آیت اللہ طالقانی کی اقتداء میں عید الاضحی کی نماز


2017-10-02


۱۵ مئی ۱۹۶۲ء، صبح ۸ بجے ، ساواک کی رپورٹ کے مطابق (اسی دن اور اسی وقت) آیت اللہ سید محمد طالقانی کی اقتداء میں عید قربان کی نماز باجماعت ادا ہوئی، جس میں انجینئرز، تاجر حضرات اور اسلامی تنظیموں کے طالب علموں کے تقریباً ۲۰۰ افراد نے شرکت کی۔ انھوں نے نماز کے بعد عید قربان کی اہمیت اور جناب ابراہیم علیہ السلام کی شرک مخالف جدوجہد پر روشنی ڈالی اور اشاروں کنایوں میں موجودہ حالات پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ایک خونخوار اور درندہ صفت گروہ جو تمام دنیا کے مسلمانوں کی مشکلات کا ذمہ دار ہے، کے چنگل سے رہائی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور حق کے راستے میں جان، مال اور اولاد کو قربان کر دیا جائے۔  اس  تقریر کے بعد آیت اللہ طالقانی کچھ  ساتھیوں کے ہمراہ مسجد جامع نارمک کی طرف روانہ ہوگئے جہاں ادارہ اسلامی معلمین کی جانب سے ایک نشست رکھی گئی تھی اور تمام اسلامی تنظیموں کے سربراہان ایک مکتب توحید کی پیروی کرتے ہوئے اُس میں شریک تھے۔ آیت اللہ مرزا خلیل کمرہ ای نے اپنی تقریر کے دوران عیسائی آئین کی ترویج اور وسعت، عیسائی مبلغین کی فعالیت پر تشویش ظاہر کی اور ان تبلیغاتی سرگرمیوں پر خبردار کیا اور کہا کہ ا س کا سدّباب کیا جائے۔ نیز انھوں نے اسرائیل کی جانب سے تہران کے سیلاب زدگان کی مدد پر افسوس کا اظہار کیا۔


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 40


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔