’’زندان قصر‘‘ میں بہت سے افراد شھید ہوئے تھے

مترجم:سید محمد جون عابدی

2016-02-22


۱۵ خرداد ۱۳۴۲ کو مجھے دومہینے کے لئے قصر زندان نامی جیل میں قید کیا گیا تھا۔اس زمانے میں وہاں دو بیرک ان سیاسی قیدیوں سے مخصوص تھے جنہیں ورامین یا تہران سے لایا جاتا تھا۔اس وقت سیاسی قیدیوں سے ملاقات پر پابندی تھی۔جبکہ معمولی قیدویوں کے لئے کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی۔لیکن ہم جیسے شاہ مخالف  قیدیوں کو ملاقات کی اجازت نہیں تھی اورجیل میں ان دو مہینوں میں،میں کسی سےنہ مل سکا۔جس زمانہ میں،میں زندان قصر میں تھا وہاں کچھ ایسے قیدیوں کو گرفتار کرکے منتقل کیا گیا تھا جنہوں ورامین میں قیام کیا تھا۔اگرچہ وہاں کچھ ایسے قیدی بھی تھے جنہیں دوسرے شہروں سے گرفتار کرکے لایا گیا تھا۔بہت سے لوگ اس بیرک میں میرے ساتھ تھے ۔اور ان میں سے میرے ساتھ سید محسن طاھری،حسن آقای تھرانی اور آقای جعفری تھے۔یا یوں کہا جائے کہ یہ وہ افراد تھےجن کا تعلق تحریک آزادی اور قومی محاذ سے تھا۔اور ان قیدیوں میں دیگر افراد میں ایک سونار بھی تھا جس کی سونے چاندی کے بازار کی ابتدا ہی میں دو دکانیں تھیں۔بہت سے علما دین بھی تھے جن میں آقای محتشمی،آقای انصاف گو تھے اور کچھ ایسے افراد بھی اس جیل میں تھے جو پریس میں کام کیا کرتے تھے اور انہوں نے کیپٹلزم کے اعلامیہ پر دستخط بھی کیا تھا۔

جس زمانے میں ہم ’’قصر زندان‘‘ جیل میں تھے اس وقت شاہ کے کمانڈوز رات کے  وقت سیاسی قیدیوں کو زد و کوب کیا کرتے تھے۔اور بہت ہی وحشیانہ برتاؤ کرتے تھے۔۱۵ خرداد یعنی جن ایام میں ہمیں گرفتارکیا گیا تھا اس وقت  غلطی سے کچھ غیر سیاسی اور عام لوگوں کو بھی اٹھا لایا گیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت ایک قیدی ایسا تھا جو مازندران کا رہنے والا تھا اور بازار جہیز اورشادی کا سامان خریدنے گیا تھا لیکن اسے سیاسی فعالیت کرنے کے جرم میں گرفتار لیا گیا تھا۔چونکہ بازار میں بلوا ہورہا تھا اوراس وقت وہ وہاں موجود تھا لھٰذا سیاسی سرگرمی اور فساد کرنےکے جرم میں اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ زندان قصر میں قید کے  مراحل اس طرح تھے کہ سب سے پہلے قیدی کو ’’قرنطینہ‘‘ میں یعنی طبی قید میں علاحدہ رکھا جاتا تھا۔اس کے بعد اس کا سر مونڈ دیا جاتا تھا۔لیکن جو افراد سیاسی مجرم تھے انہیں سیاسی قیدیوں کی ایک خاص جیل میں رکھا جاتا تھا۔

۱۵ خرداد ۱۳۴۲ کے بعد سے جیلوں کی نوعیت تبدیل ہوگئی تھی کیوں کہ اس سے پہلےتک ان میں زیادہ تر کمینوسٹ قیدی رہا کرتے تھے لیکن امام رہ کی تحریک کے بعد سے ان میں زیادہ تر متدین قیدی آنے لگے تھے۔یا یوں کہا جائے کہ جیل امام خمینی کی تحریک سے وابستہ افراد سے پر ہوگئے تھے۔

زندان قصر میں میری قید کے دوران فوجی حکومت تھی۔قانون شمارہ ۵ کے تحت اگر کوئی قیدی اپنی سیاسی فعالیت کا جرم قبول کرلیتا تو اس کے ساتھ ویسے ہی برتاؤ ہوتا اور اس کو سزا ہوجاتی لیکن اگر دومہینوں کے اندر شکنجے اور سختیوں کے باوجود وہ جرم قبول نہیں  کرتا تھا تو اسے آزاد کرنا پڑتا تھا۔چونکہ میں متحدہ گروپ سے وابستہ تھا اور متعدد بار گرفتار ہوچکا تھا لھٰذا مجھے معلوم تھا کہ کہ باز پرس کرنے والے سے کیسے بات کرنی ہےاسی لئے میں نے کبھی اقرار نہیں کرتا تھا۔اور اسی لئے میں دومہینوں کے بعد ’’زندان قصر‘‘ جیل سے رہا ہوگیا۔اور بعد میں اس جیل کو ٹارچر کا مرکز بنادیا گیا۔اوربہت سے افراد قصر زندان میں شہید ہوگئے تھے۔قصر زندان سے متعلق بہت سی یادیں ہیں۔مرحوم بہشتی کو بھی زندان قصر میں قید کیا گیا تھا۔

’’زندان قصر‘‘ کے میوزیم میں تبدیل ہوجانے کے بعد اب ہمارے جوان مشاھدہ کرسکتے ہیں کہ یہ انقلاب اتنی آسانی سے کامیاب نہیں ہوا ہے۔امام کی جلاوطنی کے دوران عوام کو اسی قید خانے میں مختلف طریقوں سے ٹارچر کیاجاتا تھا۔زندان قصر کے میوزیم میں تبدیل ہوجانے سے جوانوں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ کس طرح جوانوں کو اذیتیں دیا کرتے تھے اور ان پر کس قسم کے تشدد کیا کرتے تھے۔وہ لوگ جوانوں کےساتھ کیسا سلوک کرتے تھے اور ہم اب کیا کررہے ہیں۔انقلاب کے بعد کی دوسری اورتیسری نسل کو جاننا چاہئے کہ عوام نے کس طرح سے شاہی حکومت سے مقابلہ کیا تھا۔

 


حوالہ: سائیٹ تاریخ شفاہی
 
صارفین کی تعداد: 723


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔