بابا مجھے اسلحہ چاہئے

ترجمہ : سیدہ رومیلہ حیدر

2017-03-10


مجھے یاد ہے کہ جب میں جیل میں تھا۔ میرے گھر والے بہت زیادہ مسائل میں گرفتار تھے۔ ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہوگئی تھی چونکہ میری والدہ اور بہن کی کفالت بھی میرے ذمہ تھی۔

جدوجہد کے زمانے میں میری ایک اہم فکر اپنے گھر والوں کی معیشت کے بارے میں تھی۔ جب بھی جیل میں کھانا کھانے کو ملتا تو مجھے اپنے چھوٹے بیٹے کی یاد آتی اور میں بس یہی سوچتا رہتا کہ آیا انہوں نے کچھ کھایا بھی ہو گا یا نہیں؟ یہ بات میرے لئے اتنی زیادہ اذیت ناک تھی کہ مجھے اپنے اوپر ہونے والا تشدد بھی یاد نہیں رہتا اور گھر والوں کی فکر میرے جسمانی درد پر غالب آجاتی۔ لیکن جب بھی جیل سے باہر آتا تو دیکھتا کہ میرے گھر والے اکیلے نہیں ہیں بلکہ کوئی نہ کوئی ان کی احوال پرسی کرتا رہتا ہے۔

میرے وہ تحریکی ساتھی کہ جو جیل سے باہر تھے، انہوں نے اپنی زندگی اسیروں کے گحر والوں کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ میرے اہلیہ نے مجھے بتایا کہ ایک دن میرے ساتھی جناب رفیق دوست گھر آئے اور کچھ پیسے انہیں دے گئے۔ والدہ نے مجھے باتایا کہ ہر چند دنوں بعد ایک صاحب انڈے گھر پہنچا جاتے ہیں۔ ایک اور تحریکی ساتھی میرے بچوں کے لئے شہد کی بوتلیں دے جایا کرتے تھے۔

اپنے گھر والوں کی زبانی یہ باتیں سن کر مجھے تو یقین ہو چلا کہ ہم جس تحریک کا حصہ ہیں یہ مکمل طور پر ایک عوامی تحریک ہے اور اس تحریک میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ جب میں ان چیزوں کا مشاہدہ کرتا تھا کہ اس تحریک کو ایسا مظبوط اور مستحکم سہارا ملا ہوا ہے تو میں بہت اطمئنان کے ساتھ سرگرمیاں انجام دیتا اور کبھی بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرتا تھا۔

لیکن مجھے ایک بات کا بہت زیادہ دکھ ہوتا تھا۔ اور وہ درد ملاقات کے دن اپنے بچوں سے محبت اور پیار کا درد تھا کہ جوان سے دور رہنے کی وجہ سے ملاقات کے دن کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتا تھا۔

میرے بچے اپنا بچپنا بن باپ کے گذار رہے تھے اور کوئی بھی انہیں اپنی گرم آغوش میں لینے والا اور انکے سروں پر دست شفقت پھیرنے والا نہیں تھا۔

ایک دن میری اہلیہ جیل میں مجھ سے ملاقات کرنے کے لئے آئیں لیکن اس بار اکیلی نہیں آئیں بلکہ دونوں چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئی تھیں۔ میں اس سے پہلے ہمیشہ اسے اس بات کی تاکید کرتا تھا کہ اکیلی آیا کرے لیکن اس دن بچوں نے اتنی ضد کی کہ وہ انہیں منع نہ کر پائیں اور ساتھ ہی لے آئیں۔

آہنی جالیوں کے پیچھے سے اپنے گھر والوں سے ملاقات کر رہا تھا۔ میری اہلیہ اور بچے جالی کی دوسری طرف تھے اور ہمارا درمیانی فاصلہ تقریبا دو میٹر کا تھا۔ بچے اپنی میٹھی میٹھی زبان میں میرا دل لوٹ رہے تھے۔ اور میں انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لئے بے تاب تھا۔ بچوں نے اپنے معصوم لہجے میں مجھ سے سوال کیا کہ بابا گھر کب آئین گے اور میں نے بھی تتلا کر ان سے اگلے ہفتے گھر واپس آنے کا وعدہ کر لیا۔

اگلے ہفتے وہ پھر آئے اور اپنے باپ کی بد عہدی کا شکوہ کرتے ہوئے پوچھا کہ بابا آپ آئے کیوں نہیں؟ آپ نے تو کہا تھا کہ اگلے ہفتے آئین گے، اور میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر ہفتے ان سے اگلے ہفتے کا وعدہ کر لیا کرتا تھا۔

دن اور ہفتے گنتا رہتا تا کہ عید یا کوئی تہوار کا دن آئے اور میں ان سے نزدیک سے مل سکوں۔ جب ان ملاقاتوں میں اپنے بچوں کو گلے لگاتا تو مجھے اپنے پورے وجود میں تازگی، گرماہٹ اور توانائی کا احساس ہونے لگتا۔ ان کو پیار کرتے کرتے نہیں تھکتا۔

بچے بھی چند مہینوں بعد جب میری گود میں آتے تو انہیں بھی بہت خوشی ہوتی اور انکے چہرے خوشی سے لال ہوجایا کرتے تھے اور انکے معصوم مگر مرجھائے ہوئے چہروں پر ایک بار پھر ذنزدگی کی رمق دوڑ جاتی۔۔۔۔۔ اور میں یہ منطر دیکھ کر بہت زیادہ خوشحال ہوجایا کرتا تھا۔

ایک دن ایک ایسی ہی ملاقات میں میرے بڑے بیٹے نے اپنی میٹھی میٹھی معصوم زبان سے کہا:" بابا مجھے اسلحۃ دیں تاکہ میں ان سپاہیوں کو گولی مار دوں اور آپ کو گھر واپس لے جائوں۔" میرے قریب ہی کھڑے سپاہی نے کہ جو تقریبا ہر ملاقات میں ہماراے ساتھ ہوتا تھا میرے پانچ چھ سالہ بچے کی بات سن کر مجھ سے کہا:" دیکھا کیسی تربیت کی ہے تم نے اپنے بچوں کی؟۔" میں  نے بھی اسے پلٹ کر جواب دیا:" میں نے آج تک اپنے بچے سے اس طرح کے موضوعات پر کوئی بات نہیں کی لیکن یہ تم لوگوں کا طرز عمل ہے اور یہ تمہاری بد کرداری ہے کہ جس کی وجہ سے اس معصوم بچے کے ذہن میں اس طرح کی بات پیدا ہوئی ہے۔" اور میرا جواب سن کر وہ سپاہی خاموش ہوگیا۔

 


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 53


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔