علی میرزا خانی کی یادداشتیں

ایسا شہید جو ۱۵ دن بعد جنگی محاذ پر واپس آگیا!

مہدی خانبان پور
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-05-13


انصار بٹالین کے اراکین کی سالانہ نشست میں مجھے دفاع مقدس میں موجود اس بٹالین کے سپاہیوں سے  گفتگو کرنے کا ایک اچھا موقع فراہم ہوا۔ میں جس سے بھی کوئی واقعہ سنانے کا کہتا وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے اپنی جان چھڑالیتا۔ لیکن جب وہ آیا تو  سب نے مسکراتے ہوئے اُس کا استقبال کیا۔ اُس کے اپنے دوستوں سے بات چیت کرنے کے انداز سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ انصار بٹالین کے پرجوش سپاہیوں میں سے تھا۔ اُس کے ایک دوست نے اُس کا ہاتھ تھاما اور اُسے میرے طرف لے آیا۔ اُس نے کہا: "یہ وہی ہے، جس سے تم کوئی واقعہ سننا چاہ رہے تھے۔ میں تمہارے لئے ایک زندہ شہید لایا ہوں، شروع ہوجائے۔" شروع میں وہ خود بھی سٹپٹا گیا، لیکن میرے اصرار کرنے پر راضی ہوگیا۔

 

برائے مہربانی اپنا تعارف کروائیں؟

میں علی میرزا خانی ہوں۔

 

جس تصویر کے پاس آپ کھڑے ہیں یہ کب کی ہے؟

یہ آٹھویں و الفجر آپریشن سے پہلے کی ہے۔

 

آپ کتنے سال کے تھے؟

میرے خیال سے میں ۱۷ یا ۱۸ سال کا تھا۔

 

اس تصویر کے پیچھے کیا قصہ ہے ہمیں سنائیں گے؟

یہ تصویر آٹھویں و الفجر آپریشن کے شروع ہونے سے پہلے کھینچی گئی۔ جس رات ہم (انصار بٹالین) آپریشن کیلئے گئے۔ جب ہم محاذ پر پہنچے، حمزہ بٹالین فرنٹ لائن پر حملہ کرچکی تھی۔ بٹالین کے ڈپٹی انچارج شہید پور احمد نے آدھی رات کے وقت مجھے اور شہید باقری کو ایک عراقی دوشکا تباہ کرنے کیلئے آگے بھیجا۔ ہم لوگ آگے گئے۔ دوشکا کو اڑانا تو اپنی جگہ، ہم خود ہی پھنس گئے! صبح سویرے  ایک عراقی نے آکر ہم پر تمام گولیاں خالی کردیں۔ بجائے اس کے کہ وہ میرے سر پر مارتا، میرے بازؤں پر ماریں اور شہید باقری کے دل پر گولی مارکر اُسے شہید کردیا، جب مجھے پیچھے لایا گیا  تو مجھے تقریباً ۸۰ گولیاں لگ چکی تھیں۔

 

صرف آپ پر ۸۰ گولیاں برسائی تھیں؟

جی۔ رات سے صبح تک اتنی شدید جھڑپ ہوئی اور بہت سی گولیاں ہمارے حصے میں آئیں۔ صبح مجھے شہید کے عنوان سے علاقے موجود معراج الشہداء نامی جگہ پر لے گئے۔ کچھ گھنٹوں بعد  انہیں پتہ چلا کہ میں زندہ ہوں تو پھر مجھے باہر نکالا۔

 

اُنہیں کس طرح پتہ چلا کہ آپ زندہ ہیں؟

کچھ نہیں ہوا، بس میں نے ایک آدمی کا پائنچا پکڑلیا  تھا پھر ساتھیوں کو پتہ چل گیا کہ میں زندہ ہوں۔

 

پھر کیا ہوا؟

مجھے جنگی علاقے سے پیچھے لے آئے۔ میری ایک آنکھ اور میرے جسم سے گولیوں کے کچھ ٹکڑوں کو باہر نکالا۔ کچھ ٹکڑے ابھی  بھی میرے جسم میں باقی ہیں۔

 

آٹھویں والفجر آپریشن کے بعد آپ نے شدید زخمی ہونے کی وجہ سے کتنے عرصے تک آرام کیا؟

میرے خیال سے ۱۵ دن سے زیادہ  نہیں لگے۔ ۱۵ دن بعد میں پٹیوں میں لپٹا دوبارہ محاذ پر آگیا۔

 

جس کے بارے میں لوگ سوچ رہے تھے شہید ہوگیا ہے وہ ۱۵ دن بعد پھر محاذ پر واپس  آجاتا ہے؟!

اتفاق سے حاج جعفر عقیل محتشم (انصار بٹالین کے کمانڈر) نے کہا: "اس حالت میں کیوں آئے ہو؟" مجھے یاد ہے کربلائے پانچ آپریشن سے پہلے حاج جعفر ہدیہ میں ملی سیمنٹ کا ایک ٹرک دو کوھہ چھاؤنی پر لائے تھے۔ ہم نے بٹالین کی عمارت کے سامنے والے حصہ پر پلاسٹر کیا۔ وہ واحد  عمارت جس کے سامنے کے  حصے پر پلاسٹر  اور اُس میں حوض ہے، وہ انصار بٹالین کی ہے۔ میں نے اس زخمی حالت میں ساتھیوں کے مدد سے پلاسٹر کرنے کا کام انجام دیا۔

 

آپ کو بٹالین کے شہداء کا کوئی واقعہ یاد ہے؟

جی، مجھے شہید رمضان علی زوارئیان کا ایک دلچسپ واقعہ یاد ہے۔ ہم لوگ مہران کے جنگی علاقے میں تھے۔ انصار بٹالین کے ا فراد کو خشا یار بکتر بند اچھی طرح سے یاد ہے۔ رات کا وقت تھا جب ہمیں بکتر بند کے ذریعے اگلی صفوں تک لے گئے۔ اس بکتر بند سے  لوگوں کو لے جانے کا کام لیا جاتا۔ میں اور جناب اللہ صفت بکتر بند پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگوں کی تعداد زیادہ تھی اور  گاڑی میں سب لوگوں کی جگہ نہیں ہو پائی۔ مجبوراً کچھ لوگوں کو بکتر بند پر بیٹھنا پڑا۔ شہید زوارئیان نے گاڑی سے باہر آکر کہا: "تم نے ہمیں گاڑی میں بٹھا دیا ہے تاکہ اگر کوئی بمب آکر لگے تو ہم  جل کر کوئلہ ہوجائیں؟" میں نے کہا: "ٹھیک ہے؛ میں گاڑی میں چلا جاتا ہوں۔ تم آکر بکتر بند پر بیٹھ جاؤ۔" ہم نے آگے بڑھنا شروع کیا، لیکن ایک بکتر بند بالکل سرحدی لائن  اور عراقیوں کے سامنے جاکر بند ہوگئی۔ عراقیوں نے نشانہ لیکر فائر مارا اور شہید زوائیان کا سر اچھل کر گرا اور وہ شہید ہوگیا۔ جب میں نے نیچے آکر دیکھا تو وہ شہید ہوچکا تھا۔ میں نے کہا: "بھائی تم تو سکون سے گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے، کیوں اپنی جگہ تبدیل کی؟! یہاں تمہاری جگہ  مجھے شہید ہونا تھا۔" چند ساتھیوں کی شہادت کے بعد بکتر بند اسٹارٹ ہوکر چل پڑی۔

میں آپ کو شہید سید ابو القاسم طباطبائی کا واقعہ بھی سناتا ہوں۔ وہ کہتے: "علی، یہ لوگ جو بھی کہتے ہیں، یقین نہیں  کیا کرو۔" میں نے کہا: "کس لئے؟" انھوں نے کہا: "کیا یہ لوگ نہیں کہتے کہ انسان [جو شہید ہونے والا ہوتا ہے] ابھی زمین پر گر کر شہید نہیں ہوتا، ملائکہ آکر اسے سنبھالتے ہیں اور اپنے ساتھ لے جاتے ہیں؟" میں بولا: "ہاں، صحیح ہے" تو کہنے لگے: "سب جھوٹ ہے! جب میں نیچے گرا تو میں نے ۱۵ منٹ تک انتظار کیا کہ دیکھوں کوئی آتا ہے، کوئی فرشتہ نہیں آیا،  لیکن عراقی آخری گولی ما رنے کیلئے آگئے تھے۔ میں اٹھ کر بھاگا۔ میں بولا: اٹھو، یہاں سے بھاگو جو بھی کہتے ہیں سب جھوٹ ہے!" لیکن یہ سب وہ مذاق میں کہتا تھا اور طنز  کرتا تھا۔ خدا اُسے غریق رحمت کرے۔ جو لوگ کربلائے پانچ  آپریشن میں تھے اُنہیں جلے ہوئے ٹینکوں کے پاس موت کا سہ راہ یاد ہے۔ جب بٹالین کی صفوں پر حملہ ہوا تو میں اور سید کہیں چھپنے چاہ رہے تھے۔ ہم جلے ہوئے ٹینکوں کے پیچھے چلے گئے تھے  کہ ایک گولی میرے پیر پر لگی۔ دوسری گولی سید کے گلے پر لگی اور وہ شہید ہوگئے۔ جو واحد کام میں نے انجام دیا وہ یہ تھا کہ اُن کی آنکھوں کو بند کیا، اُنہیں چوما اور وہاں سے چلا گیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ اُن کا جنازہ کتنے سالوں بعد آیا ، مجھے یاد ہے کہ وہ سالوں تک مفقود الجسد تھے۔

 

یہ جو کہا جاتا ہے کہ آپ زندہ شہید ہیں، ایک حقیقت ہے۔ چونکہ ہر آپریشن میں آپ کو کوئی نہ کوئی تحفہ ملا ہے اور آپ زخمی ہوئے   ہیں...

(ہنستے ہوئے) نہیں یار، بس دوستوں نے ایسی ہی ہوا بھر دی ہے۔ یہ تو فقط خدا کی مرضی تھی کہ ہم شہید نہیں ہوئے۔ بس۔

 

آپ کے سیدھے ہاتھ کی ایک انگلی بھی کٹی گئی ہے، یہ کیسے ہوا؟

(بہت زیادہ ہنسے)یہ شہید نعمت اللہ خانی کی یادگار ہے۔ وہ مائنز ناکارہ بنانے میں استاد تھے۔ مجھے بھی یہ کام سکھا رہے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ شکر کی وجہ سے میری انگلی کٹ گئی۔ یہی شکر جو ہم کھاتے ہیں۔ ہم نے شکر کے ذریعے دھماکہ خیز مواد بنایا، جو میرے ہاتھوں میں پھٹ گیا اور میری انگلی اُڑ گئی۔

 

انصار بٹالیں کے دوسرے شہداء کے بارے میں بتائیے؟

(شہدا کی تصویروں کو بہت غور سے دیکھتے ہیں اور ایک خاص تصویر پر رک جاتے ہیں)آ ھاں! شہید منصور خلیلی، جو کربلائے پانچ آپریشن میں انصار بٹالین کے پہلے شہید تھے۔ جب ٹینک کا گولہ سیدھا آکر صفوں سے ٹکرایا، شہید خلیلی کو لگا اور وہ پاؤڈر بن گیااور صفیں درھم برہم ہوگئیں۔ (ہم گفتگو میں مصروف تھے کہ شہید ابو القاسم طباطبائی کے والد آگئے اور علی اُن سے گلے ملنے میں مصروف ہوگئے۔ سید کے والد اپنے شہید بیٹے کی تصویر کے پاس کھڑے ہوگئے، تصویر پر ایک ہاتھ پھیرا اور اُسے پیار کیا۔)

 

علی صاحب! بٹالین کے پر جوش اور ولولے والے اور ایک طرح سے شرارتی افراد کون لوگ تھے؟

ہمارا ایک گروپ تھا  جس کا نام شہید پورات تھا۔ اس گروپ کے انچارج سید احمد نقوی تھے۔ جتنے بھی شیطنت اور شرارت کرنے والے لوگ تھے اسی گروپ میں تھے۔ میرے خیال سے ۲۰ سے ۲۵ لوگ تھے۔ آپ کو اس گروپ کے علاوہ کہیں اور شیطنت نہیں ملے گی۔ البتہ میں بھی اس گروپ کا رکن تھا۔

 

آخری بات یا کوئی واقعہ یاد ہے تو سنائیں؟

میں نے سید (شہید سید ابو القاسم طباطبائی) کے والد کے سامنے نہیں سنایا۔ میرے پاس سنانے کیلئے سید سے متعلق ایک واقعہ ہے۔ میری والدہ نے مجھے سپاہ کی وردی والے  کپڑوں سے ایک پینٹ سی کر دی تھی۔ اُس زمانے میں سپاہ کے لباس  کا بہت فیشن تھا۔ سید نے کہا: "تم مجھے یہ پینٹ دیدو، میرے پاس بھی سپاہ کی ایک قمیض ہے وہ میں تمہیں دیدوں گا۔ لیکن میں نے وہ قمیض گھر  میں  کولر کے اندر چھپا  دی ہے۔" سید نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو پتہ چلے کہ وہ سپاہ کا رکن بن گیا ہے۔ میں نے کہا: "ٹھیک ہے" میں نے سید کو پینٹ دیدی۔ لیکن اُس نے قمیض نہیں دی۔ کرخہ میں کربلائے پانچ آپریشن سے پہلے سید نے کہا: "میں وصیت نامہ لکھنا چاہتا ہوں۔" اُس کی لکھائی اچھی نہیں تھی اس لئے  اُس نے کہا: "علی میری طرف سے تم لکھ دو۔" میں نے بھی لکھنا شروع کردیا۔ بسم رب الشہداء و الصدیقین اور ...آخر تک۔ ہم آپریشن پر گئے اور سید شہید ہوگیا۔ جب ہم آپریشن سے واپس آئے تو میں نے سید کے وصیت نامے کے آخر میں لکھ دیا: "کولر کی نالی میں ایک سپاہ کی قمیض ہے؛ وہ علی میرزا خانی کو دیدی جائے۔"

 

آپ نے قمیض لے لی؟

ہاں۔ میرے خیال سے تھوڑے عرصے بعد، سید کے خالہ زاد بھائی نے قمیض لاکر مجھے دی۔ میں نے بھی یادگاری کے طور پر لے لی۔ بہرحال اُس نے مجھ سے  ایک پینٹ لی ہوئی تھی۔

 

میں انٹرویو میں شرکت کرنے اور واقعات  سنانے پر آپ کا شکر گزار ہوں ۔


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 290


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔