لوگوں کو پتہ ہے کہ ہم کون سے آقا صاحب کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں

ترجمہ: سید نعیم نقوی

2017-10-30


اب ذکر کرتے ہیں آیت اللہ محمد رضا مہدوی کنی کے واقعات، جو معاشرے میں روحانیت کے لئے افتخار کا پیکر ہیں۔ اس عظیم المرتبت شخصیت کا روحانی اور  علمی مقام اور ان کی صداقت تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کی نگاہ میں متفق علیہ ہے۔ یہ وہ مایہ ناز شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی بابرکت زندگی کا ایک بڑا حصہ مذہبی، ثقافتی اور علمی سرگرمیوں میں گزارا جس کے ثمرات خود نظام میں نمایاں ہیں۔ یعنی انھوں نے جو شاگرد تیار کئے اور وہ افراد جنہوں نے ان سے کسب فیض کیا اور اب آگے آگے ہیں ان کی سیاسی اور مجاہدانہ زندگی کا نتیجہ ہیں۔

 

 محترم آیت اللہ! ہمیں بہت خوشی ہے کہ آپ نے ہمیں ملاقات کی اجازت عنایت کی

بسم‌الله الرحمن الرحیم و صلی‌الله علی سیدنا و مولانا اباالقاسم محمد و علی آله الطیبین و سیما بقیه‌الله الاعظم ۔سلام علیکم۔ امام اور شہداء کی ارواح پر درود و سلام ہو۔ میں آپ کا اور آپ کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ نے مجھے عزیز ایرانی قوم سے گفتگو کرنے کا موقع دیا۔

 

جو کچھ آیت اللہ محترم فرمائیں گے ہم ہمہ تن گوش ہیں

جی ہاں، میں اپنی ولادت اور ابتدائی تعلیم وغیرہ پر بات نہیں کروں گا کیونکہ اس میں کچھ خاص قابل ذکر نہیں۔ جب میں تہران سے قم گیا تو اس وقت میری عمر شاید ۱۷ یا ۱۸ سال تھی تو قم میں فضا ایسی تھی جہاں مرحوم شہید نواب صفوی اور مرحوم واحدی سیاسی فعالیت میں مصروف تھے اس فعالیت کی وجہ یہ تھی کہ رضا شاہ کے جنازے کو قم میں لاکر دفن کرنا چاہتے تھے لیکن یہ (علماء کرام) شخصیات اس کام کے مخالف تھے کیونکہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ قم کے علماء نماز جنازہ پڑھائیں یا اُسے (رضا شاہ کو) قم میں دفنا کر اعزاز بخشا جائے۔ میں فیضیہ میں تھا۔ نوروز کے دن تھے اور میں اردستان کے کچھ دوستوں کے ساتھ تھا، من جملہ سید جلال حسینی جو آج بھی اردستان کے مضافات میں ہیں۔ کچھ اور دوست بھی تھے۔ نوروز اور حضرت فاطمہ علیہا السلام کی شہادت کے ایام ایک ساتھ آرہے تھے۔ وہاں بہائی اپنی ترویجی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور بہت سارے مسلمان ان کی (گمراہ کن) تعلیمات سے متاثر ہو رہے تھے۔ وہاں ہم نے عزاداری کا پروگرام رکھ دیا۔ اسی رات وہاں پر قیام امن کا کمانڈر آیا اور حکم دیا کہ یہ عزاداری بند کریں۔اُس وقت تک میں نے تقریر شروع نہیں کی تھی۔ جب کہ آقا سید جلال اور دیگر دوست مجلس پڑھ چکے تھے۔ میں نے کمانڈر سے کہا: تم کس قانون کے تحت یہ عزاداری بند کروانے آئے ہو کیونکہ یہ مجلس ہے ایسے تھوڑے ہی بند ہوگی۔ اس نے آگے بڑھ کر مجھ پر حملہ کیا اور کہا: تم کون ہوتے ہو قانون کی بات کرنے والے ؟

خیر اس رات ہمیں مجلس جلد ختم کرنا پڑی۔ اگلے دن پھر اسی طرح وہ لوگ آئے اور کہا ہم یہ مجلس نہیں ہونے دیں گے اور یہ کہ وہ لوگ ہمیں وہاں سے نکالنا چاہ رہے تھے۔ ہمیں شہر سے باہر لے جاکر ایک چوک میں، جہاں یزد اور نائین سے گاڑیاں آتی ہیں۔ لوگوں کے سامنے مارا پیٹا۔ میرے اور آقائے حسینی کے ہاتھ ہمارے ہی عماموں سے پیٹھ پیچھے باندھ دیئے۔ جناب سید جلا حسینی – خدا ان کی حفاظت کرے – کو تو بہت مارا۔ وہ سید تھے اور باقی عمامہ پہننے والے حضرات سے جو کمانڈر سے ہنسی مذاق کرتے تھے، کہنے لگے: "کیوں اس شخص سے ہنسی مذاق کرتے ہو؟ یہ اس لائق نہیں"۔ انھوں نے جیسے ہی یہ بات کی، کمانڈر نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ مارو اس کمینے سید کو۔ جناب سید نے جواب میں کہا: "کمینے تم خود ہو" بس پھر کیا تھا، بات بڑھ گئی۔ انھوں نے جناب سید کے ہاتھ باندھ کر اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہوگئے۔ اور پھر وہیں دفتر میں ہمارے خلاف شاہ کی توہین کا کیس بناکر پرچہ کاٹ دیا۔ اس کے بعد مجھے قم بھیج دیا اور جناب سید جلال کو اصفہان۔ میں نے رات کو "مورچہ خورت" میں چائے پی اور پھر کاشان آگیا۔ وہیں ہماری جان پہچان کاشان کے علماء سے ہوئی اور جناب آقای امام کاشانی سے بھی تعارف ہوا۔

میں وہاں رات کے گیارہ بجے پہنچا۔ اردگرد کے لوگوں سے پوچھا کہ یہاں نزدیک میں کوئی دینی مدرسہ ہے؟ جواب میں ایک بوڑھے شخص نے کہا: آؤ میرے ساتھ۔ وہ مجھے بازار سے گزار کر ایک مدرسہ  تک لے گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس مدرسے کو کاشان کے لوگ "باب ولی" کہتے ہیں۔ وہاں کاشان کے طلاب کی ایک بڑی تعداد تھی  جو  سب مجھ سے مانوس ہوگئے تھے۔ ہمارا یہی تعارف جناب آقای امامی کاشانی اور دیگر دوستوں سے ملاقات کا سبب بنا۔ مجھے یاد ہے اس وقت مرحوم جناب واحدی نے مجھے جوں ہی مدرسہ فیضیہ میں دیکھا تو کہا: "کیوں آئے ہو؟ ہم سب نے پروگرام بنایا تھا کہ اکٹھے ہوکر آئیں گے او ر پھرآپ کو آزاد کروائیں گے۔" میں نے کہا: "جی میں زیادہ عرصہ جیل میں نہیں رہا۔ جلد ہی رہا ہوگیا تھا"  تو خیر یہاں سے میری سیاسی اور انقلابی فعالیت کا آغاز ہوا۔

میرا مزاج ایسا ہی تھا لہذا جب بھی کوئی سیاسی واقعہ رونما ہوتا اور اس میں مذہبی یا قومی پہلو ہوتا تو میں اس میں شرکت کرتا تھا۔ اسی طرح کا ایک مسئلہ قم کے انتخابات کا تھا۔ یہ انتخابات مجلس شوریٰ کے تھے۔ جن میں شرکت کے لئے تہرانی اور غیر تہرانی طلاب کی ایک بڑی تعداد قم آئی تھی ہم نے جناب تولیت کے مقابلے میں جناب رضوی کو ووٹ دیا کیونکہ جناب تولیت حکومت کے حامی تھے۔ بعد میں اگرچہ جناب رضوی ہار گئے تھے لیکن ہم نے اپنے وظیفہ پر عمل کرنا تھا اور کیا۔

پھر اسی وقت مرحوم لاہوتی نے جناب رضوی کے لئے تقریر کی جب جناب لاہوتی اچھے انداز میں گفتگو کر رہے تھے تو جناب رضوی کافی جوش میں تھے۔ وہیں سے ہماری فعالیت بڑھ گئی یہاں تک قم المقدس میں ہمارا تعلیمی سلسلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔  مرحوم آیت اللہ بروجردری، مرحوم امام خمینی ؒ اور مرحوم علامہ طباطبائی کے دروس ہمارے اصلی دروس تھے۔ اگرچہ ان کے علاوہ دیگر استاد بھی تھے۔

 

تو پھر میرے خیال میں آپ سن ۱۹۵۹ ء میں قم سے تہران آئے؟

نہیں، ۱۹۶۱ء میں۔

 

اچھا سن ۱۹۶۱ء میں؟ بہت اچھے! پھر تو بہت جی چاہ رہا ہے کہ آپ حضرت امام سے اپنی آشنائی کی روداد سنائیں۔

امام سے آشنائی بس درس کی حد تک تھی۔ میں بھی دیگر طلاب کی طرح امام کے درس میں شرکت کرتا تھا لیکن خاص اشتیاق کے ساتھ۔ میرے خیال سے  میں نے شاید ۹ سال حضرت امام کے پاس درس پڑھا، فقہ بھی اور اصول بھی، لیکن درس کے ساتھ خود ان سے بھی علمی، تربیتی، احساساتی اور اخلاقی لحاظ سے گہرا رابطہ تھا۔ امام کی روش اور طریقہ اصلاحی تھا۔ ان کا زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی خاص تھا۔ اس زمانے میں اگرچہ امام کا کوئی واضح اور روشن سیاسی موقف نہیں تھا لیکن ان کے سلیقے سے خوب پتہ چلتا تھا کہ مملکت کے مسائل میں ان کا کیا مقام ہے۔  جب مرحوم آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری – وہ سید محمد خوانساری نہیں جو تہران میں تھے – کا ہمدان میں ہارٹ اٹیک کے بعد انتقال ہوا تو ان کا جنازہ قم لایا گیا۔ امام ان کے جنازے پر رو رہے تھے۔ البتہ امام جذبات میں آکر نہیں رو رہے تھے بلکہ ایک خاص محبت کی بنا پر رو رہے تھے کیونکہ مرحوم خوانساری ایک مجاہد اور تجربہ کار شخصیت تھے۔ جب وہ نجف میں تھے تو مرحوم آیت اللہ کاشانی کے ساتھ ملکر برطانوی حکام کا مقابلہ کر رہے تھے یہی وجہ تھی جو امام کو رلا رہی تھی، ورنہ بہت سارے علماء کا انتقال ہوتا تھا لیکن امام کا یہ ردعمل نہیں ہوتا تھا۔ آیت اللہ کاشانی کی رحلت کے بعد بھی امام بہت رنجیدہ تھے اور غمگین رہتے تھے۔

جناب مہدوی! آپ کا حضرت امام سے قلبی رابطہ کہاں سے شروع ہوا؟ امام کے شاگرد بہت زیادہ تھے جن میں سے کچھ سیاسی مقابلے کے لئے امام کے ساتھ میدان میں آگئے اور مرتے دم تک امام کا ساتھ نہ چھوڑا۔ اور آپ ان چند گنے چنے افراد میں سے ہیں جن کے پاس حضرت امام کے کچھ احکام ہمراہ دستخط ہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ اس اعتماد بھرے تعلق کے بارے میں کچھ بتائیں

دیکھئے، انقلاب سے پہلے میں مسجد جلیلی کا پیش نماز تھا۔ میری مصروفیات میں سے ایک کام یہ تھا کہ منبر پر جاکر امام کا نام لیتا تھا۔

 

تو کیا یہ (منبر پر  امام کا نام لینا) ممنوع نہیں تھا؟

ممنوع تو تھا ہی۔ اس کے ساتھ ساتھ ساواک والے بار بار مجھ سے کہتے تھے کہ تم کیوں اس آقا کا نام منبر پر لیتے ہو؟جب انھوں نے بہت سختی کی تو پھر میں نے امام خمینی ؒ کا نام – البتہ اس وقت "امام" کوئی نہیں کہتا تھا بلکہ آیت اللہ العظمیٰ کہا کرتے تھے – نہیں لیتا تھا اور تقیہ کی رو سے فقط "آقا " کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ تو لوگ خود ہی سمجھ جاتے تھے کہ ہم کون سے "آقا صاحب" کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ اگلی دفعہ وہ لوگ دوبارہ آئے اور مجھے لے گئے اور سن ۱۹۷۴ء میں رمضان المبارک کے مہینے میں مجھے "بوکان" کی طرف جلا وطن کردیا۔ پہلی رمضان کو مجھے بلایا اور کہا: سنو مولانا! تمہیں کہیں بھی اس آقا (امام خمینی ؒ) کا نام نہیں لینا۔ جب کہ میں اپنی تقریر میں امام کا نام لیکر شکیات نماز کے مسائل بیان کرتا تھا تاکہ وہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ میں کوئی سیاسی گفتگو کر رہا ہوں تو میں جواب میں ان سے کہا کرتا تھا کہ امام خمینی ؒ کا نام زندہ رہنا چاہیے۔ ایک واقعہ اور بھی ہے جو مشرکین کے بارے میں ہے جو خدا کی صفت "رحمان" اور اس کلمے سے اجتناب کرتے تھے اور قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ جوں ہی "رحمان" کہا جائے، مشرکین بھاگ کھڑے ہوتے ہیں تو ہم نے بھی قرآن سے یہی سیکھ کر اسے عملی شکل دیدی تھی یعنی دشمن کو امام کا نام سن کر تکلیف ہوتی تھی اگرچہ ہم ان کے نام پر وضو کے مسائل ہی بیان کر رہے ہوتے، لیکن امام کے ماننے والوں کو بہت خوشی ہوتی تھی کہ امام کا نام لیا جا رہا ہے۔ اب کی بار وہ لوگ پھر آئے اور سخت لہجےمیں مجھ سے کہا: "اب اگر تم نے اس آقا کا  نام لیا تو تمہیں وہاں بھیجیں گے جہاں عرب لوگ "اسٹرا" پھینکتے ہیں"۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ عرب لوگ "اسٹرا" کہاں پھینکتے ہیں۔ بس اتنا تھا۔ میں منبر پر جاکر بجائے "امام" کہنے کے کبھی "استاد" اور کبھی " آقا" کہا کرتا تھا۔

 

یعنی آپ عنوان بدل دیتے تھے؟

جی ہاں، میں "حضرت استاد" بھی کہتا تھا۔ ۲۳ رمضان کی رات کو جب شب بیداری کا پروگرام تھا اور دعا اور مصائب پڑھ رہے تھے اور لوگ بھی بہت تھے حتی مرحوم آیت اللہ طالقانی اور انجینئر بازرگان بھی شب بیداری کے لیے تشریف لائے تھے اگرچہ وہ خود بھی اپنی مسجد میں شب بیداری کرواتے تھے لیکن دعا اور گریہ و زاری کی بقاء کے عنوان سے وہ خود بھی تشریف لاتے تھے اور یہاں تک کہ قضا نماز بھی بجالاتے تھے۔ شب بیداری کی راتوں میں قضا نماز بھی ادا کرتے تھے کیونکہ یہ ایک رائج عمل تھا۔ پوری رات ہم دعا اور نماز میں مصروف رہے۔ اس رات میں نے امام کا نام نہیں لیا اور دعا کرتے ہوئے یوں کہا: اے خدا! تو جانتا ہے کہ ہماری حاجت کیا ہے، اے خدا! بس وہ دن ہمیں دکھا دے۔ لوگوں نے اس قدر بلند آواز سے آمین کہا کہ گویا مسجد کی چھت اڑ جائے گی  کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ یہ دعا کس کے بارے میں ہے۔ جوں ہی دعا ختم ہوئی تو مسجد کے متولی جناب دیانت آئے اور مجھ سے بولے: تھانے سے کچھ لوگ آپ کو لینے آئے ہیں۔ کہتے ہیں آپ سے دو تین منٹ کا کام ہے۔ میں سمجھ گیا کہ کام وام نہیں ہے، بس لے جائیں گے مجھے۔ خیر، میری جیبوں میں کچھ خاص چیزیں تھیں جو میں وہیں مسجد میں دوستوں کو تھما کر نکل آیا۔ وہ لوگ مجھے تخت جمشید پولیس اسٹیشن لے گئے جو پہلے کبھی تھانہ نمبر ۷ ہوا کرتا تھا۔ انھوں نے مجھے ایک کمرے میں پھینک دیا۔ میں نے پوچھا : خیریت؟ کیا ہوا؟ تو وہ بولے: ہمیں نہیں پتہ، پھر اتنے میں ایک گار ڈ آیا اور کہنے لگا: آقا! آپ روزہ رکھیں گے؟ میں جاکر آپ کی سحری کے لئے کچھ لے آؤں؟ میں نے بھی کہا: ہاں لے آؤ۔ وہ چاول لیکر آیا۔ میں نے چند لقمے لئے۔ صبح وہ لوگ مجھے تفتیش کیلئے لے گئے اور پھر وہاں سے سیکیورٹی انٹیلی جنس کے دفتر لے گئے جو شاپور روڈ پر تھا۔ اب اس سڑک کا کیا نام ہے؟

وحدت اسلامی ....

امن و سکون قائم کرنے والوں کا  مرکزی دفتر تھا۔ مجھے اندر لے گئے ایک کرنل آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا: آقا صاحب! کیا جرم ہے آپ کا؟ میں نے کہا: غیرقانونی خرید و فروش۔ اس نے کہا: منشیات؟ میں نے کہا: نہیں، اس سے بھی زیادہ سخت۔ اس نے پوچھا: تو پھر کیا؟ میں نے کہا: دین، ہم دین کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہی کہ یہ باتیں ممنوع ہیں۔ آخرکار ہمیں امنیت قائم کرنے والے ادارے کے حوالے کردیا تاکہ ہمیں بوکان بھیجا جائے کیونکہ یہ حکم ساواک کی طرف سے تھا۔

 

کیا عدالت میں مقدمہ چلایا گیا؟

نہیں، کپڑے پہنا کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ ہاں البتہ امنیت قائم کرنے والے ادارے کا رویہ ہمارے ساتھ قدرے بہتر تھا۔ یعنی جو اِن کے بارے میں سن رکھا تھا اس حساب سے اتنا بھی برا نہیں تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے پاس ایک پرانی گاڑی ہے۔ چلیں اس پر چلتے ہیں۔ مغرب ہونے والی تھی، وہ بولے چلیں ٹھیک ہے، کیونکہ دراصل انہیں بس پر جانا تھا۔

 

کیا گاڑی آپ کی اپنی تھی؟

جی ہاں۔

 

کون سی تھی؟

ایک پرانی سی مزدا ٹائپ کی تھی۔ یہ بھی میں نے اپنے دوستوں سے خریدی تھی اور مسجد کی تھی۔ میں نے کہا: اگر آپ اجازت دیں تو میں پہلے گھر جاکر خدا حافظ کرلوں؟ اور ساتھ ہی کپڑے وغیرہ بھی اٹھالوں گا پھر چلتے ہیں ....؟ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ ویسے قانونی طور پر انہیں  اس کام کی اجازت نہیں تھی لیکن میرے ساتھ انھوں نے تعاون کیا۔

 

تو کیا آپ گھر گئے؟

جی ہاں، میں گھر گیا اور سب سے خدا حافظ کیا، کپڑے اٹھائے اور پہلے کرج پھر وہاں سے ہمدان اور پھر وہاں سے سنندج روانہ ہوئے۔ جب میں ان شہروں میں گیا تو مجھے پتہ چلا بہت سے علماء دوست وہاں پر جلا وطن تھے۔ جب کرمانشاہ پہنچے تو جناب حجتی کرمانی کا پوچھا کیونکہ میں نے سنا تھا یہ شخصیت بھی وہیں پر جلا وطنی کے دن کاٹ رہی ہے۔ ہم آدھی رات کو کرمانشاہ پہنچے۔ کچھ سپاہیوں سے آقائے علی حجتی کا پتہ معلوم کیا۔ آخرکار انھوں نے بتادیا۔ وہاں سے ہم سنندج اور پھر سنندج سے بوکان گئے۔ بوکان ایک چھوٹا سا کردنشین شہر ہے اور سنندج سے بوکان تک راستہ بھی زیادہ نہیں ہے۔ میری جلاوطنی کی میعاد دو سال تھی لیکن بوکان میں تین یا چار مہینے جلا وطن رہا۔  خیر، آخرکار وہ لوگ ہمیں تھانے کے انچارج کی گاڑی میں بٹھا کر تہران لائے اور ۳ مہینے کے بعد سن ۱۹۷۵ میں رمضان المبارک کے مہینے میں مجھے دوبارہ گرفتار کرلیا اور (ساواک اور تھانےکی) مشترکہ کمیٹی کے جیل میں رکھا۔ اب یہ تو آپ کو علم ہی ہوگا کہ وہاں قیدی کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

 

آقا صاحب! ہم آپ کی زبان سے سننا چاہتے ہیں۔

میں جوں ہی مشترکہ کمیٹی کے جیل میں داخل ہوا اور مجھ سے عبا قبا اتارنے کو کہا گیا۔ بلکہ انھوں نے یہ کہا: کتنے افسوس کا مقام ہے کہ تجھ جیسے ملاں نے یہ (عظیم) لباس پہن رکھا ہے۔ میں نے کہا: کیوں کیا ہوا؟ کیا میں نے قانون کے خلاف کوئی کام کیا ہے جو اس لباس پر افسوس کر رہے ہو؟ تو کہنے لگے: نہیں، اس لباس کے ساتھ تم نے شاہ کی مخالفت کی ہے!

خیر، انھوں نے مجھے لے جاکر عقوبت خانے میں ڈال دیا اوراسی دن سے پوچھ گچھ شروع کردی اس تفتیش اور پوچھ گچھ میں ڈھائی مہینے گزر گئے۔ وہ لوگ بہت تنگ کرتے تھے، مارتے پیٹتے تھے البتہ کچھ اور قیدیوں کو تو مجھ سے کہیں زیادہ ٹارچر کرتے تھے۔ مجھے لے جاکر صرف کوڑے  مارتے تھے جس سے میرے پاؤں اور ٹانگیں زخمی ہوگئی تھیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے مجھے چھت سے لٹکا دیا تھا اور ایک ملعون ایک سے بیس تک اُلٹی گنتی گنتا تھا کہ اگر ایک تک پہنچ جاؤں تو تمہاری جان نکل جائے گی، بولو! منہ کھولو! اس کی دھمکیاں مجھے ذہنی اور نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کے لیے تھیں۔ پیٹ پر بہت زور سے مکے برساتا تھا اور کہتا تھا: بوڑھے! لیکن البتہ میں اس وقت اتنا بھی بوڑھا نہیں تھا۔

 

آقا صاحب! سن ۱۹۷۵ء میں آپ کی عمر ۴۴ سال تھی ناں؟

جی ہاں، وہ زدو کوب کے دوران کہا کرتا: بوڑھے! لوگوں کی خاطر اپنی جان دینے پر کیوں تلے بیٹھے ہو؟ بولو تمہارا جرم کیا ہے؟ مجھ پر الزام یہ تھا کہ میں نے آقائے لاہوتی کی مدد کی ہے اور وہ میری وساطت سے قیدیوں کے گھر والوں کی مدد کرتے تھے۔ آیت اللہ طالقانی، آقائے ہاشمی رفسنجانی، آیت اللہ لاہوتی اور میں، ہم چار افراد پر تقریباً ایک جیسا الزام تھا جس کا لب لباب قیدیوں کے گھر والوں کی مدد کرنا تھا یہاں تک کہ مجاہدین خلق، جن کی نسبت ساواک کی ایجنسی حساس تھی، کے گھر والے بھی ہمارے کھاتے میں تھے۔ ہم نے مسجد میں صدقے کا ایک صندوق رکھا ہوا تھا جس میں یتیموں اور مفلس افراد کی مدد کے لیے رقم جمع کرتے تھے لیکن وہ لوگ بھی بہت ہوشیار تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یتیموں اور مفلسوں کے نام پر خفیہ طور پر قیدیوں کے گھر والوں کی مدد کی جا رہی ہے۔ البتہ آقائے لاہوتی یہ سب خدمات انجام دیتے تھے۔ میرا براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

تین ماہ کی قید اور صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد ہماری انکوائری مکمل ہوئی اور ہمیں آوین بھیج دیا گیا۔ آوین پہنچتے ہی پہلی رات میں مجھے ایک فلاحی ادارے بھیج دیا گیا، وہاں کیا دیکھا کہ مرحوم آیت اللہ طالقانی، آقای منتظری، آقای لاہوتی، آقای انواری، آقای ربانی شیرازی اور آقائے ہاشمی سب جمع ہیں۔ ان سب کو بھی مشترکہ کمیٹی کے عقوبت خانوں سے نکال کر آوین بھیج دیا گیا تھا۔ آقای انواری تو خیر پہلے سے آوین میں سزا کاٹ رہے تھے کیونکہ ان کو پندرہ سال قید کی سزا تھی جن میں سے تیرہ سال گزر چکے تھے، خیر اس رات بہت مزہ آیا۔

 

کیا سب علماء جمع تھے؟

جی ہاں، آقای انواری اور آقائے منتظری ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ کچھ دنوں بعد سپاہی دوبارہ آئے اور کہا: آقا صاحب! آپ کو بلا رہے ہیں، مشترکہ کمیٹی جانا ہوگا۔  بہت مشکل اور وحشت ناک وقت تھا۔ انھوں نے ہمیں دوبارہ مشترکہ کمیٹی بھیج دیا تھا۔ وہاں ہر وقت چیخ و پکار وحشت ناک آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ مجھے وہ نیچے لے گئے۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ انھوں نے کہا: نہیں معلوم۔ ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے۔ خیر وہ لوگ مجھے ایک تہہ خانے کے عقوبت خانے میں لے گئے جہاں گھپ اندھیرا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ شروع میں مجھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا لیکن آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں، گھنٹہ بھر گزرنے کے بعد جب آنکھیں تاریکی کی عادی ہوگئیں تو میں نے دیکھا کہ پانچ جوان طالب علم بھی وہاں پر تھے جو مذہبی نہیں تھے۔ سگریٹ پی رہے تھے۔ آخرکار دو تین دن کے بعد ہمیں پھر بلایا گیا لیکن ہمیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟عضدی جو ساواک کا ڈپٹی انچارج تھا اور انقلاب سے پہلے ایران سے بھاگ گیا تھا اور ابھی بھی نہیں معلوم کے زندہ ہے یا نہیں؟ انتہائی ظالم اور شقی القلب انسان تھا۔ ہمیں اسی (عضدی) کے دفتر میں لے گئے۔ تہرانی مجھ سے پوچھ گچھ اور اذیت و آزار پر مامور تھا۔ البتہ اس کا یہ نام اصلی نہیں تھا، مستعار تھا۔ وہ مجھ سے کہا کرتا تھا: شیخ!تمہیں قرآن پڑھنا تو آتا نہیں، تم کیوں شریعتی کی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہوگئے ؟

 

آپ سے کہتا تھا؟

کہتا تھا: میں مسلمان ہوں، اس کا لہجہ کردی تھا۔ بہت بری طرح شکنجوں میں جکڑتا تھا۔ تہرانی ان لوگوں میں سے ایک تھا جو مجھ سے تفتیش کرنے پر مامور تھے۔ ایک اسدی نامی شخص بھی تھا جس کا گھر "دروازہ شمیران" کے قریب تھا اور حزب اللہ کے جوانوں کو اس کے گھر کا پتہ تھا اور انقلاب کے دنوں میں انہی افراد نے اسے قتل کردیا جو عقوبت خانوں میں  اس کے تحت شکنجہ تھے۔ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ کر تہہ خانے میں لے جاتے تھے اور عام طور پر یا ہمارے پاؤں کو چارپائی کے ساتھ باندھ کر مارتے تھے یا پھر چھت کے ساتھ لٹکا کر الٹی گنتی گنتے تھے۔ الٹی گنتی گننے کا مقصد ہمیں ڈرانا یا نفسیاتی طور پر کمزور کرنا تھا۔ اور یہ بتانا میں بھول گیا کہ انھوں نے مجھے چھت کے ساتھ لٹکایا اور میرے پاؤں کے انگوٹھے میز پر لگ رہے تھے اس وقت وہ مجھے ویسے ہی چھوڑ کر آرام کرنے چلے گئے۔ اچانک میرا پاؤں کسی چیز کے ساتھ لگا۔ درحقیقت وہ خون تھا جو جم گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جن ا فراد کو ٹارچر کیا گیا  تھا یہ ان کا خون تھا خود حتی میرے پاؤں سے بھی بہت خون بہہ رہا تھا۔ جب مجھے ٹارچر کے بعد اوپر لیکر گئے تو تقریباً آٹھ ٹائلیں خون آلود ہوچکی تھیں۔ اتنا مارنے کے بعد بھی مجھے پیدل چلاتے تھے۔ کہتے تھے: پیدل چلو، زخموں میں پیپ نہیں پڑے گی۔

اسی درد و کرب کے عالم میں، میں یہ آیت تلاوت کرتا تھا: ربنا افرغ علینا صبراً و ثبّت اقدامنا و انصرنا علی‌القوم الکافرین ۔ اب مجھے صحیح سے یاد نہیں اسدی تھا یا کوئی اور۔ مجھ سے کہہ رہا تھا: کیا پڑھ رہے ہو؟ ربنا ربنا۔ میں نے جواب دیا: ہر شخص اپنا اپنا کام کر رہا ہے۔ تم اپنا کام کرو۔ میں اپنا کام کروں گا۔ انہیں اس بات پر غصہ آرہا تھا کہ میں خدا سے مناجات کیوں کر رہا ہوں۔ اور یہ بات حقیقت ہے کہ ان مناجات سے ہمیں بہت توانائی اور طاقت ملتی تھی۔ انہی دعاؤں اور قرآن کی آیات کی بدولت ہمیں مار پیٹ اور شکنجوں کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا تھا۔

اب رہا آوین کا قصہ، مشترکہ کمیٹی کے عقوبت خانوں میں الگ الگ دو تین دن رکھنے کے بعد دوبارہ ہمیں آوین بھیج دیا۔  آیت اللہ طالقانی کو مشترکہ کمیٹی میں بھیجا گیا تھا، اس وقت تک ان سے عبا قبا اُتارنے کا نہیں کہا گیا تھا بلکہ ان کی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ سن رسیدہ روحانی تھے۔ لیکن اب کی بار انھوں نے آقا صاحب کو کہا: حاجی آقا!یہ کپڑے اتارئیے اور جیل کا لباس پہن لیجئے۔ آقا صاحب نے آواز دی: رسولی کہاں ہے۔ تفتیش پر مامور رسولی وہ شخص تھا جو قدرے نرم مزاج کا تھا۔ دراصل شکنجہ دینے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ چیل مزاج اور کبوتر مزاج۔ پہلی قسم کے لوگ بے رحم اور سنگدل تھے مار پیٹ میں بے لگام تھے اور دوسری قسم کے لوگ قدرے رحمدل تھے جو ہمدردی جتلاتے تھے۔ نسبتاً نرمی سے بات کرتے تھے۔ اور راز کی بات اگلواتے تھے ۔

 

آقا صاحب ! آپ کس سال جیل سے رہا ہوئے؟

دو سال کے بعد، سن ۱۹۷۷ ء میں۔

 

مہربانی فرما کر یہ بتائیں کہ جامعہ روحانیت کی تشکیل کے سلسلے میں زمینہ سازی کے حوالے سے آپ کی کیا فعالیت رہی ہے؟

انقلاب سے پہلے ہماری نشستیں تہران کے علماء کے ساتھ ہوتی تھیں۔ جن میں سے کچھ امام جمعہ تھے اور خطیب و ذاکر تھے۔ البتہ یہ وہ افراد تھے جو انقلاب کے حامی تھے۔ ان سب کے علاوہ کچھ مذہبی افراد اور علماء ایسے بھی تھے جن کا انقلاب سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں تھا البتہ وہ ہمارے مخالف بھی نہیں تھے لیکن اُن میں ان مسائل میں گھرنے یا انقلاب کی حمایت کرنے کی جرأت بھی نہیں تھی۔ بعض ہمارے کام کے مخالف بھی تھے اور کہتے کہ اس طرح کی سرگرمیاں درست نہیں ہیں ۔ لیکن وہ لوگ جو امام خمینی ؒ کی مدد اور انقلاب کے لئے زمینہ ہموار کرنے میں مدد کو تیار تھے ہم انہیں ہفتہ میں ایک دن جمع کرکے ان سے میٹنگ کرتے تھے، ہماری یہی نشستیں اور میٹنگز جامعہ روحانیت کی تشکیل کی بنیاد بن گئیں لیکن اس وقت اسے "جامعہ روحانیت" کا عنوان نہیں دیا گیا تھا، بس کچھ افراد تھے جو بغیر عنوان اور نام کے، حساس موقعوں پر مل بیٹھتے تھے اور فیصلے کرتے تھے البتہ ہم کبھی اشتہار لگا دیتے تھے اور کبھی دوسرے کام کرتے تھے وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ دیگر دوست احباب جیسے شہید مطہری، شہیدی بہشتی اور شہید مفتح آگے آئے اور انھوں نے کہا کہ ہم ایک اساسی منشور لکھ کر جامعہ روحانیت کو باقاعدہ ایک تحریک کے طور پر سامنے کیوں نہ لائیں۔  یہ افراد اور اسی طرح آقائے ہاشمی، آقائے باہنر اور جناب آقائے خامنہ ای، ان سب کی یہ خواہش تھی کہ تنظیم یا ادارہ جو بھی بنے اس کے افراد کو آپس میں متحد اور متفق اور وظیفہ شناس ہونا چاہیے اور معلوم ہو کہ اس کے منشور میں کیا ہے یعنی یہ سب لوگ ایک پارٹی کے حامی تھے۔ جبکہ میں ان افراد میں سے تھا جو پارٹی میں روحانیت کی مداخلت کو صحیح نہیں سمجھتے تھے۔

 

آقا صاحب آپ کا بہت شکریہ۔ واقعی آپ سے ملاقات کرکے ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ یہ ایک توفیق تھی جس کے نتیجے میں آپ کے ساتھ ملاقات اور مفید گفتگو ہمیں نصیب ہوئی۔ 


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 66


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

    جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

    مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

    سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
    لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

    وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

    میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔