جنگی زخمیوں کے بارے میں اشرف بہارلو کی یادیں

آبادان میں زندگی اور طالقانی ہسپتال میں امدادی سرگرمی

فائزہ ساسانی خواہ

2017-10-08


 

آبادان میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی خواتین نے اس شہر کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی خدمت کرنے میں بہت اہم  کردار ادا کیا۔ یہ لوگ اپنے گھر والوں سے دور اور بغیر کسی مالی لالچ کے سپاہیوں کی مدد کیلئے ایسے شہر میں ٹھہری ہوئی تھیں جس کا دشمن نے محاصرہ کیا ہوا تھا، تاکہ اپنے زخمی بھائیوں کی دیکھ بھال کے ذریعے ان کا علاج معالجہ کریں۔ اشرف بہارلو صدامی فوج کی جمہوری اسلامی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران  اُنہی جوان لیڈی امدادی کارکنوں میں سے ایک ہیں ۔ انھوں نے ایرانی اورل ہسٹری سائٹ سے آبادن اور طالقانی ہسپتال سے مربوط اپنی یادوں کے بارے میں گفتگو کی ۔

جب جنگ کا آغاز ہوا آپ کہاں تھیں؟

میں آبادان میں تھی اور آبادان آئل کمپنی کے علاقے میں موجود مسجد مہدی موعود (عج) جو مسجد پیروز کے نام سے مشہور تھی، میں اپنے وظائف انجام دے رہی تھی۔ میں اور کچھ دوسری خواہران انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے اور سن ۱۹۷۵ء سے مسجد مہدی موجود (عج) میں ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور ہم سیاسی کاموں میں شرکت کرتے تھے۔ بعض دفعہ میں اپنی کسی سہیلی کے گھر چلی جاتی۔ وہاں میں اپنا ظاہری حلیہ ٹھیک کرتی۔ اپنی چادر تبدیل کرتی اور اپنی سہیلی کی والدہ کی رنگین چادر جس ہم کُدَری کہا کرتے تھے، پہن لیتی تھی۔ میں جوتوں کے بجائےربڑ کی چپلیں پہنتی اور پھر اپنی سہیلی کے ساتھ سید عباس کے مزار پر زیارت کرنے چلی جاتی جو آبادان میں بہت مشہور زیارتگاہ ہے۔ اُس زیارتگاہ کے سامنے نخلستان تھا۔ میں وہاں کے گھروں میں جاتی۔ ہم وہاں مرحوم شریعتی اور امام خمینی ؒ کی کیسٹیں سنا کرتے تھے۔ ہم اپنی قرآنی کلاسوں میں شاہ کے خلاف باتیں کرتھے تھے۔ جس کی وجہ سے ہماری کلاس ختم کرادی گئی۔ میرے گھر والے میری سیاسی سرگرمیوں سے  بے خبر تھے، لیکن میرے بھائی کو آہستہ آہستہ پتہ چل گیا۔

ایک دفعہ، جب میں نے  ابھی انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا تھا تو میں گرفتار ہوتے ہوتے بچی۔ جمعہ والے دن مسجد کے سامنے ایک فلم کیلئے اداکاروں کی مووی بنا رہے تھے۔ دعائے ندبہ ہو رہی تھی، لوگوں کی آمد و رفت لگی ہوئی تھی، اُن کی فلم کیلئے بہترین سین تھا کہ با پردہ خواتین کا بھی وہاں سے گزر ہو۔ میں ناراض ہوئی اور میں نے اُن سے جھگڑا کرلیا کہ یہاں پر کیوں مووی بنا رہے ہو۔

مسجد میں کچھ لوگ  کئی بار آئے اور میرا نام پوچھا۔ اُن میں سے ایک نے کہا: "تمہارا نام کیا ہے؟ میں فلاں ادارے کا رکن ہوں!" مجھے بھی نہیں پتہ تھا کہ اُس کی ادارے سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: "ہوتے ہو تو ہو! کیا میں حق بات نہیں کہہ سکتی؟"

دعائے ندبہ ختم ہوتے ہی میری سہیلیاں آئیں اور کہنے لگیں: "مسجد کے باہر بہت فورس آگئی ہے! مسجد کے پیچھے والے دروازے سے فرار کر جاؤ۔" میں نے کہا: "میں پیچھے والے راستے سے نہیں بھاگوں گی۔" لوگوں نے ضرورتمندوں اور محرومین کی مدد کیلئے مسجد میں کچھ لباس جمع کئے ہوئے تھے۔ میں نے اُن لباسوں میں سے ایک سفید چادر نکال کر اوڑھ لی۔ اپنے جوتے اُتار کر ربڑ کی چپلیں پہن لیں اور مسجد کے مین گیٹ سے باہر نکل گئی۔ دروازے پہ کھڑے سپاہیوں نے مجھے نہیں پہچانا۔

جب جنگ شروع ہوئی، آبادان کے بہت سے لوگ من جملہ میرے گھر والے دشمن کی طرف سے شہر کو مورد حملہ قرار دینے کی وجہ سے شہر سے چلے گئے، لیکن میں اُن لوگوں کے ساتھ نہیں گئی۔ میں دفاع کرنے والوں کی مدد کرنے کیلئے ٹھہر گئی اور مسجد میں وظائف انجام دینے لگی۔

آبادان میں رہ جانے کیلئے گھر والوں کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا؟

نہیں۔انھوں نے میرے رہ جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ میرے گھر والے مذہبی تھے۔ شاہ کے زمانے میں مجھے سیکنڈری اسکول جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور میں نے چھ کلاسوں سے زیادہ پڑھائی نہیں کی، لیکن جنگ شروع ہوتے ہی اُنہیں پتہ تھا کہ میرا رکنے کا پکا ارادہ ہے اور اگر میں چلی بھی جاتی تو دوبارہ آجاتی۔

آپ مسجد میں کیا وظائف انجام دیتی تھیں؟

ہم لوگ مختلف کام انجام دیتے تھے۔ مثلاً سپاہیوں اور دلاوروں کیلئے پھلوں کو ایک معین تعداد مثلاً پچاس یا سو تک کارٹن میں رکھتے یا کھانا بناتے تھے۔ انڈے پکا کر محاذ پہ بھیجتے تھے اور کھانے کے برتنوں کو دھوتے تھے۔ اُس زمانے میں کبھی کبھی پانی آنا بند ہوجاتا تھا، مجھے یاد پڑتا ہے ہم جس پانی سے انڈے اُبالتے تھے اُسی سے وضو بھی کرلیتے تھے۔

ان کھانے کی اشیاء اور پھلوں کو خرم شہر بھیجتی تھیں؟

بسیج، فوج یا سپاہ کے لوگ آتے اور اپنی تحویل میں لے لیتے اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سے محاذ پر لے جاتے تھے۔

لوگوں کی امداد جیسے دوائیاں، غذا اور لباس بھی آتے تھے جنہیں آپ الگ کرکے تقسیم کرتیں؟

نہیں، یہ کام ہماری مسجد میں نہیں ہوتا تھا۔

مسجد مہدی موعود (عج) میں آپ کب تک وظائف انجام دیتی رہیں؟

جب دشمن نے آبادان کا محاصرہ کرلیا، ہم خواہران اُس وقت تک وہیں تھے، لیکن حماسہ کوی ذوالفقاری کے بعد مردوں نے کہا: "آپ لوگ آبادان سے چلی جائیں۔" مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے گھر والے کہاں ہیں! میرے والد کے اصفہان میں دوست تھے اور طے تھا کہ وہ لوگ اُن کے گھر جائیں گے، لیکن اس کے علاوہ مجھے کچھ خبر نہیں تھی۔ میں شہید محمد دشتی کی زوجہ جو شہر کی ایک سرگرم خاتون اور گورنر کی زوجہ تھیں اور میری انقلاب سے پہلے ان سے جان پہچان ہوگئی تھی، میں ان کے ساتھ قم چلی گئی۔ زمینی راستہ بند ہوچکا تھا اور شہر کے راستے سے باہر نکلنا ممکن نہیں تھا۔ ہمیں ایک ایسے گاؤں لے گئے جس کا نام چوئبدہ تھا جہاں سے پانی کے راستے سے جانا تھا۔ طے تھا کہ ہم پانی کے راستے سے ماہ شہر کی بندرگاہ جائیں۔ ہمارے ساتھ بہت سارے زخمی تھے جنہیں علاج کیلئے دوسرے شہروں میں بھیجنا چاہ رہے تھے۔ وہاں پر کہا گیا: "آپ لوگ ہوکر کرافٹ(پانی کا جہاز) آنے کا انتظار کریں جو آپ کو ماہ شہر لے جائے گا، اگر نہیں آیا تو آپ لوگوں کو آبادان واپس بھیج دیں گے اور اسلحہ سے مسلح کردیں گے۔" ہم دوبارہ آبادان جانے کا سن کر بہت خوش ہوئے، لیکن ہوکر کرافٹ آگیا اور ہمیں ماہ شہر پہنچا دیا اور وہاں سے ہم جنوبی علاقے سے نکل کر قم کی طرف کوچ کر گئے۔

آپ دوبارہ کس زمانے میں آبادان واپس آئیں؟

میں ایک دن کسی کام سے ایک دوست کے ساتھ باہر گئی ہوئی تھی۔ میری نگاہ حضرت معصومہ (س) کے گنبد پر پڑی، میں نے ان سے عرض کی: میں زور اور زبردستی نہیں  کر رہی، لیکن اگر ہم سے کوئی کام ہوسکتا ہے اور ہمارے جانے میں مصلحت ہے تو ہمارے دوبارہ آبادان جانے کا معاملہ درست کردیں۔

میں دوپہر میں ایک دوست کے ساتھ ریلوے اسٹیشن گئی۔ ہم اندیمشک جانے والی ٹرین میں سوار ہوئے جس کے تمام مسافر فوجی تھے۔ جس ڈبے میں، میں اور میرے سہیلی تھی اُس میں ایک مرد آیا۔ میرا چچا زاد بھائی انقلابی اور سرگرم انسان تھا۔ میں نے اُس مرد سے کہا: "کیا آپ فلاں شخص کو پہچانتے ہیں؟"اُس نے پہچان لیا اور ہم سے کہا: "اہواز میں سپاہ کے آفس جانا اور وہاں جاکر کہنا برادار موسوی نے ہمیں بھیجا ہے۔"

جب ہم اہواز میں سپاہ کے دفتر پہنچے تو وہاں کے مسئولین نے کہا: "خدا نے تمہیں ہمارے لئے بھیجا ہے، ہمیں کچھ لوگوں کی ضرورت ہے جو کچھ دوائیوں کو ایک دوسرے سے الگ کریں!ان دوائیوں کو چھانٹنے میں ہماری مدد کرو۔" ہمیں قریب میں ہی ایک گھر لے جایا گیا جہاں پر دوائیاں بھری پڑی تھیں۔ ہم نے کچھ دن اُن کی مدد کی، لیکن میں یہاں رہنے کیلئے نہیں آئی تھی۔ میں نے اپنی سہلیوں سے کہا: "اگر آپ لوگ چاہتی ہیں تو یہاں رہیں، میں آبادان جانا چاہتی ہوں۔" ہم روانہ ہوئے۔ جانے سے پہلے ہم نے کھانا کھایا،  کھانے میں غذا کا ڈبہ اور روٹی تھی جس کے کچھ حصے پر پھپوئی لگ چکی تھی۔

ہم گاڑی کے ذریعے ماہ شہر اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آبادان گئے۔ البتہ ہیلی کاپٹر خود شہر میں نہیں اُترا۔ جب ہم آبادان پہنچے تو میں نے مسجد مہدی موعود (عج) کا چکر لگایا۔ وہاں کوئی بھی خاتون نہیں تھی۔ میں طالقانی ہسپتال چلی گئی اور وہاں کام میں مصروف ہوگئی۔

طالقانی ہسپتال میں آپ کا پہلا وظیفہ کیا تھا؟

پہلے تو میں وارڈ میں تھی، میں چادریں تبدیل کرتی اور چھوٹے موٹے کاموں میں نرسوں کا ہاتھ بٹاتی تھی، اگر کسی مریض کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو اُس کیلئے وہ چیز لیکر جاتی۔ جو بھی ضروری کام ہوتا ہم انجام دیتے تھے اور کوئی بھی کام انجام دینے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ کچھ عرصے تک میں وارڈ میں رہی  پھرایمرجنسی وارڈ میں کام کرنے لگی۔

آپ نے میڈیکل ٹریٹمنٹ کا کورس پہلے سے کیا ہوا تھا؟

نہیں۔ میں نے آہستہ آہستہ کام سیکھ لیا تھا۔ جب میں شروع کے دنوں میں ایمرجنسی وارڈ میں تھی تو میں نے نبض پکڑنے اور مریض کو کینولا  لگانے کیلئے اپنی ایک سہیلی کے ساتھ اپنے ہاتھوں پر ہی پریکٹس کی ۔ پہلے میں نے اُس کی نبض کو ابھارا اور اُس کے ہاتھ میں کینولا لگایا۔ میرے بعد اُس لڑکی نے یہی کام میرے ساتھ انجام دینا چاہا کہ ایک نرس آگئی۔ اُس نے جیسے ہی ہمیں یہ کام کرتے ہوئ دیکھا تو بہت واویلا مچایا۔ جب کمروں میں خواہران ہوتی تھیں تو برادران نہیں آیا کرتے تھے، لیکن اگر کسی زخمی کو لانا ہو تو پھر آتے تھے۔ وہ نرس ایمرجنسی وارڈ سے باہر گئی اور ایک ڈاکٹر کو اپنے ساتھ لےآئی۔ میں نے اپنے ہاتھ سے کینولا نکال لیا، میرے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے پوچھا: "کیا ہوا ہے؟" میں نے اسے وضاحت دی۔ ڈاکٹر کو ہنسی آگئی اور وہ چلا گیا۔

جس زمانے میں آپ ہسپتال میں گئی تھیں، حالات کیسے تھے؟

ہسپتال میں رش تھا۔ مستقل زخمیوں کو لایا  جا رہا تھا۔ طالقانی ہاسپٹل آبادان کے فیاضیہ محاذ سے بھی قریب تھا اور  خرم شہر سے بھی قریب ترین ہاسپٹل  تھا۔ ہماری افواج خرم شہر کے سقوط کے بعد، کوت شیخ اور دوسری جگہوں پر جہاں دشمن قبضہ نہیں کرسکا تھا دشمن سے جھڑپوں میں ملوث تھی اور اگر کوئی فوجی زخمی ہوتا تو اُسے ہاسپٹل لاتے تھے۔

وہاں پر امن و امان کی صورتحال کیسی تھی؟

شہر محاصرہ میں تھا۔عراق مختلف قسم کے اسلحوں سے شہر کو مورد حملہ قرار دے رہا تھا۔ طالقانی ہاسپٹل کے اطراف میں بھی کئی بار مارٹر گولے آکر لگے تھے۔ کبھی مسلسل سائرن بجاتے اور بجلی چلی جاتی، البتہ آپریشن تھیڑ میں ایمرجنسی بجلی کا انتظام تھا۔ میں ایک دفعہ حمام میں اپنے کپڑے دھو رہی کہ مارٹر گولا مارا گیا۔ میں لا شعوری طور پر دو تین مرتبہ آگے پیچھے ہوئی۔ ایک دفعہ اور میں ہاسپٹل سے باہر گئی ہوئی تھی اور ہاسپٹل سے قریب ہائی وے پر تھی۔ اچانک ہائی وے پر دراڑ پر گئی اور گڑھا بن گیا۔ پھر دھماکے کی آواز آئی۔ اصل میں مارٹر کے عمل کرنے کے بعد آواز آئی تھی۔ دھماکے کی وجہ سے میرے کان کے پردے پر اثر پڑا۔ میرے کان میں وہیں سے درد شروع ہوگیا اور آہستہ آہستہ یہ درد بڑھتا گیا۔ بعد میں جب میں نے ڈاکٹر کو دکھایا تو پتہ چلا اثر پڑا ہے اور اس وقت میرے بائیں کان کے سننے کی صلاحیت بہت کم ہوگئی ہے۔

فقط زخمی ہونے والے فوجیوں کو ہی طالقانی ہاسپٹل میں لایا جاتا تھا؟

نہیں۔ عام لوگ بھی آتے تھے جو اس وقت تک آبادان میں رہ رہے تھے۔ اُن میں سے کچھ لوگ زخمی ہوتے تھے۔ میں نے سرد خانے میں ایک چھوٹے سے شہید کو بھی دیکھا،  جو تقریباً چھ مہینے کا تھا۔ ایک دفعہ ہاسپٹل کے پچھلے حصے پر بمباری ہوئی، کچھ بوڑھے اور جوانوں کو ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کے درمیان ایک ایسی بوڑھی خاتون تھیں جن کی عمر شاید سو سال سے زیادہ ہو۔ اُنہیں انجکشن لگانے کیلئے کسی میں بھی ہمت نہیں تھی۔ کہنے لگے: "اس خاتون کو کون انجکشن لگائے گا؟" میں نے کہا: "میں!" بعد میں ایک نرس نے کہا: "بہارلو بہن! ہم بھی اتنے عمر رسیدہ افراد کو انجکشن  نہیں لگاتے، تم نے یہ کام کیسا کرلیا، شاید اُسے تشنج ہوجائے!" خدا کا شکر اُنہیں تشنج نہیں ہوا۔ ان زخمیوں کے ساتھ ایک جوان عورت بھی آئی تھی جس کے بچہ جننے کا وقت ہوگیا تھا۔ اپنے بیٹے کی ولادت کے بعد وہ چاہتی تھی اس کا نام کاتوشا (میزائل کا نام) رکھے!

آپ صرف عمومی وارڈ اور ایمرجنسی وارڈ میں کام کرتی تھیں؟

نہیں۔ کچھ عرصے بعد اُنہیں آپریشن تھیٹر کیلئے کچھ مورد اطمینان لوگوں کی ضرورت پڑی تو مجھے وہاں بھیج دیا گیا۔ شروع میں، میں آپریشن تھیٹر اور وہاں کے وسائل کو صاف کرتی تھی، یا آپریشن کے بعد استعمال ہونے والے آلات کو اپنی جگہ پر رکھتی تھی۔ بعض آلوں کو دھونے اور اینٹی سپیٹک کرنے کی ضرورت ہوتی۔ آپریشن تھیٹر کے آخر میں اوپر کی طرف ایک دریچہ تھا۔ وہیں سے جراحت کے وسائل ہمارے لئے بھیجتے اور ہم اپنی تحویل میں لے لیتے۔ پھر آہستہ آہستہ میری ڈیوٹی تبدیل ہوگئی۔ ہم آپریشن والے بیڈ کے نزدیک کھڑے ہوجاتے۔ آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کو جس آلہ کی بھی ضرورت ہوتی، اگر ٹیکنیشن ہوتا تو وہ دیتا، لیکن اگر وہ نہیں ہوتا، ہم جاکر انبار سے وہ چیز فوراً آپریشن تھیٹر میں لے آتے۔ اب آپریشن جتنے گھنٹے بھی طولانی ہوجائے، شاید تین یا چار گھنٹے طولانی ہوجائے،  ہم کان لگائے کھڑے رہتے۔ میں اتنی ماہر ہوگئی تھی کہ جراح کے ساتھ اپنے کام انجام دیتی تھی۔اگر جراح کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی میں ٹیکنیشن کو دیتی اور وہ جراح کو دیدیتا۔ اگر میں بھولوں نہیں تو ہمیں موبائل نرس کہا جاتاتھا۔ اب مجھے پتہ چل گیا تھا کہ ایک آپریشن کیلئے کن خاص چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ طالقانی ہاسپٹل میں آپریشن تھیٹر کے پانچ کمرے تھے، تین بڑے آپریشن تھیٹر اور دو کمرے پلاسٹر چڑھانے اور ارتھوپیڈک  سے مخصوص تھے۔ میں ضرورت کی ہر چیز ان کمروں میں رکھتی تھی۔ ڈاکٹرز بھی میری مہارت دیکھ کر متوجہ ہوگئے تھے اور ایک ڈاکٹر کہتے تھے جب میں آپریشن تھیٹر میں ہو تو یہ خواہر ضرور ہو۔

ہاسپٹل کا اسٹاف پرانے زمانے سے تین شفٹوں میں کام کررہا تھا۔ میں اپنا زیادہ تر وقت آپریشن تھیٹر میں گزارتی تھی۔ اتنا زیادہ وہاں رہتی کہ مجھے رات ہونے کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ ساتھی مجھے ڈھونڈتے ہوئے آتے اور کہتے: "بہارلو آؤ رات کا کھانا کھائیں۔" میں کہتی: "ارے بھئی، کیا رات ہوگئی؟"

رمضان کے مہینے میں افطاری کے وقت ہی سحری کا کھانا دے دیتے تھے۔ میں اُس وقت آپریشن تھیٹر میں کام کر رہی تھی، میں نہ صحیح سے افطاری کھاتی تھی اور نہ سحری اور اسی حالت میں روزہ رکھ لیتی۔ ۲۴ گھنٹوں میں شاید ۲ گھنٹے سوتی تھی۔ میں نے مریض کی بحالی کے کمرے میں بھی کام کیا تھا۔ آپریشن سے پہلے زخمیوں کے زخم کو دھوتی اور آپریشن کے مقدمات فراہم کیا کرتی۔ میں کبھی کم خوابی کی حالت اور گھنٹوں کھڑا رہنے کے باوجودخون بھی دیتی تھی۔ مجھے یاد پڑتا  ہے ایک دفعہ ایک زخمی کو لائے جسے تازہ خون کی ضرورت تھی۔ میں خون دینے گئی۔ بیہوش کرنے والا ڈاکٹر میرے پاس آکر کہنے لگا: "بہن، تم کئی گھنٹے مسلسل کھڑی رہی ہو، تم کیسے خون دے سکتی ہو؟" لیکن میں نے کوئی توجہ نہیں دی اور خون دیدیا۔

آپ کے ٹھہرنے کی جگہ اور ہاسٹل کہاں تھا؟

امدادی کاروائیوں میں حصہ لینے والی خواتین کے ٹھہرنے کی جگہ ہاسپٹل کا ایک خالی فلور تھا، لیکن میں ہمیشہ آپریشن تھیٹر کی دیواروں کے ساتھ بنی بینچوں پر ہی سوجاتی ، تاکہ اگر آدھی رات میں کسی زخمی کو لایا جائے تو میں وہاں موجود ہوں اور اسے تحویل میں لے لوں۔ ایک دفعہ چار زخمیوں کو لایا گیا، ہر زخمی ایک الگ کمرے میں تھا اور میں اکیلی تھی، ٹیکنیشن کے افراد آنے میں تھوڑا وقت لگ گیا۔ میں اس آپریشن تھیٹر سے اُس آپریشن تھیٹر تک دوڑ رہی تھی اور ضروری سامان پہنچا رہی تھی۔ پلاسٹر چڑھانے والا کمرا  ارتھوپیڈک روم سے تھوڑا دور تھا۔ پلاسٹر چڑھانے والا ایک ڈاکٹر غصے میں آگیا  تھا اور بولا: "کیوں مسلسل جا رہی ہو اور آرہی ہو؟ کیا تمہیں کام کرنا نہیں آتا؟ کام سے کیوں فرار کر رہی ہو؟" میں نے کہا" " ڈاکٹر صاحب میں یہاں کام سیکھنے آئی ہوں۔" میں دوبارہ گئی اور واپس آئی، انھوں نے اپنی بات دوبارہ دہرائی، میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک شخص نے میرے رفت وآمد کرنے کی دلیل کے بارے میں ڈاکٹر کو وضاحت پیش کی۔

آپ اپنے گھر والوں سے ملنے نہیں جاتی تھیں؟

ہمارا گھر خرم شہر میں تھا۔ میرے والد آبادان آئل کمپنی میں کام کرتے تھے اور انہیں کمپنی کی طرف سے گھر ملا ہوا تھا۔ قانون کے مطابق اگر آئل کمپنی میں کام کرنے والا شخص اس کمپنی سے گھر کی بابت قرضہ لیکر شہر آبادان کے اندر گھر خرید لیتا تو اُس سے کمپنی کی طرف سے دیا جانے والا گھر واپس لے لیا جاتا۔ اسی وجہ سے میرے والد نے خرم شہر میں، اُس روڈ پہ گھر خریدا تھا جو سیدھا خرم شہر کے پل تک جاتا ہے۔ گھر میٹرنٹی ہوم کے پیچھے تھااور عراق اُس حصے پر قبضہ نہیں کر پایا تھا۔ سڑک عراقیوں کے بالکل سامنے تھی اور گھر کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ میں اندر نہیں جاسکی۔ پڑوس والوں کا دروازہ توپ اور مارٹر کے گولے لگنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔ میں وہاں سے گھر میں داخل ہوئی۔ ہمارا کولر نکال کر لے گئے تھے۔ میں کولر کے راستے عمارت میں داخل ہوئی۔ ہمارے گھر کے اطراف میں بہت بمباری ہوئی تھی۔ وہاں پر اتنے حملے کرتے تھے کہ ہمیں احساس ہوتا کہ عراقیوں نے پانی کے اس پار جو قبضہ کیا ہوا ہے وہ ہمیں وہاں سے دیکھ رہے ہیں! گھر خون سے بھری چادروں سے بھرا ہوا تھا۔ پتہ چل رہا تھا کہ انھوں نے اپنے زخمی ہونے والے فوجیوں کو ہمارے گھر میں رکھا تھا، چونکہ بڑی عمارت تھی۔

جب ہم گلی میں آئے تو مزید فائرنگ شروع ہوگئی۔ آئل کمپنی کی ایک سوزوکی گاڑی ہوا کی طرح ہمارے سامنے سے گزری، لیکن وہ دوبارہ پیچھے واپس آئی۔ ڈرائیور نے پوچھا: "بہنوں آپ لوگ یہاں کیا کر رہی ہیں؟" ہم نے کہا: "ہم یہاں اپنے گھر کا چکر لگانے آئے ہیں۔"ابھی ایک خواہر صحیح سے سوار بھی نہیں ہوئی تھی  اور اُس کا پیر لٹک رہا تھا کہ گاڑی چل پڑی۔

امداد کرنے والی تمام خواتین کا تعلق آبادان سے تھا؟

نہیں۔ امداد کرنے والی خواتین میں آبادان کے علاوہ کچھ خواہران خرم شہر کی بھی تھیں اور اُن میں سے ایک شیراز سے آئی ہوئی تھی۔

ہاسپٹل میں رہنے کے اس پورے عرصے میں کیا آپ اپنے گھر والوں سے ملنے کیلئے چھٹی بھی لے سکتی تھیں؟

ہاں۔ہم چھٹی پر جاسکتے تھے۔  البتہ مجھے چھ مہینے تک نہیں پتہ تھا کہ میرے گھر والے کہاں ہیں۔ بہرام، میرا چچا زاد بھائی جنگ شروع ہونے سے پہلے جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اُس نے جیسے ہی ایران میں جنگ شروع ہونے کے بارے میں سنا وہ اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر دشمن سے لڑنے کیلئے واپس آگیا تھا۔ میں اس کے ذریعے اپنے گھر والوں کو شیراز میں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئی، کیونکہ میرے چچا کے علاوہ جو کہ آئل کمپنی میں ملازم تھے اور آبادان میں ہی رہ رہے تھے، اُن کے باقی گھر والے شیراز چلے گئے تھے۔

ہم بسیجی تھے، لیکن ہماری چھٹی کی درخواست پہ خواہرِ پاسدار لکھا جاتا۔ جو گاڑیاں زخمیوں کو چوئبدہ گاؤں تک لے جاتی تھیں ہم اُن کے ذریعے وہاں تک جاتے اور وہاں سے ماہ شہر کی بندرگاہ چلے جاتے اور ماہ شہر سے شیراز جاتے۔ پہلی دفعہ مجھ سے گھر کا پتہ گم ہوگیا تھا اور میں ایک رات شیراز میں اپنی  ایک سہیلی کے گھر رہی۔ اُس کے اگلے دن مجھے پتہ چلا وہ لوگ اُسی سڑک پر رہ رہے تھے جہاں میری سہیلی کا گھر تھا!

جب آپ آبادان میں تھیں آپ کو اپنے گھر کی فکر نہیں ہوتی تھیں؟

نہیں۔ آبادان میں میری تمام فکر اور میں خود ، زخمیوں میں مشغول تھی ۔ میں سائرن کے انتظار میں رہتی کہ ایمبولنس کی آواز آرہی ہے کسی نئے زخمی کو لائے ہیں۔

جن زخمیوں کو آپریشن کیلئے لایا جاتا تھا، آپ کو اُن کا کوئی واقعہ یاد ہے؟

ہاں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک جنگی آپریشن ہوا تھا اور اُس کے بعد بہت سارے زخمیوں کو ہاسپٹل میں لایا گیا تھا۔ زخمیوں کی تعداد کی نسبت آپریشن تھیٹروں کی تعداد سے محدود تھی اور انہیں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تاکہ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کی تشخیص کے حساب سے اُن کے زخم کا آپریشن ہو۔ ایک زخمی جس کا تعلق مشہد سے تھا شدت درد کی وجہ سے اُس کا حوصلہ ماند پڑ گیا تھااور وہ اعتراض کر رہا تھا: " مجھے کیوں نہیں آپریشن تھیٹر میں لے جا رہے ؟" میں اُس کے پاس گئی اور اُس سے بات کرتے ہوئے کہا: "بھائی، میں آپ کی بہن ہوں، ضرور آپ کو بھی لے جائیں گے، ہم ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق آپ کو آپریشن تھیٹر میں لے جائیں گے، لیکن جس جراح نے آپ کا آپریشن کرنا ہے وہ بہت مصروف ہے۔" میں چند دفعہ اُس کے پاس سے گزری اُسے اتنا درد ہو رہا تھا کہ وہ التماس کر رہا تھا کہ جتنا جلدی ہوسکے ہم اُسے آپریشن تھیٹر میں لے جائیں۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت بہت بری تھی، اُس کے دل کے پاس گولی لگی تھی۔ ہم اُسے آپریشن تھیٹر میں لے جانا چاہتے  تھے کہ اس زخمی نے دوبارہ اعتراض کیا: "اُسے کیوں آپریشن تھیٹر میں لے جا رہے ہو اور مجھے نہیں لے جارہے؟" میں نے کہا: "دیکھو میرے بھائی، اس زخمی کا بھی دل چاہ رہ ہے کہ درد کی شدت سے تمہاری طرح چیخے چلّائے، لیکن اُس کے دل پاس گولی لگی ہے  اور اگر اس نے بات کی تو وہ گولی حرکت کریگی! اگر تمہیں آدھے گھنٹے کی تاخیر سے آپریشن تھیٹر لے گئے تو زیادہ سے زیادہ تمہارا پیر کٹے گا، لیکن اگر اس زخمی کا آپریشن دیر سے ہوا تو یہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا!" جب میں نے یہ کہا تو وہ خاموش ہوگیا اور بولا: "مجھے نہ لے جائیں اُسے لے جائیں!" ایک دفعہ اور مجھے یاد آتا ہے آپریشن تھیٹر کے انتظار میں زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ایک زخمی کو آپریشن والے بیڈ کے نیچے لٹایا ہوا تھا اور پہلے زخمی کے آپریشن کے بعد بیڈ کو صاف کرنے کا موقع نہیں ملا اور وہ بعد والے زخمی کو اُسی حالت میں بیڈ پر لٹانا چاہتے تھے۔ میں نے جلدی سے بیڈ کو صاف کیا اور اُنھوں نے زخمی کو اُس پر لٹا دیا۔

جب آپریشن تھیٹر میں میرا کام ختم ہوجاتا یا جب آپریشن تھیٹر میں کوئی کام نہیں ہوتا تو میں وارڈ میں چکر لگاتی اور مجھ سے جو بھی ہوسکتا تھا انجام دیتی تھی۔ یا میں ہاسپٹل کے سرد خانے میں چلی جاتی کہ دیکھوں کسی شہید  کو لائے ہیں یا نہیں!

آپ نے جن شہداء کو سرد خانہ میں دیکھا تھا وہ آپ کو یاد ہیں؟

مجھے یاد آرہا ہے میں ایک دفعہ سردخانہ میں گئی ہوئی تھی۔ وہاں پر ایک کمبل ڈالا ہوا تھا۔ کمبل کے اندر کوئی بہت بھاری چیز تھی میں نے اُسے ہٹایا تو دیکھا اُس میں ایک شہید کو  رکھا ہوا ہے جس کے جسم کے اعضا ٹکرے ٹکڑے ہوگئے تھے اور اُن اعضاء سے چھوٹے چھوٹے پتھر چپک گئے تھے۔

آپ نے جن زخمیوں کو وارڈ میں دیکھا تھا، آپ کو اُن کا کوئی واقعہ یاد ہے؟

دو زخمیوں کو ہاسپٹل لایا گیا جو دھماکے کی وجہ سے جل گئے تھے؛ اُن کے جسم کا بہت سارا حصہ جل گیا تھا اور سوجھا ہوا تھا۔ اُنہیں دوسرے زخمیوں کے کمرے میں نہیں رکھا گیا تھا، اُنہیں خواہران کے ہاسٹل کے قریب الگ سے ایک کمرے میں ایڈمٹ  کیا گیا تھا۔ میں اُن کے معدے کا پانی صاف کیا کرتی تھی۔  ایک دفعہ اُن میں سے ایک کے معدے کاپانی میرے ہاتھ پر گر گیا۔ وہ زخمی مستقل مجھ سے معذرت خواہی کر رہا تھا۔ میں نے کہا: "تم بھی میرے بھائی کی طرح ہو اور میں یہاں تم لوگوں کی مدد کرنے آئی ہوں!"

مجھے ایک اور زخمی یاد آرہا جس کے پیروں کو قطع کردیا گیا تھا۔ جب اُسے اس بات کا پتہ چلا تو وہ بہت زیادہ رو رہا تھا۔ میں نے اُس کیلئے سورہ عنکبوت کی کچھ آیتوں کی تلاوت کی اور ترجمہ پڑھا اور کہا: "خداوند متعال اس وقت آپ کا امتحان لے رہا ہے۔" دو تین دن گزر گئے اور وہ اسی طرح بے قرار تھا۔ میں نے کہا: "تم سپاہی ہو؟" اُس نے کہا: "نہیں، اہواز کا رہنے والا پاسدار ہوں۔" میں نے کہا: "اگر سپاہی ہوتے تو الگ بات تھی، لیکن آپ پاسدار ہیں، اپنی مرضی سے آئے ہیں!جنگ میں زخمی اور شہید بھی ہونا پڑتا ہے۔" اُس نے کہا: "میں اپنی ضعیفہ ماں کی وجہ سے رو رہا ہوں۔" بعد میں آہستہ آہستہ اُس کی حالت بدل گئی اور اُس نے بڑے آرام سے بات کو سمجھ لیا۔

مجھے ایک عجیب واقعہ بھی یاد آرہا ہے۔ میں ایک دفعہ مریضوں کے بحالی والے کمرے میں تھی اور ہمارا کام ختم ہوچکا تھا، میں نے  کسی زخمی کی آواز سنی جس نے  بہت آہستہ سے کہا تھا: "بہن مدد کرو!" میں نے ساتھیوں سے کہا: "کیا آپ لوگوں کو بھی آواز آرہی ہے؟" انھوں نے کہا: "نہیں!" میں آپریشن تھیٹر اور بحالی والے کمرے سے باہر آئی۔ میں نے دیکھا جس مریض کا کچھ دیر پہلے آپریشن ہوا تھا اُسے وارڈ میں لٹایا ہوا  ہے۔ میں اس کے بیڈ کے قریب گئی۔ اُس کے جسم کے ساتھ ایک بوتل لگی ہوئی تھی جو زمین پر رکھی ہوئی تھی اور نلکی کا دوسرا سرا مریض کے پیٹ میں  تھا۔ جب بیمار صحیح سے سانس لیتا ہے تو نلکی میں بلبلے اوپر نیچے کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ہم اس طریقے سے سمجھ جاتے کہ وہ صحیح سے سانس لے رہا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ صحیح سے سانس نہیں لے رہا اور ہوا اوپر اور نیچے نہیں جارہی۔ میں نے دیکھا تو پتہ چلا بلبلا اوپر نیچے نہیں ہورہا۔ میں بیڈ کے پاس گئی اور زخمی سے کہا: "سانس لو، میں دیکھوں کہ  بلبلا اوپر نیچے ہورہا ہے یا نہیں؟" دیکھا کہ اُس کی تو بات کرنے والی حالت ہی نہیں ہےاور اُس کا خون بھی بہہ چکا ہے! میں نے ایک برادر کو آواز لگائی آؤ مدد کرو تاکہ اسے آپریشن تھیٹر لے جائیں۔ مجھے تعجب ہوا کہ جو اصلاً بات کرنے کی حالت میں نہ ہو، میں نے آپریشن تھیٹر میں کیسے اُس کی آواز سن لی۔ میں خود سے پوچھتی کیا اُس نے مجھے پکارا تھا؟! لیکن بہرحال خدا کی مرضی تھی کہ میں اُس کے پاس جاؤں اور وہ زندہ رہے۔

بیرونی دشمن جو ہم سے کھلم کھلا اور علی الاعلان جنگ کر رہے تھے، اُن کے علاوہ پانچواں دھڑا بھی اندر سے چھپ کر کاروائیاں انجام دے رہا تھا۔ اُن میں سے بعض لوگوں نے ہسپتالوں میں نفوذ کرلیا تھا اور کام خراب کر رہے تھے۔ آپ نے طالقانی ہاسپٹل میں ڈیوٹی انجام دیتے وقت اس طرح کا کوئی نمونہ دیکھا تھا؟

ہاں۔ جب زخمیوں کو آپریشن تھیٹر سے باہر لے آتے، ہم اُن کے ہوش میں آنے  تک صبر کرتے تاکہ بعد میں اُنہیں وارڈ میں منتقل کردیں۔ ہم اُن کا نام اور خاندانی نام پوچھا کرتے اور اگر وہ جواب دے پاتے تو کافی تھا۔ لیکن بعض زخمی آدھی بیہوشی کی حالت میں بہت بولتے تھے اور اپنے محاذ کے واقعات یا وہ  کہاں رہے ہیں، سب کچھ بتا دیتے تھے۔ میں نے ایسے لوگوں کو بہت دیکھا تھا۔ ایک دفعہ ایک زخمی پاسدار آیا جس کے ساتھ ہمراہ بھی تھا۔ چند دنوں بعد وہ ہمراہ میرے پاس آکر کہنے لگا: "ہمارے مریض کو آپ سے کام ہے۔" میں اُس زخمی کے کمرے میں گئی اور کہا: "بھائی تمہیں مجھ سے کام ہے؟" انھوں نے کہا: "میں نے آپ کو زیر نظر رکھا ہوا ہے۔ میں نے اس عرصے میں آپ کو ایک مؤمن اور معتقد انسان پایا ہے ، میں صرف آپ پر اطمینان کرسکتا ہوں اور جو میں نے دیکھا ہے وہ آپ سے کہوں!" میں نے کہا: "بتائیں!" انھوں نے کہا: "امدادی کارکنوں میں سے ایک لڑکی ایسے زخمیوں کے پاس جاتی ہے جو ابھی صحیح سے ہوش میں نہیں آئے ہوتے اور اُن سے اُن کے محاذ کے بارے میں پوچھتی ہے اور ایسی معلومات جو اُن سے نہیں لینی چاہئیے، لے رہی ہے۔" میں نے جاکر فوراً بسیج کو اطلاع دی اور اُسے گرفتار کرلیا گیا۔ وہ منافقین میں سے تھی اُسے آبادان سے باہر نکال دیا گیا۔

آپ طالقانی ہاسپٹل کے ساتھ کس زمانے تک تعاون کرتی رہیں؟

میں سن ۱۹۸۳ء تک اور شادی کرنے سے پہلے تک طالقانی ہاسپٹل میں تھی۔

اس کے بعد آپ نے اپنے کام کو جاری کیوں نہیں رکھا؟

میرا دل چاہتا تھا کہ کسی  جانباز (ایران میں جانباز اُنہیں کہا جاتا جو جنگ کے دوران معذور ہوگئے ہوں)سے شادی کروں۔ عبد الحسین راضیہ نژاد کے بارے میں بتایا گیا کہ جس کا ایک پاؤں گھٹنے سے اور دوسرا ناف کے نیچے کٹا ہوا تھا۔ اُن کے ایک ہاتھ میں بھی مسئلہ تھا اور وہ وضو کرتے وقت اپنے دوسرے ہاتھ پر پانی نہیں ڈال سکتے تھے۔ اُن کا بھائی بھی جنگ میں کھو گیا تھا۔ میں نے ان سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد، یہ اپنے گھر والوں کو کرج لے گئے اور پھر آکر مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ میرا شہر اور طالقانی ہاسپٹل کو چھوڑ کر جانا طے نہیں تھا۔ میں نے بہت مشکل سے اپنے دل سے آبادان کو نکالا۔ مجھے واپس آنا تھا لیکن کرج میں ہی رہ گئی۔ اندوہ و غم کی وجہ سے کرج میں بیمار پڑگئی اور مجھے ڈرپ لگی۔ کہنے لگے تمہارا شوہر زخمی ہے۔ اُس کی خدمت کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے اور وہی زخمی کی خدمت کرنا ہے۔

میرے شوہر جسمانی لحاظ سے مشکل میں ہونے کے باوجود تین معمولی آدمیوں سے زیادہوشیار تھے۔ حتی خریداری کرنا بھی اُن کی ذمہ داری تھی۔ میں نے ہمیشہ اور ہر جگہ کہا ہے کہ اگر دنیا کی خوش قسمت ترین عورتوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو میں اُن سے ایک ہوں جس نے ایسے مرد کے ساتھ زندگی گزاری۔ جانباز کی بیوی ہونا خداوند ہر کسی کو نصیب نہیں کرتا  اور جانباز کی بیوی ہونے سے بھی بڑھ کر، شہید کی بیوی ہونا ہے کہ خداوند متعال نے یہ دونوں چیزیں میرے نصیب میں لکھیں۔

ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کو اپنا قیمتی وقت دینے پر  میں آپ کی شکر گزار ہوں۔


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 33


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔