زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – اٹھارہواں حصہ

جسمانی حرکات و سکنات (۲)

حمید قزوینی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-08-22


گذشتہ صفحات میں جسمانی حرکات و سکنات کی کچھ کارکردگی بیان ہوئی۔ اب آپ مزید آگاہی کے لئے ذیل کی سطور کو ملاحظہ کیجئے:

 

۵۔ سر کی حرکات و سکنات

انٹرویو لینے کے دوران سر ہلانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سامنے والے کی بات کو غور و خوض سے سن رہے ہیں اور اس کے ما فی الضمیر کو سمجھ رہے ہیں۔ کچھ لوگ گفتگو کے دوران سامنے والے کی بات پر سر ہلا رہے ہوتے ہیں۔ آپ بھی اس چیز کا خیال رکھیں اور حد سے زیادہ سر مت ہلائیں ورنہ اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

 

۶۔ چہرے کی حرکات و سکنات

انٹرویو کے دوران ترش روی اور ناراضگی کے اظہار سے اجتناب کریں، ہشاش بشاش چہرہ، مثبت فضا  کی تقویت میں مدد دیتا ہے۔ ایک بار یوں ہوا کہ ایک انٹرویو کی نشست میں انٹرویو دینے والا میری بنی ہوئی شکل دیکھ کر رہ نہ سکا  اور کہنے لگا: "کیا ہوا؟ ناراض لگ رہے ہیں!؟ میں نے کہا: نہیں تو ، ناراض نہیں ہوں۔ میری شکل ہی ایسی ہے۔ اس نے پھر کہا: اچھا اگر ناراض نہیں ہو تو پھر مسکراؤ۔بہرحال ہم بعض اوقات اپنے چہرے کے منفی تاثرات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس کا راہ حل یہ ہے کہ انٹرویو کے آغاز سے پہلے اپنے سامنے کوئی ایسی علامت لگا دیں یا کوئی چیز رکھ دیں جسے دیکھ کر ہم اپنی طرف مسلسل متوجہ رہیں اور غصیلے انداز کی طرف نہ جائیں۔

ایسی نشستوں میں مسکرانا بھی ضروری ہے۔ مسکراہٹ دیکھ کر سامنے والا جواب میں مسکراہٹ ہی دے گا۔ سنجیدہ مزاج لوگوں کو اکثر اوقات اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اسی طرح بلا وجہ ہنسنے مسکرانے سے پرہیز کریں۔ بہت زیادہ جوش میں آنے یا  ضرورت سے زیادہ ہنسنے سے آپ کی باہمی گفتگو اور نشست کا توازن ختم ہوجائے گا۔

 

۷۔ گفتگو اور بدن کے اندرونی احساسات کے مابین ر ابطہ دراصل اعصابی نظام، احساسات اور اعضائے بدن کا مجموعہ ہے جسے آپ کا دماغ کنٹرول  کرتا ہے اور صحیح وقت پر ہم آہنگی ایجاد کرتا ہے۔ اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم آہنگی کا فقدان آپ کے انٹرویو کی ساری زحمات پر پانی پھیر دے گا، مثال کے طور پر دردناک مناظر دیکھنے پر آپ ہنس دیتے ہیں یا پھر تعریف کے موقع پر آپ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں تو کوئی بھی آپ کو سنجیدہ نہیں کہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرویو لینے والے کو کمال کی ہم آہنگی کا حامل ہونا چاہیے۔ اب سامنے والا اگر خوشی کے لمحات کو بیان کرے گا یا دکھ بھری کوئی بات کرے گا تو ظاہر ہے  کہ اسے آپ سے مناسب ردّعمل دکھانے کی توقع ہوگی۔ اب یہ ردّ عمل زبانی ہو یا سر، چہرہ یا آنکھوں کی حرکات و سکنات کی صورت میں ہو۔

 

۸۔ پر سکون رہنا

انٹرویو کے دوران  بے تابی دکھانا یا تعجب یا تھکاوٹ کا اظہار کرنا، موبایل سے کھیلنا، ناک اور کانوں کو ہاتھ لگانا، ہاتھوں اور پاؤں کو نامناسب حرکت دینا  یا ان جیسی دوسری حرکات، ان کا مطلب یہ ہے یا تو انٹرویو کا وقت ختم ہوگیا ہے یا پھر آپ کا دماغی توازن ذرا خراب ہوگیا ہے۔ اسی طرح اوپر یا نیچے کی طرف دیکھنا یا کبھی خود کو اور کبھی سامنے والے کو دیکھنا یہ سب نامناسب ہے اور اس چیز کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ بے چین ہیں۔

 

۹۔ کھانے کے آداب

انٹرویو کے دوران اپنے کھانے پینے کے انداز کا خیال رکھیں۔ کیونکہ سامنے والا مسلسل آپ کو دیکھے جا رہا ہے اور گلاس کو اپنے چہرے یا سینے کے مدمقابل نہ رکھیں۔

 

۱۰۔ آواز کی کیفیت

آپ کی آواز سامنے والے کے فاصلے کے ساتھ مناسب ہو، اسٹوڈیو کے ماحول سے سازگار ہو اور ضرورت پڑنے پر آواز کو کم یا زیادہ کرنے کی سہولت دستیاب ہو اور اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے وقت سامنے والے کے ساتھ باہمی رویے کا خیال رکھا جائے۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 61


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔