تین شہیدوں کی یاد میں کتابیں

فاو سے پرواز، یعقوب کی آنکھیں اور جنگ کی فرنٹ لائن

محمد علی فاطمی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-02-05


اس تحریر میں آپ " فاو سے پرواز"، "یعقوب  کی آنکھیں" اور "جنگ کی فرنٹ لائن" نامی کتابوں سے آگاہ ہوں گے۔

 

خدا کی طرف

مہری صادقی نے "فاو سے پرواز: شہید ثقافت حاجی قربانی کی زندگی اور یادوں پر ایک نظر" (ستمبر 1939ء – ستمبر  1986ء) نامی کتاب میں شہید کےگھر والوں، جنگی ساتھیوں اور دوستوں کی یادوں اور باتوں کی بنیاد پر شہید کو متعارف کروایا ہے۔  یہ باتیں ان افراد سے 20 گھنٹوں پر مشتمل ہونے والے انٹرویو سے حاصل ہوئی ہیں۔ 144 صفحات کی کتاب "فاو سے پرواز" سن 2017ء میں مطبوعات سایہ گستر  کے توسط سے جس کا دفتر شہر قزوین میں ہے، شائع ہوئی ہے۔

اس کتاب میں تحریر ہوئی گفتگو  میں آپ شہید کے بیٹے ابو الفضل حاجی قربانی کے نقل کردہ اس حصے کو پڑھیں  کہ: میرے والد پودوں اور حیوانوں  میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ باغ میں، ہمارا ایک تین منزلہ چھوٹا سا کاشانہ تھا کہ جس کے نچلے حصے میں اصطبل بنا ہوا تھا جہاں ہم لوگ چار پایوں کو رکھتے تھے۔ دوسری منزل پہ  بھوسے اور چارے کا انبار تھا اور اُس کی تیسری منزل ہمارے آرام کرنے کیلئے مخصوص تھی۔

ایک دن ہم اپنے والد کے ساتھ اُس کاشانہ  کی صفائی ستھرائی کر رہے تھے کہ ناگہاں ہمیں کاشانہ کی چھت کی طرف سے خش خش کی آواز سنائی دی۔ میں نے اپنی آنکھیں آواز کی سمت لگائیں۔ چھت کی لکڑی پر ایک سانپ آہستہ آہستہ کھسک رہا تھا۔ میں خوف اور ڈر کی شدت کے مارے کپکپاتی آواز کے ساتھ  چلایا اور کہا: سانپ، سانپ!

میرے والد نے بغیر کسی ردعمل کے مجھ سے کہا: اپنا سر نیچے کرو اور کچھ نہیں بولو! یہ سانپ کئی دنوں سے یہاں رہ رہا ہے، اس کو ہم سے کوئی کام نہیں، ہمیں بھی اس سے کوئی سروکار نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی والدہ سے کہہ دو اور وہ ڈر جائیں۔

میں نے خود کو اپنے والد کے پیچھے چھپایا ہوا تھا اور ابھی تک میری آواز خوف کے مارے کپکپارہی تھی، میں نے کہا: جی ابا جان!

کافی عرصے تک جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ سانپ ہمارے کاشانہ میں تھا۔ ہم نے کبھی اس سے کوئی سروکار نہیں رکھا۔ سانپ نے بھی تنگ نہیں کیا۔ میرے والد کسی بھی جانور کو تنگ نہیں کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک بلی نے صحن کے چوزے کو کھالیا تھا۔ میرے والد صرف اُس کی تلاش میں تھے اور وہ بھی اُسے کوئی تکلیف دیئے بغیر۔

ہمارا باغ شہر سے باہر تھا اور وہاں  بہت  تنہائی تھی۔ اسی وجہ سے عام طور پر وحشی جانور جیسے  خنزیر  ہمارے باغ میں آجاتے اور درختوں اور اُگائی گئی چیزوں کو نقصان پہنچاتے، لیکن ہمارے والد کہتے: ہمیں ان جانورں کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

میرے والد کہتے: خنزیر شور شرابہ سے ڈرتا ہے۔سوکھے دودھ کے ڈبے میں کچھ پتھر ڈال کر ہلاؤ تا کہ خنزیر بھاگ جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو تم اُنہیں تنگ کرنے لگو۔

ہم بھی یہی کام انجام دیتے اور خنزیر بھاگ جاتے۔"

 

پس میں اور شہید رضا ایک شہر کے رہنے والے تھے ․․․

سن 2017ء میں شائع ہونے والی کتابوں میں سے ایک "مدافعین حرم8: یعقوب کی آنکھیں؛ شہید رضا کارگر برزی" (23 جولائی ، 1979ء – 2 اگست 2013ء) نامی کتاب ہے۔ اس کتاب کو شہلا پناہی نے محمد قاسمی پور کی رہنمائی میں لکھا ہے اور مطبوعات روایت فتح نے اس کتاب کو 120 صفحات  پر شائع کیا ہے۔

شہید کے گھر والوں اور ساتھیوں کے توسط سے بیان ہونے والے واقعات اس طرح سے جمع ہوئے  اور تشکیل پائے ہیں کہ متن کو روایت کرنے والے شہید کے والد بزرگوار ہیں؛ وہ یاد داشت اور آج کل (اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد)خود دیکھنے  والی باتوں کے بارے میں بھی بیان کرتے ہیں اور انھوں نے دوسروں سے بھی سنا ہے اور انھوں نے جن دوسروں کی روایتوں کو پڑھا ہے  وہ ان کے بیٹے سے متعلق ہیں۔ ان واقعات کے ایک حصہ میں آیا ہے: "نظر آباد، 2013  میں موسم خزاں میں جب ہم ایران واپس لوٹے، کچھ دنوں تک مہمانوں کا آنا جانا لگا رہا۔ ایک دن دوپہر کے وقت جب لوگوں کا آنا جانا کم ہوچکا تھا محمد رضا نے فون کیا۔ اُس نے سلام کرنے اور خیریت دریافت کرنے کے بعد کہا: "ابو جان قرار ہے کہ ایک خصوصی مہمان آپ سے اور محترمہ  سے ملنے کیلئے آئے ۔ کیا آج ایسا ہوسکتا ہے؟" میں نے کہا: "ہاں، میری جان، اُن کے قدم مبارک ہوں۔" ٹیلی فون کے بعد میں باورچی خانے میں زوجہ محترمہ کی طرف گیا اور کہا: "چائے چڑھا دو مہمان آنے والے ہیں۔" اُس نے مسکراتے ہوئے کہا: "رضا کا کوئی دوست ہے؟" میں نے کہا: "محمد رضا نے فون کیا تھا؛ لیکن کچھ کہا نہیں۔ صرف یہ کہا ہے کہ خصوصی مہمان آ رہے ہیں۔"

میں نے ایک کیبنٹ پر ہاتھ رکھ کر ٹیک لگائی۔ میں نے کہا: "اگر پذیرائی کا سامان سیٹ کرنے کیلئے تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے تو میں آجاؤں؟" محترمہ نے مجھے ڈشوں کا  ایک سیٹ تھما دیا اور کہا "انہیں ٹیلی فون والی میز کے کنارے رکھ  دیں۔" میں باورچی خانے سے باہر آنا چاہتا تھا، میں نے رضا کی تصویر پر ایک نگاہ ڈالی۔ کبھی دوپہر کے وقت جب اُس کے پاس تھوڑا وقت ہوتا، وہ باورچی خانے کے سامنے والی جگہ پر آکر بیٹھ جاتا اور کہا کرتا: میں صرف چکر لگانے اور آپ کی خیریت دریافت کرنے آیا ہوں۔ کبھی وہ اتنا تھکا ہوتا کہ اپنی ماں کے چائے تیار کرنے تک، اپنے سر کو دیوار پہ ٹکا دیتا اور آنکھوں کو بند کرلیتا۔ میں اُس کے شانوں پر ہاتھ پھیرتا اور کہتا: رضا، بابا کی جان تم کتنا تھک گئے ہو! وہ ہنستے ہوئے کہتا: نہیں، تھکا ہوا نہیں ہوں۔ میرا دل چاہ رہا ہے آپ کو اور امی کو دل بھر کر دیکھوں۔ اب وہ دن ہیں جب ہم انتظار کر رہے ہیں کہ رضا ایک دفعہ پھر آجائے اور ہمیں اُسے دل بھر کر دیکھنے کا موقع مل جائے۔

جیسے ہی گھر کے دروازے پہ لگی گھنٹی بجی، مجھے محمد رضا کی بات اور خصوصی مہمان کا آنا یاد آیا۔ میں صحن کی طرف گیا اور دروازہ کھولا۔ میری زوجہ بھی خوش آمدید کہنے کیلئے دروازے کے سامنے بنی بالکونی تک آگئیں۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، میں ایک لحظہ کیلئے ساکت ہوگیا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ حاج قاسم (سلیمانی) رضا کے چند دوستوں کے ساتھ ہم سے ملنے آئے ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے انہیں گھر کے اندر آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے بھی میری دعوت کو قبول کرلیا اور گھر کے اندر تشریف لے آئے۔

وہ اتنی عاجزی اور مہربانی کے ساتھ ہماری احوال پرسی کر رہے تھے کہ مجھے شرمندگی کا احساس ہونے لگا۔ مجھے پتہ تھا اتنی زیادہ مصروفیت کے ساتھ اُن کیلئے اس طرح کی ملاقات کرنا کتنا دشوار ہے؛ لیکن خندہ پیشانی اور بھرپور محبت کے ساتھ آئے تھے تاکہ ہماری دلجوئی کریں۔ میرے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ سب سے بڑا کمانڈر ہم سے ملنے آیا ہے۔ ہم نے مختصر گپ شپ لگائی۔ محمد رضا ناصری بھی ان کے ساتھ تھے اور وہ رضا کے اخلاق، اُس کے کام اور اُس کے اندر جو مہارت تھی، انجام پانے والے کاموں کی پیشرفت، رضا کے بچوں اور گھر والوں کے ساتھ حاج قاسم سے بات کر رہے تھے۔ باتوں کے درمیان رضا کے مزار کی جگہ کی بات آئی۔ میں نے اُن سے کہا: "نظر آباد کے گلزار شہداء میں ہے۔" جب اُنہیں پتہ چلا کہ گلزار  شہداء تک زیادہ فاصلہ نہیں ہے، انھوں نے مجھ سے اُن کی قبر تک ساتھ چلنے کی درخواست کی۔ میں نے بھی خوشی خوشی قبول کرلیا۔

ہم سب ملکر گلزار شہداء میں رضا کی قبر پر گئے۔ وہاں پر حاجی نے ہم سے بہت زیادہ بات چیت کی۔ انھوں نے رضا  کی استعداد کے بارے میں بتایا اور وہ کوشش کر رہے تھے کہ ہماری دلجوئی کریں۔ انھوں نے اپنی باتوں کے دوران پوچھا: "یہ جو آپ کے خاندانی نام میں برزی لگتا ہے یہ کرمان سے مربوط ہے؟" میں نے کہا: "ہاں۔" انھوں نے کہا: " پس میں اور شہید رضا ایک شہر کے رہنے والے تھے۔ اُس نے مجھ کچھ کیوں نہیں بتایا؟" اُن کے ساتھ آنے والے ایک شخص نے کہا: "یہ رضا کی تاکید تھی کہ آپ کو  کچھ نہ بتائیں۔ "

کچھ تصویریں کھینچیں۔ رضا کا ایک افسر جو حاج قاسم کے ساتھ تھا، اُس نے کہا: "ایک جلسہ میں ہم فوجیوں کو ٹریننگ دینے پر تاکید کر رہے تھے۔ رضا بمبوں کو ناکارہ بنانے کی ٹریننگ دینے والے ماہر اور استاد کے عنوان سے متعارف ہوا۔ رضا کے کام میں مہارت اور خلاقیت بہت زیادہ تھی۔ وہ بہت آسانی سے کسی بھی چیز کو دھماکہ خیز مواد بنانے کیلئے استعمال کرلیتا یا مہارت کے ساتھ مختلف بچھائے گئے جالوں کا کھوج لگا لیتا، ناکارہ بنائے جانے والے بمبوں کا بہت دقت سے جائزہ لیا تاکہ پتہ چلے دشمن کن چیزوں سے استفادہ کر رہا ہے۔ اس طرح بھی ہوا کہ ہم نے اُسی ناکارہ بمب  کو ایک مرتبہ پھر دشمن کے خلاف استعمال کیا۔ رضا علاقائی فوجیوں کی ٹریننگ پر زور دیتا تھا۔ ہم نے اس کام کے ایک ماہر شخص کو کھو دیا ہے۔"

محمد حسن خلیلی، گندمی صورت اور لمبے قد کا ایک جوان لڑکا جو جناب ناصری کے ساتھ کھڑا ہوا تھا جو رضا کے جانشین کے عنوان سے متعارف ہوا۔ میں نے محمد حسن کو شہداء کے معراج پر جانے والے دن اور تشییع جنازے کی تقریب میں کئی بار دیکھا تھا۔

حاج قاسم نے اپنے عہدے اور منصب کی اعتناء کئے بغیر ہمیں مورد محبت و نوازش قرار دیا۔ اُس دن ہونے والا یہ واقعہ باعث بنا کہ میں رضا کے راستے اور ہدف کے صحیح ہونے پر اور زیادہ ایمان لے آیا۔ ایسے کمانڈر کا وجود جو ایمان اور خلوص کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو اس بات کی علامت تھی کہ اس زمانے کے علی کی رکاب میں مظلوموں کی حمایت کرنے کیلئے ابھی مالک اشتر جیسے لوگ موجود ہیں۔ میں اس بات پر خدا کا شکر بجا لا رہا تھا کہ رضا ایسے کمانڈر کا فوجی  تھا۔"

 

روزانہ لکھے جانے والے نوٹس اور خطوط

"جنگ کی فرنٹ لائن:ایران میں میزائل یونٹ کی تشکیل پر ڈاکومنٹری روایت، شہید حسن طہرانی مقدم کی زندگی کے محور پر" (29 اکتوبر 1959ء – 12 نومبر 2011ء) نامی کتاب کو فائضہ حدادی نے محمد حسین پیکانی کی تحقیق  کی بنیاد پر لکھا اور مطبوعات منظومہ شمسی نے اسے 584 صفحات پر شائع کیا ہے۔ کتاب کے مشخصات کی بنیاد پر، اس کتاب کے پہلے ایڈیشن  کا تعلق سن 2015ء سے ہے، لیکن کتاب کے مؤلف نے ابھی کچھ دنوں پہلے ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کو ایک نسخہ دیا ہے۔ البتہ یہ کام اُس موقع پر انجام پایا جب دفاع مقدس کی بہترین سالانہ کتاب کے طور پر انتخاب ہونے والی کتاب کے نتائج کے سلسلے کا 17 واں دورہ، 23 جنوری 2018ء کو تھااور ہم اس بات سے باخبر ہوئے کہ اس دورے میں "جنگ کی فرنٹ لائن" نامی کتاب نے ججوں کی  نظر میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔

اگرچہ کتاب کے مکمل عنوان میں ایک داستان کی روایت کی عبارت لکھی ہوئی ہے، لیکن وہ نکات جو کتاب کے مقدمے میں آئے ہیں، وہ کچھ اور کہہ رہے ہیں اور وہ اس کتاب کے تشکیل پانے کے طریقہ کار میں قابل توجہ ہیں:

۔ یہ کتاب حسن طہرانی مقدم کی زندگی کے درمیانی راستے کا مستند حصہ ہے۔ تالیفات کے خوابوں اور خیال پردازیوں سے دور۔  اگست 1981ء سے لیکر  جنوری 1987ء تک۔ ایسا زمانہ جو اتفاق سے حوادث اور پیچیدہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے۔

۔ بہت سے واقعات اور مدارک جو اس کتاب کی تالیف کا مبنی قرار پائے ہیں، وہ پہلی بار سامنے آئے ہیں اور ابھی تک کہیں شائع نہیں ہوئے ہیں۔ دستاویزات کی جمع آوری اور اس کتاب کا تحقیقی سفرشہید طہرانی مقدم کے حیات کے زمانے اور خود اُن کے شوق دلانے پر شروع ہوا۔ اس کتاب میں موجود تمام واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور ممکنہ حد تک اُنہیں اس کے مطابق لکھا گیا ہے۔

۔ کتاب کے تمام حصوں میں کوشش کی گئی ہے  مختلف افراد خاص طور سے شہید کی زوجہ کے توسط سے روزانہ لکھے جانے والے نوٹس سے جو باقی رہ گئے ہیں، استفادہ کیا جائے،  لیکن وہ باتیں جو شام اور شمالی کوریا میں  رونما ہوئیں اُنہیں خود شہید طہرانی مقدم کے روزانہ لکھنے جانے والے نوٹس سے لیا گیا ہے۔ لہذا یہ حصے مدارک کے لحاظ سے اور حقیقت سے قریب ہونے میں بہت معتبر  ہیں۔ خطوط کا متن اور شخصی یادداشتیں دستاویزات کی لکھی جانے والی روح کو محفوظ کرنے کیلئے  بغیر کسی تبدیلی، حذف اور ترمیم کے بالکل اُسی طرح نقل ہوئی ہیں۔ بعض موارد میں بھی تائید اور دستاویزات  کے طریقہ کی پیشرفت کیلئے، سن 1984ء سے لیکر  1986ء تک جناب ہاشمی رفسنجانی کی روازنہ لکھی جانے والی باتوں کے مربوط حصے کو، ایک معتبر ترین موجود تحریری اسناد کے طور پر، انتخاب کیا ہے اور اُسے بغیر کسی تبدیلی کے استعمال کیا ہے۔

۔ کچھ وہ حصے کہ بعض لوگوں کی تعبیر کے مطابق جس نے کتاب کو دلچسپ بنا دیا ہے، وہ خطوط ہیں جو شہید طہرانی مقدم اور اُن کے زوجہ کے درمیان کتاب کی تحقیق کے زمانے میں رد و بدل ہوئے اور اُنہیں اسی طرح کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔

۔ ہم نے اپنی تحقیق کا پہلا قدم سن 2005ء میں اور سردار شہید حسن طہرانی مقدم کے شوق دلانے اور حمایت سے اٹھایا۔ اُس زمانے میں ہمارا ہدف میزائل دفاع کے دوران کی یادداشتیں اور دستاویزات کو جمع کرنا تھا۔ جب ہم نے کام شروع کیا، تو ہماری تحقیق کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہم تاریخ کا جائزہ پیش فرض کے طور پر لیتے تھے ، لہذا ہمیں ایسے افراد سے رجوع کرنا تھا جو اُس زمانے اور  اُس تاریخی واقعہ میں موجود ہوں اور ہم نے اُن کے ساتھ انٹرویو کئے۔  واقعات کا انٹرویو کے زمانے سے طولانی فاصلہ ہونے کی وجہ سے ، ہمیں بعض ایسے موارد کا سامنا ہوا جن میں اُن کی باتیں جزئیات کے مطابق نہیں تھیں، اس مشکل کو برطرف کرنے کیلئے  ہم ٹیکنیکل اور بار بار انٹرویو لینے پر مجبور ہوئے تاکہ اصلی بات تک پہنچ جائیں۔ کچھ کھلے موارد میں بھی  تضاد برطرف نہیں ہو پایا، اس وجہ سے ہم مجبور ہوئے  پیش فرض کے طور پر جائزہ لینے اور تکمیلی انٹرویو انجام دینے کے ساتھ ساتھ، دستاویزی اور لائبریری جائزہ کو بھی اپنی تحقیق میں اضافہ کریں۔ آخر میں دفاع مقدس کے دوران میزائل پھینکنے والے یونٹ کے مدارک، جنگ کے زمانے کے اخبار، اسلامی جمہوریہ ایران کی نیوز ایجنسی کے مدارک،  دفاع مقدس کے دوران چھپنے والی کتابیں،  اقوام متحدہ کے مدارک، جنگ کے اعداد و شمار، تصویری فائل، ہاتھ سے لکھے جانے والے نوٹس اور خطوط وغیرہ ایسے منابع میں سے ہیں جو مورد تحقیق قرار پائے۔ 23 نومبر 2010ء والے دن ہم نے سردار حسن طہرانی مقدم کے ساتھ ایک مکمل اور کامل انٹرویو انجام دیا۔ کچھ عرصہ بعد ہم اُن سے دوبارہ انٹرویو کیلئے وقت لینے کے درپے تھے کہ وہ 12 نومبر 2011ء کو اپنی دیرینہ خواہش یعنی درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔ اس کتاب کی تالیف میں پچاس سے زیادہ لوگوں سے مفصل اور گہرائی کے ساتھ  انٹرویو لیا گیا۔ بعض موارد میں انٹرویو مکمل کرنے، نقائض اور ابہامات دور کرنے  کیلئے بعض لوگوں سے 20 سے زیادہ دفعہ انٹرویو لیا گیا۔

یہ نکات کتاب سے آگاہی اور اُن کے پڑھنے کا شوق دلانے کیلئے کافی ہیں، بالخصوص یہ کہ شہید طہرانی مقدم کی روازنہ لکھی جانے والی باتوں سے استفادہ ہوا اور  تحریر میں بھی واضح طور پر قاری  کی رائے کو اپنی طرف جذب کر رہا ہے۔ 



 
صارفین کی تعداد: 416


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں