دوران جنگ اور جنگ کے بعد، حمل و نقل کی پروازیں

اصغر نمازیان کی یادوں کے ساتھ گزرے لمحات کا سفر

انٹرویو: مہدی خانبان پور
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-09-03


 بچپن سے ہی پرواز کا شوق تھا  اور اپنی دیرینہ آرزو کو حاصل کرنے کیلئے انھوں نے بہت جدوجہد کی یہاں تک کہ وہ فضائی آرمی میں بطور ہمافر (ہوائی جہاز کے مکینک)بھرتی ہوجاتےہیں ۔ لیکن اصغر نمازیان نے اپنے بچپن کے خواب کو ہرگز فراموش نہیں کیا۔ کچھ عرصے بعد، اُن کی درخواست پر اُنہیں پائلٹ امتحان میں شرکت کرنے کی اجازت دیدی گئی۔ امتحان دینے اور ٹریننگ کی مدت گزارنے کے بعد، وہ بونینزا طیاروں کے پائلٹ گروپ میں شامل ہوگئے۔ اصغر نمازیان کا شمار اُس آخری گروہ میں ہوتا ہے جو پائلٹ کا دورہ مکمل کرنے کیلئے امریکا گئے۔ لیکن وطن کی محبت اور اس سرحد اور سرزمین کے دفاع کے سبب وہ انقلاب کی کامیابی کے بعد اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں اور دفاع مقدس کے شروع سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائی آرمی میں حمل و نقل پروازوں کے پائلٹ کے عہدہ پرلگ جاتے ہیں۔ ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کی جناب نمازیان سے ہونے والی گفتگو میں، انھوں نے اپنے پرانی یادوں سے لیکر ایران پر مسلط کردہ عراقی جنگ اور دفاع مقدس کے بارے میں لب کشائی کی۔

 

اپنا تعارف کروائیں اور ہمیں اپنی نوجوانی اور جوانی کے بارے میں بتائیں۔

میں اصغر نمازیان ہوں ۔ میں  ۲۸ مئی سن ۱۹۵۰ ء کو کرمان میں پیداہوا۔ مجھے نوجوانی میں پرواز کرنے کا بہت شوق تھا۔ ہمارے والد صاحب کے گھر میں ایک بڑا اور بہت اچھا صحن تھا۔ ہم گرمیوں کی راتوں میں، صحن میں مچھر دانی لگا کے سوتے تھے۔ میں ہمیشہ شہر کرمان کے آسمان سے گزرنے والے جہازوں اور اُن کی جگمگ کرتی لال اور ہری لائٹوں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا کرتا۔ میں چاہتا تھا ایک دن میں اس کھلے آسمان پر پرواز کرسکوں۔ میں عجیب طرح کے خواب دیکھتا تھا؛ میں خواب میں دیکھتا کہ میں پرواز کر رہا ہوں۔

میرے مرحوم والد، تھانے میں پولیس تھے۔ اُن کا بہت دل چاہتا تھا کہ میں پولیس افسر بنوں۔ انقلاب سے پہلے، گھر والوں کیلئے سماجی ملازمتیں بہت شان و شوکت والی ملازمتیں ہوتی تھیں۔ میں نوجوانی میں ورزش کرتا تھا۔ بہت جوش و ولولے والا تھا اور موٹر سائیکل چلانے کے پیچھے لگا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے سن ۱۹۷۰ء میں میٹرک کرلیا۔

میں پولیس کیڈٹ کالج میں داخلے کیلئے اپنے والد صاحب کے ساتھ تہران آیا ۔ میں نے ورزش کے ٹیسٹ میں اعلیٰ نمبرز حاصل کئے۔ بہت ہی دشوار اور مختلف مراحل تھے۔ مثلاً تیراکی، جیمناسٹک کی ورزش، دوڑ وغیرہ لیکن بدقسمتی یا خوش قسمتی سے میں انٹری ٹیسٹ میں فیل ہوگیا۔ میرے والد کو بہت افسوس ہوا۔ میں نے اپنے والد سے کہا: "قسمت نے ساتھ نہیں دیا"، لیکن میں نے خود سے کہا مجھے پرواز کی طرف جانا چاہیے۔ میں فضائی افواج میں بھرتی کرنے والے شعبے میں گیا اور پائلٹ کالج میں داخلے کیلئے اپنا نام لکھوایا۔

 

آپ کونسے سن میں پائلٹ بننے کیلئے گئے؟

اُسی سال ۱۹۷۰ ء میں، میں نے شاہراہ دماوند (حالیہ شہید خزائی چھاؤنی) پر فضائی افواج کے بھرتی شعبے میں رجوع کرکے اپنا نام لکھوایا۔ جو پائلٹ بننا چاہتا  ہے، اُسے سخت معائنوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ میں ایک بیس سالہ دیہاتی جوان تھا اور میرے لئے بہت سخت تھا۔ اس کے باوجود میں تمام میڈیکل معائنوں میں قبول ہوگیا، لیکن ڈاکٹر نے میری اعصابی حالت (اندرونی کیفیت) پر اعترض کردیا۔جب میں اپنا ہاتھ ڈاکٹر کے سامنے رکھتا، میری انگلیاں کانپنے لگتیں اور پرواز کیلئے یہ مرحلہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میں نے اس مرحلے کو گزارنے کیلئے تین دفعہ کوشش کی ، لیکن بدقسمتی سے نہیں ہوسکا اور ڈاکٹر نے کہا: تم پائلٹ نہیں بن سکتے۔ بہرحال جیسا کہ مجھے نیلے رنگ کا لباس اچھا لگتا تھا اور مجھے پرواز کا بہت شوق تھا، میں ہمافری (ٹیکنیکل ڈپارٹمنٹ )میں چلا گیا۔ اُس زمانے میں فضائی افواج  کی توسیع کے مدنظر، ہمافر نام کے ایک شعبہ کو قائم کیا گیا تھا جو جہاز کے تمام ٹیکنیکی کاموں کو انجام دیتا تھا۔ میں ہمافری ٹریننگ سنٹر میں داخل ہوگیا اور سن ۱۹۷۲ء میں وہاں سے فارغ ہوگیا۔

 

ہمافری (ٹیکنیکل ڈپارٹمنٹ ) کے بارے میں مزید وضاحت دیں

ہمافر ایسے افراد کو کہا جاتا تھا جو جہاز کا ٹیکنیکل کام انجام دیتے تھے۔ جہاز سے مربوط تمام کام جیسے الیکٹرونیکل، مکینیکل، جہاز کے پیوں کا کام، جہاز میں لگنے والی تمام موٹروں کا کام ان افراد کے زیر نظر انجام پاتا تھا۔ ہمافروں کے اکثر ٹریننگ کورسز ایران سے باہر ہوتے تھے، لیکن ہمارا ٹریننگ کورس جو زیادہ تر جہاز کے زمینی وسائل سے مربوط تھا، ایران میں منعقد ہوا۔ جب میں ٹریننگ حاصل کرچکا تو میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ ہمدان کی شاہرخی فضائی چھاونی (آج کی: شہید نوژہ) منتقل ہوگیا۔

 

ہمدان اور اپنے کام کے آغاز کے بارے میں بتائیں

پچھلے زمانوں کی سردیاں، خاص طور سے ہمدان میں بہت سردی پڑتی تھی۔ ہم نے بہت ہی مختصر سامان اپنے ساتھ لیا اور میں اپنے دو دوست، جناب سیروس علی اکبری اور جناب مہدی مطہری کے ساتھ بس میں بیٹھ کر ہمدان اور وہاں سے چھاؤنی کی طرف چلا گیا۔ ہم نے نگہبان کو  اپنا تعارف کروایا۔ اُس نے ہمیں مہمان خانے بھیج دیا۔  اتنی ٹھنڈ تھی کہ ہم صبح تک ہیٹر کے سامنے  بیٹھے رہے۔ صبح ہم دفتری شعبے میں گئے اور اپنا کام شروع کیا۔ F5 طیارے جنہوں نے دفاع مقدس کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا، ہمدان بیس میں کھڑے ہوئے تھے۔ کچھ مہینوں کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ تمام  F5 طیاروں کو تبریز ایئر بیس منتقل کردیا جائے۔ میں نے F5 طیاروں کے زمینی وسائل اور دیکھ بھال کی ٹریننگ کا دورہ مکمل کرلیا تھا، میں بھی پرواز کرنے والی اور ٹیکنیکل ٹیم کے ساتھ تبریز  منتقل ہوگیا۔

 

تبریز میں کیا واقعات پیش آئے؟

ہم تبریز کے دوسرے لڑاکا ایئر بیس منتقل ہوگئے۔  جسے آج کل شہید فکوری چھاؤنی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم اپنے کام میں مصروف ہوگئے، لیکن پائلٹ بننے کا احساس اور اُس کا شوق میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا۔ میں تبریز میں اکیلا تھا، لیکن کچھ عرصے بعد ایک گھر والوں سے جان پہچان ہوگئی جس کے نتیجے میں میری وہاں شادی ہوگئی۔ میں شادی ہونے کے بعد بھی اُسی طرح پائلٹ بننے کے پیچھے لگا رہا اور مستقل تہران میں فضائی آرمی اسٹاف سے خط و کتابت کرتا رہا  اور میں پائلٹ میڈیکل معائنوں کی درخواست دیتا رہا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ذہنی اور روحی حوالے سے پرسکون ہوگیا ہوں۔ میری عمر زیادہ ہوچکی تھی، شادی کرچکا تھا، ملازمت اور تنخواہ دار تھا، ان سب چیزوں نے مجھے پرسکون کردیا تھا اور یہ چیزیں مجھے دوبارہ پائلٹ بننے پر مجبور کر رہی تھیں۔ میں سیکنڈ ہمافر تھا کہ میری بیٹی کی ولادت ہوئی۔ آج وہ خود ایک بچے کی ماں ہے۔

 

کون سے سال خدا نے آپ کو فرزند عطا کیا ؟

میں نے سن  ۱۹۷۴ء میں شادی کی اور سن ۱۹۷۵ء میں میری بیٹی پیدا ہوئی۔ سن ۱۹۷۶ میں اتنی خط و کتابت ، آنے جانے، سفارش اور ٹیلی فون کے بعد، فضائی آرمی کا موافقت میں جواب آیا کہ میں تہران جاؤں اور پائلٹ بننے کیلئے میڈیکل معائنوں میں شرکت کروں۔ تبریز کی چھاؤنی میں ایکروجیٹ گولڈن تاج کی ٹیم موجود تھی۔ جب میں نے پروازوں اور لوگوں کا اُسے پسند کرنا دیکھا، میرا ارادہ اور مضبوط ہوگیا کہ میں کیوں پائلٹ نہیں بنوں؟!جب فضائی آرمی کا موافقت نامہ آیا، تبریز چھاؤنی کے کمانڈر نے مخالفت کی کہ ہمیں تمہاری ضرورت ہے، تم تہران نہیں جاسکتے۔ میں نے بہت کوشش کے بعد چھاؤنی کے کمانڈر سے ملاقات کی، جب اُس نے میرے پائلٹ بننے کے شوق کو دیکھا تو وہ بھی میرے تہران جانے پر راضی ہوگیا۔

 

آپ کے گھر والے آپ کے پروگرام سے آگاہ تھے؟

جب میں نے اپنی زوجہ کو یہ بات بتائی، انہوں نے بہت شدت سے مخالفت کی۔ کہنے لگیں:آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ میرا اور بچے کا کیا ہوگا؟! وہ جانتی تھیں کہ جب میں تہران جاؤں گا تو مجھے پڑھائی کیلئے وہاں رکنا پڑے گا اور میری زوجہ مجبور تھی یا تو وہ تہران آئے اور میں تہران میں گھر لوں یا پھر وہ تبریز میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہے؛ چونکہ محترمہ تبریز کی رہنے والی ہیں۔ جس طرح بھی ہوا میں تہران آگیا۔ خوش قسمتی سے میں اس دفعہ پاس ہوگیا۔ میں نے تبریزپہنچتے ہی کہا: میں پاس ہوگیا اور اب مجھے تہران جانا پڑے گا۔ بحث دوبارہ شروع ہوگئی کہ میں ایک چھوٹے بچے کے ساتھ کیسے رہوں گی؟! جب ایک ہمافر پائلٹ بننے کیلئے قبول کیا جاتا ہے، اُس کے ٹیکینکل حقوق اور درآمد کا کچھ حصہ کٹ جاتا ہے اور اُسے ایک محدود تنخواہ دی جاتی ہے، میں اُس محدود تنخواہ سے تہران میں گھر نہیں لے سکتا تھا۔ میں نے اپنے سسر سے بات کی جو خود بھی فوجی تھے۔ انھوں نے کہا: آپ جائیں۔ آپ کے  گھر والوں کی دیکھ بھال میرے ذمے ہے۔ ہزاروں مشکلات کے ساتھ، میں نے سن  ۱۹۷۶ء میں تہران کے پائلٹ کالج میں پڑھائی شروع کی۔ میں نے بہت تیزی سے انگلش لینگویج اور بونینززا جہازوں کی پرواز کا دورہ مکمل کیا۔

 

بونینزا ہوائی جہاز کے بارے میں توضیح دیں

بونینزا یا  F33 ایک موٹر والا بہت سخت جان امریکی طیارہ  ہے جن میں سے کچھ ابھی بھی چھاؤنیوں میں موجود ہیں اور پرواز کرتے ہیں۔ میں نے پائلٹ ٹریننگ کورس قلعہ مرغی ایئربیس میں مکمل کیا۔

 

قلعہ مرغی ایئربیس جو اب ولایت باغ میں تبدیل ہوچکا ہے...

جی، بالکل۔ چند سال پہلوں تک وہاں پرآپریشن کی پروازیں انجام دی جاتی تھیں ، حتی دفاع مقدس کے دوران بھی ہم نے اس ایئر بیس کا رن وے استعمال کیا ہے۔

 

آپ ٹریننگ کورس  مکمل کرنے کے بعد  تبریز واپس گئے؟

نہیں۔ ٹریننگ کورس کے بعد امتحان شروع ہوگئے۔ جیسے ہی پاس ہونے کا رزلٹ آیا، امریکا جاکر مکمل ٹریننگ کورس کرنے کا وقت آپہنچا۔ عام طور سے اس ٹریننگ کورس میں دو سال کا عرصہ لگتا ہے۔ میں اسی سوچ میں غرق تھا کہ گھر والوں کو یہ بات کیسے بتاؤں۔

 

آپ کو کس سن میں جانا تھا؟

ہمارا ٹریننگ کورس سن ۱۹۷۶ء کی آخر میں شروع ہوا اور ایک سال بعد، بالکل سن ۱۹۷۷ء میں ہمیں جانا تھا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میں اس بات کو کس طرح بیان کروں۔ میرے گھر والے تو تہران جانے کے ہی مخالف تھے! اب میں اُن سے کس طرح کہوں کہ مجھے دو سال کیلئے امریکا جانا پڑ رہا ہے؟ جب میں نے بتایا، شروع سے ہی بہت شدید مخالف ہوئی۔ میرے والد خدا اُن کی مغفرت کرے، تہران آئے۔ میں نے اُنہیں اپنی کچھ مہینوں کی تنخواہ کے چیک لکھ کر دیئے، میں نے کہا: آپ جائیں اور اس مشکل کا سدّباب کریں۔ مجھ میں تبریز جانے کی جرات نہیں ۔ مجھ میں اصلاً تبریز جانے کی ہمت نہیں تھی۔

 

آخر میں آپ کے گھر والے آپ کے جانے پر راضی ہوگئے؟

ہاں،  لیکن میں اپنی زوجہ کی ناراضگی اور رنجیدگی کے ساتھ گیا۔ ہمیں کچھ دوستوں کے ساتھ مئی ۱۹۷۷ میں پائلٹ ٹریننگ کورس کی تکمیل کیلئے امریکا کی ریاست ٹیکساس میں بھیجا گیا۔ انقلاب سے پہلے، فضائی آرمی کے پائلٹوں کی تمام ٹرینگنز امریکا میں ہوتی تھیں، جس پر بہت بھاری لاگت آتی تھی۔ ایک قرار داد تھی جسے پہلوی حکومت نے انقلاب سے پہلے امریکا کے ساتھ طے کیا ہوا تھا۔ ہم پڑھائی میں مصروف ہوگئے۔ تہران میں سیکھی جانے والی انگلش مکمل کرنے کے دورے میں ہمیں چھ مہینے کا عرصہ لگا۔ اُس کے بعد ایک موٹر والے ہوائی جہاز  اُڑانے کی ٹریننگ پھر اُس کے بعدہلکے جٹ جہاز اُڑانے کی ٹریننگ۔ اُس کے بعد ہم نے T37 ہوائی جہاز پر پرواز کی اور ٹریننگ کورس کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا، ہم نے پائلٹ رنگ یا نشان حاصل کرلیا۔

 

ٹریننگ کورس ختم ہونے کے بعد، آپ کو لڑاکا طیارہ اُڑانے کی اجازت ملی؟

نہیں۔ T37 دورہ مکمل کرنے کے بعد ہمیں پائلٹ کا نشان عطا کیا گیا، اب استادوں کی نظر میں T38 اور لڑاکا طیاروں کا آخری ٹریننگ کورس مکمل کرنے کیلئے ہمیں اُمید وار ہونا چاہیے تھا۔ جیسا کہ یہ بہت مشکل ٹریننگ دورہ تھا، اس میں سب انتخاب نہیں ہوتے تھے۔ اگر کوئی T38 دورے کیلئے منتخب نہیں ہو پاتا تو اُسے واپس تہران آنا پڑتا اور پھر اُسے حمل و نقل کے طیاروں کو اُڑانا پڑتا۔ T38طیاروں کے ٹریننگ کورس میں ہم نے تمام شکاری مہارتوں کی ٹریننگ حاصل کرنی تھیں۔ ان دوروں پر بہت زیادہ لاگت آتی تھی اور ان دوروں کیلئے بہت ہی کم لوگوں کا انتخاب ہونا تھا۔

 

T38 کس طرح کا ہوائی جہاز ہے؟

T38 طیارہ F5ہوائی جہاز کی طرح اور سپر سونک ہے اور اُس کی ٹریننگ کی مدت تقریباً ۱۰۰ گھنٹے پرواز ہے۔ بہرحال میں اس دورے کیلئے منتخب ہوگیا۔ قانون تھا، ہر شادی شدہ پائلٹ جسے نشان مل جائے اور وہ T38 طیاروں کے دورے کیلئے منتخب ہوجائے، وہ گاڑی خرید سکتا ہے اور اپنے گھر والوں کو امریکا بلاسکتا ہے۔

 

پس ایک عرصہ جدائی کے بعد آپ نے اپنے گھر والوں سے ملاقات کرلی؟

جی ہاں، لیکن یہ کورس اُس وقت شروع ہوا جب انقلاب اسلامی کی تحریکیں اپنے عروج پر تھیں۔ ہر طرف مظاہرے ہو رہے تھے اور میری زوجہ نے بہت مشکل سے پاسپورٹ بنوایا اور امریکا آئیں۔ میں ریاست ٹیکساس کی ایک لافلین نامی فوجی چھاؤنی میں جو میکسیکو بارڈر کے قریب تھی، پرواز کیا کرتا تھا۔ جس طرح بھی تھا میں نے کامیابی کے ساتھ کورس کو مکمل کیا۔ ایرانی پائلٹوں کی ہوشیاری اور ذہانت کے مدنظر اکثر کپ اور مڈل، جو دورے کے اختتام پر بطور انعام دیئے جاتے، ایرانیوں کو ملتے تھے۔ یہ چھاؤنی غیر امریکی پائلٹوں کی ٹریننگ کیلئے مخصوص تھی اور دوسرے ممالک جیسے عربی ممالک کے پائلٹ بھی اس ٹریننگ کورس میں ہمارے ساتھ تھے۔ مجھے کچھ انعامات ملے اور شہر کے  مقامی اخبار "دل ریو" میں میری تصویر چھپی اور میں بہت ہی اچھے نمبروں سے پاس ہوا۔ ہمارا ٹریننگ کورس کے اختتام پر، ایران میں انقلاب بھی کامیاب ہوا۔

 

امریکا میں جن دوستوں نے آپ کے ساتھ ٹریننگ کی تھی، آپ کو اُن کے نام یاد ہیں؟

ہاں، مرحوم منصور نیکوکار، صادق زنگنہ، حسین ابو الحسنی، فریدون منافی، ابراہیم دلال خوش اور حسین تاجیک، یہ میرے کچھ دوست تھے جو مجھے ابھی تک یاد ہیں۔

 

انقلاب کی کامیابی کے بعد، آپ اُس وقت تک امریکا میں تھے۔ کیا ہوا تھا؟ آپ لوگوں کو امریکا میں رہنے کی تجویز دی گئی؟

امریکا میں انقلاب کی کامیابی کی خبر کا اعلان ہونے کے بعد، امریکی ٹیچرز نے کہاجو چاہے یہاں رک سکتا ہے اور ہر طرح کا ہوائی جہاز اُڑا سکتا ہے اور جس چھاؤنی میں چاہے رہ سکتا ہے؛ حمل و نقل کے ہوائی جہاز، لڑاکا طیارے، پائلٹ ٹیچر وغیرہ ، وہ جس طرح سے چاہے رک سکتا ہے، کام کرے،اُسے تمام سہولیات بھی فراہم کی جائیں گے۔ میں نے اپنی بیوی اور تین سالہ بیٹی کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اس آفر کو قبول نہیں کیا۔ میں نے کہا مجھے واپس ایران جانا چاہیے۔ واقعاً میرا دل اپنے وطن کیلئے تڑپ رہا تھا۔ خاص طور سے مجھے اپنے والدین کی یاد بہت ستا رہی تھی۔ میں ایران واپس آیا اور فضائی آرمی کے اسٹاف میں رجوع کیا۔

 

آپ کونسی تاریخ کو ایران واپس آئے؟

سن ۱۹۷۹ء مارچ کے شروع میں، یعنی انقلاب کی کامیابی کو ایک مہینہ کا عرصہ بھی نہیں ہوا تھا میں ایران واپس آگیا اور آتے ہی فضائی آرمی اسٹاف میں رجوع کیا۔ چند دنوں کے بعد میں نے کرایہ پر گھر لے لیا۔ ہم نے اپنا سارا ساز و سامان تبریز سے تہران منتقل کیا اور زندگی کا آغاز کیا۔

 

آپ نے تہران میں سکونت اختیار کرنے کے بعد، فضائی آرمی میں کام کرنا شروع کردیا ...

فضائی آرمی اسٹاف نے ہم میں سے کچھ لوگوں کوF5مہرآباد بٹالین میں بھیج دیا۔ لڑاکا طیاروں کے پائلٹ جنہوں نے پورا ٹریننگ کورس کیا ہوا تھا وہ دو طرح کے ہوائی جہاز اُڑایا کرتے تھے؛ ایک F4 اور دوسرا F5 تھا۔ میں نے اپنی دلچسپی کے پیش نظر اور میں T38 طیاروں کا دورہ بھی مکمل کرچکا تھا جو بالکل F5 طیاروں کی مانند تھے، مجھے مہرآباد کی F5 بٹالین میں بھیج دیا۔ انقلاب آچکا تھا اور فضائی افواج میں بہت سی تبدیلیاں  ہورہی تھیں۔ ہم سے کہا گیا کہ ٹریننگ کورس دوبارہ شروع ہونے تک صبر کریں۔ تقریباً ہم تیس، چالیس لوگ کچھ دنوں تک بیکار پھرتے رہے اور ٹریننگ کورس شروع ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ ہم سب  کے پاس لیفٹیننٹ کا درجہ تھا اور ہم اپنی  وضعیت مشخص ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم سے صرف یہ کہا جاتا کہ صبر کرو۔ میں بھی پرواز کا عاشق تھا اور یہ صبر کرنا میرے لئے بہت  کٹھن تھا۔ کچھ مہینے گزرنے کے بعد، سن ۱۹۷۹ء کا اپریل ہوگا کہ فضائی آرمی نے اعلان کیا جو لوگ ٹریننگ دینے کا شوق رکھتے ہیں وہ لوگ نئے آنے والے اسٹوڈنٹس  کو سکھانے کیلئے قلعہ مرغی چھاؤنی جائیں۔ انقلاب کے بعد، امریکا بھیجنے کا عمل روک گیا اور اسٹوڈنٹس سے کہا گیا کہ ایران میں ٹریننگ حاصل کریں۔ میں اور میرے کچھ دوست رضاکارانہ طور پر آگے بڑھے اور ہم قلعہ مرغی چھاؤنی گئے۔ ہم نے قلعہ مرغی چھاؤنی میں ٹریننگ کورس شروع کرنے کیلئے ۲۱ لوگوں کو بھرتی کیا۔ قلعہ مرغی چھاؤنی میں ٹریننگ کے کوئی خاص وسائل موجود نہیں تھے۔ پرواز کیلئے چند جھجوں والا صرف ایک رن وے تھا اور کچھ  عمارتیں تھیں جو ٹریننگ کے وسائل سے خالی تھیں۔ البتہ آج کل شہید ستاری یونیورسٹی میں موجود فضائی آرمی کے پرواز کالج میں بہت ہی اعلیٰ وسائل اور قابل قدر شان و شوکت کے ساتھ ٹریننگ دی جاری ہے، لیکن ہم نے زیرو، مٹی اور خالی کالج سے پرواز کی بنیاد رکھی۔ ہم نے سلیبس تیار کیا اور کلاس تشکیل دی۔ ہم نے اسٹوڈنٹس کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا اور ٹریننگ کورس کا آغاز ہوگیا۔

 

۲۲ ستمبر سن ۱۹۸۰ء کو آپ کہاں تھے؟

دوپہر کے تقریباً دو بج رہے تھے  جب میں قلعہ مرغی چھاؤنی سے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ہمارا گھر شاہراہ جمال زادہ شمالی پر تھا۔ بہت شور و غوغا ہوا  اور عراقی طیاروں نے مہر آباد ایئرپورٹ پر بمباری کی اور شہر میں بھگ دڑ مچ گئی۔ میں اپنی گاڑی پر فضائی آرمی کا ڈریس پہنے اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ لوگ پریشانی کے عالم میں مجھ سے پوچھ رہے تھے کپتان صاحب کیا ہوا ہے؟! مجھے بھی کچھ پتہ نہیں تھا میں صرف یہ کہہ رہا تھا مجھے نہیں معلوم، انشاء اللہ کچھ نہیں ہوا ہوگا۔ بعد میں خبروں میں بتایا کہ عراق نے ایران پر حملہ کردیا ہے۔ ہم لوگوں میں  اس  حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے  واقعاً آمادگی نہیں تھی۔ اس بات کے پیش نظر کہ ہمارے پاس جدید ریڈار نہیں تھے، یہ ہمارا ویک پوائنٹ تھا اور عراق اس کے ذریعے ہمیں نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اسی وجہ سے طے پایا کہ ہم لوگ تبریز جائیں اور F33 طیاروں کے ساتھ پرواز کریں اور ریڈار کی رینج میں نہ آنے علاقوں کی حفاظت طیاروں پر چکر لگا کر کریں۔  اگر ہمیں کوئی عراقی طیارہ نظر آتا تو ہم فوراًٍ چھاؤنی میں اطلاع دیتے تاکہ ضروری اقدامات انجام دیئے جائیں۔ ان آپریشنوں کی وجہ سے میری اُڑان کے وقت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ اپریل سن ۱۹۸۲ء میں پائلٹ ٹیچنگ کا کورس کرنے کیلئے میں چھ لوگوں کے ساتھ پاکستان گیا۔ اس کورس میں پانچ مہینے کا عرصہ لگا۔

 

آپ نے دفاع مقدس کے دوران صرف ٹریننگ دی یا پرواز بھی کی تھی؟

فضائی آرمی میں ضرروت کے پیش نظر، پائلٹوں کو تقسیم کیا ہوا تھا؛ کچھ لوگوں کو C130 جہازوں کو اُڑانے کیلئے حمل و نقل کے شعبے میں بھیج دیا گیا۔ اُن سے کہا گیا سن کے لحاظ سے آپ کی شرائط ایسی ہیں کہ بہتر ہے آپ حمل و نقل  طیاروں کے ساتھ پروازکریں۔ جو ساتھی جوان تھے وہ F5  اور ٖF4 طیاروں کے ساتھ پرواز کرتے۔ ان میں سے بہت سے دوست احباب نے جام شہادت نوش کیا اور بہت سے قیدی بن گئے۔ مجھے سن ۱۹۸۳ء کے شروع میں C130 ہوائی جہازوں کو اُڑانے والی ٹریننگ مکمل کرنی پڑی۔  شروع میں، میں نے سیکنڈ پائلٹ کے طور پر پرواز کی پھر"وار کرافٹ کمانڈر" یا کپتان ہوگیا۔ سن  ۱۹۸۳ کے بعد سے میں نے دفاع مقدس کے دوران اکثر آپریشنوں میں شرکت کی۔ ہم جو سرگرمیاں انجام دیتے تھے وہ یہ تھیں: گولہ بارود، جنگی ساز و سامان لے جانا، زخمیوں کو پہنچانا اور ۲۴ گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ فضائی گشت لگانا۔

 

دفاع مقدس کے دوران آپ زیادہ تر کون سے کام انجام دیتے تھے؟

گولہ بارود پہنچانا، فوجیوں کو منتقل کرنا اور زخمیوں کواٹھانا ہماری ذمہ داریوں میں سے تھا۔

 

جنگی سامان پہنچانے کا کام کس طرح انجام پاتا؟

C130   ہوائی جہاز صرف اہواز، دزفول، بوشہر اور امیدیہ ایئرپورٹ پر لینڈ اور  فلائی کرسکتے تھے۔ اگر نئے فوجیوں کی ضرورت ہوتی تو ہمیں C130 یا ۷۴۷ طیارے کے ذریعے اُنہیں منتقل کرنا پڑتا۔ اگر جنگی وسائل کی ضرورت ہوتی تو ہم جہاز پر سامان چڑھاتے اور ان علاقوں تک پہنچاتے۔

 

جنگی سامان تہران سے منتقل ہوتے تھے؟

صرف جنگی سامان نہیں تھا، ہم مختلف وسائل اور ضرورت کی چیزیں بھی منتقل کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے وہ آپریشن جو فاو میں   ہوا، ہم نے رشت سے بہت ساری کشتیاں پہنچائیں۔ چونکہ پانی میں آپریشن تھا،  ہم نے کشتیوں کی ایک نمایاں تعداد اہواز منتقل کیں اور اہواز سے اُنہیں ٹرکوں کے ذریعے آپریشن کے علاقوں میں بھیجا گیا ۔ میں نے C130 ہوائی جہاز کا نام ہر فن مولا رکھا ہوا تھا؛ سامان لیکر جاتا، فوجی لیکر جاتا، زخمیوں کو منتقل کرتا، آرمی اور پیراشوٹ ماہر فوجیوں کو ادھر سے ادھر لے جاتا، مٹی والے رن وے پر لینڈ  اور فلائی کرتا، چھوٹے رن پر لینڈ اور فلائی کرتا ۔ ایک بہت ہی اچھا ٹیکنیکل جہاز تھا جو ہر وظیفے کو انجام دیتا تھا۔

 

پرواز کے دوران آپ کیلئے بھی خطرے کا امکان تھا؟

بہت زیادہ۔ عراقی طیاروں کے حملوں کی زد میں آنے سے بچنے کیلئے ہم بہت ہی نچلی سطح پر پرواز کرتے تھے یاہم ایسے راستے کا انتخاب کرتے جو پہاڑوں اور درّوں کے درمیان سے گزرتا تھا تاکہ عراقی ریڈاروں سے مخفی رہیں۔ البتہ عراق کے پاس بہت ہی جاندار ریڈار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے گزارش دی جا  رہی تھی کہ ایک عراقی طیارہ تمہارے قریب ہورہا ہے۔ میں نے سب سے پہلے تو جتنا ممکن تھا اپنی بلندی کو کم کیا اور راستہ بدل کر اُن کےریڈار کی حدود سے باہر نکل گیا اور آپریشن اچھی طرح سے انجام پایا۔ C130 جہاز ایک  بے دفاع جہاز تھا۔ خود کو بچانے کی اُس میں کوئی چیز نہیں تھی اور ایسے دوست تھے جنہیں خطرہ لاحق ہوا۔ فضائی آرمی اسٹاف سے جو تعداد میں نے سنی، دفاع مقدس کے دوران حمل و نقل والے ہوائی جہاز، دس فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے تھے۔ میں خود ہمیشہ پرواز کی حالت میں رہتا۔ ہم ہفتے ہفتے گھر نہیں جاتے تھے۔ میں نے اپنے گھر والوں کو چھاؤنی منتقل کردیا تھا۔ میرا بیٹا سن  ۱۹۸۱ء میں  پیدا ہوا تھا۔ میں علی رضا کو بڑا ہوتے ہوئے کم ہی دیکھا پایا، چونکہ میں گھر میں بالکل نہیں رہتا تھا۔ سن ۱۹۸۸ء میں میرا دوسرا بیٹا، حمید رضا پیدا ہوا۔ اب وہ پائلٹ بن چکا ہے۔

 

ہمیں اپنی پرواز کے بارے میں بتائیں

میں آپ کو جزیرہ خارک کی پرواز کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ جزیرہ خارک خلیج فارس میں اور بوشہر سے ۳۲ مائلز پر واقع ہے۔ جزیرہ خارج والی پرواز حتماً رات میں انجام دی جاتی۔ جزیرہ خارک ایئرپورٹ کے رن وے پر لائٹ نہیں تھی اور وہ چھوٹا تھا۔ ہمیں رن وے دکھائی دینے کیلئے، وہاں پہ غوزنک  نام کے تیل والے چراغ جلائے جاتے تھے۔ یہ چراغ جلے ہوئے تیل سے جلتے تھے۔ انہیں رن وے کی دونوں اطراف میں رکھ دیا جاتا تاکہ معلوم ہو ان دو چراغوں کی لائنوں کے درمیان میں رن وے موجود ہے۔ ہم آدھی راتوں کو جنگی سازومان اور دفاعی فورسز کو منتقل کرتے تھے۔ عام طور سے سمندر پر ہوا چلتی ہے۔ رن وے کی مشکل یہ تھی کہ جب چراغ روشن ہوتے تھے، ہوا چلنے کی وجہ سے شعلوں میں حرکت آجاتی۔ پرواز میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "رن وے ڈانسنگ" یا رن وے کا ناچنا؛ یعنی رن وے کا اِدھر اُدھر ہونا۔ ایسے مواقع پر پائلٹ کا تمرکز کرنا اور ہوائی جہاز کو اُتارنا بہت سخت ہوتا اور ممکن ہوتا وہ دریا میں اُتر کر سقوط کر جائے۔ جیسا کہ ہم نے بہت سی پروازیں انجام دی ہوئی تھیں، ہم نے اپنے لئے غیر مکتوب ہدایات ایجاد کی ہوئی تھیں کہ رن وے کو کس طرح تشخیص دینا ہے۔ اس طرح ہم آرام سے لینڈ کر جاتے۔ بعض اوقات ریڈ الرٹ ہوتا اور عراق ہوائی حملہ کرتا۔ ہم اس حال میں بھی فوجی اور سامان اُتارنے کیلئے لینڈ کرتے تھے۔ ہم ہوائی جہاز اور اُس کی لائٹوں کو فوراً بند کردیتے پھر فوجی اُتر جاتے اور سامان اُتار لیا جاتا۔ اُس کے بعد واپس آنے والی فوجی جہاز پر سوار ہوتے اور ہم دوبارہ ٹیک آف کرلیتے۔ دفاع مقدس کے دوران اہواز، امیدیہ، بوشہر اور کرمانشاہ میں اترنے والی تمام پروازیں لائٹیں بند کرکے اُترتی تھیں تاکہ عراقیوں کو پتہ نہ چلے۔ جاننے کی دلچسپ بات ہے، رن کی تمام لائٹیں بھی بند تھیں۔ ہم آخری لمحات میں کنٹرول  ٹاور سے رابطہ کرکے اُن سے چند لمحوں کے لئے رن وے کی لائٹیں کھولنے کی درخواست کرتے تاکہ رن وے کا پتہ چل جائے۔ بعد میں فوراً بند ہوجاتیں۔ جب جہاز کو اُتارنے کی حالت پر پہنچتے تو دوبارہ لائٹیں کھل جاتیں اور مکمل طور سے  لینڈ کرجانے کے بعد دوبارہ بند ہوجاتیں۔

 

آپ نے رہائی پاکر ملک واپس آنے  والے قیدیوں کے زمانے میں بھی ڈیوٹی انجام دی تھی؟

ہاں۔ اگست ۱۹۹۰ء میں جب رہائی پانے والے وطن واپس لوٹے، ان عزیزوں کو ان کے شہروں تک پہنچانے کی ذمہ داری C130 یونٹ پر تھی۔ ملک میں موجود اُس خاص جوش و ولولہ کے ساتھ، ان لوگوں کو کرمانشاہ سے سوار کرتے اور انہیں ان کے شہروں تک پہنچاتے۔ کسی ایک دن، مربوطہ افسر نے مجھ سے کہا: "آج کرمان کی طرف پرواز کرو گے؟" میں نے بھی کرمانی لہجے میں کہا: "ہاں، ضرور۔" ظہر کے بعد میں نے کچھ رہائی پانی والے کرمانیوں کو سوار کیا اور ہم نے کرمانشاہ سے کرمان کی طرف پرواز کی۔ میں نے کرمان کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا۔ کنٹرول ٹاور سے کہا گیا: "C130 ہوائی جہاز ہال کے سامنے والے ٹریک پر نہیں رکنا؛ چونکہ استقبال کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کنٹرول نہیں ہے۔ لوگ ہوائی جہاز کی طرف آکر رہیں گے اور کسی بھی حادثے کا امکان ہے۔ آپ ذیلی  رن پر لینڈ کریں۔"جب میں ذیلی رن پر آیا، میں نے ایئرپورٹ کی باڑ کے پیچھے لوگوں کا سیلاب دیکھا۔ میں نے کہا خداخیر کرے۔ میں نے فوراً اپنے دوسرے ساتھیوں کو مطلع کیا۔ جیسا کہ  C130ہوائی جہاز کی موٹر میں چار بڑے پر لگے ہوتے ہیں، جب موٹر کو بند کرتے ہیں تو تھوڑی دیر تک یہ پر گھومتے رہتے  ہیں پھر رک جاتے ہیں۔ اگر کوئی ہوائی جہاز کے نیچے چلا جائے اور ان پروں سے ٹکرا جائے تو جان سے مارا جائے۔ میں اس بات سے خوفزدہ تھا۔ میں رن وے کے آخر میں جاکر روک گیا۔ میں نے ساتھیوں سے کہا ہوائی جہاز کے آخری بڑے دروازے کو کھولا جائے اور ان عزیزوں کو اُس آخری دروازے سے باہر نکالا جائے۔ کچھ دوسرے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ پروں کے پاس جاکر کھڑے ہوجاؤ اور موٹر کے بند ہونے تک دھیان رکھنا کہ کوئی نہ آئے۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا؛ میں نے ابھی صحیح سے پارک نہیں کیا تھااور ریمپ کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا، میں نے دیکھا لوگوں کا سیلاب ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لیئے ہماری طرف اُمڈ رہا تھا۔ ابھی ہوائی جہاز کی موٹر صحیح سے بند نہیں ہوئی تھی اور پر ہل رہے تھے کہ ہوائی جہاز خالی ہوگیا۔ لوگ رہائی پانے والوں کو اپنے ہاتھوں پر اٹھاکر لے گئے تھے۔جب میں ہوائی جہاز سے نیچے اُترا تو مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ نہ کوئی رہائی پانے والا تھا، نہ کوئی استقبال کرنے والا۔ میں اس واقعہ کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔

 

فضائی حمل و نقل یونٹ نے جنگ کے بعد کیا وظائف انجام دیئے؟

حمل و نقل یونٹ نے قدرتی حادثات میں جو کرداد ادا کیا وہ بہت اہم تھا،جیسے ردوبار میں زلزلہ آنے کے وقت۔یہ کام C130 یونٹ کے سپرد کیا گیا تھا کہ جو سامان بھی ملک کے اندر یا باہر سے جمع ہورہا ہے، اُسے مہرآباد ایئرپورٹ سے چڑھا کر رشت منتقل کیا جائے اوروہاں سے زلزلے میں زخمی ہونے والوں کو اطراف کے شہروں میں منتقل کیا جائے۔ پروازوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کوئی ٹکراؤ یا کوئی حادثہ پیش نہ آنے کے سبب، فضائی افواج کے آپریشن اسٹاف نے دو راستے جانے کیلئے اور دو راستے آنے کیلئے منتخب کیئے تھے اور ہم البرز کی بلندیوں پر سے آنے جانے پر مجبور تھے۔ ہم چند دنوں تک مسلسل وسائل اور غذا رشت ایئرپورٹ تک پہنچاتے رہے تاکہ زلزلہ زدگان کو مل سکیں اور زخمیوں کو دوسرے شہروں کے ہسپتال  پہنچاتے رہے۔ مجھے حتماً بریگیڈیر مہدی دادپی کا ذکر کرنا چاہیے۔ خدا اُن کی مغفرت کرے۔ یہ مہر آباد کی فضائی حدود کے کمانڈر تھے اور یہ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران بہت مستحکم طریقے سے اپنے کام میں ڈٹے رہے۔ چوبیس گھنٹے چھاؤنی میں موجود رہتے۔ ہم چوبیس گھنٹوں کے درمیان جب بھی پرواز کیلئے جاتے، یہ موجود ہوتے تھے۔ آتے اور لوگوں کا حوصلہ بڑھاتے۔ یہ مشہد میں ہونے والے ایک حادثے میں دنیا سے چلے گئے۔ میں نے رودبار میں زلزلہ آنے کے زمانے میں امیر دادپی کو دیکھا  کہ وہ خود ذاتی طور پر موجود ہیں۔ یہ کمانڈر تھے، لیکن رشت آئے ہوئے تھے اور مدد کر رہے تھے۔ جب میں نے دیکھا ہمارا کمانڈر موجود ہے اور ہر طرح کا کام انجام دے رہا ہے،  مجھ میں اور توانائی اور شوق پیدا ہوتا۔

 

قانونی لحاظ سے، ہر پائلٹ کو طے شدہ گھنٹوں کے بعد پرواز کرنی چاہیے، لیکن آپ کے بقول، چاہے جنگ کا زمانہ ہو چاہے خاص حالات کا زمانہ، اس قانون کی رعایت نہیں ہوئی ...

ہاں۔ ہمارے ہاں قانون ہے کہ پائلٹ کتنی دیر آرام کرے، کتنی پرواز کرے، کس راستے سے جائے، کتنا سامان لوڈ کرے، اُس کا سامان ایک مقدار سے کم نہیں ہونا چاہیے چونکہ اوورلوڈ ہوجائے گا۔ ایک پائلٹ کو ۱۴ گھنٹے سے کام نہیں کرنا چاہیے۔ نہ یہ کہ ۱۴ گھنٹے پرواز کرے؛ اُس کے جہاز میں داخل ہو نے سے لیکر جہاز سے باہر آنے کا وقت ۱۴ گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔ لیکن جنگ کے زمانے اور خاص حالات میں ہم اس قانون کی رعایت نہیں کرتے۔ صبح سے رات تک پرواز کرنا بھی ممکن تھا، حتی ایک ڈیوٹی انجام دینے کے بعد ہم ہوائی جہاز بدل لیتے اور دوبارہ پرواز کرتے۔ ہم ایک ایئرپورٹ سے پٹرول بھرتے، کسی دوسری جگہ جاکر کام انجام دیتے اور اس قانون کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔

 

آپ کو فضائی فورسز کے شہید ہونے والے کمانڈروں کا کوئی واقعہ یاد ہے؟

ہم اہواز گئے ہوئے تھے۔ ایک ہال تھا جو اس وقت اہواز ایئرپورٹ کے مسافروں کا ہال ہے۔ زخمیوں کو وہاں جمع کیا ہوا تھاتاکہ ترتیب سے ہوائی جہاز پر سوار کیا جائے اور ہم اُنہیں مختلف شہروں تک پہنچائے۔ شہید عباس بابائی ہمیشہ بسیجی لباس پہنے رہتے تھے، چونکہ ہر وقت ہیڈ کوارٹر میں رہتے تھے۔ کسی ایک دوست نے بیان کیا ہے، شہید بابائی ایک دفعہ جب ایئرپورٹ پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں ایک C130 جہاز اُڑنے کیلئے تیار ہے۔ شہید بابائی  فضائی آرمی آپریشن کے ڈپٹی چیف تھے۔ جب اُنہیں پتہ چلتا ہے کہ جہاز تہران کی طرف جا رہا ہے تو وہ جہاز میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ لوڈ چیک کرنے والا جہاز کے اندر چیکنگ کیلئے آتا ہے۔ جیسا کہ شہید بابائی نے کوئی بیج نہیں لگایا ہوا تھا اور بسیجی لباس میں تھے ، چیک کرنے والا انہیں پہچان نہیں پاتا۔ وہ پوچھتا ہے: "آپ؟" شہید بابائی کہتے ہیں: "میں بھی ایک بسیجی ہوں۔ تہران جانا چاہتا ہوں۔" وہ کہتا: "برائے مہربانی نیچے تشریف لائیں!" اور وہ شہید بابائی کو جہاز سے اُتار دیتا ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں کہتے۔ شہید بابائی بہت ہی با انکسار، کم بولنے والے تھے اور چھوٹے بال رکھتے تھے اور کبھی بیج نہیں لگاتے تھے۔ جب جہاز کا پائلٹ آتا ہے اور دیکھتا ہے جناب کرنل بابائی کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ آگے بڑھ کے اُن کا احترام کرتا ہے اور کہتا ہے: "کرنل صاحب!آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟" شہید بابائی کہتے ہیں: "میں تہران جانا چاہتا تھا۔ آپ کے چیک کرنے والے نے مجھے اُتار دیا۔" پائلٹ معذرت خواہی کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ آپ کو پہچانا نہیں۔" پھر اُسے آواز لگاکر کہتا ہے: "تم نے انہیں پہچانا نہیں" وہ کہتا ہے: "نہیں۔" پائلٹ کہتا ہے: "یہ کرنل بابائی ہیں، فضائی آرمی آپریشن کے ڈپٹی چیف۔" وہ بہت پریشان ہوجاتا ہے۔ وہ اُن سے معافی مانگتا ہے اور بہت احترام کے ساتھ اندر تک رہنمائی کرتا ہے۔ میرے کہنا کا مقصد یہ ہے کہ وہ بہت ہی عاجز اور سادہ تھے، حتی چیک کرنے والے کو بھی کچھ نہیں کہتے ہیں اور اُسے نہیں بتاتے کہ میں کون ہوں اور میرا عہدہ کیا ہے۔ وہ اتنے آرام سے جہاز سے اُتر جاتے ہیں پھر پائلٹ آکے اُنہیں پہچانتا ہے۔ جنگ کے زمانے میں ہمارے ساتھ بہت سے واقعات پیش آئے؛ مثلاً کیمیائی بم سے زخمی ہونے والوں کو منتقل کرتے ہوئے یا ایسے زخمی جو راستے میں ہی جام شہادت پی لیتے، ہمارے پاس اُن کیلئے صرف افسوس اور آنسو ہی رہ جاتے۔

 

آپ کی آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ایک تصویر بھی ہے۔ ہمیں اس تصویر کے بارے میں بتائیں

مجھے سن ۱۹۸۸ء میں آیت اللہ خامنہ ای کی خدمت میں پہنچنے کا شرف نصیب ہوا۔ اُس زمانے میں یہ صدر مملکت تھے۔ اس تصویر میں کچھ ایسے دوست بھی ہیں جو اب دنیا میں نہیں رہے۔ اس تصویر میں، میں نے میجر کا بیج لگایا ہوا ہے۔ ہمیں C130 طیارے پر انہیں سنندج کے دورے پر لے جانا کا شرف حاصل ہوا۔ ہم پورا ایک دن ان کے اختیار میں تھے، ہم نے ان سے ایک یادگار تصویر کھینچنے کی اجازت چاہی۔

 

اس پرواز کے پائلٹ آپ تھے؟

جی۔ میں مرحوم اسماعیل پور، مرحوم حیرانی اور شہید میرزایی جو ایک آپریشن میں شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوگئے، کے ساتھ ہوں اور کچھ دوسرے دوست احباب جن کے نام مجھے یاد نہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے یہ تصویر کھینچنے کی اجازت دی۔ اُن کے ساتھ آئے ہوئے فوٹوگرافر نے یہ تصویر کھینچی اور پھر بعد میں، میں نے تصویر لے لی اور اُسے اپنی البم کی زینت قرار دیا۔

 

فضائی آرمی میں آپ کی ڈیوٹی کا دور کس طرح اپنے اختتام تک پہنچا؟

میں جنگ کے بعد، C130 جہاز اُڑانے کی ٹریننگ دینے میں مصروف ہوگیا  اور میں نے کچھ پائلٹ تیار کئے ہیں۔ میں جنوری سن  ۲۰۰۱ء میں ریٹائر ہوگیا۔ دلچسپ بات ہے کہ میں جنوری ۱۹۷۹ء میں امریکا میں پائلٹ بنا اور جنوری ۲۰۰۱ء میں اسلامی جمہوری ایران کی فضائی آرمی سے ریٹائر ہوا۔ اُس کے بعد میں ماہان ائیرلائن کمپنی میں چلا گیا اور وہاں پر ۱۵ سال تک ایئر بس طیاروں اور ۷۴۷ بوئنگ جہاز اڑاتا رہا اور مورخہ ۲۸ مئی ۲۰۱۵ ء کو دوبارہ ریٹائر ہوگیا۔ میں دوبار ریٹائر ہوا؛ ایک دفعہ جنوری ۲۰۰۱ء میں فضائی آرمی سے اور ایک دفعہ مئی ۲۰۱۵ میں ماہان ایئرلائن کمپنی سے۔ ایران کے قانون کے مطابق، ۶۵ سال سے زیادہ عمر والے حضرات کیلئے پرواز کرنا جائز نہیں اور ہم ملک کے قانون کے مطابق ریٹائر ہوجاتے ہیں۔

 

اور اب آخری بات ...

میں اس بات پر آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی گزشتہ یادوں  میں پرواز کرنے کا موقع فراہم  کیا۔ میں اُمید کرتا ہوں نوجوان اور جوان، دفاع مقدس کے واقعات کو پڑھیں۔ جیسا کہ مقام معظم رہبری نے فرمایا: ان واقعات کو آئندہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہونا چاہیے اور آنے والے لوگوں کو پتہ ہو کہ ہم نے دفاع مقدس کے دوران اس ملک کے تقریباً ۱۳۰۰ بہترین پائلٹ کھو دیئے  اور یہ محترم ہستیاں شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوگئیں۔ اوائل جنگ میں، ایک پائلٹ F5 لڑاکا طیارے کے ذریعے ٹینک کا شکار کرنے جاتا۔ میں خود شہادت کے لائق نہیں تھا، لیکن ابھی بھی خدمت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ میں نے اپنی پرواز کالباس میجر والے بیج کے ساتھ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اگر خدانخواستہ کچھ ہوجائے، ہم تیار ہیں۔ ابھی بھی ۶۵ سال ہوجانے کے باوجود، مجھ میں اتنی ہمت ہے۔ انشاء اللہ کے کچھ نہیں ہوگا۔ ہمارا ملک اتنا قوی اور طاقتور ہے کہ کسی بھی طاقت میں اتنی جرائت نہیں کہ اسے میلی آنکھوں سے دیکھ سکے؛ ہمارے لوگ آگاہ ہیں اور ہماری مسلح افواج، بسیج، سپاہ، آرمی، بری افواج، فضائی افواج، بحری افواج ہو،قوی ہے۔

 

بہت شکریہ آپ نے اس بات چیت کیلئے ہمیں اپنا وقت فراہم کیا اور آپ کی خدمت میں ہونا اور آپ کے واقعات کو سننا ہمارے لئے فخر کی بات تھی۔ انشاء اللہ صحیح و سالم اور کامیاب رہیں۔  


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 127


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

    جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

    مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

    سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
    لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

    وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

    میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔