تنہائی والے سال – آٹھواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-11-29


وہ مسلسل بغیر کسی وقفے کے بولے جا رہا تھا اور کہانی بنائے جا رہا تھا، آخر میں اس نے اپنی بات کو فاتحانہ انداز میں آگے بڑھایا:

ہم ابھی تہران کے نزدیک ہیں، بہت جلد وہاں قبضہ کرلیں گے، امام خمینی کا تختہ الٹ جائے گا اور سب کی جان اس سے چھوٹ جائے گی!

مجھے اس کی باتوں سے تکلیف ہو رہی تھی؛ اس جہالت، ظلم، جھوٹ اور تحریف  پر تُف ہو، خدایا، تیرے نام سے شروع کرتا ہوں، میں نے کہا:

- امام خمینی کی حکومت الٰہی حکومت ہے۔ صرف میں ہی نہیں تمام عوام ان کی پیچھے کھڑی ہے۔ آیا تم لوگوں نے احتجاجی مظاہروں میں عوام کی شرکت کے بارے میں دیکھا اور  سنا نہیں ہے؟

آخر اس کا تصور بھی کس طرح کیا جاسکتا ہے کہ ایرانی  عوام کے مضبوط اتحاد کے ہوتے ہوئے تم لوگ حکومت کا تختہ اُلٹ دو؟طبس میں امریکہ کے ناکام حملے کو بھول گئے ہو کہ  کس طرح طوفان کے ذریعے پروردگار کی قدرت ظاہر ہوئی اور ان سب کو نیست و نابود کردیا؟ بغداد کے عیاشی کے اڈے بین الاقوامی سطح پر شہرت رکھتے ہیں، اس کے باوجود تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہو؟ کیا  ...

مترجم نے میری بات کاٹی اور سوال کیا:

- تم خمینی کے پاسدار (سپاہی) ہو؟

میں نے کہا:

- میں حق بات کر رہا ہوں،  ابھی ہمارے علاوہ اور کوئی یہاں نہیں ہے جو میں حکومت کی حمایت کسی غرض کی خاطر کر رہا ہوں۔ تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہو جبکہ تمہارا ملک فحاشی سے بھرا ہوا ہے، تم لوگ خود کو مسلمان سمجھتے ہو، جس کا اظہار تم لوگوں کے قیدیوں کے ساتھ رویے سے ہو رہا ہے! ڈاکٹر نہ لانے سے لیکر آنکھوں پہ پٹی باندھنا اور ہتھکڑی باندھ کر تفتیش کرنا!

اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا:

- کیا تم  بھول گئے ہو تم یہاں قیدی ہو اور ممکن ہے اپنی ان باتوں کے سبب تمہیں اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے!

میں اپنی بات کرچکا تھا۔ میں نے کہا:

- تم لوگوں سے کچھ بعید نہیں ہے!

اچانک میرے دونوں گالوں پہ  زوردار تھپڑ لگائے گئے اور نوک دار جوتوں سے میرے گھٹنوں کے نیچے چند ٹھوکریں لگائی گئیں۔

میں ڈگمگایا اور لڑکھڑاتا ہوا دیوار سے ٹکرایا۔ میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہونے کی وجہ سے کسی بھی وقت میرے بدن پر کسی بھی جگہ مارے جانے کا احساس خود مار کھانے سے زیادہ تکلیف دہ  تھا۔

جیسے کہ وقت رُک گیا ہو۔ میں کسی بھی چیز کے ارادے کا تصور نہیں کر پا رہا تھا، سوائے اس کے کہ خود کو خدا کے سپر کردوں، جو میں نے کردیا تھا!

بالآخر کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا، میں اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہوگیا۔ ایک جگہ اس نے میرے کندھے کو پکڑ کر نیچے کی طرف دھکیلا تاکہ بیٹھ جاؤں۔ میری حالت ٹھیک نہیں تھی اور خاص طور پہ میری آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے مجھے مزید اذیت ہو رہی تھی۔ اس لئے کہ میری آنکھیں کچھ لحظوں کیلئے کھل سکیں  میں نے بیت الخلاء جانے کا بہانہ بنایا ان میں سے ایک مجھے بیت الخلاء کے نزدیک تک لایا اور بہت برے لہجے میں کہا: "یالّا" (جلدی کرو) میں نے اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا یعنی میری آنکھیں کھولو۔ اس نے کہا: "لا" (نہیں)

میں نے اس کی بات نہیں سنی اور خود پٹی کو اس طرح سے تھوڑا سا اوپر کیا کہ وہ مجھ پر شک نہ کرے۔

ہم واپس آئے، لیکن اب میں پٹی کے ایک کنارے سے اپنے اطراف میں دیکھ پا رہا تھا ۔ ایک بڑے چوکور ہال میں تھوڑے تھوڑے فاصلے سے کچھ قیدی بیٹھے ہوئے تھے، جن کی آنکھوں پہ میری طرح پٹی بندھی ہوئی تھی۔

ہال کی دوسری طرف شیشے کا ایک بڑا سا دروازہ تھا۔ باہر بالکل اندھیرا لگ رہا تھا۔ میں سمجھ نہیں سکا کیا وقت ہو رہا ہے۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد میری طرف ایک چیز پھینکی گئی جس کے ٹکرانے سے میں، جو کہ بیٹھا ہوا تھا، گر گیا۔ میں سمجھ گیا، یہ کمبل ہے۔ میں نے اسے فوراً اوڑھ لیا، اس میں سے خون، کیچڑ اور گندگی کی بدبو آرہی تھی اور لکڑی کی طرح سخت ہو رہا تھا۔ بہرحال جیسا بھی تھا  مجھے تھوڑا آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ کچھ کُھسُر پُھسُر کی آواز آنے لگی، جو سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ مجھے لگا کوئی بہت آہستہ آہستہ فارسی میں باتیں کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں سمجھتا کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں، نگہبان غصے سے چیخا: "اُسکت"

مجھے ایسا لگ رہا تھا میری آنکھیں سر کے اندر  چلی جائیں گی۔ شدید دباؤ کی وجہ سے آنکھیں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھیں، میری کمر کا درد کم نہیں ہو رہا تھا ۔ مجھے بہت  بھوک لگ رہی تھی اور بالکل بھی نیند نہیں آرہی تھی۔

بہرحال، کچھ وقت  گزرا۔ کچھ لوگوں کی چیخوں کی آواز آنے لگی۔ میرے لئے تقریباً یقینی ہوگیا تھا کہ لوگوں کو مختلف جگہوں سے وقتاً فوقتاًیہاں لے کر آتے ہیں اور ان سے پرسش و تفتیش کی جاتی ہے۔ اکثر سوالات سیاسی ہوا کرتے تھے۔ اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ انٹیلی جنس کا ادارہ تھا۔ کھانے کی مہک فضا میں پھیل گئی۔ کچھ افراد کے قدموں کی آواز آنے لگی۔ کچھ لمحے گزرنے کے بعد کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کے نیچے کی طرف کھینچا، یعنی بیٹھ جاؤ! اس نے میرے ہاتھ کے پاس کوئی چیز رکھی۔ میں آنکھوں پہ بندھی پٹی کے کنارے سے دیکھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ کسی نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک کھولتے ہوئے مائع میں ڈال دیا۔ میں نے ہاتھ پیچھے ہٹایا تو کہنے لگا: "یالّا! شوربا!"

میں نے پیالہ اٹھایا، وہ سوپ کی طرح کی چیز تھی ۔ میں نے آہستہ آہستہ اسے دورکرنا شروع کیا۔

کچھ دیر بعد نگہبان نے چیختے چلاتے ہوئے مجھے دھکا دیا اور میں لیٹنے کی حالت کی طرح گر پڑا۔ اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی اور میرے خیال میں کچھ گھنٹوں تک میں سوتا رہا۔

جب اٹھا تو دو لوگوں کی آواز سنی جو آہستہ آہستہ فارسی میں کھسر پھسر کر رہے تھے۔ میں سمجھ گیا دونوں ایرانی فضائیہ کے پائلٹ ہیں۔ میری حالت اتنی زیادہ خراب تھی کہ میری بات کرنے کی بھی ہمت نہیں ہو پا رہی تھی؛ میں نے خاموشی کو ترجیح دی۔

پتہ نہیں کتنا وقت وہاں گزرا۔ جتنا بھی گزرا، اچھا خاصا وقت تھا۔ میں چند مرتبہ بیت الخلاء کے بہانے کچھ لمحوں کیلئے ہی آنکھوں پہ بندھی پٹی کے کنارے سے کچھ دور تک دیکھ سکا۔

بالآخر وہ چند نگہبان جو رفت و آمد کر رہے تھے، ان میں سے ایک نے میرا ہاتھ کھینچا تاکہ کھڑا ہوجاؤں۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر گیا اور ہم اس عمارت سے باہر نکل گئے۔ ہم ایک منی بس کی طرح کی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئے، جس میں کرسیاں نہیں تھی۔ گاڑی چل پڑی۔

گاڑی چلنے کے بعد میں متوجہ ہوا ایک آدمی کے بدن کا بایاں حصہ مجھ سے لگا ہوا ہے۔ اس نے آرام سے کہا: "میں شکری ہوں۔" ایک اور شخص نے کہا: " میں ..." ایک اور نے کہا: "میں ..."؛ ہم تقریباً ۱۲ افراد تھے۔ جو ایف - ۴، ایف - ۵ کے پائلٹ اور جنگ کے ابتدائی دنوں کے قیدی تھے۔ میں ایف - ۴ کے پائلٹوں کو پہچانتا تھا۔

ایک خاص مسافت کے بعد مجھے لگا کہ گاڑی اصلی روڈ سے کسی ٹوٹے پھوٹے روڈ پہ آگئی ہے۔ یہ گاڑی میں ہونے والی دھول مٹی اور گرد و غبار سے سمجھ میں آ رہا تھا۔ شاید ایک گھنٹے بعد گاڑی رُکی اور ہمیں اتارا گیا۔

سب کو ایک قطار میں کھڑا کردیا گیا اور ہر شخص کے ہاتھ کو آگے کھڑے فرد کے کندھے پر رکھ دیا گیا۔ پہلے شخص نے چلنا شروع کیا، ہم سب بھی اس کے پیچھے  پیچھے چلنے لگے۔ میں ابھی تک آنکھ پہ بندھی پٹی کے کنارے سے تھوڑا بہت دیکھ پا رہا تھا۔

ہم ایک عمارت تک پہنچے جو ایک منزلہ تھی اور اس کا ایک بڑا برآمدہ تھا۔

تھوڑی دیر بعد ہر ایک کو ایک سینڈویچ اور اس کے فوراً بعد اایک بیڑی دی گئی۔ کوئی بات  نہیں کر رہا تھا۔ درحقیقت بغیر اس کے کہ ہم جانتے ہوں کہ کس چیز کے منتظر ہیں، ہم سب ہی کسی چیز کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک عجیب سی کیفیت نے ہم سب کو خاموش رکھا ہوا تھا۔ جو چیز ہمارے لئے حوصلہ بخش تھی، وہ ہمارا ایک گروہ کی صورت میں ہونا تھا ۔ یعنی اکیلا نہ ہونا اور یہی ہمارے لئے خوشگوار احساس تھا۔

جاری ہے ...


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 52


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔