ملاقات کا وعدہ

محسن مؤمنی
ترجمہ: سید محمد مبشر

2017-07-08


آدھی رات کا وقت تھا جب استاد  کی زوجہ ان کے قدموں کی آواز سے جاگ گئیں۔ انہوں نے دیکھا، استاد کمرے میں ٹہل رہے ہیں، بہت جما جما کے قدم رکھ رہے ہیں اور مسلسل  تکبیر کہے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: "جناب! کچھ ہوا ہے کیا؟"

استاد نے کہا: "میں نے خواب دیکھا ہے۔" اور پھر اپنا خواب بیان کرنے لگے: "میں نے ابھی خواب میں دیکھا، میں اور آقائے خمینی خانہ کعبہ میں طواف کرنے میں مشغول تھے کہ میں اچانک متوجہ ہوا رسول اکرم (ص) تیزی سے میری جانب بڑھ رہے ہیں۔ جیسے جیسے حضور (ص) مجھ سے نزدیک ہو رہے تھے، میں نے خود کو پیچھے کیا تاکہ آقائے خمینی کی بے احترامی نہ ہو اور حضور (ص) سے عرض کیا: "یا رسول اللہ، آقائے خمینی آپ کی اولادوں میں سے ہیں۔"

پیغمبر (ص) آقائے خمینی کے پاس گئے اور انہیں پیار کیا اور اس کے بعد میرے پاس آئے اور مجھے پیار کیا اور پھر میرے لبوں پہ اپنے لب رکھے اور نہیں ہٹائے۔ خوشی کی شدت سے میری آنکھ کھل گئی۔"

پھر اپنے لبوں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے: "میں ابھی تک پیغمبر (ص) کے لبوں کی  گرمی کو اپنے لبوں پہ محسوس کر رہا ہوں۔"

ان کی زوجہ حیرانگی کے باعث کچھ کہہ نہیں پا رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد استاد نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا: "مجھے یقین ہے بہت جلد میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آئے گا۔"

ان کی زوجہ پہ اچانک ایک عجیب سا خوف طاری ہوگیا اور کہنے لگیں: "انشاء اللہ سب اچھا ہوگا، آقائے مطہری، آپ کتنے خوش نصیب ہیں! اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے آپ کی باتوں کی تائید کی ہے!"

رات کے اس پہر میں جب استاد اور ان کی زوجہ ان کے اس خواب کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ایک اور محلے کے ایک کمرے کی لائٹ جل رہی تھی جس میں ایک جوان لڑکا استاد کو قتل کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ گروہ فرقان کے اجلاس میں کہا  گیا تھا، (منافقین نے) کسی عالم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

اس جوان لڑکے نے فوراً جواب دیا تھا: "اس ذمے داری کو میں انجام دونگا۔"

(لیکن) جب اسے پتہ چلا کہ مرتضی مطہری کو قتل کرنا ہے تو اس نے صرف یہ پوچھا: "اس کا گناہ کیا ہے؟"

اس گروہ کے انچارج نے اسے کئی باتیں بتائیں؛ لیکن جو چیز اس کے ذہن میں باقی رہ گئی تھی، کیا ان کی وجہ سے کسی کی جان لی جاسکتی ہے، وہ چیز یہ چند جملے تھے: "مطہری ظالم حکومت کا کارندہ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ شاہ کی ظالم حکومت کی مدد کرنے والا ہے (کیونکہ) یونیورسٹی کا استاد ہے۔ مرتضی مطہری کا ایک اور جرم یہ ہے کہ وہ عالم دین ہے اور وہ بھی ایسا عالم جو کہ انقلاب کی شوریٰ میں سرگرم ہے تاکہ انقلابی اسلام اجراء نہ ہونے دیں۔"

اس نے ابھی تک اپنے گھر میں علماء کی برائیاں ہی سنی تھیں اور اب اس کا خیال تھا اگر وہ ایک دینی رہنما کو راستے سے ہٹا دے تو یہ انسانوں کیلئے ایک عظیم خدمت ہوگی! البتہ محمد علی بصیری کو ان تمام باتوں کے غلط ہونے کا اندازہ اس وقت ہوا جب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس نے ایک ایسے دل کو دھڑکنے سے روک دیا تھا جو انسانوں کو نجات دلانے کے عشق میں دھڑکتا تھا!

 

ایک اور آغاز

اسٹریٹ لائٹ کے نیچے والا دروازہ کھلا۔ ایک عالم باہر نکلے اور ان کے پیچھے پیچھے پینٹ کوٹ پہنے ہوئے دو افراد چلنا شروع ہوئے۔ ابھی گلی کے کونے تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ عالم کو لگا ان کے ساتھ چلنے والے دو لوگ آپس میں کچھ خاص بات کر رہے ہیں، وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگے۔

اچانک کسی نے اندھیرے میں سے آواز دی: "استاد!"

استاد آواز آنے والی سمت کی طرف پلٹے اور کہا: "جی!"

اندھیرے میں سے ایک گولی کی آواز بلند ہوئی، ا ستاد کی پیشانی سے خون جاری ہوا اور وہ زمین پر گر گئے۔

البتہ آدھی رات کو اندھیرے سے چلنے والی وہ گولی، استاد مطہری کی زندگی کا اختتام نہیں تھا؛ بلکہ ان کی زندگی کا ایک اور آغاز تھا۔ اس کے بعد، ان کی کتابیں حقیقت کے متلاشی افراد کی تنہائیوں کی ساتھی اور فلسفیوں اور مفکروں کی علمی بحثوں میں مددگار بنیں۔

امام خمینی (رہ) نے انہیں اپنے بدن کا حصہ کہا اور ان کے غم میں اشک بہائے۔

استاد کی شہادت کے دن بہت سے لوگ ایسے تھے جو یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئے کہ : "مرتضیٰ مطہری کون ہے جس کے سوگ میں امام خمینی (رہ) جیسا عظیم اور بردبار مرد اس طرح سے اشک بہا رہا ہے؛ واقعی، وہ کون ہے اور کس طرح سے اس مرتبہ پہ پہنچا؟"

 

ضمیمہ

استاد مطہری کی شہادت پہ امام خمینی (رہ) کا پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"میں اسلام اور عظیم الشان اولیاء، اسلامی ملت اور بالخصوص ایران کی دلیر قوم کو عظیم شہید، مفکر، فلسفی، عالی مقام فقیہ، مرحوم آقائے حاج شیخ مرتضی مطہری قدس سرہ کی افسوس ناک شہادت کی تعزیت اور مبارکباد پیش کرتا ہوں:

تعزیت اس شخص کی شہادت پر، جس نے اپنی زندگی اسلام کے مقدس مقاصد کیلئے صرف کردی اور کج رویوں اور انحرافوں کا دلیری سے مقابلہ کیا؛ تعزیت اس مرد کی شہادت پر جس کی طرح اسلام، اسلام کے مختلف علوم و فنون اور قرآن کریم میں مہارت رکھنے والے افراد بہت کم ہیں۔ میں نے اپنا نہایت ہی عزیز بیٹا کھو دیا ہے اور میں اس کے سوگ میں ہوں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو میری زندگی بھر کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ اس عزیز فرزند اور عالم کی شہادت سے اسلام میں ایسا خلاء ایجاد ہوا ہے جسے کوئی چیز پُر نہیں کرسکتی۔

مبارکباد اس لئے کہ یہ ا یسی فداکار شخصیت تھی جس نے اپنی زندگی میں اور اس کے بعد اپنے وجود سے روشنی پھیلائی ہے اور پھیلا رہا ہے۔ اپنے نور کی شعاعوں سے مُردوں کو زندگی  بخشنے  والے اور اندھیروں کو ختم کر دینے والے فرزندوں کی تربیت کرنے پر، میں اسلام جیسے عظیم دین، انسانوں کے مربی اور اسلامی امت کو مبارکباد دیتا ہوں۔ گرچہ میں نے اپنے ایسے عزیز فرزند کو کھویا ہے جو میرے بدن کا حصہ تھا لیکن مجھے فخر ہے اسلام میں اس طرح کے فداکار فرزند تھے اور ہیں۔

روح کی طہارت، ایمانی طاقت اور قدرت بیان میں مطہری کی طرح کے افراد کم ہیں، (ایسا انسان) چلا گیا اور عالم بالا سے ملحق ہوگیا لیکن دشمن جان لے اس کے جانے سے اس کی اسلامی، علمی اور فلسفی شخصیت نہیں گئی ہے ...

میں ۳ مئی سن ۱۹۷۹ء بروز جمعرات کو اسلام اور ملت کی اس فداکار اور مجاہد شخصیت کی یاد میں عمومی عزا اور سوگ کا اعلان کرتا ہوں اور میں جمعرات اور جمعہ کو مدرسہ فیضیہ میں سوگ میں بیٹھوں گا۔ خداوند متعال سے اسلام کے اس عزیز فرزند کیلئے رحمت اور مغفرت اور اسلام عزیز کیلئے عظمت اور عزت کی دعا کرتا ہوں۔ راہ حق اور آزادی کے شہداء پر سلام ہو۔"

روح اللہ الموسوی الخمینی


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 175


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔