امام خمینی رح

میں اپنے قلبی احساسات کا اظہار نہیں کرسکتا۔ میرے دل پر دباؤ ہے ...

ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-04-05


اس تاریخ سے ڈیڑھ سال پہلے، امام خمینی (رہ) کو پہلوی حکومت کے خلاف شدید لہجے میں تقریر کرنے کے سبب  قم سے رات کے وقت گرفتار کرکے تہران منتقل کردیا یہ واقعہ ۵ جون ۱۹۶۳ء کے تاریخی قیام  کا نتیجہ تھا۔ امام خمینی نے ایک عرصہ حبس اور گھر کی قید تحمل کر کے ، ۷ اپریل ۱۹۶۴ء والے دن آزادی کے بعد، قم واپس جاکر کر اُس وقت کی حکومت کے خلاف اپنی مخالفتوں اور اعتراضات کا از سر نو آغاز کیا۔

سن ۱۹۶۳ء میں پارلیمنٹ کی اہم ترین منظوریوں میں سے ایک کیپٹل ازم (مشروط اطاعت) بل کی منظوری کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ قانون ایران میں موجود امریکی فوج کے تمام مشیروں کو ایران میں عدالت سے استثنیٰ قرار دیتا ہے اور دراصل یہ ایک  حق تھا جو ایران میں رہنے والے امریکیوں کو دیا گیا تاکہ کسی جرم میں ملوث ہونے کی صورت میں اُن کا مقدمہ ایران میں نہیں بلکہ امریکا میں چلایا جائے۔ یہ امتیاز ایران کی روسی بادشاہت سے طولانی جنگ میں شکست کے بعد ، ترکمانچای معاہدہ میں ایران پر لاگو ہوا۔ اس کے بعد انگلینڈ اور دوسرے یورپین ممالک نے بھی اس امتیاز کا مطالبہ کردیا اور سب نے  کسی نہ کسی طریقے سے اس کو حاصل کرلیا۔ ۲۲ فروری ۱۹۲۱ء کی بغاوت کے بعد، ایران اور روس کے درمیان دوستی اور رفاقت کے معاہدے پر دستخط کے ساتھ،  یہ امتیاز منسوخ اور اس کے بعد سن ۱۹۲۷ ء میں، تمام یورپی ممالک سے اس طرح کی قرار دادیں باطل اور منسوخ ہوگئیں۔ ۱۸ اگست ۱۹۵۳ء کی بغاوت کے بعد اور ایران کے امریکا سے فوجی ساز و سامان سے متعلق روز بروز بڑھنے والے مطالبے میں، ایران میں امریکی مشیروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ پہلی دفعہ مارچ ۱۹۶۲ء میں اُس وقت کے امریکی سفیر نے پوشیدہ طور پر  دولت علی امینی سے اس امتیاز کی درخواست کی، لیکن امینی نے جو اس امتیاز کے نتائج  سے آگاہ تھا، اُس کو خاموش کروا دیا۔ اسد اللہ علم کی حکومت نے اکتوبر ۱۹۶۳ء میں اس مسئلے کی تحقیق کی اور اُسی سال  ۱۷ نومبر کو  یہ بل سینیٹ کے حوالے کردیا۔ حسن علی منصور جو ۷ مارچ ۱۹۶۴ء کو صدرات کی کرسی پر بیٹھا تھا، وہ اس بل کی پیچھے لگا اور بالآخر سینٹروں نے ۲۵ جولائی ۱۹۶۴ کو ہونے والے جلسے اور رات کے آخری پہر اس بل کی منظوری دیدی۔ ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو  قانون ساز اسمبلی نے بھی ایک شور شرابہ سے بھرپور نشست میں اس بل کے حق میں ووٹ دے دیئے۔ اس بل کی منظوری کے ساتھ، اُس وقت کی حکومت کی سیاست پر امام خمینی (رہ) کے اعتراضات شدید ہوگئے۔

انھوں نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو شاہ کی سالگرہ والے دن، شدید لہجے میں ایک بیان جاری فرمایا۔ امام خمینی (رہ) نے تقریر کے شروع میں پارلیمنٹ کے فیصلے پر اظہار افسوس فرمایا: "میں اپنے قلبی احساسات کا اظہار نہیں کرسکتا۔ میرے دل پر دباؤ ہے ... میں قلبی احساسات کے ساتھ دن گن رہا ہوں کہ کس وقت موت آجائے۔ ایران کی عید ختم ہوگئی، ایران کی عید کو عزا میں بدل دیا ہے ... ہماری آزادی کو بیچ ڈالا ہے اور پھر بھی چراغاں کر رہے ہیں۔ پیروں کو پٹخ کر جھوم رہے ہیں ... ہماری عزت کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے، ایران کی عظمت ختم ہوگئی، ایرانی فوج کی عظمت کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔" پھر قانون کی وضاحت کرتے ہوئے علمائے اسلام کو خطرے کا اعلان کیا: "امریکہ کے تمام فوجی مشیر اپنے گھر والے کے ساتھ، اپنے ٹیکنیکی کاریگروں کے ساتھ، اپنے نوکروں کے ساتھ، جو کوئی بھی ان سے وابستہ ہے، یہ لوگ ایران میں کوئی بھی جرم کریں، محفوظ ہیں، اگر ایک امریکی باورچی، بھرے بازار میں آپ کے مرجع تقلید کا قتل کردے، پاؤں تلے روندے، ایران کی پولیس کو اُسے روکنے کا حق نہیں ہے، ایران کی عدالت کو حق نہیں ہے کہ اُس کے خلاف مقدمہ چلائے ، سوال جواب کرے، اُسے امریکا جانا پڑیگا، وہاں امریکا میں صاحب اختیار وظیفہ معین کریں ... ایرانی قوم کو امریکی کتوں سے بھی پست کردیا ہے ... کسی کو بھی اعتراض کا حق نہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ امریکا سے قرضہ لینا چاہتے ہیں ... جناب عالی میں  خطرے کا اعلان کرتا ہوں۔ اے ایران کی فوج میں خطرے کا اعلان کرتا ہوں، اے ایران کے سیاستدانوں مجھے خطرے کا احساس ہو رہا ہے۔ اے ایران کے تاجروں میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہوں۔ اے ایران کے علماء، اے اسلام کے مراجع میں خطرے کا اعلان کر رہا ہوں۔ فاضلوں، طالب علموں، مراجعین کرام، آقایان، نجف والوں، قم والوں، مشہد والوں، شیراز والوں میں خطرے کا اعلان کر تا ہوں۔ "

امام خمینی (رہ ) کی گفتگو کے دوسرے حصے میں، موجودہ صورتحال پر خاموش رہنے کے خلاف اعتراض میں آیا ہے: "وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ خاموش رہنا چاہیے، کیا یہاں بھی خاموشی اختیار کی جائے؟ ہم یہاں بھی چپ رہیں؟ ہمیں فروخت کر دیا جائے اور ہم چپ رہیں؟ ہمارے قرآن کی بولی لگادی جائے اور ہم خاموشی رہیں؟ خدا کی قسم جو آواز نہ اٹھائے وہ گناہ گار ہے..."

اُس وقت امام خمینی (رہ) نے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "فوج بھی جان لے، تم میں سے ایک کے بعد دوسرے کو ہٹائیں گے۔ کیا تمہارے لئے کوئی آبرو رہ گئی ہے؟ کیا تمہارے نظام کے لئے کوئی عزت رہ گئی ہے کہ ایک امریکی فوجی ہمارے ایک جنرل  سے برتر ہے؟ ایک امریکی باورچی ایران میں ہمارے ایک جنرل سے برتر ہوگیا ہے؟ اب تمہارے لئے کوئی عزت رہ گئی ہے؟ اگر میں ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا۔ اگر میں فوجی ہوتا تو استعفیٰ دے چکا ہوتا۔ میں اس ذلت کو قبول نہیں کرتا۔ اگر میں پارلیمنٹ کا ممبر ہوتا تو استعفیٰ دے چکا ہوتا۔"

امام خمینی (رہ) نے اسی طرح اُس دن صادر ہونے والے بیان میں، ایران کی پارلیمنٹ کو اس  طرح کے بل کی منظوری پر ملامت کی اور اُسے اسلام اور قرآن کے خلاف قرار دیا اور ایران کے داخلی معاملات میں اجنبی حکومتوں کی دخالت کی وضاحت کے ضمن میں،  معاشرے کے تمام طبقوں پر اس طرح کے بل کی مخالفت کو لازمی جانا۔

ان اعتراضات کے نتیجے میں اُس وقت کا صدر حسن علی منصور اس بل کے بارے میں وضاحت پیش کرنے پر مجبور ہوا۔ اُس نے سینیٹ میں تسلیم کیا کہ اس بل کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔

امام خمینی  (رہ) اپنی سخت تقریر کے نتیجے میں بالآخر ۴ نومبر ۱۹۶۴ء کی آدھی رات گرفتار ہوکر ترکی جلاوطن ہوجاتے ہیں۔ جنرل حسین فردوست کی یاد داشت کی بنیاد پر امام خمینی (رہ) کے جلاوطن ہونے سے ایک رات پہلے ، حسن علی منصور نے شاہ سے مل کر امام خمینی (رہ) کی جلاوطنی کا تقاضا کیا۔ شاہ بھی اُس وقت کے ساواک کے سربراہ حسن پاکروان کو ٹیلیفون پر جلا وطنی کا حکم صادر کردیتا ہے۔

۴ نومبر کی آدھی رات کو تہران میں ساواک کے انچارج کرنل محمو جواد مولوی، کچھ کمانڈوز اور ہوائی افواج کے ہمراہ قم میں امام خمینی  کے گھر پر حملہ کرتا ہے؛ گھر کا دروازہ توڑکر  اور خادموں کو مار پیٹ کر، انہیں گرفتارکرکے تہران منتقل کردیتے ہیں۔ امام خمینی (رہ) اُسی رات کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعے، ایک سیکیورٹی عہدہ دار کرنل امیر افضلی کے ہمراہ جو ساواک کے سماجی امور کا سربراہ تھا، تہران سے ترکی جلا وطن ہوگئے۔ کچھ گھنٹوں بعد ساواک نے جرائد میں بیان کے ذریعے، امام خمینی (رہ) کی جلاوطنی کی خبر کو شائع کیا: "با رسوخ ذرائع اور کافی دلائل اور شواہد کے مطابق، جناب خمینی کا رویہ اور اُن کی تحریکیں ملک کی تمام ارضی، آزادی، امنیت اور قوم کے خلاف ثابت ہوئیں، لہذا  ۴ نومبر ۱۹۶۴ء  کو وہ ایران سے جلا وطن ہوگئے ہیں۔"

اسی طرح ساواک نے امام کے فرزند سید مصطفی خمینی کو بھی اُسی دن اور جبکہ وہ منزل آیت اللہ سید شہاب الدین مرعشی نجفی کے گھر میں تھے گرفتار کرلیا اور تہران کے قزل قلعہ نامی جیل میں قید کردیا۔

امام خمینی (رہ) کی جلاوطنی سے وسیع پیمانے پر ردّ عمل ظاہر ہوا۔ زیادہ تر شہروں کے بازار بند ہوگئے اور علماء نے بھی امام خمینی (رہ) کی جلاوطنی کی مخالفت میں تہران، قم اور مشہد کے حوزہ ہای علمیہ کی تعطیل کردی اور بیانات شائع کئے۔ لوگ امام خمینی (رہ) کی آزادی کیلئے مراجعین سے رابطہ کرنے لگے اور قم میں لوگوں کے ٹیلی گرافوں کو تانتا بندھ گیا۔

امام خمینی (رہ) پہلے تو انقرہ گئے پھر ۱۲ نومبر کو ترکی حکومت کے عہدیداروں کے فیصلے پر انقرہ سے ۴۶۰ کلومیٹر دور بورسا نامی شہر  جو دریائے مرمرہ کے نزدیک تھا، منتقل ہوگئے۔ امام خمینی (رہ) کی جلا وطنی کی وجہ سے لوگوں کے اندر حسن علی منصور کے خلاف احساسات کی آگ بھڑکی۔ بالآخر اسلامی اتحاد کی انجمنوں کی ایک رکن محمد بخارایی نے 20جنوری ۱۹۶۵ء کو  قانون ساز اسمبلی کے دروازے کے سامنے منصور کو گولی کا نشانہ بنایا۔ وہ زخمی ہونے کی وجہ سے ۲۵ جنوری کو ہلاک ہوگیا اور امیر عباس ہویدا نے صدرات کی کرسی سنبھال لی۔

امام خمینی (رہ) نے ترکی میں ۱۱ مہینے تک جلاوطنی کاٹی۔ وہ اکتوبر ۱۹۶۵ء میں نجف اشرف منتقل ہوگئے اور وہاں سے پہلوی حکومت کے خلاف لوگوں کی جدوجہد کی سربراہی کرتے رہے۔ *

* دائرۃ المعارف انقلاب اسلامی (نوجوان اور جوانوں کا خاص شمارہ)، دائرۃ المعارف انقلاب اسلامی کی سپریم کونسل کے زیر نگرانی، تہران:انقلاب اسلامی اور سورہ مہر کا ادبی دفتر (آرٹ گیلری سے وابستہ) ۲۰۱۰ء، ج۲، پہلا ایڈیشن، ص ۳۲۰  سے ۳۲۱ تک۔ 


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 91


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔