تنہائی کے سال – چوتھا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-10-30


ہم اُسی طرح شہر کے اندر چکر لگا رہے تھے، آگے والی گاڑی میں بیٹھے ایک شخص کے اشارے پر، سب رک گئے۔ ایک مرد جس نے عام  لباس پہنا ہوا تھا آگے والی بنز سے اُترا اور اُس نے اشارہ کیا تاکہ ہم بھی گاڑی سے اُتر جائیں۔ اُس نے آرام سے بات کی اور بناوٹی انداز میں انسان دوستی اور انسانیت کے غرور میں، مجھ سے پوچھا:

-  اس عمارت کو دیکھ رہے ہو؟

دو منزلہ عمارت تھی جو تقریباً بڑی سی لگ رہی تھی اور اُس کے بالائی طبقے کا کچھ حصہ خراب ہوگیا تھا۔ میں نے کہا:

- ہاں!

 یہ بچوں کا اسکول ہے اور تمہارے بمب نے اسے خراب کیا ہے۔

- یہ بات صحیح نہیں ہے، میں نے چھاؤنی پر حملہ کیا ہے اور میں نے اپنے بمب وہاں گرائے ہیں۔ ہم مردوں کی طرح لڑتے ہیں اور ہم تمہارے پائلٹوں کی طرح نہیں ہے کہ شہر وں اور اسکولوں وغیرہ پر حملہ کریں! جو چیز فوج کے حیطہ میں آتی ہے ہمیں اس سے سروکار ہوتا ہے۔

تمام چیزیں خدا کے سپرد کردینے نے، جیسے میرے وجود کو حقانیت سے بھر دیا تھا اور حق اور سچائی کے علاوہ، میری نظروں اور لبوں پر کچھ نہیں آیا۔

اُس نے چیخنا چلانا شروع کردیا:

- یہاں تم نے حملہ کیا ہے اور تمہارے طیارے کے بمبوں کی وجہ سے یہ اسکول خراب ہوا ہے !

میں نے پھر انکار کیا، لیکن وہ اس بات پر بضد تھا کہ میں قبول کرلوں یا کسی بھی طرح اعتراف کرلوں کہ میں نے مارا ہے۔

میں نے اپنے مترجم، جو میری انگریزی کو عربی میں ترجمہ کر رہا تھا،  سے آرام سے کہا: "پہلی بات تو  یہ ہے کہ یہ عمارت ابھی خراب نہیں ہوئی ہے۔ فرض کریں کہ میں نے اسے اڑایا ہے – کہ نہیں اڑایا- کوئی چیز تبدیل نہیں ہوگی؛ جنگ اور حملے کو آپ نے شروع کیا ہے، چڑھائی کرنے والے آپ ہو، ایسے میں آپ کی اُمید اور توقع  یہ ہے کہ آپ کے سر پر ریوڑھیاں برسائی جائیں؟!"

میری باتوں کا عربی ترجمہ  ختم ہونے کے بعد، وہ بہت غصہ میں آگیا، وہ سامنے آیا ، حالانکہ وہ لکیریں کھینچ رہا تھا، اُس نے کہا:

- ابھی میں تمہیں کچھ ریوڑھیاں دکھاؤں گا جسے تم بھلا نہیں سکو گے!

وہ جو کہتا ، مترجم اُسی انداز میں اُسے انگریزی میں میرے لئے ترجمہ کر دیتا۔

ہم گاڑی میں بیٹھے اور شہر سے باہر کی طرف چلنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ، بہت زیادہ دور نہیں، ایک ایسے محلے پہنچے جس کے نگہبانی والے اور فوجی کمروں سے پتہ چل رہا تھا کہ کوت چھاؤنی ہے۔ داخل ہونے کیلئے شناخت کی خاطر توقف کیا، نگہبانوں میں سے ہر ایک نے کسی نے کسی طرح ہم سے اپنی نفرت کا  اظہار کیا؛ کسی نے مکا مار کر، کسی لات مارکر، کسی نے ہمارے چہرے پر تھوک پھینک کر، اور ...

چھاؤنی کے اندر، ٹیلے کی مانند جگہ کے سامنے ہم سب گاڑی سے اُتر گئے۔ وہاں کے بعد، ہمارے ساتھ صرف نگہبان تھے اور عام لباس والا شخص نہیں آیا۔ ٹیلے پر بنے کمرے کا دروازہ کھولا ، جہاں دائرے کی شکل میں بنی گھومتی ہوئی میٹل سیڑھیاں تھیں جس میں سے دو آدمی ایک ساتھی بڑی مشکل سے گزر سکتے تھے، ہم نیچے اُترے۔ سیڑھیاں ایک بڑے سے کوریڈور میں ختم ہوئیں جو بغیر کسی روشندان کے تھا اور اُس کے دونوں اطراف میں چھ میٹر کے بنے ہوئے کمروں میں کچھ کرسیاں اور کچھ بیڈ رکھے ہوئے تھے۔

ہمارے اندر داخل ہوتے ہی، چار آدمی جنہوں نے پرواز کا ڈریس پہنا ہوا تھا، ہمارے سامنے آئے،ہم سے ہاتھ ملایا  اور ہم سے احوال پرسی کی۔ میں نے کہا: "میری کمر پر چوٹ لگی ہے..." اُن میں سے ایک آدمی میرے لئے درد کی کچھ گولیاں لایا۔

اُن کی درخواست پر ہمارے لئے چائے، سگریٹ اور ناشتہ لایا گیا اور انھوں نے اپنے لاپتہ پائلٹوں کے بارے میں سوال کیا۔ اُس کے بعد، اُنھوں نے اُن پائلٹوں کے بارے میں پوچھا جو اُن کے ہم کلاسی تھے اور جنہوں نے پاکستان میں ان ساتھ ٹریننگ کی تھی، اور وہ بعض لوگوں کو اُن کے نام سے پہچانتے تھے۔ دراصل ظاہری طور پر انھوں نے ہمارے ساتھ ایک فیلڈ کا ہونے والا برتاؤ کیا جو ہمارے لئے ایک غنیمت شمار ہوسکتا ہے۔

اُن میں سے ایک نے پوچھا:

-  تم نے اپنے بمبوں کو کہاں گرایا ہے؟

میں نے جواب دیا:  

- چھاؤنی پر۔

اُس نے تقریباً  بغیر کسی فرق کے کہا:

- میں پرواز کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ آپ نے ہماری چھاؤنی پر حملہ کردیا اور تمہارے بمبوں میں سے ایک میرے طیارے پر لگا!

اور بغیر اس کے کہ اُس اندر کوئی جلن کی حس دکھائی دے، اُس نے بات کو جاری  رکھا:

- کون سی چھاؤنی سے آئے ہو؟

شاہرخی سے؛ نوژہ چھاؤنی۔

اُس نے اُسی طرح بغیر کسی تجسس کے پوچھا:

- تمہاری چھاؤنی کی حفاظت کیلئے کس  طرح کی اینٹی ایئر کرافٹ گنیں موجود ہیں؟

وہ، نہ کوئی تفتیشی افسر تھا، اور نہ ہی کوئی تفتیش کر رہا تھا، ایسے عالم میں، میں نے عام حالت میں اور بہت ٹھنڈے  مزاج سے اُس کے جواب میں کہا:

- تقریباً ایک مہینہ ہوا ہے کہ میں اس چھاؤنی میں منتقل ہوا ہوں اور مجھے نہیں پتہ کہ وہاں کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔

اس پورے عرصے میں، شدید قسم کے درد نے میرے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ اُن  میں سے ایک نے میری مدد کی تاکہ میں بیڈ پر لیٹ سکوں، یہاں تک کہ میں لیٹنے اور آرام کرنے – چاہے تھوڑی دیر کیلئے – کے قابل بھی نہیں تھا۔ عراقی خلاء بازوں نے جب دیکھا کہ میری حالت زیادہ اچھی نہیں ہے، انھوں نے مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیا، پچھلے کیبن کے پائلٹ – رضا صلواتی – کے پاس چلے گئے اور انھوں نے تقریباً آدھے گھنٹے تک ایک دوسرے سے بات چیت کی اور آخر میں کہنے لگے: "آپ لوگوں کو بغداد لے جایا جائے گا؛ ہم وہاں آپ سے ملنے آئیں گے!"

شاید ہمارے لئے وہاں بہت سے سوالات تھے جو ہم اُن سے پوچھ کر اُن کے جواب حاصل کرسکتے تھے؛   لیکن ایک قیدی کے عنوان سے، ایسا رسک لینا ہمارے لئے جائز نہیں تھا۔ مصلحت اسی میں تھی کہ میں خود کو ٹھنڈے مزاج اور گم سم بناکر پیش کروں اور بعد میں ہونے والی باتوں کو بعد کیلئے چھوڑ دوں۔ فقط خدا سے مدد طلب کرنے میں، میں کسی وقت اور جگہ کا لحاظ نہیں کرتا تھا۔

اُسی راستے اور اُسی لوہے کی سیڑھیوں سے گزر کر، جو میرے لئے بہت دشوار تھیں ، ہم اوپر آئے۔ آنکھوں پر اور ہاتھوں پر پٹیاں بندھ جانے کے بعد ہم ایک اسٹیشن گاڑی میں سوار ہوئے، جس میں حفاظت کیلئے دو نگہبان اور ایک ڈرائیور تھا، ہم نے بغداد کی طرف چلنا شروع کیا۔

مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ درد مجھ پر غلبہ کرلے گا، لیکن اس مسئلے کے علاوہ، ایک منطقی حس مجھ سے یہ کہہ رہی تھی کہ میرا دل نہیں چاہ رہا کہ کسی چیز کے بارے میں فکر کروں۔ شاید میرے ذہن کو آرام کی ضرورت تھی؛ یا کسی دوسری چیز کی! بہر حال مجھے سوال اور اعتراض کرنے کا حق نہیں تھا اور مجھے بعد میں ہونے والے واقعات کا انتظار کرنا چاہیے۔

مجھے یاد نہیں کہ ہم نے دقیقاً کتنا راستہ طے کیا تھا، شاید ہمیں حرکت کیئے تین گھنٹے سے زیادہ ہوگئے تھے کہ میں نے بہت مشکل سے آنکھوں پر بندھی پٹی کے نیچے سے دیکھا کہ ہم شہربغداد پہنچ گئے ہیں۔ شہر کے اندر، ہم ایسے علاقے میں داخل ہوئے جہاں فوجی اداروں کی طرز کے مکان بنے ہوئے تھے اور نگہبان نے سوال و جواب کے بعد دروازے پر رکھی رکاوٹ کو ہٹا دیا۔

دائیں ، بائیں طرف چند غیر ضروری چکر لگانے کے بعد، جو عام طور سے اس لئے لگائے جاتے ہیں تاکہ قید ہونے والا علاقے کو پہچان نہ سکے، ہم نے ایک دو منزلہ چھوٹی سی عمارت کے سامنے توقف کیا۔ عمارت، شمال کی سمت میں تھی اور اُس میں ایک چھوٹا سا صحن تھا۔ ہم صحن سے ایک کوریڈور میں داخل ہوئے کہ جس کے دائیں بائیں طرف، دونوں طرف دو کمرے بنے ہوئے تھے جس کی کھڑکیاں اور دروازے زندان کی طرح تھے۔ کوریڈور کے آخر میں، دوسرے طبقے پر جانے والی سیڑھیاں نظر آرہی تھی اور اُس کے ساتھ ہی واش روم اور حمام تھا۔ ہم جیسے ہی کوریڈور میں داخل ہوئے، مجھے پہلے کمرے میں پھینک دیا اور دروازہ بند کردیا۔ اس کے بعد سے میں اپنے پچھلے کیبن کے پائلٹ – رضا صلواتی – سے جدا ہوگیا۔ دراصل وہ انفرادی جیل کی طرح کی جگہ تھی؛ لیکن عارضی قید کیلئے!

کمرے میں، ایک تخت  کے ساتھ تکیہ اور کمبل موجود تھا۔ درد کی شدت سے بل کھانے کے باوجود، میں صحن میں کھلنے والی چھوٹی سی کھڑکی کے قریب گیا ۔ کچھ سریے افقی اور عمودی صورت میں اُس میں ایسے ویلڈ ہوئے تھے کہ اُس نے تقریباً کھڑکی سے باہر دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔

تقریباً دو گھنٹے گزر گئے۔ درد نے میری جان نکال لی تھی کہ نگہبان نے دروازہ کھولا اور مجھ سے کہا: "آجاؤ!" لیکن جب اُس نے دیکھا کہ میں ہل نہیں سکتا، وہ آگے آیا، اُس نے میرے ہاتھ اور میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور عمارت کے باہر تک میرا ساتھ دیا۔

جاری  ہے ...


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 48


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

    جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

    مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

    سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
    لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

    وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

    میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔