چھپنے کی جگہ

طاہرہ سجادی
ترجمہ: سید محمد مبشر

2017-07-15


سن ۱۹۷۵ء کے اگست کا ایک گرم دن تھا، اتفاقاً میری والدی اور بچے گھر میں تھے کہ اچانک دروازے  کی گھنٹی بجی۔ کسی کا گھر پہ آنا طے نہیں تھا، اسی لئے میں نے اپنی والدہ کو دیکھا اور کہا: آپ نے کسی کو بلایا تھا؟ والدہ پریشان ہوتے ہوئے مجھے غور سے دیکھنے لگیں اور کچھ سوچنے کے بعد کہا: نہیں، میری بیٹی! شاید تمہارے میاں کے دوستوں میں سے کوئی ہو۔ دوسری گھنٹی سننے کے بعد میں اپنی جگہ سے اٹھی اور والدہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگی: میرا نہیں خیال کیونکہ وہ جب سے گرفتار ہوئے ہیں، ان کے دوست یہاں بہت کم ہی آتے ہیں!

دروازے پہ کھڑے شخص نے دروازے کو زور زور سے پیٹنا شروع کردیا۔ اب دروازہ کھولنے میں تأخیر کرنا ٹھیک نہیں تھا اور مجھے دروازہ کھول دینا چاہئیے تھا۔ میں نے اپنے چہرے کو دروازے کے نزدیک کرکے پوچھا: کون ہے؟  دروازے کے پیچھے سے ایک سخت اور بھاری آواز میں کسی نے کہا: "دروازہ کھولیں، حکومتی کارندے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا کام ہے؟ کہنے لگا: اس سے پہلے کہ دروازہ توڑدوں، جلدی سے کھول دو۔ مجھے معلوم تھا وہ واقعی ایسا کر دیں گے کیونکہ میں اس سے پہلے دیکھ چکی تھی کہ اس طرح کی صورتحال میں یہ لوگ کچھ بھی کر دیتے ہیں، اسی لئے میں نے جلدی سے دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی پانچ چھ حکومتی اہل کار عام لباس میں گھر میں گھس آئے۔ میں ان میں سے ایک کو پہچانتی تھی۔ وہ منوچہری تھا، جو فساد سے نمٹنے والی مشترکہ کمیٹی میں تشدد اور تفتیش کرنے میں مشہور تھا۔ جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی، میں برس پڑی: تم لوگوں کو شرم نہیں آتی؟ کیوں ہمیں ہمارے حال پہ نہیں چھوڑ دیتے؟ ہماری جانوں سے تم لوگوں کو کیا چاہئیے؟ میرے شوہر کو لے گئے ہو، یہ کافی نہیں ہے؟ یہ سب باتیں سن کر، ان میں سے ایک غصے میں میری طرف بڑھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا اور کہنے لگا: یہاں بیٹھی رہو اور ہلنا مت، شور بھی مت مچانا، ہمیں سب پتہ چل گیا ہے۔

اس کے بعد وہ سب مہمان خانے کی طرف گئے اور تلاشی لینے لگے۔ بچے سہمے ہوئے میری طرف آئے اور میری آغوش میں بیٹھ گئے۔ میں نے ان کے سروں  کو گود میں رکھا اور  ہاتھ پھیرنے لگی۔ مہمان خانے سے ان میں سے ایک کی آواز آئی: "چھپنے کی جگہ کہاں ہے؟ میں نے خود کو بچوں میں مشغول ظاہر کیا، جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک میرے قریب آیا اور کہنے لگا: آرام سے پوچھ رہے ہیں: "چھپنے کی جگہ" کہاں ہے، بتاؤ! میں نے اس کی طرف تعجب سے دیکھا اور کہا: اب یہ "چھپنے کی جگہ" کیا ہے؟ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا: یعنی تم کہنا چاہتی ہو تمہیں نہیں معلوم ڈیکوریشن کی چیزوں کے  پیچھے چھپنے کی جگہ ہے؟ میں نے کہا: میں نے پہلی مرتبہ تم لوگوں سے سنا ہے۔ تم لوگ یقین کرو یہاں سے تمہیں کوئی فائدے مند چیز نہیں ملے گی۔ کہنے لگا: انجانی مت بنو، ہمیں سب معلوم ہے۔ تم ہمیں صرف یہ بتاؤ، چھپنے کی جگہ کا دروازہ کہاں ہے؟ اگر تم یہ بتا دوگی تو میں یقین دلاتا ہوں ہم لوگ بہت جلد یہاں سے چلے جائیں گے! یہ سننے کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ انہیں سب معلوم ہے  لیکن یہ سب سننے کے باوجود میں نے خود کو انجانا ظاہر کیا اور کہا: ایک بات کو کتنی دفعہ کہنا چاہئے! میں نے کہا ناں، یہاں ایسا کچھ نہیں ہے! حکومتی اہلکار میرے اس روئیے پر تعجب کر رہا تھا۔ وہ مہمان خانے کی طرف جاتے ہوئے کہنے لگا: ٹھیک ہے، مت بتاؤ۔ ہم خود ہی ڈھونڈ نکالیں گے۔ وہ لوگ دیوار پہ سجی ہوئی چیزوں کو اکھاڑنے لگے۔ ان چیزوں کو اُکھاڑنے کے بعد مخفی کمرے کا دروازہ ظاہر ہوا۔

یہ کمرہ بہت ماہرانہ طریقے سے بنایا گیا تھا اور چھپا ہوا تھا۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک انسان حتی کئی دنوں تک مخفی رہ سکتا تھا، بغیر اس کے کہ اسے کسی چیز کی ضرورت پڑے۔

اس کمرے کا دروازہ  ظاہر ہوتے ہیں حکومتی کارندوں کے پلید چہروں پر مسکراہٹ آئی۔ ان میں سے ایک نے مجھ سے فاتحانہ لہجے میں کہا: یہ دروازہ کیا ہے؟ تم تو کہہ رہی تھیں کہ تمہیں نہیں معلوم؟ میں نے خود کو ایسے سوال کیلئے تیار کر رکھا تھا۔ میں نے حکومتی کارندوں سے زیادہ تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں خود یہ پہلی مرتبہ دیکھ رہی ہوں، یقین کرو، میرے لئے بھی یہ بہت دلچسپ ہے۔ ان لوگوں نے کیونکہ میری کسی بھی بات پہ یقین نہیں کیا تھا، اس چھپنے والی کمرے کی تلاشی لینا شروع کی۔ ایک لحظے کیلئے  مجھے بہت دکھ ہوا۔ میرے دل سے آہ نکلی اور آہستہ آہستہ کہنے لگی؛ بچوں! تمہارے بابا کا کام تمام ہوگیا۔ انہیں یقیناً مار دیں گے۔ میں بھول گئی تھی میرا چھوٹا بیٹا میرے برابر میں کھڑا ہے۔ اس نے اچانک مجھے اپنی معصوم نظروں سے گھورا اور کہا: امی! آپ نے کیا کہا؟ بابا کیا؟ میں زبردستی مسکرائی اور کہا: نہیں، بیٹا! میں نے کچھ نہیں کہا اور وہ اپنے بچکانہ لہجے میں کہنے لگا: نہیں، نہیں۔ آپ نے کہا ہے۔ میں اس بات کا خیال رکھے ہوئے تھی کہ ہماری باتوں کی آواز حکومتی کارندوں تک نہ پہنچے۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا: نہیں بیٹا! میں مذاق کر رہی تھی، انہیں تمہارے بابا سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ تم فکر نہیں کرو، انشاء اللہ بابا جلدی واپس آجائں گے۔

 جس طرح سے بھی ممکن ہوا، میں نے انہیں سنبھالا اور کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ کمرا ملنے کے بعد مجھے بھی گرفتار کرلیں گے، میں نے اس سے کہا، برابر والے کمرے میں اپنی نانی کے پاس جائے اور ان کے پاس ہی رہے۔

حکومتی کارندوں نے گھر کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد مجھ سے کہا کہ میں ان کے ساتھ چلوں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتی، ان میں سے ایک نے کہا: اب کچھ مت کہنا، سب آشکار ہو چکا ہے۔ ہمیں تمہارے بارے میں سب پتہ تھا اور آج کی اس تلاشی سے سب باتیں یقینی ہوگئی ہیں، اس لئے اب ہمارے سامنے کھیل مت کھیلو۔ مجبوراً مجھے ان کے ساتھ جانا پڑا۔ انھوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور فساد سے نمٹنے والی مشترکہ کمیٹی کے دفتر لے گئے۔ 


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 189


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔