنے کی وجہ سے پریشان ہوچکی تھی۔ ایک زخمی کو لایا گیا اور ابھی اُس کو بیڈ پر لٹایا ہی گیا تھا، وہ زور سے چلایا: تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ ابھی تم سب لوگوں کو پکڑ لیں گے، فرار کرو۔ ڈاکٹر نے کہا: جب تک یہاں پر زخمی ہے، میں بھی ہوں۔ ہم بھی تھے، ہم ڈاکٹر کے حکم پر کام کرتے تھے۔"

 

عزرائیل کے منہ سے بچ کر نکلو!

جناب رستگاری نے کہا: آپریشنوں میں ہمارے سخت ترین لحظات میں سے ایک ، کربلائے پانچ آپریشن میں تھا۔ وہ بہت وسیع آپریشن تھا اور ہمارے ٹھہرنے کی جگہ خرم شہر اور اہواز کے درمیان میں تھی، لیکن ہمارے میڈیکل کیمپ فرنٹ لائن اور شلمچہ میں تھے۔ جہاں پر سہ راہ موت نامی جگہ تھی؛ ایسی جگہ جہاں ہم تین جگہوں سے دشمن کی نگاہ میں تھے اور ہر طرف سے اُن پر حملہ کیا جاتا۔ ہمارے پاس ایک مورچہ تھا جس کا نام زوجی مورچہ تھا اور سپاہیوں نے مورچوں کے دونوں طرف پوزیشنیں سنبھالی ہوئی تھیں۔ ہم نے اس زوجی مورچے کے دھانے پر بدترین اور سخت ترین حالات میں ایک کیمپ لگایا ہوا تھا۔ ہر طرف سے گولے برس رہے تھے۔ بہت سے زخمی بمباری کی وجہ سے اپنے حواس کھو بیٹھے تھے۔ وہ زخمی جو اپنے حواس کھو بیٹھتا تھا، ہمارے لئے دوسرے ہزار زخمیوں سے بدتر تھا۔ ایک دفعہ ایک ضعیف شخص ہماری امدادی پوسٹ پر آیا۔ وہ مسلسل کچھ طرح کی حرکات کا تکرار کرر ہا تھا۔ اچانک میں نے دیکھا ہماری امدادی پوسٹ کے ایک مسئول نے اُسے پیچھے سے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اور زور زور سے کہہ رہے ہیں مدد کرو۔ وہ زخمی جو اپنے حواس کھو چکا تھا وہ چلا رہا تھا: یہ لوگ عراقی ہیں، حملہ کرو! اُس نے اپنے ہاتھ میں ایک ہینڈ گرنیڈ پکڑا ہوا تھا اور اُس کی پن کھینچ چکا تھا  اور وہ اُسے اُس کمبل پر پھینکنا چاہتا تھا جس پر ہم زخمیوں کو لٹا کر اُن کا علاج کیا کرتے تھے۔ جس طرح بھی ہوا ہم نے اُسے زمین پر لٹایا اور اُسے ایک سکون کا انجکشن لگایا اور اُس کے ہاتھ سے ہینڈ گرنیڈ لے لیا۔

آپریشن کے بعد، ہم اُس امدادی پوسٹ سے پیچھے کی طرف واپس آگئے۔ وہاں پر ہمارے ساتھ ایک ڈاکٹر تھے جن کا نام مصطفی صادقی تھا۔ تقریباً ادھیڑ عمر تھے اور کسی پروگرام کے تحت اُنہیں ایک مہینے کیلئے محاذ پر مدد کیلئے  بھیجا گیا تھا۔ اُن کو ہماری ٹیم کے ساتھ کام کرنے میں اتنا مزہ آیا کہ انھوں کہا اب میں واپس نہیں جاؤں گا اور یہیں رہوں گا۔ ایک دن ظہر کے قریب، ہم نے اپنے خون لگے کپڑوں کو نماز کے لئے تبدیل کیا۔ اچانک کیمپ کے پیچھے زمین پر ایک میزائل آکر گرا اور پھٹ گیا۔ اس سے پہلے کہ میں نماز کیلئے تیار ہوتا، میں دیکھ چکا تھا کہ کچھ لوگ پنچر شدہ ایمبولنس کے ٹائر کو صحیح کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ میں زخمیوں کی مدد کرنے کیلئے باہر آیا۔ میں نے دیکھا ڈاکٹر صادقی وضو کرکے نماز کیلئے کھڑے ہیں۔ اُس میزائل پھٹنے کی وجہ سے فضا میں بہت زیادہ گرد ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر نے کہا: گرد بیٹھ جائے تو ہم دیکھیں دوسروں کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا ہے۔ ہمارے ساتھ یونیورسٹی کا ایک اورلڑکا تھا جس کا نام اکبر آذری تھا ۔ تین لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے کہ ایک اور میزائل، بالکل ہمارے سامنے گرا۔ اُس کا پہلا ٹکڑا جناب صادقی کے سر میں لگا، کچھ ٹکڑے جناب آذری کے پیٹ میں گھسے اور کچھ ٹکڑے میرے ہاتھوں اور پیٹ پر لگے۔ ہمیں لے گئے اور ڈاکٹر صاحب ہمارے پاس آئے۔ میں نے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: کوئی بڑی بات نہیں میرے عزیز، تمہارا پیٹ پھٹ گیا ہے! اس سے پہلے، وہ جوان جسے ہم بجلی کا وزیر کہتے تھے دراصل وہ ہماری موٹر کی بجلی کا مسئول تھا، ایک ٹکڑا اُس کے دل سے نکلنے والی خون کی نالی پر لگ گیا تھا اور وہاں سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ خود مسلسل کہے جا رہا تھا: میں ابھی شہید ہوجاؤں گا اور دس منٹ بعد بیڈ پر شہید ہوگیا؛ یہ بات میرے ذہن میں تھی اور میں گمان کر رہا تھا کہ میرا کام بھی بس تمام ہے کہ خدا نے یہ نہیں چاہا۔ زخمی ہونے کے بعد جب ڈاکٹر صاحب ہمارے گھر عیادت کرنے آئے، ہنستے ہوئے کہا: "عزرائیل کے منہ سے بچ کر نکلے ہو!"

جناب رستگاری نے بیان کیا: "خیبر آپریشن بھی ہمارے سخت آپریشنوں میں سے تھا۔ ایک دن ہم عراقیوں کے جزیرہ مجنون میں موجود ایک چھوٹے شہر میں گئے۔ وہاں پر ایک سینما ہال تھا جسے ہم نے میڈیکل کیمپ میں تبدیل کردیا۔ تیسرے دن جب ہم وہاں کام کر رہے تھے، پورے علاقے پر توپوں سے چڑھائی کردی گئی۔ شہید احمد کاظمی نے کہا سب پیچھے کی طرف جائیں، ہم پیچھے جانا چاہتے تھے کہ دیکھا سب جگہ سے توپیں حملہ کر رہی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کو ایک ٹکڑا لگا، ہم سب تتر بتر ہوگئے اور خود کو اُس پوسٹ پر پہنچایا جہاں پہلے تھے۔ ہم نے ایک کشتی کے ذریعے خود کو اپنے پہلے والے پڑاؤ کی جگہ پہنچایا۔ ایک دو گھنٹے بعد ڈاکٹر صاحب آئے۔ بہت ہنستے ہوئے اور خوشحال تھے، ایک ٹکڑا اُن کے پیٹ کی کھال پہ لگا تھا۔ وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے: "اُنہیں سمجھ نہیں آیاکہ کہاں مارنا ہے، ماموریت انجام دینے والا ٹکڑا ابھی نہیں آیا ہے۔" وہ اٹھے اور اپنا کام کرنے چلے گئے۔"

انھوں نے آخر میں کہا: "میڈیکل سائنس کا موضوع انسان ہے، لیکن ایسا انسان ، انسان کی خدمت کرسکتا ہے جو خود انسان ہو۔ ایسا ڈاکٹر جو مکتب اسلام میں پروان چڑھا ہو اور جسے اسلامی تعلیمات سے آگاہی ہو، وہ ایک کامل انسان ہے، وہ ایسا انسان ہے جو اصل میں اپنے علم کے موضوع کے پیچھے ہوتا ہے اور اُسے پر وان چڑھاتاہے۔ میں جانتا ہوں کہ قیامت کے دن، جب ڈاکٹر ابو ترابی آئیں گے، بہت سے لوگ خدا کے پاس آئیں گے اورخدا سے درخواست کریں گے کہ وہ ڈاکٹر کو مورد بخشش قرار دے۔ "

 

گھر کو آگ لگانے کا ماجرا!

ڈاکٹر محمد علی ابوترابی کے داماد حسین علی نجفیان، دفاع مقدس کی یادوں بھری رات کے 288 ویں پرگروام کے دوسرے واقعات بیان کرنے والے تھے۔ انھوں نے کہا: "ایک دوست نے نقل کیا ہے کہ انقلاب سے پہلے ایک ہینڈ گرنیڈ کسی ایک مجاہد کے ہاتھ میں پھٹ گیا اور وہ ڈاکٹر کی تلاش میں تھے۔ اُس زمانے میں ڈاکٹرز کسی کو منہ نہیں لگاتے تھے کہ ایسے حالات میں کسی ایسے کے گھر جائیں  جس کے ہاتھ میں ہینڈ گرنیڈ پھٹ گیا ہو۔ میں گیا اور ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ فلاں شخص فلاں گھر میں ہے، ڈاکٹر صاحب پہنچے اور ہاتھوں کا معائنہ کرنے کے بعد کہا اس لڑکے کی انگلیوں میں انفیکشن ہوگیا ہے ، انہیں کاٹنا پڑے گا۔ پوچھا گیا کہ ہم کس طرح وسائل مہیا کریں؟ ڈاکٹر نے کہا کہ وسائل  کا انتظام ہوجائے گا اور گھر میں موجود دوسرے کی مدد سے نہ کہ ہسپتال میں، اُس لڑکے کے ہاتھ کی انگلیوں کو جدا کردیا۔"

نجفیان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "11 محرم، سن 1979ء میں، جیسا کہ نجف آباد کے لوگوں کا قیام اپنے اوج پہ تھا، شاہ کا نظام لوگوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔ لہذا اُس نے ایک خصوصی حملے کی طرف ہاتھ بڑھایااور گارڈ کو نجف آباد شہر کے اندر لے آیا۔ شہر کے چوک اور شہر سے باہر والے علاقے میں خیمے لگائے۔ اس زمانے میں نجف آباد شہر کی بہت سی شخصیات پر چڑھائی شروع ہوئی، جن میں سے ڈاکٹر ابو ترابی کا گھر تھا جو زخمیوں کے علاج  اور مجاہدین کے چھپنے کی جگہ بنا ہوا تھا۔ ڈاکٹر ابو ترابی کی زوجہ نقل کرتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب سے فون پر رابطہ کر کے کہا گیا کہ ہسپتال میں بہت سے زخمیوں کو لایا گیا ہے، اسی وجہ سے ڈاکٹر صاحب اُسی وقت ہسپتال چلے گئے؛ ایسے وقت جب ڈاکٹر کے گھر میں تقریباً 15 لوگ موجود تھے۔ اُن 15 لوگوں میں، ایسے لوگ  جن کا ڈاکٹر کے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ صرف زخمیوں کو ڈاکٹر کے گھر تک لائے تھے اور جیسا کہ شہر میں افراتفری مچی ہوئی تھی، گھر سے باہر نہیں نکلے تھے۔ ڈاکٹر نے اُنہیں گھر کے نچلے حصے میں بھیج  دیا تھا۔ صحن میں بھی صنوبر کے درخت لگے ہوئے تھے کہ جن کے پیچھے گھنی گھانس تھی۔ کچھ لوگ اُس کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد، دو لوگ آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب کسی نے اُن کے لئے دروازہ نہیں کھولا، دروازہ پر گولیوں کا برسٹ مارا اور سب جگہ فائرنگ کی۔ ڈاکٹر کی زوجہ کو اس طرح ڈرا رہے تھے کہ اُنہیں غش آ رہے تھے۔ انھوں نے اس خاتون کے سینے پر اسلحہ کی نالی رکھی اور کہا: بتاؤ تمہارا شوہر کہاں ہے؟ ڈاکٹر کے سب سے چھوٹے بیٹے مجید نے خود کو ماں کے سینہ پر گرالیا اور کہا: میری ماں کو کچھ مت کہو۔ اُن میں سے ایک نے بندوق اوپر کی اور کہا: میں اس گھر کو آگ لگانا چاہتا ہوں! اُس نے کرسی کی طرف فائر کیا،اس کے باوجود کے کچھ لوگ کرسی کے نیچے تھے لیکن کسی کو گولی نہیں لگی۔ پھر تیل سے جلنے والے ہیٹر کو کرسی پر الٹا رکھ کر اُسے آگ لگادی۔ اس کام کی وجہ سے کرسی کے نیچے سے لوگ نکلے اور باہر کی طرف دوڑے۔ اُسی وقت اُس نے گیس کے دو سلنڈر کھولے تاکہ پورا گھر دھماکہ سے اڑ جائے۔ مجید کی والدہ نقل کرتی ہیں کہ ایسے میں مجید باورچی خانے کی طرف بھاگا اور اُس نے گیس کے دونوں سلنڈروں کے نل کو بند کردیا۔ اس آگ کی وجہ سے بجلی کی تاریں آپس میں لڑ گئیں اور گھر کے لائٹ چلی گئی۔ لوگ خوف کی حالت میں گھر سے باہر نکلے۔ یہاں پر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ چھوٹے بچے جو گھر کے تہہ خانے  میں تھے، سب نے تیمم کرلیا تھا اور وہ چاہ رہے تھے کہ جب گارڈ انہیں ماریں تو وہ باوضو ہوں۔"

نجفیان نے آخر میں کہا: "ڈاکٹر صاحب سید حسن نصر اللہ کے دلدادہ تھے۔ جب اُنہیں لبنان بلایا گیا، مجھے توفیق نصیب ہوئی اور میں بھی اُن کے ساتھ مارون الراس گیا۔ ڈاکٹر صاحب جب گلستان شہداء (شہداء کا قبرستان) گئے اور پھر اُس شہر کی فضا دیکھی، وہ بولے: میں لبنان میں ایک غیر معمولی چیز کا مشاہدہ کر رہا ہوں، میں یہاں پر انسان ہونے اور پاک ہونے کے معنی کو درک کر رہا ہوں، ہمارا اپنے شہروں میں پاک رہنا کوئی قابل قدر بات نہیں، اس ملک اور شہر میں پاک رہنا اہمیت کا حامل ہے۔ سید حسن کا کوئی پروگرام تھا اور ڈاکٹر صاحب اُن سے نہیں مل سکے اور اس ملاقات کی حسرت ڈاکٹر کے دل میں باقی رہ گئی۔ پھر جب میں سید حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: میرے سسر آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق رکھتے تھے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اُنھوں نے کوئی رات نماز پڑھے اور آپ اور حزب اللہ کیلئے دعا کئے بغیر  گزاری ہو۔ وہ ہمیشہ کہتے کہ میں قدس کی آزادی کیلئے دن گن رہا ہوں اور یہ کام ہوکر رہے گا۔ سیدنے کہا میں اس بات سے بہت افسردہ ہوں اور ہمیں اُنہیں اطلاع دینی چاہئیے تھی تاکہ ہم ایک دوسرے سے مل لیتے۔ سیدحسن نے تحفہ کے طور پر ایک قرآن پر دستخط کرکے ڈاکٹر کیلئے بھیجا اور کہا کہ ڈاکٹر سے کہنا وہ بھی آپ کے لئے دعا کرتے ہیں اور یہ آپ کی دعا ہے جو یہاں لڑ رہے ہیں۔"

 

ڈاکٹر کی فداکاری کا ایک حصہ

دفاع مقدس کی یادوں بھری رات کے 288 ویں پروگرام میں تیسرے واقعات سنانے والے، دفاع مقدس کے دوران منتخب جہادیوں کے مینجر او ر فوجی صحت کمیٹی کے انچارج، سردار نصر اللہ فتحیان تھے۔ انھوں نے جو مرحوم ابو ترابی کے دوست اور اُن کے محاذ کے ساتھی بھی تھے، کہا: "دس سال پہلے اس یادوں بھری رات کے پروگرام میں جو آقا (آیت اللہ سید علی خامنہ ای، رہبر انقلاب اسلامی)کی موجودگی میں تشکیل پایا تھا، میں بھی شریک ہوا تھا۔ اُس پروگرام میں مجھ سے کہا گیا کہ میں دفاع مقدس میں میڈیکل سوسائٹی کا کوئی واقعہ سناؤں۔ میں نے ڈاکٹر ابو ترابی کے اپنے شہید ہونے والے بیٹے کے رویے کا واقعہ سنایا جو اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر اور ہماری میڈیکل سوسائٹی اُس نورانی دور میں کتنا جوش و جذبہ رکھتی تھی۔

فروری کے مہینے میں ہونے والے بڑے آپریشنوں میں سے ایک، آٹھواں و الفجر آپریشن ہے جو سن 1985ء میں  ہوا۔ میں اس آپریشن میں صحت کمیٹی کا مسئول تھا۔ تمام جنگوں میں سب سے بڑا مسئلہ زخمیوں کا ہوتا ہے اور اس مسئلہ کے حل کیلئے پیچیدہ ترین راستہ جنگی علاقوں میں ڈاکٹروں کی ٹیم کا آنا ہے۔ عام طور سے تمام جنگوں میں زخمیوں کو ڈاکٹروں کے پاس لایا جاتا ہے، لیکن ہمارے دفاع مقدس میں ڈاکٹر حضرات زخمیوں کے پاس آئے۔ اس کام کیلئے میڈیکل سوسائٹی کو خرچہ اٹھانا پڑا، لیکن انھوں نے اس خرچہ کو قبول کیا۔ دفاع مقدس کے دوران نمایاں کردار ادا کرنے والا ایک ہسپتال، حضرت فاطمہ زہرا (س) ہسپتال ہے۔ ہم نے کنکریٹ کے اس ہسپتال کو آٹھویں و الفجر آپریشن کے لئے تیار کیا تھا۔ اس ہاسپٹل میں 60 ایمرجنسی بیڈ، دس آپریشن روم، کیمیائی اثر سے زخمی ہونے والوں کے 30 بیڈ اور 20 بیڈ ریکوری کے لئے تھے اور حفاظت شدہ شرائط  کے تحت فقط چند لوگ رفت و آمد کرسکتے تھے، چھ مہینے  کے عرصے  اور صرف رات سے صبح تک کام کرکے اسے بنایا گیا۔ بہرحال، میڈیکل ٹیمیں پہنچیں اور آپریشن، صبح سویرے شروع ہوگیا۔ اس صحرائی ہاسپٹل پر چند مرتبہ حملہ ہوا۔ کسی جنگ میں بھی ہسپتالوں پر حملہ نہیں ہوتا، لیکن ہمارے دشمن نے تمام قوانین کو پیروں تلے روند دیا تھا۔

ایک دفعہ ڈاکٹروں کی ٹیم جراحی میں مصروف تھی کہ ہسپتال پر حملہ ہوگیا اور میں یہاں پر گواہی دیتا ہوں کہ ٹیم نے اپنا کام جاری رکھا۔ یہ ہسپتال نہر اروند سے دس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ 4 مارچ والے دن ہسپتال پر کیمیائی بمباری کی ؛ اسی وجہ سے جنگی تاریخ میں اس دن کا نام ، میڈیکل سوسائٹی کی جدوجہد پڑ گیا ہے۔ اس بمباری میں ہسپتال کا پورا عملہ جو 700 سے افراد سے زیادہ تھے، زخمی ہوگیا۔ اس ہسپتال کو پورا خالی ہونا چاہیے تھا اور دوسری طرف سے محاذوں سے زخمی کی منتقلی اُسی طرح جاری تھی۔ 24 گھنٹے سے بھی کم مدت میں پورا ہسپتال خالی اور صاف ہوگیا اور دوبارہ سے میڈٰکل ٹیموں کو آنا تھا۔ اس بمباری کی خبر سب جگہ شائع ہوچکی تھی، ڈاکٹر حضرات یہاں آنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے۔ اصفہان سے ایک گروپ پہنچ چکا تھا،  لیکن آنے کیلئے شک میں مبتلا تھا۔ میں نے اُن سے بات کی اور کہا: یہ ہسپتال، ہمارے زخمیوں کی دیکھ بھال کا اصلی مرکز ہے، آپ اطمینان رکھیں وہاں کی صفائی ہوچکی ہے۔ انھوں نے پوچھا: تم خود بھی آؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، میں بھی آؤں گا۔ میں اس ٹیم کو لے گیا اور بعد میں خبر ملی کہ ڈاکٹروں کی ٹیم نے امدادی کاروائیوں کو شروع کردیا ہے، لیکن دوبارہ حملہ ہوا اور ہسپتال کے سامنے ایسا بمب پھینکا جس کا وزن 800 کلو تھا، ایسا کہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے سامنے دس میٹر گہرا گڑھا بن گیا اور اور دو ایمبولنسیں اپنے زخمیوں کے ساتھ منہدم ہوگئی تھیں۔ دوسری بمباری میں، ہسپتال کو بجلی سپلائی کرنے والی موٹر کو مورد ہدف قرار دیا گیا اور پورے ہسپتال میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ میں پچھلے دروازے سے ہسپتال میں داخل ہوا اور میں نے دیکھا کہ ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیم ٹارچ کے ذریعے، کیمپ کے اندر زخمیوں کا معالجہ کر رہی ہے۔ دوستوں نے کوشش کی اور بجلی آگئی، ہسپتال نے ایک مرتبہ پھر اپنا کام شروع کردیا۔ چار دن بعد دشمن نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ پر راکٹ مارا۔ اس ہسپتال کے اوپر کنکریٹ کی خاک ڈالی ہوئی تھی اور خاک کے اوپر دھماکہ خیز علامتیں لگائی گئی تھیں۔ جب راکٹ ان دھماکہ خیز علامتوں سے ٹکرایا، ان علامتوں نے جہاز کے اس راکٹ کے زور کو کم کردیا  جس کی وجہ سے ایمرجنسی وارڈ میں دراڑ نہیں پڑی، لیکن ایک چھ یا سات ریکٹر پر آنے والے زلزلے کی طرح بہت زیادہ لرزش پیدا ہوئی۔ ڈاکٹروں  کی ٹیم ہسپتال کے ان حالات میں بھی ڈٹی رہی۔ دفاع مقدس کے دوران، میڈیکل سوسائٹی کے ایک لاکھ سے زائد افراد نے فرنٹ لائن پر بنے میڈیکل کیمپوں، صحرائی ہسپتالوں اور امدادی پوسٹوں پر حاضر ہونے کی سعادت حاصل کی تھی اور اُس زمانے میں میڈیکل سوسائٹی نے اچھے طریقے سے اپنا کام انجام دیا۔"

دفاع مقدس میں یادوں بھری رات کے سلسلے کا 288 واں پروگرام، ثقافت کے تحقیقاتی اور مطالعاتی مرکز ، پائیدار ادب اور مقاومت کے ادبی اور ہنری دفتر کی کوششوں سے جمعرات کی شام، 25 جنوری 2018ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔ اگلا پروگرام 22 فروری کو منعقد ہوگا۔ 



 
صارفین کی تعداد: 376


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں