زبانی تاریخ (ایران) :: دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – دسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات


کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-01-20


تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد دریچہ کھلا اور ایک ناشپاتی اور ایک جلی ہوئی سگریٹ میرے ہاتھ میں تھما دی۔ یعنی مجھے سمجھ لینا چاہئیے تھا کہ ماچس بالکل ممنوع ہے۔ اُس کے فوراً بعد، دروازہ کھولا اور سفید لباس میں ایک مرد اندر داخل ہوا۔ اُس نے بغیر کسی وقفے کے انگریزی میں پوچھا: - تمہیں ڈاکٹر چاہیے تھا؟ کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟ دروازہ کھلنے کی حکایت رحمت تھی، میں نے کہا: - میری کم میں درد ہو رہا ہے۔ اُس نے معمولی سے معائنے کے بعد کہا: - میں نے تمہاری لئے گولیاں لکھ دی ہیں کہ روزانہ تین کھانی ہیں۔ کھانے کے بعد کمپاؤڈر تمہارے لئے لے آئے گا۔ تمہیں اُس کے سامنے گولی کھانی ہوگی۔ کسی اور بات کی گنجائش نہیں تھی۔ وہ چلا گیا اور دروازے کو بند کردیا گیا۔ اگلے دن جب کھانا اور چائے لایا گیا، میں نے آوازوں کو صحیح سے گنا۔ تقریباً بیس دفعہ دریچہ بند ہونے کی آواز سنائی دی گئی۔ دوسری رات تھی اور تھکاوٹ کی وجہ سے مجھے بہت جلدی نیند آگئی۔ آدھی رات کے وقت شکنجے ہونے والے کی چیخ و پکار کی آواز نے مجھے نیند سے بیدار کردیا۔ میں کانوں کو دروازے کے نیچے لگایا، کبھی کوڑنے مارنے کی آواز اور کبھی زور دار تھپڑ کی آواز کانوں میں آ رہی تھی۔ بہت قریب سے آواز آرہی تھی، مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید راہرو میں ہو۔ آدھے گھنٹے بعد، پورے ماحول پر ایک پرسکون خاموشی چھا گئی۔ میں دوبارہ لیٹ گیا۔ آہستہ آہستہ اُجالا پھیلنے لگا، میں نماز پڑھنے کیلئے اٹھ گیا۔ لیکن افسوس کے ساتھ مجھے صحیح سے پڑھنی نہیں آتی تھیں۔ چونکہ میں ایران میں نماز نہیں پڑھتا تھا۔ میں نے وضو کیا اور راز و نیاز کرنے لگا۔ میں نے خدا سے اپنے گناہوں اور لغزشوں کی مغفرت طلب کی کہ وہاں مجھے اُن کے بوجھ کا زیادہ احساس ہو رہا تھا۔ میں نے اپنے گھر والوں، امام خمینی، اسلام کے مجاہدین اور کامیابی وغیرہ کیلئے دعا مانگی۔ گرفتار ہونے والے دن سے مجھے بہت زیادہ افسوس کا احساس ہو رہا تھا۔ میرا دل چاہ رہا تھا میں ایک دفعہ پھر آزاد ہوجاؤں تاکہ جنگ کے میدان میں داخل ہوسکوں اور کوئی کارآمد کام انجام دوں۔ میں دعا مانگتا کہ خداوند متعال ایسے حالات مہیا کردے کہ جنگ اُس کے شروع کرنے والے کیلئے بدبختی اور سرنگونی کا باعث ہو اور ہمارے ملک کا اتحاد قائم رہے۔ بہت زیادہ صلوات پڑھا کرتا۔ البتہ مجھے پتہ تھا کہ میں پوری نماز کو صحیح سے نہیں پڑھتا ہوں، لیکن افسوس کی بات یہ تھی کہ میں کسی سے رابطہ نہیں کرسکتا تھا تاکہ اُس سے پوچھ لوں۔ یہ فکر مجھے بہت تڑپا رہی تھی۔ یہاں تک کہ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا میں نماز پڑھ رہا ہوں، لیکن صحیح سے نہیں پڑھ رہا ہوں۔ جب میں نے سجدہ سے سر اٹھایا، کسی نے پیچھے سے مجھ پر دباؤ ڈالا اور مجھے دوبارہ سجدے کی حالت میں لے آیا اور کہا: "․․․ چونکہ نماز غلط پڑھ رہے ہو، ہر سجدے میں، ذکر کے بعد، 33 مرتبہ صلوات پڑھو!" اور اُس کے بعد سے ، میں یہی کام کیا کرتا! اگلے دن ناشتہ کیلئے میرے پیالہ میں ایک ڈوئی سوپ ڈالا اور پھر دوائی لائے۔ ناشتہ کے بعد نگہبان نے دروازہ کھولا اور اشارے سے کہا: ادھر آؤ۔ میری آنکھوں پر پٹی باندھی، میرےہاتھوں کو پکڑا اور دو دفعہ چکر لگانے کے بعد، ہم لفٹ میں سوار ہوگئے اور کچھ منزلیں نیچے کی طرف گئے۔ مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور ایک کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ ایک آدمی نے انگریزی زبان میں کہا: "اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹاؤ!" زمین کے نیچے تہہ خانوں کے تیسرے یا چوتھے طبقہ پر ایک کمرا تھا؛ اُس کے فرش پر کارپٹ بچھا ہوا تھا اور کچھ کرسیاں اور دو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ جو میز کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، اُس نے کہا: - یہ ہسپتال ہے یہاں تمہارے ساتھ مہمانوں کی طرح سلوک کریں گے۔ تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ اس کے باوجود کہ مجھے ہسپتال کے لفظ سے تعجب ہوا تھا، لیکن میں نے اس کا اظہار نہیں کیا اور آرام سے جواب دیا: - میری کمر میں درد ہے اور جو گولی مجھے دی جا رہی ہے، اُس کا اتنا اثر نہیں ہے۔ اگر ممکن ہو تو میری کمر کا ایکسرے کرایا جائے۔ جیسے وہ اپنی ہمدردی کے احساس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، وہ بولا: - بہت اچھا! لیکن پہلے ہمارے پاس کچھ سوالات ہیں کہ تمہیں اُن کے جواب دینے ہوں گے۔ سوالات میرے کوائف، پیشہ، سن و سال، بچوں کی تعداد، ڈیوٹی انجام دینے والا بیس، جہازوں، ایران میں موجود اینٹی ایئر کرافٹس وغیرہ کے بارے میں تھے کہ میں نے وہی پہلے والے جواب دیئے۔ وہ بولا: - بہتر ہوگا کہ تم جان لو ہمیں ان تمام باتوں کا علم ہے! - اگر علم ہے ، تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ کوئی جواب نہیں دیا، ایک دوسری بات چھیڑ دی اور کہا: - کیا تمہیں پتہ ہے ہم تمہاری سرزمین پر ہیں اور ہم نے اپنے فوجی سپاہیوں کے ذریعے تمہارے کئی شہروں پر قبضہ کرلیا ہے؟ مجھے معلوم تھا، اس حال میں بھی اُس کی باتوں نے میرے سینے میں آگ لگا دی اور میرے دل میں جیسے کوئی چیز ٹوٹ گئی ہو، لیکن میں خود پر کنٹرول کر سکتا تھا، میں نے کہا: - یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔ تمہارا اصلی کام تجاوز کرنا ہے اور مجھے اطمینان ہے کہ تمہارا یہ قبضہ زیادہ دنوں تک نہیں رہے گا۔ اُس نے جواب دیا: - تم لوگوں نے سرحدی حرمتوں کا خیال نہیں رکھا، ہم نے بھی تم پر حملہ کردیا۔ خدایا! یہ لوگ کتنے گھٹیا اور گرے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: - کم سے کم تم لوگوں میں اتنا تو انصاف ہوگا کہ تم لوگ حملہ شروع کرنے کا اقرار کرلو، لیکن تم لوگوں کو خود پتہ ہے کہ بالآخر ایرانی فوجی تم لوگوں کو ناکام کردیں گے۔ جب تک تخت پہ شاہ بیٹھا ہوا تھا، تم لوگوں نے جنگ نہیں کی، لیکن جیسے ہی تم لوگوں نے ملک کو انقلاب کے بعد کے حالات میں دیکھا، تم لوگوں نے موقع سے غلط فائدہ اٹھایا۔ تم مطمئن رہو کہ حالات اسی طرح باقی نہیں رہیں گے۔ اُس کے پاس دینے کیلئے کوئی جواب نہیں تھا۔ اُس نے دوسری ٹہنی پر چھلانگ لگائی اور کہا: - ہم اس وقت صلح کرنا چاہتے ہیں اور ہم نے بین الاقوامی اداروں کو بھی بتا دیا ہے۔ جنگ اچھی چیز نہیں ہے، لیکن ایران صلح کرنے پر تیار نہیں ہورہا۔ کیا تم تیار ہو کہ ریڈیو پر جاکر ایرانی عہدیداروں سے صلح کرنے کیلئے کہو؟ میرے منھ میں "ٹوکرے اور چارے"والا محاورہ آیا، میں نے کہا: تم لوگ خود اعتراف کرتے ہو کہ تم نے ہماری زمین پر قبضہ کیا ہے اور اب صلح کرنا چاہتے ہو؟! اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا، کیا تم لوگ صلح کو قبول کرتے؟ اگر تمہیں اپنی باتوں پر یقین ہے اور واقعاً صلح کرنا چاہتے ہو، ہماری سرزمین سے چلے جاؤ، جنگ خود بخود ختم ہوجائے گی۔ اس نے ریڈیو والی بحث کو پھر بھی جاری رکھا۔ میں نے کہا: "میں کسی بھی صورت میں ریڈیو پر بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں۔" اُس نے ایسا چہرہ بنایا کہ خود تعجب میں ہے اور میں غلطی پر ہوں، اُس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: - ․․․ حتی اگر ہم تمہیں مجبور بھی کریں۔ میں نے فوراً اُس کی پہلی والی بات کو دہرایا: - لیکن تم نہیں کہہ رہے تھے ہم تمہارے مہمان ہیں؟ بہرحال اس بحث میں کئی گھنٹے لگ گئے ․․․ جب میں اپنے کمرے میں واپس جا رہا تھا، میں نے آنکھوں پر بندھی پٹی کے نیچے سے، اطراف پر اچھی طرح نظر دوڑائی۔ یہ قسمت اور موقع، مجھے نگہبان کے پٹی باندھتے وقت دھیان نہ دینے کی وجہ سے ملا تھا۔ بہت لمبی راہرو تھی کہ جس کے دونوں اطراف میں کوٹھڑیوں کی ردیف تھی۔ شاید ہر ردیف میں چالیس کوٹھڑیاں تھیں۔ راہرو کے بیچ میں ایک کرسی نظر آرہی تھی جس پر ایک نگہبان بیٹھا ہوا تھا۔ 18 نمبر کوٹھڑی کے سامنے ہم روکے، مجھے کمرے میں داخل کرکے دروازہ بند کردیا۔ میں نے ٹائم دیکھا، شام کے چار بج رہے تھے۔ کمرے میں ایک سگریٹ کا پیکٹ، ایک صابن اور دو روٹیاں رکھی ہوئی تھیں۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد، ٹرالی کی آواز سنائی دی اور رات کے کھانے کیلئے کھڑکی کھلی۔ سالن کے نام پر ایک کھانا، لیکن حقیقت میں وہ رنگین گرم پانی تھا! میں نے روٹی کو اس کے اندر چورا، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا ایک ساتھ کھالیا۔ کھانا کھانے کے بعد میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، نگہبان آیا۔ میں نے اشارے سے اُسے ماچس دینے کا کہا۔ اُس نے اپنی جیب سے ماچس نکال کر مجھے دی۔ وہ میرے سگریٹ جلانے کے انتظار میں کھڑا ہوگیا۔ میں نے جلدی سے، ماچس کی کچھ تیلیاں نکال لیں پھر سگریٹ چلانے کے بعد باقی ماچس اُس کو دیدی۔ جیسے ہی دریچہ بند ہوا میں نے تیلیوں کو جوتے میں رکھ لیا۔ میں نے ایک دفعہ پھر کمرے کا جائزہ لینا شروع کیا، شاید کچھ مل جائے، لیکن کچھ بھی نہیں تھا۔ میں بیٹھ گیا اور دیوار کے کونے میں تاریخ کا ایک ٹیبل بنایا کہ اگر اتفاق سے گھڑی کھو جائے تو مجھے تاریخ کا پتہ ہو۔ میں دعا اور عبادت میں مصروف ہوگیا۔ جب کہ مجھے ہر چیز سے زیادہ آرام کرنے کی ضرورت تھی، لیکن میرا بہت دل چاہ رہا تھا کہ مجھے حالات کے بارے میں پتہ چلے۔ آدھی رات گزر چکی تھی کہ ایک دفعہ پھر کوڑے مارنے اور شکنجے ہونے کے سبب اٹھنے والی چیخ و پکار کی آواز آنے لگی۔ آواز بہت قریب سے آرہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کسی کو راہرو میں کوڑے مار رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد، ایک بہت ہی ضعیف شخص کی تڑپتی ہوئی آواز جیسے وہ کسی کونے میں گرا ہوا ہو ، دل سے اٹھنے والی فریاد کی طرح بلند ہوئی۔ میری کوٹھڑی ٹھنڈی تھی۔ میں نے روشندان کو تھوڑا سا بند کیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ سونے کیلئے ایک کمبل بھی کافی نہیں تھا۔ اگلے دن ظہر کے بعد، مجھے دوبارہ تفتیش کیلئے لے گئے۔ ہم اُسی راستے اور لفٹ سے گزر کر ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ تفتیش کرنے والا کوئی دوسرا شخص تھا۔ اس دفعہ سوالات زیادہ تر انقلاب سے پہلے اور بعد میں ملک کی صورت حال کے بارے میں تھے۔ تفتیش کرنے والے کی طرف سے پوچھی جانے والی باتوں میں سے یہ سوال تھا کہ اُس نے بہت تعجب سے کہا: - تم نے (امام) خمینی سے کیا اچھائی دیکھی ہے جو اُسے پسند کرتے ہو اور اتنی زیادہ اُس کی حمایت کرتے ہو؟ شاید اُسے نہیں معلوم تھا کہ اُس کے سوال میں ایک خوبصورت اعتراف چھپا ہوا ہے۔ میں نے جواب دیا: - کیا ملک کی آزادی حاصل کرلینا، اجنبیوں کو باہر نکال دینا، خیانتدار شاہ کو باہر نکالنا، فساد کے مراکز کا بند ہوجانا اور اسلامی حکومت قائم ہوجانا، کافی نہیں ہے؟ ان سب باتوں کے علاوہ، امام ایک مجاہد عالم اور عظیم الشان مرجع ہیں اور ایران کے زیادہ تر لوگ شیعہ ہیں اور بغیر کسی چون و چرا کے ان کی تقلید کرتے ہیں۔ شاید آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ امام لوگوں کے دل میں رہتے ہیں۔ اصلی بات کو ماننے یا سمجھنے کی چاہت کے بغیر، اُس نے کہا: - ... تم تک اسلام ہمارے ذریعہ پہنچا ہے، اب ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے ہو؟ کچھ اور موارد کے بارے میں بھی باتیں ہوئی اور آخر میں اُس نے پوچھا: - کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟ - اگر ممکن ہو تو مجھے کمرے میں ایرانی دوستوں کے ساتھ رکھا جائے۔ - فی الحال تو ممکن نہیں۔ - اگر ہوسکے تو مجھے ایک انگریزی اخبار، کتاب، کاغذ اور قلم دیا جائے۔ - کتاب نہیں دے سکتے، لیکن باقی چیزیں تمہیں مل جائیں گی۔ اگلے دن، ایک انگریزی اخبار لائے۔ اُس پہ لکھا تھا عراق ہماری سرزمین پر ہے اور ہمارے چند شہروں پر قبضہ کرلیا ہے اور اُن کی فوجی خبریں، ہمارے چند طیارے مار گرانے اور شہروں پر بمباری کی خبر دے رہی تھیں۔ اس دو صفحے کے اخبار کی تمام باتوں کو میں نے کئی مرتبہ پڑھا۔ پھر ایک صفحہ کو دستر خوان کے طور پر اور دوسرے صفحہ کو صابن کے نیچے رکھنے کیلئے استعمال کیا۔ کچھ دنوں بعد، نگہبان نے دریچہ کھولا اور صابن کے نیچے رکھا اخبار لے لیا۔ کوٹھڑی پر ایک نگاہ دوڑائی اور کہا: باقی حصہ بھی دو! دراصل میں اُسے دستر خوان کے طور پر استعمال کر رہا ہوں۔ جاری ہے ...

 
صارفین کی تعداد: 322


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں