زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – بیسواں حصہ

اچھی طرح کان لگا کے سننا (۲)

حمید قزوینی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-09-05


ہم یہ بات بتا چکے ہیں کہ انٹرویو میں اچھی طرح کان لگا کے سننا بہت اہمیت کا حامل ہے اور اگر ہم میں یہ مہارت نہیں ہوگی تو یہ بات انٹرویو کیلئے نقصان کا باعث ہوگی۔ آنے والی سطور میں آپ اچھی طرح کان لگا کے سننے کے کچھ اور موارد کے بارے میں آگاہ ہوں گے۔

راوی کی بات کو سمجھنا

اچھا ہوگا اگر آپ انٹرویو کے دوران، کبھی سر کو ہلائیں کسی تائید کرنے والے لفظ جیسے "جی" یا "صحیح فرمایا" کا سہارا لیتے ہوئے راوی کی بات کو سمجھنے کا اظہار کریں اور اسی طرح گفتگو جاری رکھنے پر اپنی دلچسپی کا اظہار کریں۔ اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ راوی کو عکس العمل دکھانے سے اُس کے اندر ایک اچھا احساس پیدا ہوگا جو اُس کے لئے اطمینان بخش ہوگا کہ انٹرویو لینے والا اُس کی باتوں پر دھیان دے رہا ہے۔

ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایک منٹ میں انسانی گفتگو کی متوسط رفتار، ۱۲۵ الفاظ سے لیکر ۱۷۵ الفاظ تک ہے۔ جبکہ ایک منٹ میں انسان کے فکر کرنے کی متوسط رفتار، ۴۰۰ الفاظ سے لیکر ۸۰۰ الفاظ تک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ راوی کی بیان کردہ معلومات کے بارے میں اس چیز سے فائدہ اٹھائیں اور مناسب عکس العمل دکھائیں۔ فطری سی بات ہے کہ لوگوں کی گفتگو پر مثبت عکس العمل دکھانا اُس کے زیادہ راضی ہونے پر دلالت کرتا ہے جس کے نتیجے میں بہت ہی مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔

ہمدردی

بہتر ہوگا کہ راوی کے مقصد کو سمجھ کر مختلف واقعات کو اُس کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔ آپ نے اپنے ذہن میں پہلے سے جو نقطہ نظر رکھا ہوا ہے اُسے ایک طرف رکھ دیں اور کھلے ذہن کے ساتھ انٹرویو کرنے آئیں تاکہ اُس سے زیادہ ہمدردی کا اظہار کرسکیں۔ اگر اُس نے کوئی ایسی بات کردی جو آپ کی رائے کے مخالف تھی، آپ اُسے صرف سنیں اور اُس کا جواب دینے کے چکر میں نہ رہیں۔ انٹرویو لینے کو غیر جانبدار ہونا چاہے اور وہ کوئی فیصلہ نہ کرے۔

راوی کی آواز کا اُتار چڑھاؤ

آواز کا اُتار چڑھاؤ اور اس کا حجم، کہی جانے والی باتوں میں کچھ چیزوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ ایک قدرت مند شخص، آواز کے اُتار چڑھاؤ اور اُس کے حجم کو اس طرح سے منظم کرتا ہے کہ سننے والے کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں ہوتا۔ لوگ خاص موقعوں پر ہوشیاری کے ساتھ اپنے مقصد کو پہنچانے کیلئے آوا ز کے اُتار چڑھاؤ اور حجم سے مدد لیتے ہیں اور آپ ان موارد پر توجہ کرتے ہوئے مشخص کئے گئے موضوع کی اہمیت کا پتہ لگا سکتے ہیں۔

یاد دہانی

عام طور سے انسان کا ذہن جزئیات کو یاد رکھنے میں ضعیف ہوتا ہے، خاص طور سے جب زیادہ عرصہ گزر چکا ہو، لیکن اس کے باوجود بعض کلیدی الفاظ یاد کرنا پیغام کو صحیح سے سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ جزئیات، آئیڈیلز اور مربوط مفاہیم کو یاد کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سننے والا پہلے کی گئی باتوں پر بھی اپنی توجہ  مرکوز رکھے ہوئے تھا اور یہ چیز راوی کی دلچسپی میں اضافہ کرے گی اور وہ اپنی بات کو جاری رکھے گا۔

راوی کا کہی جانے والی باتوں کو بار بار دہرانا، ایسا طریقہ کار ہے کہ انٹرویو لینے والا  ا س طریقہ کار سے، اگر کوئی نکتہ موجود تھا یا کوئی غلطی ہوئی تھی، راوی کی یاد دہانی کراسکتا ہے کہ وہ اُس چیز کو صحیح کرلے۔

اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ انٹرویو کے دوران جیسا کہ آپ راوی کا مطلب نہ سمجھ سکیں ہوں یا آپ نے اُس کی بات کو غلط سمجھا ہے، تو اُس سے پوچھیں تاکہ وہ مزید  وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بھی جان لے کہ آپ اُس کے ساتھ ہیں۔ اسی طرح راوی کبھی کبھار موضوع سے باہر نکل جاتا ہے ، آپ اُسے واپس موضوع کی طرف لیکر آئیں۔ اس کام کی بھی بہت زیادہ اہمیت ہے اور یہ کام راوی کی باتوں کو دقت سے سننے سے ممکن ہے۔

نوٹ لکھنا

راوی کی باتوں کو کان لگا کے سننے کے عمل میں، کلیدی نکات کو نوٹس کی صورت میں لکھنے سے غفلت نہ کریں۔ بات چیت کے دوران خلاصہ کے طور پر نوٹس لکھنا، یہ چیز سوال کرنے کیلئے مناسب آلہ یا مطالب واضح کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔  اسی طرح اس بات سے آپ راوی کو باور کرا رہے ہوتے ہیں کہ آپ اُس کی باتوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 51


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔