آیت اللہ فیض گیلانی کی یادیں

مدرسہ فیضیہ پر حملہ اور امام خمینی (رہ) کی دوسری مرتبہ گرفتاری


2017-04-13


آیت اللہ شیخ محمد فیض گیلانی سن ۱۹۲۴ ء کو لاہیجان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے  قم کی طرف روانہ ہوئے اور آیت اللہ سلطانی طباطبائی اور امام خمینی (رہ) جیسے  مایہ نا ز اساتید  سے استفادہ کیا۔ انھوں نے ۵ جون کو پیش آنے والے واقعات کو نزدیک سے دیکھا تھا اس لئے اس تحریک کی خصوصیات بیان کرنے میں ان کی باتیں مؤثر ہیں۔ آیت اللہ فیض گیلانی انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد  انقلاب اسلامی کی عدالت میں مصروف کار رہے اور ۶ سال کے عرصے تک  انتظامی عدالت کی سربراہی کے عہدے پر فائز رہے۔ یہ گفتگو ۴ مئی سن  ۱۹۹۳ ءکو انجام پائی۔

جس دن محمد رضا پہلوی کو قم آنا تھا،  میں گھر سے باہر نکلا  اور حرم حضرت معصومہ کی طرف گیا۔ صحن حرم کے اطراف میں قم کے بہت زیادہ مرد و خواتین جمع تھے۔ محمد رضا پہلوی صحن کے سامنے – کہ جہاں اُس کے لئے اسٹیج بنایا گیا تھا – آیا اور تقریر کی۔ اُس نے مولویوں کے خلاف سخت باتیں کی اور اُس کے بعد اپنی تعریفیں بیان کرنے لگا کہ  امام زمانہ (عج) کی توجہ اُس پر ہے اور اس طرح کی باتیں ... کبھی وہ پیغمبر، امام زمانہ اور دوسرے اولیاء کا نام بھی لیتا۔

مجھے احساس ہوا کہ مجلس میں موجود کچھ خواتین پر اُس کی باتوں کا اثر ہوا ہے اور ہمارے اطراف میں کھڑے ہوئے کچھ لوگ رو رہے تھے۔ جہالت اور نادانی کی وجہ سے ان باتوں کا ان پر اثر ہوا اور وہ اسی طرح رو ئےجا رہے تھے۔ محمد رضا پہلوی بھی جانتا تھا کہ یہ لوگ جو پیغمبر،  امام زمانہ اور دینی مسائل کی طرف رجحان رکھتے ہیں، ان سے کس طرح بات کی جائے، تاکہ ان کے مذہبی جذبات اور احساسات سے فائدہ اٹھایا جائے۔

لوگوں نے تقریر کے بعد محمد رضا پہلوی کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیئے۔ جو لوگ نعرے لگا رہے تھے، اُنہیں دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ خود حکومت کی طرف سے اس کام کے لئے آئے ہیں، میں نے ایسا کوئی نعرہ نہیں سنا جو قم کے لوگوں نے لگایا ہو۔ یہ جلسہ محمد رضا پہلوی کے حق میں اس لئے منعقد ہوا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے، قم کے لوگوں کی طرف سے ایک مظاہرہ ہوا تھا اور اُس میں لوگوں، بازاریوں اور  طالب علموں نے ہاتھ میں قرآن اٹھایا ہوا تھا، اور سڑکوں پر چلتے ہوئے کہہ رہے  تھے:

"ہم قرآن کے پیروکار ہیں          ہمیں ریفرنڈم نہیں چاہیے"

اس مظاہرے سے پتہ چل گیا تھا کہ لوگ اس معاملے سے راضی نہیں ہیں اور قم میں محمد رضا پہلوی کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے جو سڑکوں پر آکر اُس کےحق میں نعرے لگائے۔ اسی وجہ  سے قم سے باہر کے کچھ لوگوں کو لائے تھے تاکہ وہ شاہ کی حمایت میں مظاہرہ کریں۔

 

مدرسہ فیضیہ پر حملہ

۲۵ شوال بمطابق ۲۲ مارچ ۱۹۶۳ والے دن، میں اپنی ہر سال کی عادت کے مطابق، امام جعفر صادق (ع) کی شہادت پر آیت اللہ گلپایگانی کی طرف سے رکھی جانے والی مجلس میں شرکت کیلئے مدرسہ فیضیہ گیا۔ مدرسہ کے باہر غیر معمولی صورتحال  تھی۔ فوجی گاڑیاں اور مسلح سپاہی آمادہ کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا شاید حکومت ان فوجیوں کو عمان کی جنگ کیلئے شہر ظفار بھیجنا چاہتی ہے اور ان لوگوں نے راستے میں قم میں توقف کیا ہے۔  میں مدرسہ میں داخل ہوا۔ آیت اللہ گلپایگانی کمروں کے سامنے ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک اور جگہ پر ہم لوگ بیٹھےہوئے تھے۔ آیت اللہ شیخ مرتضی انصاری، منبر پر امام صادق (ع) کے بارے میں گفتگو  کر رہے تھے۔ مجھے ایسا لگا کہ مجلس کا ماحول اب مجلس والا نہیں ہے؛ مثلاً کوئی یہاں سے بیٹھے بیٹھے، دوسری جگہ بیٹھے ہوئے اپنے دوست کیلئے سگریٹ پھینک رہا ہے اور بلند آواز میں کہہ رہا ہے: "علی یار، یہ پکڑو!" پتہ چل گیا کہ یہ لوگ امام صادق (ع) کی عزاداری میں نہیں آئے ہیں، کسی اور مقصد سے آئے ہیں۔  اس بات کے تقریباً پندرہ بیس منٹ بعد دیکھا کہ ایک آدمی کھڑا ہوا  اور اُس نے کہا: "رضا شاہ کی بلند و بالا روح پر صلوات" جن لوگوں نے صلوات بھیجی تھی، ہم نے اندازہ لگالیا کہ اُن کی تعداد ۴۰۰ افراد سے زیادہ ہیں۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ شاید لوگوں نے سوچے سمجھے بغیر پہلوی خاندان کیلئے صلوات بھیجی ہے، لیکن بعدمیں متوجہ ہوا کہ نہیں، معاملہ یہ نہیں ہے اور یہ کام کسی خاص گروہ کا ہے۔ مجھے احساس ہوگیا کہ مار پیٹ ہونے والی ہے ، میں نچلے طبقے سے اٹھ کر سیڑھیوں کے ذریعے مدرسہ فیضیہ کے دوسرے طبقے پر پہنچ گیا، تاکہ سب کچھ دیکھ بھی سکوں اور اگر جھڑپ ہوئی تو اُس سے بھی محفوظ رہوں۔

میں نے بالائی طبقے پر سنا کہ آیت اللہ انصاری نے منبر سے کہا: آپ خود سے  صلوات نہ بھیجیں، میں بھجواؤں گا۔ امام صادق (ع) کی مجلس ہے، امام صادق (ع) کا احترام کریں، صلوات نہ بھیجیں۔" پھر اُن لوگوں نے کہا:" مولانا کو کہنے دو، صلوات بھیجو!"اُسی وقت جب وہ لوگ صلوات پڑھ رہے تھے، آیت اللہ انصاری نے فضائل چھوڑ کر امام صادق (ع) کے مصائب پڑھنا شروع کردیئےتاکہ جلدی سے مجلس ختم کرکے منبر سے نیچے اُتر جائیں۔ اُن کے مصائب پڑھنے کی مدت میں ، وہ لوگ مستقل صلوات پڑھ رہے تھے اور  ایک دوسرے کی طرف سگریٹیں پھینک رہے تھے۔ جب قبلہ انصاری منبر سے نیچے آئے تو کسی نے مائیک سے اعلان کردیا کہ: "حضرات! حضرت آیت اللہ فرما رہے ہیں کہ آپ لوگ اپنے گھروں کی طرف جائیں، مجلس ختم ہوچکی ہے، یہاں نہ ٹھہریں۔" لیکن حالات ایسے نہیں تھے کہ لوگ وہاں سے اپنے گھروں کی طرف چلے جاتے۔

میں بالائی طبقے پر بیٹھا تمام حالات کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے ایک سپاہی کو دیکھا جس نے بلند آواز سے کہا: "جناب ہمایوں اعلیٰ حضرت شہنشاہ آریا مہر کی سلامتی کیلئے صلوات!!" تمام سپاہی لائن سے کھڑے صلوات بھیج رہے تھے۔ صلوات کی آواز سے پتہ چلا کہ اُن کی تعداد زیادہ ہے۔ جیسے ہی انھوں نے صلوات بھیجی لوگ اُن سے دور ہوکر ایک طرف چلے گئے۔یہ مدرسہ کے وسط اور حوض کے اطراف میں تھے۔ انھوں نے نعرے لگانا، درختوں کی شاخوں کو توڑنا اور لوگوں پر حملہ کرنا شروع کردیا۔

میں نے دیکھا کہ یہ لوگ بالائی منزل پہ آنا چاہتے ہیں، سیڑھیوں کا دروازہ بھی نہیں جو بند کردیاجاتا، میں نے مجبوراً ایک کمرے میں پناہ لی۔ اُس کمرے میں دس بیس مولوی  تھے۔ اس کمرے کا دروازہ پیچھے سے بند بھی نہیں ہوتا تھا ، وہاں کسی دروازے کا ایک پٹ تھا جسے ہم نے دروازے کے پیچھے لگا دیا۔ پھر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے تاکہ دیکھیں کہ اب کیا ہو رہا ہے۔ بعض طالب علم اچھی طرح ڈٹے ہوئے تھے اور کمانڈوز سے لڑ رہے تھے۔ فوجیوں نے بھی ایک دو دفعہ آکر مدرسہ میں ہوائی فائرنگ کی۔ پھر سپاہی، لوگوں کو مارنے کیلئے ایک میٹر لمبے ڈنڈے لے  آئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک سپاہی نے آکر جس کمروں میں ہم تھے اُن کے دروازوں پر ، ایک ایک کرکے لات یا بندوق کا بٹ مارنے لگا، اگر ہوسکتا تو وہ دروازہ کھولتا، اور کمروں میں چھپے افراد کو باہر نکال کر اُنہیں مارتا۔ اس طرح کے دو سپاہی اور آئے اور لاتوں سے ہمارے کمرے کے دروازے پر مارا۔ دروازہ خود بخود کھل گیا۔ انھوں نے دیکھا کہ ہم دس بیس لوگ وہاں ہیں۔ انھوں نے ہمیں بہت ہی گندی گالی بکی اور کہنے لگے یہ ہوگیا، وہ ہوگیا باہر نکلو۔ ہم نے کہا: "باہر مار پیٹ ہو رہی ہے، ہمیں کسی سے کوئی سروکار نہیں۔" لیکن وہ نہیں مانے اور کہنے لگے کمرے خالی ہونے چاہئیے۔ ہمیں کمروں سے باہر لے آئے، ہم برآمدے  میں آگئے ، میں وہاں بھی ایک کونے میں چلا گیا تاکہ سپاہیوں سے کی نظروں سے اوجھل رہوں۔ لیکن ایک سپاہی نے آکر ڈنڈے سے میرے عمامہ کے اوپر سے مارا، اس طرح سے کہ میرا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نیچے لے جانے لگا۔ میں نے کہا: "وہاں نیچے تو لوگوں کو مار رہے ہیں" وہ بولا: میں تمہارے ساتھ ہوں، میں کسی کو تمہیں مارنے  نہیں دوں گا۔ "

میں سوچنے لگا کہ شاید یہ بھی مجھے سیڑھیوں سے نیچے پھینکنے کے لئے کوئی چال ہو۔ میں نے سیڑھیوں پہ لگی راڈ کو پکڑا ہوا تھا، کہ اگر وہ مجھے کسی طرح دھکا دے تو میں نیچے نہ گروں۔ میں اس سپاہی کے ساتھ نیچے آیا جو مجھے پکڑا ہوا تھا۔  ہم جیسے ہی برآمدے سے مدرسہ فیضیہ کے صحن میں آئے،  ایک سپاہی نے آکر میرے منھ پر زور دار ڈنڈا مارا۔ وہ سپاہی جو مجھے اوپر سے نیچے لایا تھا اور مجھے زخمی بھی کیا تھا، بولا: "نہیں مارو! یہ اپنے حصے کا ڈنڈا کھا چکا ہے۔" میں نے بھی اس کا شکریہ ادا کیا۔ہم جہاں بھی جاتے، تین چار سپاہی ڈنڈا لیکر ہمیں مارنے کیلئے ہمارے سامنے آجاتے، پھر یہی سپاہی کہتا:"نہیں مارو، اس نے اپنے حصے کا ڈنڈا کھالیا ہے۔" پھر ہمیں مدرسہ فیضیہ کے ایک کونے میں لے گئے، جہاں تقریباً سو ڈیڑھ سو مولویوں کو جمع کیا ہوا تھا۔

ان مولویوں میں زیادہ تر  ننگے سر تھے اور ان کے عمامے مدرسہ میں گر گئے تھے۔ ہمیں افسوس ناک حالت میں تقریباً ایک گھنٹے تک وہیں پر رکھا اور ہمیں مدرسے سے باہر جانے نہیں دیا۔ پھر ایک بالٹی پانی اور ایک گلاس لایا گیا اور ہمیں پانی پلایا۔ اُس کے بعد ہمیں چھوڑ دیا گیا۔

 

مدرسہ فیضیہ میں آیت اللہ گلپایگانی پر حملے کا ارادہ

میں نے اُس دن جو ماحول دیکھا تھا اُس سے میں بہت غمگین ہوگیا تھا، سپاہیوں نے اُس کمرے پر حملہ کردیا تھا جس میں آیت اللہ گلپایگانی تھے۔ حتی اُنہیں اس بات کا بھی حکم تھا کہ انہیں کوئی گزند پہنچا دیں۔ لیکن بہت سارے علماء نے خود کو آیت اللہ گلپایگانی کے بدن پر گرایا ہوا تھا اور تمام ڈنڈے اُن لوگوں کو لگ رہے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ لوگ اُس دن آیت اللہ گلپایگانی کو کوئی ڈنڈا مارنے یا کوئی گزند پہنچانے میں کامیاب ہوسکے  ہوں۔

 

کمانڈوز کے حملے کے بعد قم کے حالات

کمانڈوز کے حملے کے بعد، ہم نے جس چیز کا مدرسہ فیضیہ میں مشاہدہ کیا، وہ یہ تھا کہ مدرسہ کے صحن میں سینکڑوں عبائیں اور عمامے گرے ہوئے تھے۔ ان عباؤں اور عماموں سے پتہ چل رہا تھا کہ بہت سارے علماء کرام پر حملہ ہوا ہے اور اُنہیں بہت چوٹیں لگی ہیں۔

اس معاملے کے بعد،  ہمارے اندر ایک غم و اندوہ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اور شاید ہم اتنے سارے کمانڈوز اور بندوقیں دیکھنے کی وجہ سے وحشت میں مبتلا ہوگئے تھے۔ حملے کے بعد والے دنوں میں کمانڈوز کو گاڑی میں بٹھا کر سڑکوں کا چکر لگاتے رہے اور علماء کرام کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ ہم رعب  و حشت کی حالت میں گرفتار تھے۔ ان کے اس طرح اسلحوں کے ساتھ آنے اور مدرسہ فیضیہ کے سامنے لوگوں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرنے سے بہت خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ لیکن ایک دو دن بعد، امام کی طرف سے ایک صفحہ پر مشتمل وسیع بیان صادر ہوا کہ جس میں تہران کے ایک مولوی – جناب حاج اصغر خویی - کو مخاطب کیا گیا تھا۔ امام نے اس خط میں اس حادثے پر سخت ردّ عمل کا اظہار کیا تھا اور لکھا تھا "شاہ سے دوستی یعنی لوگوں کا قتل عام؟ شاہ سے دوستی یعنی قرآن کو پارہ پارہ کرنا؟ شاہ سے دوستی یعنی علماء کے ساتھ جسارت؟" اس بیان کے صادر ہونے سے ہمیں ایک قلبی اطمینان حاصل ہوا۔ ہمیں احساس ہوا کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔ لوگوں کے پیچھے امام ہیں اور وہ ہر موقع پر حرمت اسلام اور قرآن کے دفاع  کے عنوان سے بیان دیتے ہیں۔

 

سن ۱۹۶۳ء کا محرم

ا س سال محرم کے پہلے عشرہ میں، امام خمینی (رہ) نے ایک بیان کے ذریعے علماء سے درخواست کی کہ لوگوں کو حقیقت اور روزمرہ  کے مسائل سے آگاہ کریں۔ میں بھی اُن دنوں  کسی دیہات میں منبر پر جاتا تھا، مجھ میں جتنی ہمت ہوتی – یعنی مجھ میں آیت اللہ داماد کی طرح ہمت نہیں تھی – مطالب کو بیان کرتا۔پھر جب بارہ محرم – ۵ جون – کا سانحہ ہوا، چونکہ اُس گاؤں میں، تہران کے لوگوں کی طرح کی حرکت اور ردّعمل  نہیں تھا کہ بازار بند کروائے گئے ہوں اور مظاہرے کئے گئے ہوں، ہم سب علماء جمع ہوکر رشت میں جناب یاوری کے پاس گئے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ گیلان کے علماء کے بزرگ  تھے۔ ہم ایک دو گھنٹے تک ان پاس بیٹھے رہے اور پھر جناب بحر العلوم کے پاس گئے تاکہ انہیں تہران کی طرح مارکیٹ بند کروانے کیلئے قانع کرسکیں۔ ہم لوگ تقریباً کامیاب بھی ہوگئے؛ یعنی ہم لوگوں نے ان کی رضایت حاصل کرلی تھی، لیکن رشت تھانے کا افسر سمجھ گیا اور اُس نے ہماری کاروائی کو ناکام بنا دیا۔ رشت کا بازار اُس طرح سے بند نہیں ہوسکا جس طرح سے ہم چاہ رہے تھے۔

 

امام کی گرفتاری اور جلاوطنی

امام خمینی (رہ) کی دوسری مرتبہ گرفتاری جو اُن کی جلاوطنی کا باعث بنی، معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ امام نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۴ء  کو کیپٹل ازم بل اور امریکی مشیروں کو قانون سے مستثنیٰ قرار دینے پر، سخت لہجے میں تقریر کی۔ اس تقریر میں امام نے امریکہ پر حملہ کیا اور کہا ہماری قوم  امریکی صدر کو منحوس ترین آدمی سمجھتی ہے، چونکہ اُس نے ہماری قوم پر ان مظالم کو روا رکھا ہے۔ اُن کی تقریر تقریباً ۳۵ منٹ طولانی تھی۔  مختلف جگہوں سے کافی سارے لوگ تقریر سننے کیلئے قم آئے ہوئے تھے۔

اُس دن محمد رضا پہلوی کی سالگرہ کا دن تھا اور حکم دیا گیا تھا کہ لوگ سڑکوں پر چراغاں کریں اور جھنڈے لگائیں۔ امام نے اپنی تقریر میں  اس موضوع کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: "کالے جھنڈے لگانے چاہئیے، کہ ایرانی قوم پر  بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔" امام کی تقریر اور اُن کی گرفتاری میں تقریباً نو دن کا فاصلہ تھا۔ ۲۶ اکتوبر کو تقریر کی، ۴ نومبر کی رات اُنہیں گرفتار کرنے آگئے۔

اُن دنوں  میں، ہمیں یہ گھر  - جو امام کے گھر کے پڑوس میں تھا – لئے ہوئے چند مہینے ہوئے تھے۔ میں نے حاج شیخ فضل اللہ محلاتی کے ساتھ مل کر گھر خرید لیا تھا اور اُن کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا۔ ۴ نومبر کی رات تھی کہ  صبح کے وقت، جس وقت حرم کے لاؤڈ اسپیکر سے صبح کی اذان سے پہلے تلاوت کی آواز آرہی تھی، ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی ہمارے گھر کے دروازے پر چابی لگا رہا ہے اور ایک دوسرا آدمی امام کے گھر کی گلی کی طرف کھلنے والے ہمارے دروازے کو کھول رہا ہے۔

میری بیوی  نے کہا: "چور  آیا ہے!" میں نے کہا: " تم ٹھہرو میں جاکر دیکھتا ہوں کہ کیا ہوا ہے!" میں دروازے پر گیا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی تالے میں چابی لگا رہا ہے، اور جب اُسے نہیں کھول پا رہا تو دوسری چابی لگا کر دیکھتا ہے۔ میں نے پوچھا: "کون ہے؟"

وہ بولا: "دروازہ کھولو" میں نے دیکھا تو پوری گلی میں رش تھا اور بہت زیادہ لوگوں کی رفت و آمد ہورہی ہے۔ میں نے خود سے کہا یہ آدمی چور نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ اتنے رش میں کوئی چور نہیں کہہ سکتا کہ دروازہ کھولو۔ میں اندازہ لگایا کہ امام کے گھر میں کوئی مشکل پیش آگئی ہے، اور شاید اُنہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔  چونکہ ہم امام کے نزدیکی پڑوسی تھے، اور بعض راتوں کو امام کا خادم آتا اور جن چیزوں کی ضرورت ہوتی، جیسے سامان، کمبل، عبا وغیرہ ہم سے لے جاتا۔ اسی سوچ میں، میں دروازے کی طرف بڑھا تاکہ دروازہ کھولوں۔ ہم نے دروازے کے پیچھے جو پردہ لگایا ہوا تھا، اُسے ہٹایا کہ ایک دم اُس طرف سے لات پڑنے کی وجہ سے  زور سے دروازہ کھل گیااور میرے ماتھے پر لگا اور میں اس کے لگنے کی وجہ سے برآمدے میں گر پڑا۔ میری پیشانی پر چوٹ لگی اور خون بہنے لگا۔ اسی اثناء میں تقریباً دس سے پندرہ لوگ جن میں سے بعض کے ہاتھوں میں اسٹین گنیں  اور کچھ کمانڈوز جن کی کمر پر خنجر بندھے ہوئے تھے، برآمدے میں داخل ہوئے۔ ہم سے کچھ کہے بغیر وہ لوگ کمروں میں گھس گئے اور تلاشی لینا شروع کردی۔ جس کمرے میں جاتے، پوچھتے: "اس کمرے کی لائٹ کا بٹن کہاں ہے؟" میرے گھر والے لائٹ جلا دیتے اور وہ لوگ تلاشی لینے کے بعد کہنے لگے: "جناب خمینی کہاں ہیں؟"

اس طرح انھوں نے تمام کمروں کی تلاشی لے لی۔ مجھے اب معاملے کا پتہ چلا اور سمجھ گیا کہ اس حملے سے ان کا مقصد امام کو گرفتار کرنا  ہے؛ چونکہ پہلی دفعہ جو اُن کو لے گئے تھے، جس گھر میں ہم رہ رہے تھے اُنہیں یہاں سے گرفتار کیا تھا – یہ گھر پہلے شہید محلاتی کا تھا جسے ہم نے اُن سے خرید لیا اور کچھ عرصے کیلئے اس میں امام کے فرزند جناب مصطفی  کرائے پر رہے تھے، اور ۵ جون ۱۹۶۳ء کی رات کو امام کو اسی گھر سے گرفتار کیا تھا – اُن کے احتمال میں امام پہلے کی طرح اسی گھر میں ہوں گے۔ کمروں کی تلاشی لینے کے بعد، جب کسی کو نہیں پایا، آکر کہنے لگے: "جناب خمینی کمروں میں نہیں ہیں!" میں نے کہا: "ہم کیا کریں؟ آپ لوگوں نے جاکر کمروں میں دیکھ لیا ہے، ہم تو ان کو نہیں چھپا سکتے۔ وہ اپنے گھر میں ہوں گے۔" کہنے لگے: "ہم اُن کے گھر بھی گئے تھے، نہیں تھے۔"

سپاہیوں کے جانے کے بعد میں نے ایک کپڑے کا ٹکڑا ڈھونڈا اور اپنی چہرے اور پیشانی پر لگے خون کو صاف کیا۔ پھر میں دروازے پر آگیا۔ مجھ پر غم و غصے کی کیفیت طاری تھی۔ ہمیں قتل کر دینا اس سے بہتر تھا کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ کچھ لوگ ہاتھوں میں خنجر لئے امام کے پیچھے ہیں۔ دروازے پر کھڑا ہوا تھا کہ فوراً ایک آدمی خنجر لیکر آیا اور اُسے میرے سینے کی طرف کرکے کہنے لگا: "اندر جاؤ!" میں نے دیکھا کہ اُنہیں لوگوں کو قتل کرنے میں کوئی جھجک نہیں، میں گھر میں چلا گیا اور دروازہ بند کرلیا۔ دروازے کے اوپر ایک شیشہ لگا ہوا تھا، میں جاکر اوپر سے باہر دیکھنے لگا۔ کچھ منٹ گزرے تھے کہ انھوں نے دوبارہ گھر کی بیل بجائی۔ میں نے دروازے کو کھولا۔ کہنے لگے: "جناب خمینی، اپنے گھر میں نہیں ہیں۔" میں نے کہا: "آپ لوگ تو یہاں کی تلاشی لے چکے ہیں، نہیں تھے؛ اب ہم کیا کریں؟" ہم انہیں بات میں مصروف تھے کہ میں نے دیکھا، گھر کے بالکل سامنے درخت کے نیچے فولکس کار اسٹارٹ ہوئی۔ شاید امام نماز شب پڑھنے میں مشغول تھے، فولکس انجن کی آواز سننے سے وہ قضیہ سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور چھت پر  سے اُنہیں آواز دیتے ہیں کہ "آجاؤ، میں خود اس دروازے سے باہر آتا ہوں" کچھ دیر بعد امام لباس تبدیل کرکے دروازے سے باہر آئے۔ اُنہیں فولکس میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ فولکس گاڑی استعمال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مسجد سلماسی والی گلی پتلی اور تنگ تھی اور بڑی قسم کی گاڑیوں کا اُس گلی سے گزرنا، آسان نہیں تھا۔

میں دوسری مرتبہ دروازے پر گیا۔ میں اُن کی باتوں سے سمجھ گیا کہ امام گرفتار ہوکر گاڑی میں بیٹھ گئے ہیں۔ انہیں اب مجھ سے کوئی کام نہیں تھا اور انھوں نے کوئی مزاحمت  بھی ایجاد نہیں کی۔ میں تقریباً دس پندرہ منٹ گلی میں کھڑا رہا کہ کسی نے آکر اپنے ساتھی کو آواز لگائی کہ "کرنل صاحب آجائیں، اب کام ختم ہوگیا ہے۔" امام کا نام نہیں لے رہے تھے اور نہیں کہہ رہے تھے کہ گرفتار ہوگئے ہیں، صرف کہہ ر ہے تھے "کام ختم ہوگیا ہے" میں وہیں ٹھہرا رہا تاکہ دیکھ سکوں "کرنل" کون ہے۔ کچھ لمحوں بعد ایک لمبا اور موٹا آدمی – کہ بعد میں بتایا گیا کرنل مولوی ہے – اور وہ اس کاروائی کا انچارج تھا۔ اُس رات گھر سے باہر رفت و آمد کرنے والے سپاہیوں کی تعداد تقریباً تین سو تھی کہ جن میں سے آدھوں کے ہاتھ میں اسٹین گنیں تھی اور بقیہ کے ہاتھ میں خنجر۔ جب اعلان ہوا کہ: "آجائیں کام ختم ہوگیا ہے" کچھ اور سپاہی امام کے گھر سے باہر نکلے اور کچھ سپاہی پڑوس والے گھر کے بالائی کمرے سے نیچے کودے۔ وہ بالائی  منزل سے مخصوص طریقے سے نیچے کود رہے تھے، اس طرح سے کہ پیٹھ دیوار سے لگی ہوئی، اور اپنے جوتوں کو دیوار پر پھسلاتے ہوئے نیچے آ رہے تھے تاکہ اُن کے بدن کا دباؤ کم رہے اور جب وہ نیچے آئیں تو اُنہیں کوئی چوٹ نہ لگے۔

سپاہیوں کی اصل تعداد تو ہسپتال کے سامنے ٹھہری ہوئی تھی۔ امام کو گاڑی پر وہاں تک لے گئے اور وہاں پر گاڑی بدلنے کے بعد، تہران کی طرف حرکت کر گئے۔

 

امام کی دوسری گرفتاری کے بعد قم کے حالات

۴ نومبر والے دن، میں پہلے تو ہسپتال گیا اور اپنے ماتھے پر ٹانکے لگوائے۔ پھر سڑکوں پر ، حرم اور مدرسہ  فیضیہ گیا اور میں نے دیکھا کہ پورے شہر میں حتی گلیوں میں بھی سپاہی تعینات کئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اندازہ لگایا ہوا تھا کہ ممکن ہے امام کی گرفتاری سے قم میں غیر معمولی قیام اور بغاوت ہو، لہذا  لوگوں کے جمع ہونے، لوگوں کے سڑکوں اور حرم آنے جانے  اور حتی لوگوں کی سڑکوں پر رفت و آمد کو ممنوع قرار دیدیا تھا۔

 

حاج مصطفی خمینی سے ملاقات

۴ نومبر کی صبح ، جب امام کو گرفتار کیا گیا، جناب مصطفی اپنے گھر میں تھے اور اُنہیں معاملے کی خبر نہیں تھی۔ انھوں نے حرم والی گلی میں ایک گھر کرائے پر لیا ہوا تھا اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ وہاں رہ رہے تھے۔ اصل میں جناب مصطفی کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ اپنے والدی کے کاموں اور رجوع کرنے والے کی جوابدہی میں خود سے مداخلت نہیں کرتے تھے ۔ یعنی زیادہ تر  درس و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور یہ ان کی خوبیوں میں سے ہے۔

چند گھنٹے بعد وہ اپنے والد کی گرفتاری سے آگاہ ہوتے ہیں، اُن سے کہا گیا تھا کہ صرف فیض گیلانی نے تمام ماجرے کو دیکھا ہے؛ وہ آئے اور مجھے بلایا۔ ہم ایک ساتھ گلی میں داخل ہوئے اور میں نے اُنہیں پورے قضیہ کی وضاحت پیش کی۔  اِدھر اُدھر سے لوگ بھی آگئے تھے اور انھوں نے بھی سنا کہ امام کو کس طرح گرفتار کیا گیا ہے۔ *

 

* ۵ جون کے واقعات (چھٹا رجسٹر)تحریر: علی باقری، تہران: انقلاب اسلامی کا ادبی دفتر اور مطبوعات سورہ ، ۱۹۹۷ء، ص ۳۱۱ ، ۳۱۳ اور ۳۲۲


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 427


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

    جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

    مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

    سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
    لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

    وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

    میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔