وہ لمحات جو روح انگیز حیاتی کی یادوں کا حصہ بن گئے

ماہ شہر کے واحد ہسپتال میں جنگ کے ابتدائی ایام

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-05-03


ستمبر سن ۱۹۸۰ء میں دشمن کی طرف سے ہمارے ملک پر پہلی دفعہ گولی باری اور سپاہیوں اور لوگوں کے شہید اور زخمی ہونے کے بعد، بہت ساری خواتین رضاکارانہ طور پر  زخمیوں کی مدد کیلئے متاثرہ علاقوں سے نزدیک مقامی ہسپتالوں اور  اُن کے قریبی علاقوں کی طرف دوڑ پڑیں تاکہ زخمیوں کی دیکھ بھال میں نرسوں کا ہاتھ بٹائیں۔ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران شہداء کی تعداد میں کمی اور زخمیوں کی بحالی اور مداوا میں  رضاکار خواتین کا کردار قابل ستائش ہے۔

"روح انگیز حیاتی" بھی اُن نوجوان لڑکیوں میں سے ایک ہے کہ جس نے رضاکار افراد کی ضرورت کا اعلان سنتے ہی، خود کو اپنے شہر کے واحد ہسپتال تک پہنچایا اور وہاں امدادی سرگرمیاں انجام دیں۔ جو لوگ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران صوبہ خوزستان کے ایک چھوٹے سے اور ساحلی شہر  میں رہائش پذیر رہے یا وہ محققین جنہوں نے جنوبی محاذوں پر جنگی وضعیت کے بارے میں مطالعہ کیا ہے، یہ لوگ جانتے ہیں کہ ماہ شہر نے فوجیوں کی امداد میں، خاص طور سے زخمیوں کی بحالی اور اُن کے ابتدائی علاج میں اہم کردار اد کیا ہے۔

 

روح انگیز حیاتی نے ایرانی اورل ہسٹری ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اُن دنوں کے کچھ واقعات کو بیان کیا ہے۔

 

جب جنگ شروع ہوئی، آپ اُس وقت کہاں تھیں؟

ہم لوگ ماہ شہر میں مقیم تھے۔ اُسی سال (۱۹۸۰ء) میری پڑھائی ختم ہوئی تھی اور میں نے بچوں کی نگہداشت کا ڈپلومہ کیا تھا۔ جب اعلان ہوا کہ ہسپتالوں کو خون ہدیہ کرنے اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیلئے رضاکار افراد کی ضرورت ہے، میں اپنے والد کی اجازت سے، اپنی بہنوں، شمسی اور ماہ منیر کے ساتھ وہاں گئی اور ہم لوگ وہاں امدادی کاموں میں مصروف ہوگئے۔ ہم لوگ روزانہ صبح سویرے ہسپتال چلے جاتے اور رات کو دیر سے گھر واپس آتے تھے۔

 

عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام میں ہسپتال کے حالات کیسے تھے؟

کیونکہ ماہ شہر جنگ میں ملوث شہروں جیسے آبادان اور خرم شہر سے نزدیک تھا، اس لئےزیادہ تر زخمیوں کو وہاں لایا جاتا۔ ابتدائی ایام میں تو ہسپتال کا نظام درہم برہم ، بہت بھیڑ اور بہت ہی  غیر منظم تھا۔ زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اُن میں سے بہت سوں کو تو  برآمدے کے فرش پر لٹا دیا جاتا۔ زخمیوں میں صرف لڑنے والے فوجی نہیں تھے؛ اُن میں عورتیں، بچے، بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد بھی تھے۔ بہت سے زخمیوں کا تو کھڑے کھڑے اور چند گھنٹوں میں علاج ہوجاتا، لیکن اُن میں سے کچھ کو ایک دو دن تک رکھا جاتا اور پھر دوسرے شہروں میں منتقل کردیا جاتا۔

 

زخمیوں کو ابتدائی علاج کے بعد کہاں بھیجتے تھے؟

دوسرے شہروں میں جیسے اصفہان، شیراز اور تہران منتقل کردیتے۔ بسوں کی سیٹوں کو اکھاڑ کر نکال لیا تھا اور اُس پر بستر لگا کر بے حال زخمیوں کو لٹا دیتے تھے۔ البتہ اُنہیں منتقل کرنے سے پہلے اُن کے ریکارڈ  کی فائل بنالی جاتی تھی، تاکہ اگر اُن کے خاندان والے اُن کے بارے میں پوچھنے آئیں تو  اُنہیں پتہ چل جائے کہ اُنہیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔ ایک خاتون تھیں جن کا نام نظری تھا، انھوں نے زخمیوں کی رجسٹریشن اور ریکارڈ کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔بہت ہی مومنہ خاتون تھیں اور وہ جنگ  شروع ہوتے ہی آبادان سے ہجرت کرکے ماہ شہر آگئی تھیں اور ہسپتال میں رضاکارانہ طور پر خدمت انجام دے رہی تھیں۔ بہت ہی تندہی سے کام کیا کرتیں؛ کسی زخمی کے نام کو نہیں چھوڑتی تھیں۔ ہمیشہ اِدھر سے اُدھر پھرتی رہتیں اور زخمیوں کے نام کو بہت ہی دقت سے لکھتیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کسی کا نام رہ جائے۔

 

ماہ شہر، ایک چھوٹا شہر ہے اور وہاں کی سہولیات وہاں کے لوگوں کی تعداد کے مطابق ہیں ؛  ہسپتال ان سب کیلئے کفایت کرجاتا؟

نہیں۔ یہ چھوٹا سا ہسپتال، یہ شہر میں ایک ہی ہسپتال تھا کہ جس کی سہولیات وہاں کے لوگوں کے مطابق  تھیں؛ البتہ اس میں ایکسرے روم اور آپریشن تھیٹر تھا، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد حالات کچھ مختلف ہوگئے تھے  اور غیر عادی حالات کی وجہ سے اس میں اتنے زخمیوں کی جگہ نہیں تھی۔ زخمیوں کی بیشتر دیکھ بھال کیلئے مسئولین نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ آئل فیکٹری کے کارکنوں کے تفریحی کلب کو جو ہسپتال سے کچھ فاصلہ پر تھا، ایمرجنسی وارڈ میں تبدیل کردیا  اور زیادہ تر زخمیوں کو جنہیں آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، وہیں پر لے جایا جاتا۔

 

آپ ہسپتال میں کیا کام کرتی تھیں؟

میں چائلڈ کیئر میں ڈپلومہ کرنے اور  میڈیکل سینٹر میں انجیکشن اور مرہم پٹی کا کورس کرنے کی وجہ سے اپنی بہنوں اور امداد کیلئے آئی ہوئی دوسری خواتین سے زیادہ ماہر تھی اور میں اُنہیں کام کی ہدایات دیا کرتی تھی۔ جیسا کہ میں نے پہلے ٹریننگ لی ہوئی تھی، لہذا مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی کہ جو کام انجام دے رہی ہوں وہ غلط ہے یا نہیں۔ فرنٹ لائن پر لڑنے والے جن زخمیوں کو براہ راست یہاں لایا جاتا تھا میں اُنہیں ٹیٹنس کا انجکشن خود  لگاتی تھی۔ چند دن ہی گزرے تھے کہ میں تمام کاموں میں ماہر ہوگئی۔ میں ڈرپ لگاتی، ویکسین لگاتی، زخم پر پٹی باندھتی ، حتی چھوٹے پلاس کی مدد سے زخمی ہونے والے فوجیوں  کی ٹانگوں سے گولی باہر نکالتی۔ میں نے تمام کام انجام دیئے بس آپریشن تھیٹر میں نہیں گئی۔

 

آپ کی بہنیں کیا کام کرتی تھیں؟

میری بہنیں آسان کام کیا کرتی تھیں۔ بہت سے زخمیوں کو جب لایا جاتا تو اُن کے چہروں حتی ہونٹوں پر گیلی مٹی لگی ہوتی تھی۔ وہ روئی، پانی اور نمکین پانی سے زخمیوں کے چہرے کو صاف کرتیں، جو زخمی خود سے کھانا نہیں کھا سکتے تھے اُنہیں کھانا کھلاتیں اور پانی پلاتی تھیں اور اُن کی چادروں کو تبدیل کرتیں۔ میری بہنوں کے علاوہ، میری خالہ زاد بہنوں، مینا اور مرضیہ ضیغمی نے بھی کچھ عرصہ تک ہسپتال میں ہمارا ہاتھ بٹایا۔ وہ لوگ آبادان میں رہتے تھے، وہ لوگ جنگ شروع ہوتے ہی وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اور ہمارے گھر آگئے۔ میرا خالہ زاد بھائی اکبر جو سولہ سال کا تھا اور  جہاد برائے تعمیر و ترقی (جہاد سازندگی) فورس میں تھا، وہ جنگ کے اُنہی ابتدائی میں محاذ پر گیا اور پھر لاپتہ ہوگیا۔ جب زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا، میری خالہ زاد بہنیں فوراً دوڑ کر وہاں جاتیں تاکہ دیکھیں اُن میں اکبر ہے یا نہیں۔ افسوس کہ میرا خالہ زاد بھائی ہرگز نہیں ملا اور ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ وہ کب، کہاں، اور کس طرح  شہید ہوا!

 

خدا غریق رحمت کرے۔ حقیقت میں آپ کے پورے خاندان والے جنگ میں شریک تھے اور اس کوشش میں تھے کہ جو کام اُن سے ہوسکے اُسے انجام دیں۔

جی ہاں، صحیح بات ہے۔ مسلط کردہ جنگ کے اُنہی ابتدائی ایام میں، میرا بھائی حبیب اللہ جو جہاد برائے تعمیر و ترقی(جہاد سازندگی) فورس میں تھا اور ماہ شہر  کے گورنر ہاؤس میں پبلک ریلیشنز میں نوکری کرتا تھا، وہ رضاکارانہ طور پر خرم شہر گیا اور وہاں کی دفاعی فورسز میں شامل ہوگیا۔ البتہ میرا بھائی اوائل انقلاب سے ہی  جہاد برائے تعمیر و ترقی (جہاد سازندگی) کے ثقافتی حصے میں کام کر رہے تھے اور دیہاتوں میں اُن کے فلمی نمائش اور کتاب خوانی کے پروگرام ہوتے تھے، حتی وہ کتاب خریدنے کیلئے تہران تک گئے تھے۔ بعد میں اسی وسیع سرگرمی کی وجہ سے وہ گورنر ہاؤس کے ثقافتی امور میں  لگ گئے۔ اُن کی شہادت سے کچھ عرصہ پہلے، ہمارے شہر میں ہفت روزہ یا ماہنامہ کی اشاعت ہوتی تھی، ایک دفعہ جب نماز جمعہ میں اُسے بانٹ رہے تھے تو  ہم متوجہ ہوئے کہ اُن کا اور اُن کے دوستوں کا نام بھی اُس میں چھپا ہے۔ حبیب، سن ۱۹۸۳ء اور والفجر کے ابتدائی آپریشن میں شہید ہوئے؛ میرے بھائی کے علاوہ، میرے والد اور ماموں  نے بھی جنگ میں مدد کی۔ میرے والد مسجد کے انچارج تھے۔ چونکہ ہسپتال کی سہولیات اور ظرفیت زخمیوں کی تعداد کے لحاظ سے کم تھی، ہمارے پاس بہت سے وسائل کم تھے، ہم نے اُن سے درخواست کی کہ وہ اپنی حیثیت کو داؤ  پر کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں اور اُن سے پیسے اور ضرورت کی اشیاء جمع کریں۔

میرے والد مختلف وسائل جیسے جگ، گلاس، چمچے، کانٹے اور ہسپتال کیلئے ضرورت کی دوسری اشیاءجمع کیا کرتے اور جمع ہونے والے پیسوں سے کپڑے خرید لیتے۔ وہ درزی تھے۔ پڑوسی اور رشتہ دار خواتین جن کے پاس سلائی مشینیں تھی اور وہ مدد بھی کرنا چاہتی تھیں، میرے والد نے اُن سے کہا کہ وہ اپنی اپنی سلائی مشینیں ہمارے گھر لے آئیں جو کہ بہت بڑا تھا۔ میرے والد کپڑوں کی کٹنگ کرتے اور وہ لوگ چادریں، لباس اور نائٹ ڈریس سیتی تھیں۔ پھر میرے والد وہ سب چیزیں ہسپتال والوں کو دیدیتے۔ میری والدہ بھی بیکار نہیں بیٹھی رہتی، وہ فوجیوں کیلئے روٹیاں پکاتیں۔ میرے ماموں جن دنوں محاذ پر نہیں جاتے ، جہاد کے آفس سے آٹا لے آتے۔ آٹے کی بوریاں ہمارے گھر لاکے میری والدہ کے حوالے کی جاتیں۔ میری والدہ اور دوسری خواتین گیس کے تنور پر روٹیاں پکاتی تھیں۔ ایک پیڑا بناتی،  ایک بیلتی اور ایک اُسے تنور میں لگاتی تھی۔ جب روٹیاں پک جاتیں تو میرے ماموں اُنہیں محاذ پر لے جاتے۔

 

جن زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا تھا آپ کو اُن کو کوئی واقعہ یاد ہے؟

جب ہیلی کاپٹر  کے ذریعے زخمیوں کو  لایا جاتا، ہمارے دل کڑھنے  لگتے تھے۔ اُن میں سے اکثر تو سر سے پیر تک مٹی میں اٹے ہوتے تھے۔ کچھ ایسے تھے کہ اُنہیں دیکھ کے ایسا لگتا تھا کہ وہ ہسپتال آنے سے پہلے کسی آٹے کی بوری میں گھسے ہیں۔ اس کے باوجود اُن کے حوصلے بہت بلند تھے اور وہ وارڈ والوں کے حوصلے کو بھی بالکل کمزور پڑنے نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے: "ہم کامیاب ہوں گے، لوگوں سے کہیں ہمارے لئے دعا کریں۔" بعض نرسیں جو آبادان سے آکر ماہ شہر میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھیں، وہ اپنے گھر اور گھر والوں کی طرف سے پریشان تھیں۔ بری خبریں سن کر، جیسے ہمارے وطن کا یہ خطہ ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے یا دشمن نے فلاں پل پر قبضہ کرلیا ہے، اُن کے حوصلے  اتنے پست پڑ گئے جاتے کہ اب اُن میں کام کرنے اور بات کرنے کی بھی ہمت نہیں رہتی؛ لیکن جب کوئی نیا زخمی آتا اور وہ کہتا کہ پریشان نہ ہوں  کامیابی ہماری ہوگی، تو دوبارہ سے ا ُن میں حوصلہ آجاتا۔

خرم شہر پر قبضہ ہونے سے چند  دن پہلے، ایک رات کو ہم لوگ آرام کرنے کیلئے ہسپتال سے گھر گئے ۔ صبح جب میں ہسپتال واپس آئی تو میں نے جاکر کمروں کا دورہ کیا۔ ایک بیڈ پر ایک چودہ سالہ جوان لڑکی لیٹی ہوئی تھی۔ اُسے دیکھ کر مجھے بہت تعجب ہوا۔ چونکہ جنگ کے کئی دن گزرنے کے بعد سے اب تک زیادہ تر زخمی مرد تھے۔ ایسا بہت کم ہوتا کہ اُن میں کوئی عورت ہوتی۔ اب اس طرح سے خرم شہر میں کوئی عورت نہیں بچی تھی جو زخمی ہوتی۔ میں آگے بڑھی اور اُس سے گفتگو کا آغاز کیا۔ گندمی رنگ کی دبلی پتلی لڑکی تھی۔ اُس کے پیر میں زخم لگا تھا۔ بہت کمزور ہوگئی تھی۔ اُس کے چہرے کا رنگ سفید پڑ گیا تھا، جیسے اُس میں خون ہی نہ ہو۔ اُس نے مجھے بتایا کہ وہ خرم شہر میں امدادی کارکن تھی اور وہیں زخمی ہوئی۔ میں اس بات پر حیران تھی کہ وہ جنگ کے وقت کس طرح خرم شہر میں رہ گئی! اُس کا نام زہرہ فرہادی تھا۔ جب ہم نے تھوڑٰی باتیں کی تو مجھے پتہ چلا وہ ہماری  دور کی رشتہ دار ہے۔

جب اُس نے مجھے بتایا کہ عراقیوں کے حملے  اور حتی خرم شہر کے کچھ علاقوں پر قبضہ ہونے  کے باوجود، ابھی تک کچھ لڑکیاں خرم شہر میں باقی ہیں اور امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں یا جھڑپوں میں حصہ لے رہی ہیں تو میں بہت خوش ہوئی، دوسرے شہروں میں لڑکیوں کا کاموں میں حصہ لینا میرے لئے  حوصلہ افزائی کا باعث تھا۔ وہ ماہ شہر لائے جانے پر  ناراض تھی! کہہ رہی تھی: "مجھے کچھ نہیں ہوا ہے۔ دیکھو تو سہی خوامخواہی میں میرے پیر پر پلاسٹر چڑھا دیا ہے!" اور مسلسل یہی دھرا رہی تھی: "میں ٹھیک ہوں! مجھے کچھ نہیں ہوا، میں ٹھیک ہوگئی ہوں! میں آبادان واپس جانا چاہتی ہوں۔" میں کہتی: "نہیں زہرہ۔ حتماً تمہیں یہاں بھیجنا اور پیر پرپلاسٹر چڑھانا ضروری تھا! تمہارے پاؤں کی ہڈی کا جڑنا ضروری ہے ورنہ زخم  خراب ہوجائے گا۔" بہت ہی حوصلے والی تھی۔ دوسرے مریض، اسٹاف اور نرسیں جو مختلف علاقوں پر قبضے اور دشمن کی پیش قدمی  کی خبریں سن کر پریشان تھے، اُنہیں تسلی دیتی اور کہتی: "فتح ہماری ہے"اور اُن پر اچھا اثر ڈالتی۔

ایک دفعہ مجھے یاد ہے زخمیوں کو لائے ہوئے تھے اور میں انہیں انجیکشن لگانے میں مصروف تھی۔ میں ایک زخمی کو انجیکشن لگانے کیلئے اُس کے  پاس گئی، میں نے دیکھا کہ اُس کے پاؤں کا تلوا سفید اور خشک ہوچکا ہے، شاید وہ راستے میں لاتے ہوئے ہی شہید ہوگیا تھا۔

 

خرم شہر پر قبضے کے بعد زخمیوں کی تعداد کم نہیں ہوئی تھی؟

نہیں، کم نہیں ہوئی تھی؛ لیکن ہسپتال کی حالت کافی بہتر اور کام منظم طریقے سے ہونے لگے تھے۔ دوسرے شہروں سے دوائیاں اور ضرورت کی چیزیں لائی جاتیں، حتی زخمیوں کو دینے والا کھانا اور ریفریشمنٹ بھی بہتر ہوگئی تھی۔

 

ہسپتال کے کارکنوں کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا تھا؟

اچھا تھا۔ ہم اپنی پوری کوشش کرتے کہ نرسوں اور اسٹاف کے بوجھ کو کم کریں۔ بہرحال ہم اُن کی مدد کرنے کیلئے وہاں گئے تھے۔ حتی جن اوقات میں ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تھا ہم اُن کیلئے جھاڑو دیتے، پونچھا لگاتے یا دستانوں کو جراثیم سے پاک کرتے۔ ہماری کوشش ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ وقت زخمیوں کی خدمت میں صرف کریں۔

 

آپ شہدائے ماہ شہر ہسپتال میں کب تک تعاون کرتی رہیں؟

سن ۱۹۸۱ء اور اپنی شادی سے پہلے تک میں وہاں کام کرتی رہی۔ میں سن ۱۹۸۲ء  میں ماہ شہر کی سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی کی رکن بن گئی۔ سپاہ نے وہاں ایک میڈیکل سنٹر بنایا جہاں اُس کے ملازمین کے علاوہ، عام لوگ بھی آسکتے تھے۔ میں وہاں پر کام کرنے لگی اور سن ۲۰۱۰ء  میں ریٹائر ہونے تک وہیں پر کام کرتی رہی۔

 

ایرانی اورل  ہسٹری سائٹ کو اپنا وقت دینے پر ہم آپ کا شکر گزار ہیں۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 136


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔