ایک پبلیشر کی یادیں

کتاب اور میرا ماجرا جو مزاج

مریم رجبی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-09-05


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، " کتاب کی زبانی تاریخ" کی نشستوں کے دوسرے سلسلہ کی اُنیسویں نشست،  منگل کی صبح، مورخہ ۲۲ اگست ۲۰۱۷ء کو پروگرام کے ماہر اور میزبان ہمت نصر اللہ حدادی کی کوششوں اور خانہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہل قلم سرا میں نشرو اشاعت کے ڈائریکٹر جناب مازیار کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

کتاب اور خسرو گلسرخی سے واقفیت

ابتداء میں جناب کاظم زادہ نے کہا: "میں ۳ جنوری ۱۹۴۹ء کو تہران میں پیدا ہوا۔ میری دو بہنیں اور ایک بھائی ہے اور میں اپنے گھر کا دوسرا فرزند ہوں۔ میں کچھ عرصہ تک ڈاکٹر حسن ذوقی اسکول جاتا رہا اور پھر  رضوی اسکول چلا گیا۔ میں نے اپنا سیکنڈری کا زمانہ بابک اور مروی اسکول میں ریاضی پڑھتے ہوئے گزارا۔ علی اکبر علمی کی کتاب فروشی کی دوکان میرے اسکول کے نزدیک تھی، میں وہاں سے کتاب خریدا کرتا تھا۔ کبھی میں کتاب خریدنے کیلئے اپنے سارے پیسے خرچ کر دیتا اور میرے پاس بس سے واپس جانے کیلئے پیسے نہیں بچتے تھے۔ میں پیدل جانے پر مجبور ہوجاتا۔ جب میں بہت چھوٹا تھا میں پولیس کی کتابیں پڑھا کرتا تھا، جب میں تھوڑا بڑا ہوگیا تو میں میکسم گورکی اور اس طرح کی کتابوں کی طرف مائل ہوا۔

میٹرک کرنے کے بعد، میں نے سن ۱۹۶۸ء میں کرج کی چھاؤنی میں ٹریننگ کا دورہ کیا اور اُس کے بعد فوجی ٹریننگ کو جاری رکھنے کیلئے جھرم چلا گیا۔ میں اُس زمانے میں جنوب کے مختلف شہروں میں ٹرک کے ذریعے  جاتا تھا۔ جب میں نے سن ۱۹۷۰ میں اپنی فوجی ٹریننگ کی مدت تمام کی تو میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ امریکا جانے کا ارادہ کیا مگر میرے والد کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ میں نے امریکا جانے کا خیال ذہن سے نکال دیا۔ اس حادثے کے بعد میں نے اپنی کتابوں کو  برتنوں کی مارکیٹ کے پاس جمع کرکے اُنہیں بیجنا شروع کردیا۔ تقریباً سن ۱۹۷۱ء میں میری جناب مرحوم سمیع اللہ کرباسی سے جان پہچان ہوئی اور میں نے اُن کے ساتھ کچھ کتابیں پرنٹ کیں؛ جن میں سے ایک احمد محمود کی کتاب "غریبہ ھا و پسرک بومی" (اجنبی لوگ اور  مقامی لڑکا) تھی۔ میں کچھ عرصے بعد مرحوم کرباسی سے الگ ہوگیا ۔"

انھوں نے مزید کہا: "خسرو گلسرخی نے "یاد داشت ھای دوران گمشدہ" (گمشدہ زمانے کی یادیں) نامی کتاب کی تصحیح کی اور اس کتاب کی تصحیح کے دوران ہماری جان پہچان ہوئی، البتہ وہ کبھی کبھار میری دوکان پر بھی آتا۔ اُس کے ماموں  نے فیڈل کیسٹرو کی "تاریخ مرا تبرئہ خواہد کرد" (تاریخ ہمیں معاف کردے گی) کا ترجمہ کیا تھا۔ اُس زمانے میں اس کتاب کو چھاپنا بہت خطرناک تھا۔ اس کتاب کا ترجمہ میرے کمرے میں رکھا ہوا تھا کہ ساواک شاہراہ نواب پر میرے گھر میں آگئی۔ میری والدہ متوجہ ہوگئیں۔ انھوں نے ترجمہ  اُٹھا کر اپنے تخت کے نیچے رکھ لیا۔ جیسا کہ وہ اپنی مریضی کی وجہ سے بستر سے اُٹھ نہیں سکتی تھی لہذا اُن کے تخت کے نیچے تلاشی نہیں لی گئی۔ تقریباً سن ۱۹۷۸ء میں جب سفید جلد والی کتابیں پرنٹ ہوا کرتی تھیں، میں نے یہ کتاب پرنٹ کی۔ میں خسرو سے زیادہ تر ناصر رحیمی کی دوکان کے سامنے ملا کرتا تھا۔ ہم راتوں کو ایک ساتھ ولی عصر (عج) چوک کی طرف ٹھہلتے ہوئے جاتے۔ اُس زمانے میں اُس کا گھر شاہراہ صفی علی شاہ پر تھا۔ خسرو کے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔ حتی کبھی کبھار اُس کے پاس بچے کیلئے دودھ لینے تک کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ کبھی اُس سے میری ملاقات مطبوعات مرواید  کے ساتھ فرشتہ مارکیٹ میں ہوتی۔ ایک دفعہ ٹی وی پر جعفر کوش آبادی نے کچھ باتیں کی جس پر خسرو نے بہت ناراضگی کا اظہار کیااور کہنے لگا ہم انگریز کے پٹھو ہیں، کوش آبادی کو ایسی باتی نہیں کرنی چاہئیے تھی۔"

ساواک کی تفتیش سے لیکر فوجی عدالت تک

کاظم زادہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "اصغر عبد اللہی نے سن ۱۹۷۲ء میں جلال آل احمد کی کتابیں "غرب زدگی" (مغربی طرز اپنالینا) اور "نون و القلم" کو حکومتی اجازت کے بغیر چھاپ دیا تھا اور میں اُسے تقسیم کر رہا تھا۔ اصغر کو گرفتار کرلیا اور اُس نے میرے بارے میں بھی بتادیا۔ مجھے ایک دفعہ اور کتب ضالہ بیچنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور مجھے مشترکہ کمیٹی کے زندان لے گئے۔ میں تقریباً ۲۵ دن تک وہاں رہا، اُس کے بعد مجھے فوجی عدالت میں لے گئے۔ مجھے چار مہینے کی سزا سناکر زندان قصر بھیج دیا گیا۔ جب میں مشترکہ کمیٹی کے زندان میں تھا، شروع میں تو میں انفرادی سیل میں تھا پھر مجھے اجتماعی سیل میں لے گئے جہاں مصطفی جوان خوشدل تھا۔ ہمارے کمرے کے بالکل سامنے والے کمرے میں ڈاکٹر شریعتی تھے اور جیسا کہ ڈاکٹر کے لئے ہر چیز فراہم کی جاتی تھی، جب بھی دوستوں کو سگریٹ کی ضرورت ہوتی، وہ آواز لگانے لگتے: "ڈاکٹر ہمیں سگریٹ دو۔" زندان میں گزرا وہ وقت، بہت اچھا وقت تھا؛ بیژن جَزَنی بھی زندان میں تھا اور قلم چلا رہا تھا۔"

انھوں نے مزید کہا: "تقریباً سن ۱۹۷۳ یا ۱۹۷۴ کا زمانہ ہوگا جب میں نے مطبوعات جہان کتاب میں کچھ کتابوں کی طباعت کی؛ جیسے جین پل سارتر کی "مگس ھا" (مکھیاں) اور فدریکو گارسیا لورکا کی کتابیں وغیرہ ان کتابوں کے چناؤ میں کوئی خاص بات نہیں تھی، کبھی مشہور مترجم اُسے ترجمہ کر دیتا تھا اور کبھی ہم خود کسی کتاب کا مطالعہ کرتے  اور وہ ہمیں پسند آجاتی۔ سن ۱۹۷۵ء میں غلام رضا صالِحی کے پاس آگیا اور ہم نے ایک دوسرے کی مدد سے ایک پرنٹنگ پریس بنایا، لیکن ہمیں کچھ عرصے بعد ہی پتہ چل گیا کہ ہم ایک ساتھ کام نہیں کرسکتے۔ میں نے اُس کے حصے کے پیسے اُسے دیئے اور وہ الگ ہوگیا۔  میں اُس زمانے میں ممنوعہ کتابوں کی چاپ کے سلسلے میں اُسی طرح مربوط تھا اور یہ کام میرے ماجرا جوئی  مزاج سے میل کھاتا تھا۔ اُس زمانے میں حالات کچھ اس طرح کے تھے  اگر کوئی پبلشر کوئی کتاب چھاپتا، ہمیں بھی کتاب چھاپنے کا شوق ہوجاتا۔ کتاب نہ بکنے کا امکان موجود ہوتا تھا، لیکن ہم پرواہ نہیں کرتے۔ جب سے میں نے یہ پرنٹنگ پریس بنایا ، ساواک کا تفتیشی افسر رسولی، کئی بار میرے آفس میں آیا اور وہ بضد تھا کہ میرا تعلق مزدک پبلیکیشنز سے ہے۔ خسرو شاہی کی مزدک جرمنی میں تھی۔ جب بھی آتے پورے دفتر کی تلاشی لیتے اور میں پوری طرح متوجہ تھا کہ اُن کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ لگ جائے۔ میں جتنا بھی اس بارے میں انکار کرتا، اُنہیں یقین ہی نہیں آتا تھا۔ مجھے مختلف مسائل کے چکر میں کئی مرتبہ مشترکہ کمیٹی کے جیل لے جاتے  اور انفرادی سیل میں ڈال دیتے۔"

کچھ شاملو کتابوں کی طباعت کے بارے میں

اس پبلشر نے اپنی جاری رکھتے ہوئے کہا: میں نے سن ۱۹۷۷ء میں  "قصہ ھای کتاب کوچہ" (گلی کوچوں کی کہانیاں) نامی کتاب کی احمد شاملو کے نمائندے عین اللہ عسگری پاشائی (ع۔ پاشائی) سے قرار داد لکھی ، کیونکہ شاملو ملک سے باہر تھا۔ میں نے پہلے ع۔ پاشائی کے ساتھ کام کیا ہوا تھا اور اُس کی "تاریخ فلسفہ چین" اور "عورت کیا ہے" نامی کتابوں کی طباعت انجام دی تھی۔ میں شاملو کے کام سے واقف نہیں تھا، لیکن جیسا کہ میں رسک لینے والا آدمی ہوں، میں نے یہ کام قبول کرلیا۔ شاملو ایک مشہور آدمی تھا اور مجھے پتہ تھا کہ یہ کتاب یادگار بن جائے گی، اسی وجہ سے میں اُسے شائع کرنا چاہتا تھا، جب کہ میں جانتا تھا کہ اس کتاب کی بہت سی جلدیں بنیں گی۔ پہلی جلد کی طباعت میں بہت ہی مشکلات کا سامنا ہوا، انہیں مشکلات کے سبب میں نے لینوٹرون مشین ، ڈیسک چاپ  مشین اور کچھ دوسرے وسائل خریدے تاکہ میرا کام آسان ہوجائے۔ دوسری جلد کی طباعت کیلئے احمد شاملو ایران آگیا۔ میں نے اس دفعہ کتاب کی قرار داد اپنے لئے بیس فیصد حق التألیف کے ساتھ تنظیم کی۔ میں نے وہ مشینیں خرید کر گلی کوچوں کی کہانیاں نامی کتاب کی  پانچ جلدوں کو پرنٹ کیا ہر کتاب ۳۲۰ صفحات پر مشتمل تھی۔ سن ۱۹۸۲ء میں اسلامی ثقافت اور ہدایات کی وزارت میں ابھی کوئی آڈٹ کرنے والا نہیں تھا، جب میں چھٹی جلد کا اندارج کرانے لے گیا، ایک آدمی آیا اور اُس نے اندراج کرنے والے انچارج جناب غفوری کے کان میں کچھ کہا۔ اُس نے مجھے کتاب نہیں دی اور کہا آپ کل تشریف لائیے گا۔ وہ کل، ۱۶ سال لمبی ہوگئی۔ میں اُس زمانے میں کتابوں کے مطالعہ کے دفتر میں جناب تاج زادہ کے پاس گیا، لیکن انھوں نے اُس کتاب میں موجود نظم "بن بست" (بند گلی) کی وجہ سے اُس کی طباعت سے مخالفت کی۔ شاملو اس بات سے بہت  افسردہ ہوا، لیکن میں اُسے شوق دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پبلیشر کی حیثیت سے  یہ میرے لئے بڑی شکست تھی، یہ وہ زمانہ تھا جب شاملو بہت تیزی کے ساتھ کام کرکے گلی کوچوں کی کہانیوں کی کتاب کو مکمل کرسکتا تھا، اُس نے ۱۶ سال کام نہیں کیا۔ اُس سال ہونے والی بمباری کے وقت، کسی خرابی سے بچنے کیلئے  گلی کوچوں نامی تمام کتابیں میری گاڑی میں رکھی ہوئی تھیں۔

انھوں نے آخر میں کہا: "خود شاملو بیان کرتے ہیں جب وہ کیہان اخبار میں تھے، ایک وزیر اخبار کے دفتر کا  دورہ کرنے آیا۔ جب شاملو کے تعارف کی باری آئی اور اُن کے تعلیمی معیار کو پوچھا گیا، انھوں نے بہت ہی آرام سے کہا میں نے چار کلاسیں پڑھی ہیں۔ شاملو مالی مسائل کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔ اُس نے بہت مشکلات اٹھائی تھیں۔ میں ایک دفعہ تقریباً دوپہر کے دو یا تین بجے اُن کے پاس گیا تو دیکھا گرمی کی وجہ سے اُن کے پسینے ٹپک رہے ہیں۔ میں نے پوچھا : کولر کیوں نہیں چلایا ہے؟ انھوں نے  کہا بجلی کا بل زیادہ آئے گا؛ حتی اُنہیں اپنے بھیجے گئے خطوط کی بابت پوسٹ کے پیسے دینے پر بھی اعتراض ہوتا تھا۔ سن ۱۹۹۷ یا ۱۹۹۸ میں، کرج میں اُن کی کتاب لکھنے کی بابت چار ملیون تومان کا چیک، میں نے اُن کے سامنے رکھا، انھوں نے مجھ سے پوچھا اس عدد میں کتنے صفر ہیں؟! اور بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا جب مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، یہ چیک نہیں تھا، اب یہ میرے کس کام کا ہے؟ انھوں نے سن ۱۹۹۴ء میں گلی کوچوں والی کتاب کی قرار داد میرے حق میں لکھی۔ وہ کہتے: تم میرے پبلیشر بھی ہو اور میرے دوست بھی۔ انھیں سیاسی مسائل، ادبی اور شاعرانہ بحث میں دلچسپی تھی۔ وہ بہت اٹل فیصلہ کرنے والے آدمی تھے اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجاتی تو اُس پر رحم نہیں کرتے۔ شاملو کتاب تقسیم ہونے سے پہلے اُسے ضرور دیکھا کرتے تھے اور میں تقریباً گیارہ راتیں، جب کسی کو اس بات کی اجازت نہیں تھی، اُن کے پاس جاتا اور اُن تک کتاب پہنچاتا تاکہ تقسیم ہونے سے پہلے کتاب کی ورق گردانی کرلیں۔ اُنہیں شوگر کی بیماری تھی ، اُن کے ایک پیر کو کاٹ دیا گیا تھا۔ اس بات نے اُن پر بہت گہرا اثر ڈالا اور وہ اندر سے ٹوٹ گئے، وہ عمومی مجالس میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے میرے شوق دلانے پر "دن آرام" نامی کتاب کا ترجمہ کیا۔ یہ کتاب مجھے بہت پسند تھی۔ بعض افراد کہتے ہیں انھوں نے یہ کتاب جناب م۔ ا۔ بہ آذین (محمود اعتماد زادہ) کی ترجمہ کردہ کتاب کی رقابت میں ترجمہ کی تھی، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ اس کتاب کے شائع ہونے میں بہت وقت لگ گیا، وہ خود اس کتاب کو نہ دیکھ سکیں اور اس دنیا سے کوچ کر گئے۔"

" کتاب کی زبانی تاریخ" کی نشستوں کا نیا سلسلہ خانہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہل قلم سرا میں اس ترتیب کے ساتھ منعقد ہوا: پہلی نشست بدھ، ۱۲ اپریل ۲۰۱۷ء کومطبوعات تہران – تبریز کے انچارج حاج بیت اللہ راد خواہ (مشمع چی) کی موجودگی میں، دوسری نشست بدھ، ۱۹ اپریل کو مطبوعات پرتو کے انچارج جمشید  اسماعیلیان کی موجودگی میں، تیسری نشست بدھ،  ۲۶ اپریل کو مطبوعات اشرفی کے انچارج ابو القاسم اشرف الکتابی کی موجودگی میں، چوتھی نشست بدھ، ۱۷ مئی کو مطبوعات مرتضوی کے انچارج حجت الاسلام بیوک چیت چیان کی موجودگی میں، پانچویں نشست منگل، ۲۳ مئی کو مطبوعات اسلامیہ کے انچارج سید جلال کتابچی اور مطبوعات علمیہ اسلامیہ کے انچارجوں سید فرید کتابچی اور سید محمد باقر کتابچی کے موجودگی میں، چھٹی نشست منگل،  ۳۰ مئی کومطبوعات اسلامیہ کے انچارج سید جلال کتابچی اور مطبوعات علمیہ اسلامیہ کے انچارجوں سید مجتبی کتابچی، سید فرید کتابچی اور سید محمد باقر کتابچی کی موجودگی میں، ساتویں نشست منگل، ۶ جون کو دار الکتب الاسلامیہ کے انچارج مرتضیٰ آخوندی کی موجودگی میں، آٹھویں نشست منگل، ۱۳ جون کو دوبارہ دار الکتب الاسلامیہ کے انچارج مرتضی آخوندی کی موجودگی میں، نویں نشست منگل، ۲۰ جون کو کارنامہ پبلشر کی صاحب امتیاز مہدیہ مستغنی یزدی،مطبوعات کارنامہ کے مرحوم انچارج، محمد زہرائی کے فرزندوں ماکان اور روزبہ زہرائی کی موجودگی میں، دسویں نشست بدھ، ۲۷ جون کودوبارہ کارنامہ پبلشر کی صاحب امتیاز مہدیہ مستغنی یزدی،مطبوعات کارنامہ کے مرحوم انچارج، محمد زہرائی کے فرزندوں ماکان اور روزبہ زہرائی کی موجودگی میں، گیارہویں نشست منگل،  ۱۱ جولائی کو نشر  رسا  کے انچارج محمد رضا ناجیان اصل کی موجودگی میں، بارہویں نشست اتوار،  ۱۶ جولائی کو  مطبوعات نو کے انچارج محمد رضا جعفری کی موجودگی میں، تیرہویں نشست منگل، ۱۸ جولائی کو ایک بار پھر مطبوعات رسا کے انچارج محمد رضا ناجیان اصل کی موجودگی میں، چودہویں نشست، منگل ۲۵ جولائی کو ایک بار پھر مطبوعات نو کے انچارج محمد رضا جعفری کی موجودگی میں، پندرہویں نشست، ہفتہ ۲۹ جولائی کو مطبوعات پیام کے انچارج محمد نیک دست کی موجودگی میں، سولہویں نشست، منگل ۸ اگست کواقبال پبلیکیشنز کے انچارج سعید اقبال کتابچی کی موجودگی میں، سترہویں نشست، ہفتہ  ۱۲ اگست کو ایک بار پھر اقبال پبلیکیشنز کے انچارج سعی اقبال کتابچی کی موجودگی  میں، اٹھارہویں نشست، مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج جناب داوود موسایی کی موجودگی۔

اسی طرح "کتاب کی زبانی تاریخ" کی ابتدائی نشستوں کا مرحلہ سن ۲۰۱۴ء کے وسط سے سن ۲۰۱۵ کی گرمیوں تک جناب ہمت نصر اللہ حدادی کی کوششوں سے خانہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہل قلم سرا میں منعقدہوا۔ ان نشستوں سے کا نتیجہ "کتاب کی زبانی تاریخ" کے عنوان سے حاصل ہونے والی وہ کتاب ہے جو ۵۶۰ صفحات پر خانہ کتاب فاؤنڈیشن کی طرف سے اشاعت ہوئی ہے۔


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 51


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔