داعش کی قید میں اسیری کی داستان

مریم اسد جعفری
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-02-22


ایرانی شفاہی تاریخ کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، عشرہ فجر کی مناسبت سے یادوں بھری شام کا خصوصی پروگرام، بدھ، 31جنوری 2018ء کو اصفہان کے آرٹ شعبے اور فانوس ثقافتی گروپ کی کوشش اور دفاع مقدس کے دلاور "حسین کنعانی" اور داعش کی قید سے رہائی پانے والے "مصطفی بیدقی" کی یادوں کے ساتھ، اصفہان کے شہدائے بسیج ہال میں منعقد ہوا۔

 

جنگ میں دلاوری، زندگی کا شیرین ترین لمحہ

اس پروگرام کے آغاز میں، نوحہ خواں اور شام میں ہونے والی جنگ کی روایت بیان کرنے والے جواد حیدر نے شہدائے مدافع حرم کی یاد اور واقعات کو خراج تحسین پیش کیا اور نوحہ خوانی کی۔ پھر اصفہانی دلاور "حسین کنعانی" کی دلاوری اور اُن کے پاؤں کٹ جانے کے وقت کی فلم دکھائی گئی۔ اس دلاور و مجاہد نے پروگرام میں سب سے پہلے اپنے واقعات کو بیان کیا تھا۔ جناب کنعانی نے عشرہ فجر  کی آمد پر مبارک باد پیش کی اور اظہار نظر کیا: "خوش نصیبی سے میں جنگ کے اوائل میں آبادان میں تھا۔ دراصل اُن بحرانی اور خطرناک حالات میں، میں فوجی بھائیوں کے درمیان ایک سپاہی کے طور پر کام کرتا تھا۔ البتہ جنگ کی مدت میں، میں فوج کے سپاہیوں، بسیج اور سپاہ تینوں کے ساتھ محاذ پر گیا ہوں۔ ملازمت ختم ہونے کے بعد میں بسیج میں چلا گیا اور اُسی کے ساتھ میں سپاہ کا رکن بھی بن گیا۔ چند مہینوں کیلئے کردستان گیا اور اُس کے بعد، جنوب کی طرف بھیجا گیا اور میں نے فتح المبین، بیت المقدس اور رمضان آپریشنوں میں شرکت کی۔ آپ نے جس منظر کا مشاہدہ کیا، یہ جولائی 1982ء میں رمضان آپریشن تھا جس میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مارے گئے میزائل سے  میرے سیدھا پاؤں کٹ گیا۔ میں اُس وقت سوچ رہا تھا کہ شہید ہوجاؤں گا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور خدا نے یہ نہیں چاہا تھا۔ میں پاؤں کٹنے کے بعد اُس کے علاج کے لئے تہران آگیا۔ جب مجھے تہران کے شہدائے ہفت تیر ہسپتال میں  ہوش آیا، شاید وہ میری زندگی کا  بدترین اور تلخ ترین لمحہ تھا،کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میں ایک عظیم فیض سے محروم رہ گیا ہوں۔ پھر میں بہبود پانے کیلئے اصفہان آیا اور اپنا مصنوعی  پاؤں لگوایا۔ خدا نے توفیق نصیب فرمائی کہ میں سپاہ کے کارکن کی حیثیت سے سپاہ میں رہوں اور میں دوبارہ بھی محاذ پر گیا۔"

جناب کنعانی نے مقام معظم رہبری سے اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا: "میں نے آنجناب کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے اُس حادثہ کے بعد زیارتی سفر کیا، شادی کی اور خدا نے مجھے فرزند عطا کئے۔ خدا کا شکر ہے کہ بہت اچھی زندگی گزر رہی ہے، لیکن جب میں پیچھے کی طرف نگاہ کرتا ہوں، میں دیکھتا ہوں کہ دلاوری اور مجاہدت سے شیرین تر کوئی لحظہ نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا۔ میں یہ بات کسی چیز سے وابستہ ہوئے بغیر کہہ رہا ہوں۔ چونکہ میں احساس کر رہا تھا کہ میں اپنے شہید ہونے والے دوستوں سے ملنے والا ہوں، لیکن خدا نے چاہا کہ ہم رہ جائیں۔ ڈاکٹر شریعتی کے بقول، انقلاب کے دو رُخ ہیں: خون اور پیغام۔ جو لوگ چلے گئے ہیں انھوں نے حسینی عمل انجام دیا اور جو لوگ باقی رہ گئے ہیں اُنہیں زینبی کردار ادا کرنا چاہئیے۔"

 

پیاس کے شدت سے لیکر شکنجوں تک

یادوں بھری شام کے تسلسل میں، "داعشیوں کی قید سے آزاد ہونے والے "مصطفی بیدقی"  نے چھ مہینوں پر مشتمل اپنی اسارت کے سخت ترین  ایام سے متعلق اپنی یادوں کو بیان کرتے ہوئے کہا: "سن 2012ء میں ہم حضرت زینب (س) اور حضرت سکینہ (س) کی خاطر شام گئے۔ اُن دنوں میں ابھی مدافعین حرم کا نام مشہور نہیں ہوا تھا، ہمارے معاملے کے چند مہینوں بعد، مدافعین حرم سامنے آئے۔ ہم نے ایک خاص اور محترم ہدف کی خاطر حرکت کی تھی اور وہاں گئے تھے۔ 15 رمضان کو امام حسن مجتبیٰ (ع) کی ولادت والے دن، ایئرپورٹ سے حرم حضرت زینب (س) کی طرف جانے والے راستہ پر دشمن کی کمین میں پھنسے اور اسیر ہوگئے۔ اسیر ہونے والے دن سے لیکر آزاد ہونے والے دن تک ہمارے ساتھ بہت سے واقعات پیش آئے۔ دوستوں نے ہمارے گروپ کا نام "کریم اہل بیت سے رہائی پانے والے" رکھ دیا۔ چونکہ امام حسن (ع) کی ولادت کے دن اسیر ہوئے تھے اور امام کے لطف  و کرم سے، اُن کی شہادت کے دن 28 صفر کو ہم آزاد ہوگئے۔"

انھوں نے مزید کہا: "ہم 48 لوگ تھے۔ وہ دن جو ہم پر گزرے، پورے دن میں 5 لوگوں کو کھانے کی صرف ایک پلیٹ دی جاتی۔ زیادہ تر آلو یا پکی ہوئی جو ہوتی تھی۔ یہ ہمارا کھانا ہوتا تھا اور پھر اُس کے بعد 24 گھنٹے تک انتظار۔ پینے کیلئے مناسب پانی بھی نہیں تھا۔ اسیری کی مدت میں زیادہ تر ایک گلاس پانی پینے، وضو کرنے اور طہارت کیلئے دیتے تھے۔ عقل کا حکم ہے کہ ہم پہلے اپنی جان کی حفاظت کریں۔ کبھی طہارت نہیں کرتے تھے اور وضو کی جگہ تیمم کرلیتے تھے۔ ہم پر سخت وقت گزرا۔ 42 دن تک ہم ایک تہہ خانے میں رہے۔ ہمیں رکھنے کیلئے اُن کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی۔ ہم 7 شہروں میں 14 جگہوں پر اِدھر سے اُدھر ہوئے جو زیادہ تر تہہ خانہ یا اسٹور ہوتا تھا۔ ہم جس لباس میں اسیر ہوئے تھے اُسی لباس میں رہا ہوئے۔ یعنی چھ مہینے کی مدت میں ہمارے پاس صرف یہی لباس تھا۔  ان 6 مہینوں میں تقریباً 5 مرتبہ ہمارے جسموں تک پانی پہنچا، وہ بھی اُن خود اُن کے طریقے سے!وہ پائپ سے ہمارے اوپر پانی ڈالتے تھے۔"

جناب بیدقی نے ناگزیر حالات کی وضاحت کرتے ہوئے  بیان کیا: "ایک دفعہ ہم ایک بہت ہی تاریک تہہ خانے میں تھے جس کی 30 سیڑھیاں تھیں۔ اس تہہ خانے میں ایک لیٹرین تھا جس میں کنواں تھا۔ یہ کنواں 19 دن بعد بھر گیا اور ہمارے ٹھہرنے کی جگہ بیٹھ گئی۔ لوگوں کو مختلف قسم کے انفیکشن ہوگئے، جسم پر نکلنے والے دانوں سے لیکر معدے کی بیماری تک۔ حد یہ ہوگئی تھی کہ اٹھنے والی بو کی وجہ سے وہ ہمیں مارنے کیلئے نیچے نہیں آسکتے تھے۔ اُس فضا میں سانس لینے کی قوت نہیں تھی۔ ہمیں اوپر لے جاتے اور وہاں مارتے پیٹتے۔ حالات بہت کٹھن ہوچکے تھے۔ عام طور سے روزانہ لوگوں کو لکڑی سے اتنا مارتے کہ وہ ٹوٹ جاتی اور مارنے والی تاریں بکھر جاتیں۔ سب لوگوں کی بیچ میں ایک آدمی کو بٹھا تے اور اُسے مارتے، تاکہ دوسروں کا دل بیٹھ جائے اور اُن کی نفسیاتی حالت خراب ہوجائے۔ ہمارے دوست ہماری آنکھوں کے سامنے مار کھاتے اور ہم اُن کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن اگر کسی دوست میں مار کھانے کے بعد اٹھنے کی ہمت ہوتی، یہی وہ چیز تھی جو اُنہیں شکست دیدیتی۔"

 

 

دعائے توسل اور چائے کی سبیل

داعش کی قید سے رہائی پانے والے اس اسیر نے اپنا دوسرا واقعہ سناتے ہوئے کہا: "ہمیں ہر روز ایک موم بتی ملا کرتی۔ ہم اُس موم بتی کو مغرب کے وقت جلاتے، شاید آدھے گھنٹے یا پون گھنٹے بعد ختم ہوجاتی۔ تہہ خانے میں کھلنے والے تمام دریچوں کو ویلڈ کردیا گیا تھا اور ہم گھپ اندھیرے میں تھے۔ صرف چونکہ اذان کو براہ راست دیتے تھے، ہم اذان سے سمجھ جاتے کہ وقت گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں افراد بیٹھ جاتے اور بہت دھیمی آواز کے ساتھ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے۔ اگر آواز اونچی ہوجاتی اور وہ لوگ سمجھ جاتے، دوبارہ اذیت پہنچاتے۔ یہ سب گزر گیا یہاں تک کہ محرم کے دن آگئے۔ ہمارا مصائب سننے کا دل کر رہا تھا۔ ہمارے دل میں امام حسین (ع) کی عزاداری کی ہوک اٹھی، ہم اُداس تھے۔ ہم نے کہا لوگوں آؤ ،دی جانے والی ان تمام اذیتوں کے باوجود، ہم نیت کریں۔ ہم نے کہا اے سید الشہداء (ع) آپ کا محرم شروع ہوگیا ہے، ہمارا دل یاحسین کہنے کیلئے تڑپ رہا ہے، لیکن ان لوگوں کے سامنے نہیں کہہ سکتے۔ میرے مولا آپ خود ہی کوئی ذریعہ بنادیں۔ شہر کی بجلی کٹ گئی۔ جنریٹر لیکر آئے اور تہہ خانے کے منہ پر لاکر رکھ دیا تاکہ اُس کی آواز اور دھواں ہمیں تنگ کرے، اُس کی تکلیف ہمارے لئے اور اُس کی روشنی اُن کیلئے ہو۔ شروع میں کچھ لوگوں نے اعتراض کیا۔ ہم نے کہا دوستوں! یہ جنریٹر شور کرتا ہے اور یہ لوگ ہماری آواز نہیں سنیں گے اور ہم چند دفعہ یاحسین کہہ سکتے ہیں۔ اُس دن سے ہم نے جنریٹر اسٹارٹ ہونے کے وقت سے دعائے توسل کا آغاز کردیا۔ البتہ فقط اُس کا دھواں ہمیں تنگ کرتا تھا۔ محرم کی تیس راتیں ہم نے یاحسین کہا اور دعائے توسل پڑھی۔

انھوں نے مزید کہا: "صفر کامہینہ شروع ہوا۔ ایک دوست نے کہا: "تم لوگوں کو یاد ہے ہماری مجالس میں جو چیز سب سے پہلے پیش کی جاتی ہے وہ چائے ہوتی ہے؟ میرا چائے پینے کا دل کر رہا ہے۔" میں نے کہا: "اے فلاں شخص تمہارا دل چائے پینے کا کر رہا ہے یا سبیل والی چائے؟" اُس کے رونے کی آواز بلند ہوئی۔ میں نے کہا: "تم لوگوں کا دل سبیل کی چائے پینے کا کر رہا ہے؟تم لوگوں کے پاس پینے کیلئے پانی نہیں ہے۔ ایسے میں تمہارے دل کو چائے چاہئیے؟" اُس رات دعائے توسل کے دوران ہم نے کہا اے سید الشہداء ہمارا دل سبیل کی چائے کیلئے بے چین ہے۔ ہم اُس کے محتاج ہیں، چونکہ اُس پر حسین (ع) اور فاطمہ زہرا (س) کا نام لیا جاتا ہے۔ ہر رات، ہم میں سے دو لوگ  کپڑے دونوں یا صفائی ستھرائی کیلئے جاتے تھے۔ اُس رات میری باری تھی۔ میں نے دیکھا کہ دروازے کی زنجیر کی آواز آ رہی ہے۔ بہت بری زنجیر تھی جسے دروازے پر لگاتے تھے۔ میں دروازے کے پیچھے گیا۔ میں نے دیکھا نگہبان کے ہاتھوں میں ایک کیتلی ہے۔ میں نے کہا: خدایا میرے پاس یہاں پر کیتلی دھونے کیلئے پانی نہیں ہے! مجھے عربی زبان پہ عبور حاصل تھا، لیکن میں نے آزاد ہونے سے دس دن پہلے تک نہیں بتایا تھا۔ اُس نے عربی میں کہا: "پکڑو!" میں اُسے نیچے سے پکڑنا چاہتا تھا کہ اُس نے کہا: "گرم ہے۔" رقت سے میرا گلا بھر گیا تھا۔ میں سمجھ بھی گیا تھا اور سمجھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اُس نے دروازہ بند کیا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ دوستوں کے پاس جاکر کیا کہوں۔ لوگ مجھے ابو زینب کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: "ابو زینب تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟" میں نے کہا: "تمہیں کیا چاہئیے تھا؟ کیا تم نے آج رات نہیں کہا تھا کہ ہمیں چائے چاہئیے؟"میں نے کیتلی کے ڈھکن کو اٹھایا، سب لوگ آدھے گھنٹے تک روتے رہے۔ مگر کیا ایسا ہوسکتا تھا کہ اتنے برے حالات میں کہ کھانا اور پانی نہیں تھا، ان کے دل میں ہمارا خیال آئے اور ہمارے لئے چائے لائیں؟ اس چائے کو مولا نے بھیجا تھا۔"

جناب بیدقی نے اپنے آخری واقعہ کو اس طرح سے سنایا: "امام باقر (ع) کی ولادت  اور شب یلدا (موسم خزاں کی آخری رات)ایک دن پڑ گئی تھی۔ اُس دن احباب بہت اُداس تھے۔ ایک کہہ رہا تھا ہمارے بیوی و بچے کیسی حالت میں ہوں گے؟ آج شب یلدا ہے۔ سب غمگین ہوں گے، اُنہیں ہماری کوئی خبر نہیں، جس طرح ہمیں باہر کی کوئی خبر نہیں۔ میری زینب اور زہرا نامی دو بیٹیاں ہیں۔ میں نے حضرت زہرا  (س) سے توسل کیا۔ میں نے کہا: "بی بی جان، آپ کی بیٹی کا نام زینب ہے، میری بیٹی کا نام بھی زینب ہے۔ اے سید الشہدا، میرے مولا! آپ کی والدہ کا نام زہرا ہے، میں نے آپ کی محبت میں اپنی بیٹی کا نام زہرا رکھا ہے۔" میں بھول گیا تھا کہ مجھے اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے اور اپنے دوستوں کو تسلی دینی چاہیے۔ میں نے کہا: "میرا دل میرے گھر والوں کیلئے اُداس ہوگیا ہے۔ آج کی رات ایک مہربانی کریں۔ ہم یہاں پھنس گئے ہیں۔" خدا گواہ ہے جیسے ہی دعائے توسل ختم ہوئی، پھر دروازے کی آواز  آئی۔ میں دروازے کے پیچھے گیا۔ مجھے ایک کالے رنگ کا شاپر تھمایا گیا۔ ہم وہاں پر12 لوگ تھے، شاپر میں 12 نارنگیاں تھیں۔ کیا جو ہمیں پانی تک نہ دیتا ہو، ہمیں نارنگی پیش کرے گا؟ کسی اور نے بھیجا تھا اور ہم تک پہنچایا تھا۔"

یادوں بھری شام کا خصوصی پروگرام عشرہ فجر کی مناسبت سے، بدھ  11 جنوری 2018ء کو، فانوس ثقافتی گروپ اور صوبہ اصفہان کے آرٹ شعبے کی کوششوں سے اصفہان کے شہدائے بسیج ہال میں منعقد ہوا۔ 



 
صارفین کی تعداد: 256


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔