۳۲ سال پہلے کا سفر

محاذ پر تیسری عید

راوی: عبد اللہ ملکی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-05-07


میں نے سن ۱۹۸۵ء میں محاذ پر اپنی تیسری عید اس حال میں گزاری کہ مجھ پر دو ذمہ داریاں تھیں، ایک تو سپاہ مریوان کے ثقافتی شعبہ کے زیر نظر مرکز چنارہ میں چلنے والے سپاہ کے ثقافتی شعبہ کا انچارج بنا دیا گیا اور دوسرا یہ کہ مجھے مرکز چنارہ میں کمانڈر  کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا تھا۔

محاذ پر عید کی تقریب بہت سادہ  مگر دلپذیر ہوتی ہے۔ میں نے سن ۱۹۸۵ء کی عید کردستان میں گزاری۔ میں دوستوں سے گلے ملا اور اپنی بچپنے اور نوجوانی کی عادت کے مطابق جیسا کہ میں نے حاجی بابا سے سیکھا تھا، آنکھوں کو بند کیا اور دل کی گہرائیوں سے ایک آرزو کی۔ مجھے پتہ تھا کہ تحویل سال کے وقت میری واحد تمنا، مجاہدین اسلام کی کامیابی تھی۔ تمام سپاہیوں کی کچھ کہے بغیر یہی تمنا تھی۔ گلے ملنے کے بعد دوستوں نے مٹھائی تقسیم کی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، انشاء اللہ بہت جلد ہماری کامیابی کی مٹھاس بھی ہمارے منھ میں مٹھاس کے رس گھولے گی اور دل میں آمین کہا۔

کبھی کام اور مصروفیت اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ ہم بھول جاتے کہ تحویل سال کا وقت ہوگیا ہے۔ بہت سی پریشانیوں اور مشکلات نے ہماری توجہ کو ان مسائل سے ہٹا دیا تھا؛ لیکن مجھے یاد ہے کہ ہم نے سن ۱۹۸۵ء میں عید منائی تھی۔ ایک دفعہ پھر گھر والوں کے بغیر۔ اصل میں جنگ  کے دوران مجھے صرف گرمیوں میں چھٹی ملتی تھی۔ ہم کنوارے لوگ ، شادی شدہ افراد کو اپنے گھر والوں سے ملنے کا زیادہ موقع فراہم کرتے اور سال میں ایک یا دو دفعہ سے زیادہ چھٹی پر نہیں جاتے تھے، خاص طور سے عید پر، جب گاڑیاں بھی کم ہوتیں اور لوگوں کی باریاں لگتی تھیں، عام طور سے مجھ  جیسے کنوارے افراد، گاڑی سے استفادہ کرنے اور چھٹی پر جانے سے کنارہ کشی کر جاتے۔

چنارہ بھی مازاروستاق سے کم نہیں تھا؛ اگرچہ وہاں سے زیادہ ٹھنڈا علاقہ تھا اور بہار کا موسم وہاں دیر سے آتاتھا لیکن جنت کی طرح خوبصورت تھا؛ ایسی جنت کہ جس میں خداوند متعال نے  تمام چیزوں کی بہت ہی ظرافت سے منظر کشی کی تھی۔ پتھروں اور چٹانوں میں سے پھوٹتے ہوئے پودے اور نایاب پھول اپنا جلوہ دکھا تے اور میں جہاں بھی گیا، میں نے شرشر کرتے پانی کے بہاؤ کی آواز سنی کہ جس کے پانی کی شفافیت اور ٹھنڈک بدن سے تھکاوٹ کو دور کردیتی۔ مجھے کبھی اتنی فراوان نعمت پر جو ضد انقلابیوں کے حصے میں آئی  افسوس ہوتا اور میں اپنے آپ سے کہتا: خداوند متعال کی کبریائی سب کے شامل حال ہے اور وہ تمام انسانوں کو رزق دینے والا  ہے۔

جب میرے گھر والے محاذ پر اتنا طولانی مدت رہنے کی وجہ سے  مجھے شکووں بھرا خط لکھ کر اپنی اُداسی کا اظہار کرتے، میں اپنا سامان باندھ لیتا جو صرف ایک بیگ تھا اور مازاروستاق کی طرف نکل پڑتا۔ راستے میں بھی چنارہ اور مریوان کے حادثات اور مسائل میرے ذہن میں گھومتے رہتے۔ میں کبھی کبھار، آپریشن اور حتی ثقافتی پروگراموں کیلئے گھنٹوں تک سوچتا رہتا۔ میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ ایک لمحہ بھی فضول میں ضائع کروں، چونکہ مریوان، گلہ، سقز اور چنارہ میں یہ بات مجھ پر ثابت ہوگئی تھی کہ وقت کی کتنی اہمیت ہے؛ حتی مجھے اپنے بھائی اسد اللہ سے بھی ملنے کا موقع نہیں ملا، جو ایک عرصہ سے محراب نامی گاؤں میں فوجی ٹریننگ میں مصروف تھا۔ میرا بہت دل چاہتا تھا کہ جاکر اُس سے ملوں اور اُسے دل کا حال سناؤں، لیکن ...سنندج میں محراب گاؤں جانے والے راستے کا دشوار ہونا بھی اس کام میں رکاوٹ کی ایک وجہ بنی۔ ہم حتی اپنی چھٹیوں میں بھی جب اپنے گاؤں جاتے تو ایک دوسرے سے نہیں مل پاتے تھے۔وہ اپنی تمام چھٹیوں سے فائدہ اٹھاتا تھا، لیکن میں کچھ عرصہ ہی اپنے گھر والوں کے پاس ٹھہر پاتا اور اُس کے آنے تک صبر نہیں کرسکتا تھا، مجھے مریوان میں کوئی حادثہ پیش آنے سے پہلے ہی واپس پلٹنا ہوتا تھا،  دوسری بات یہ کہ میرا دل بھی نہیں چاہتا تھا کہ اتنے عرصے بعد علاقے میں جو نسبتاً امنیت قائم ہوئی ہے وہ میری غیر حاضری کی وجہ سے ختم ہوجائے۔ کبھی کسی چھاؤنی سے ایک فرد کا غایب ہونا یا حاضر ہونا اچھی طرح سے محسوس ہوتا، اسی وجہ سے مرکزی مسئولین خود بھی چھٹیوں پر کم جاتے تھے اور چھٹی دینے کے معاملے میں فوجیوں پر بھی بہت سختی کرتے تھے۔

اُس سال نوروز کی چھٹیاں گزر جانے اور تمام فوجیوں کے اپنے شہروں سے واپس آجانے کے بعد، میں پرسکون دل کے ساتھ چھٹی پر گیا۔ جب میں مازاروستاق پہنچا، حاجی بابا ایک نئے پھول کی طرح کھل پڑے۔ میں بھی اُن کی طرح بے تاب تھا۔ اُن کی موجودگی میں میرے پچپن کے سال یادگار اور شاندار ہوگئے تھے اور جیسا کہ میں بہت دنوں بعد چھٹی پر جاتا تھا، میرے گھر والے مجھ سے مل کر بہت خوش ہوتے  اور میرا بہت خیال رکھتےاور سب سے اہم بات، ہمیشہ منعقد ہونے والی تقریب جس میں پھنہ کلا نامی گاؤں کے امام بارگاہ میں دنبہ کی قربانی کی جاتی، میں اپنے والد کے ساتھ نکل پڑتا۔  میرے والد میرے داخل ہوتے ہی اپنی تیز اور محکم نگاہوں سے میرے قد و قامت پر نگاہ کرتے؛ جیسے وہ مجھ سے ملنے کا انتظار کر رہے ہوں اور جب وہ دیکھتے کہ جنگ کی سختیوں نے میری پیشانی پر بل ڈال دیئے ہیں اور میری آنکھوں میں گڑھے پڑ گئے ہیں، اُن کا دل کڑھنے لگتا؛  لیکن مجھے پتہ تھا کہ بہت جلد ہی وہ میرے رویے کی پختگی پر اسی جنگ کے شکر گزار ہوں گے اور میرے محاذ پر جانے  سے پشیمان نہیں ہوں گے ...


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 301


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔