تنہائی کے سال – پانچواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-10-30


ہم لوگ گاڑی میں سوار ہوئے۔ تقریباً پانچ منٹ تک اِدھر اُدھر مڑنے کے بعد گاڑی ایک گلی کے کونے پہ جاکر ٹھہری۔ میں آنکھوں پر بندھی پٹی کے ایک کنارے سے بہت مشکل سے دیکھ پا رہا تھا۔ ہم دفاتر کی ایک عمارت میں داخل ہوئے۔

وہ لوگ مجھے سنبھال کر لے جا رہے تھے۔ وہ مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور میری آنکھوں پہ بندھی پٹی اور ہتھکڑی کھول دی۔ بے تحاشا درد اور تھکاوٹ کے باوجود میرا دل چاہ رہا تھا کہ دشمن کے سامنے اپنے آپ کو خستہ حال ظاہر نہ کروں اور کم از کم ظاہری طور پر ہشاش بشاش نظر آؤں۔ میرے سامنے ایک تقریباً چالیس سالہ شخص فضائیہ کے یونیفارم  میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد کچھ کرسیاں رکھی ہوئی تھیں اور دیوار پہ ایک نقشہ لگا ہوا تھا۔ مجھ سے سب سے پہلے تفتیش فضائیہ کے اس افسر کو کرنی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا: "بیٹھو..." وہ انگریزی زبان میں بات کر رہا تھا۔ اس نے مزید کہا:

- ہمیں تم سے وہ اطلاعات درکار ہیں جو تم ہمیں بتاؤ یا نہ بتاؤ، ہم پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا؛ کیونکہ یہاں ایسے افراد موجود ہیں جو یہ اطلاعات ہم تک پہنچاتے رہتے ہیں۔

میں نے کوشش کی اس کی باتوں پر تعجب اور غصے کا اظہار نہ کروں اور میں اس کی باتوں پہ یقین بھی نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے اس سے بہت اطمینان سے یعنی جیسے کچھ جانتا ہی نہیں ہوں، کہا:

- پھر مجھے آخر کیوں یہاں لائے ہو؟

اس نے بہت اطمینان سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

- ... یقین کرو ہمارے پاس ایک ایسا آدمی ہے جو ہمارا ہر کام کرتا ہے اور جو کچھ بھی ہمیں چاہئیے ہو لاکے دیتا ہے لیکن اس میں صرف ایک عیب ہے، وہ یہ کہ بہت عیاش ہے۔ اس کا نام  ... آہاں! "حمید نعمتی" ہے۔

میں نے جب نعمتی کا نام سنا، میرا دماغ گھوم گیا کیونکہ میں اسے جانتا تھا۔ اس آدمی کے ماضی کو میں نے اپنے ذہن میں دھرایا۔ وہ پائلٹ تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی۔ نوژہ کی ناکام سازش میں شرکت کی بنا پر اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سازش سے پہلے، وہ شراب کی خرید و فروخت کے غیر قانونی کام سے پیسہ کماتا تھا۔  ایسا آدمی جس کیلئے اس کے اپنے ماں باپ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ اپنے وطن سے فرار کرچکا ہے اور دشمن کی پناہ لے چکا ہے، لازمی سی بات ہے اس طرح کے آدمی کیلئے دشمن کا جاسوس بننا اور اس کی مدد کرنا ایک معمولی سی بات ہے اور یقیناً فائدہ مند بھی ہے۔ مجھے تعجب ہو رہا تھا آخر ایک انسان کس طرح سے اس قدر گر سکتا ہے؟

تفتیش کرنے والا جانتا تھا وہ میرے پاکیزہ احساس میں شک و شبہ ایجاد کرچکا  ہے، مجھ سے پوچھنے لگا:

- سگریٹ پیتے ہو؟

- ہاں، لیکن ابھی نہیں پیوں گا!کیونکہ میری کمر میں شدید درد ہو رہا ہے اور کئی گھنٹوں سے تم لوگوں نے میرے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ہے!

اس نے محتاط انداز میں  سوال کیا:

- جیسے کہ کیا اقدام کریں ہم؟

- تم لوگ قیدیوں اور مجروح افراد کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین سے یقیناً اچھی طرح آگاہ ہو؟

اس نے جاہلانہ یقین کے کے ساتھ اطمینان سے جواب دیا:

- میں جانتا ہوں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ تم سب سے پہلے میرے سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جواب دو۔

 بات کرنے کے حوالے سے میں کسی طرح کی شرط محسوس نہیں کر رہا تھا۔ میرے سر میں درد ہو رہا تھا، یہ ایسا درد نہیں تھا جس سے میرے وجود پر دباؤ پڑ رہا ہو بلکہ ایک احمق کی وطن سے غداری کی وجہ سے تھا، میں نے بلا جھجک جواب دیا:

- تمہارا یہ فعل قانون اور انسانیت کے خلاف ہے اور تو اور تم لوگوں کے پاس موثق مخبر موجود ہے؟

اس کا منطقی، قانونی اور دوستانہ ماحول میں باتیں کرنے کا ڈرامہ جیسے ختم ہوگیا ، وہ برداشت نہیں کرسکا اور غصے سے کہنے لگا:

- بکواس بند کرو! صرف میرے سوالات کا جواب دو۔

- میرے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔

اس نے دراز سے میرا بٹوا نکالا اور پوچھا؟

- یہ بٹوا تمہار ا ہے؟

- ہاں۔

ایسا لگ رہا تھا وہ اپنی بات تک پہنچنے کیلئے کسی بہانے کی تلاش میں تھا۔

- تمہارا پورا نام یہی ہے؟ یہ کیسا کارڈ ہے؟ یہ ٹیلی فون نمبر کہاں کے ہیں؟ کس کے ہیں؟

مختصر یہ کہ بٹوے کی ایک ایک چیز کے بارے میں سوال کیا۔ پھر میری بیوی کی تصویر جو ہمیشہ میرے بٹوے میں ہوا کرتی تھی، خاموشی سے لیکن فاتحانہ انداز سے نکالی اور تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے اطمینان سے پوچھا:

- تمہاری بیوی ہے؟

مہری کے ساتھ گزرا ہوا تمام وقت ایک لمحے میں میرے ذہن سے گزرا اور میں نے آرام سے جواب دیا:

- ہاں۔

اس کی آنکھوں اور آواز سے اس کی مکاری پوری طرح سے ظاہر ہو رہی تھی، اس نے ایک ایسا سوال کیا جس کا جواب پوری طرح سے روشن تھا! کہنے لگا:

- تم چاہتے ہو اسے فون کرکے بتاؤ کہ تم زندہ ہو؟

- ہاں!

اس نے ایک لمبی سانس لی اور کہا:

- ٹھیک ہے۔ میں اس کیلئے اقدام کرونگا!

اس نے فوراً درد کی گولیاں منگوائیں، جو میں نے کھائیں۔ اس کے بعد ایک بیٹری میری طرف بڑھائی اور جیسے کہ اپنے رویہ اور بات کرنے کے طریقے کو مہربان ظاہر کرنا چاہتا ہو، کہنے لگا:

- ...تم آج یا کل اپنے زندہ ہونے کا اعلان ریڈیو پہ کرسکتے ہو تاکہ تمہارے منتظر تمہارے گھر والے جان لیں کہ تم زندہ ہو، اس سے پہلے صرف ایک ... صرف ایک بات اور کہو۔

- کون سی بات؟

- حقیقت بیان کرو!  ... یعنی کہو جنگ بہت بری چیز ہے اور ایرانی عہدیداروں کو صلح کرنے اور جنگ ختم کرنے کی دعوت دو اور قیدیوں کے ساتھ ہمارے حسن سلوک اور مہمان نوازی کے بارے میں بتاؤ۔

میں نے بغیر کسی فاصلے کے یہ احساس کرتے ہوئے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے فوراً بلا جھجک اور اطمینان سے کہا:

- میں یہ کام نہیں کرونگا!

اس نے کوشش کی تعجب کا اظہار کرے؛  اس نے تعجب آمیز طریقے سے سر ہلایا اور پوچھنے لگا:

- کیوں؟ کیا تم نے نہیں کہا کہ تمہارے گھر والے جان لیں تم زندہ ہو؟

- میں یہ چاہتا ہوں لیکن اس قیمت پہ نہیں!

- یعنی جو باتیں میں چاہتا ہوں تم کہوں اسے قبول نہیں کرتے؟

- یقیناً نہیں مانتا۔ اگر جنگ بری چیز ہے تو پھر تم لوگوں نے شروع ہی کیوں کی؟ جنگ کی برائی تم لوگوں کیلئے ہے، تم لوگوں نے جنگ شروع کی ہے۔ ہمارے لئے نہیں ہے، ہم تو دفاع کر رہے ہیں۔ اس سب سے ہٹ کر، ہمارے ملک کے عہدیدار بہتر جانتے ہیں کہ صلح کا کیا راستہ ہے اور اُنہیں میری رہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ بھی دشمن کے ریڈیو سے۔ اور تم کون سے حسن سلوک اور مہمان نوازی کی بات کر رہے ہو؟ میں ایک افسر ہوں۔ میری درد  سے بری حالت ہو رہی ہے، مجھے فوری معالجے کی ضرورت ہے لیکن تم لوگوں نے میرے لئے کچھ نہیں کیا ہے۔ مجھے اب معلوم ہوا یہ درد کی چند گولیاں بھی اس نیت سے تم نے مجھے دی تھیں، نہ کہ اپنا فرض نبھاتے ہوئے اور قیدیوں کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے۔ کم از کم میرے لئے پہلےڈاکٹر کو لے کر آتے اور پھر مجھ سے ریڈیو کیلئے انٹرویو کا پوچھتے۔ تم لوگوں نے حتی "جنیوا" کے قیدیوں کے بارے میں قوانین کی کم از کم رعایت بھی میرے ساتھ نہیں کی ہے!

اس نے میری باتوں کو صحیح سے سنا۔ اس کے بعد ایک اور جال بچھایا۔ بہت چالاکی سے نفسیاتی طریقے سے دھوکہ دینے کی غرض سے (کہا):

- میں اور تم دنوں ہی بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ ریڈیو پر بیان دو۔ یقیناً  تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ ایران میں تمہارے گھر والوں کو تکلیف پہنچے، ورنہ ...

مجھے احساس ہوا کہ میری گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور میرا چہرہ سرخ ہوگیا ہے۔ مجھے میری غیرت للکار رہی تھی۔ میں نے اس کی بات کاٹی اور ا سے پوری قاطعیت اور سنجیدگی سے کہا:

- نہیں! نہیں! نہ مجھے کسی طرح کا ڈر و خوف ہے اورنہ ایران میں ایسا کچھ ہوتا ہے۔ میری آخری بات یہ ہے کہ تم مطمئن ہوجاؤ میں کسی بھی وجہ سے ریڈیو پر بیان نہیں دونگا حتی اپنی جان بچانے کیلئے بھی۔

کچھ دیر خاموشی ہوگئی اور ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے۔

جب اس نے دیکھا میں نے اس کے سوالوں کے محکم اور اطمینان کے ساتھ جواب دے دیئے ہیں تو ایسے شخص کی طرح جو اپنے سر کے اشارے سے کام تمام کردے، کہنے لگا:

- اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا۔

اس نے گھنٹی بجائی، نگہبان آیا۔ اس نے اسے اشارہ کیا کہ مجھے لے جائے۔ نگہبان نے مجھے ہتھکڑی باندھی اور وہ مجھے اس کمرے سے باہر لے گیا۔ میری حالت بالکل بھی ٹھیک نہیں تھی البتہ میرا دل مطمئن تھا۔

جاری ہے ...


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 54


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

    جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

    مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

    سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
    لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

    وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

    میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔