مسجد گوہر شاد کے قتل عام سے متعلق ایک نئی دستاویز

غلامرضا آذری خاکستر
ترجمہ: سیدہ افشین زہرا

2015-11-26


مسجد گوہر شاد کے اس قتل وغارت کو (۸۰)اسی سال ہوچکے ہیں اس دوران مختلف کتابیں ،دستاویزات اور رپورٹیں ،اس واقعے سے متعلق شائع ہوچکی ہیں جن میں سے تقریباً سبھی نے اس واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے دلائل ،وجوہات ،نتائج اور مرنے والوں کی تعداد پر بات کی ہے.

 سن 1935 میں جولائی کی گیارہ سے تیرہ(11سے13) کے دوران ،حرم امام رضا ؑ  کے زائرین اور مجاورین نے ،رضا شاہ کی غیر مذہبی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور مسجد گوہر شاد میں مشہد کے علماء کی قیادت میں اور بہلول گنا بادی کی پرجوش تقریروں کے باعث دھرنا دیا اور اپنے پہلے عملی اعتراض کا مظاہرہ کیا۔


پہلوی حکومت کے ایجنٹوں نے اسکے جواب میں ،قتل و غارتگری کا سہارا لیا اور حملہ و تشدد کرکے اس دہرنے کو ختم کرادیا مگر سینسر شپ اور حکومت کی طرف سے شدید ردعمل کیوجہ سے اس واقعے میں مرنے والوں کا صحیح اعداد وشمار اب بھی مجہول ہے، گرچہ یہ اعداد وشمار مختلف سرکاری دستاویزات اور رپورٹس میں بیان کئے گئے ہیں مگر زیادہ تر حکومتی مراکز سے شائع ہونے والی دستاویزات کیوجہ سے ان اعدادوشمار کو کم کرکے ہی بتایا گیا ہے(1) جبکہ کچھ عینی شاہدین اور وہ لوگ جنہوں نے بعد میں اس واقعے پر لکھا،اس اعداد وشمار کو زیادہ بتاتے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ مشہد میں غیر ملکی قونصل خانے کی اطلاعات کے مطابق جو رپورٹ شائع ہوئی اسمیں بھی مرنے والوں کی تعداد کو حکومتی بیان شدہ اعداد وشمار سے زیادہ بیان کیا گیا(2)لھذا ان تمام شواہد سے یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے عمداً ان اعدادوشمار میں اختلاف ظاہر کیا گیا تاکہ مقدمہ چلانے اور سزا سنانے جیسی عدالتی کارروائیوں میں رخنہ اندازی کی جاسکے.

 

جدید ترین ریکارڈ جو کہ تقریباً ایک سال قبل ،کچھ محققین کی جانب سے مقامی پریس میں شائع کیا گیاہے (3) اور مشہد کے گلشور قبرستان (4)کے دفتری ریکارڈ سے مطابقت رکھتا ہے بیان کیا گیا ہے کہ سن 1935 میں جولائی کی 11 سے17 تاریخ کے دوران 20 افراد کا اندراج ہوا ہے جنکی موت گولی لگنے کیوجہ سے ہوئی ہے اسی طرح اس رجسٹر کے صفحات 40 سے 46 تک جن مرنے والوں کے نام درج کئے گئے ہیں اور ان کے کوائف بھی ،اسی واقعے کی وجہ سے ہونے والی موت کی نشاندہی کرتے ہیں ،اس رجسٹر میں میت کا نام ،والدیت ،خاندان،شناخت،پیشہ ،تاریخ اجراء،عمر،سال،وطن وشہر،گھر کا پتہ،بیماری جسکی وجہ سے موت ہوئی ،ڈاکٹر کا نام،فوت ہونے کی تاریخ،مردہ خانہ،اور یہ سب کوائف بتانے والے کا نام ،خاندان اور اسی

طرح کے مختلف دوسرے کوائف بھی تفصیلی اور درست لکھے جاتے ہیں اور بطور ریکارڈ محفوظ کرلئے جاتے ہیں،اس واقعے سے دو روز قبل یعنی 9 جولائی 1935 سے لیکر 24 جولائی 1935تک ،مرنے والوں کی اسامیاں جو شہر مشہد میں فوت ہوئے درج ذیل ہیں

مشہد میں فوت ہونے والوں کی تعداد

تاریخ 

9

9/7/1935

16

10/7/1935

22

11/7/1935

4

12/7/1935

4

13/7/1935

27

14/7/1935

9

15/7/1935

27

16/7/1935

14

17/7/1935

21

18/7/1935

19

19/7/1935

5

20/7/1935

11

21/7/1935

13

22/7/1935

22

23/7/1935

سب سے زیادہ اموات 14سے16 جولائی کے دوران ہوئیں جنکی تعددا27 تھی اور 15روز کے دوران مشہد کے گلشور قبرستان میں223 جنازے دفن کئے گئے جن میں سے 20 افراد کی موت کی وجہ گولی لگنا تھی جبکہ باقیوں کو مختلف بیماریوں جیسے اسہال ،سکتہ قلب،ٹائیفائڈ،نمونیہ وغیرہ کے باعث رجسٹرکروایا گیا،


لیکن وہ لوگ جو 11،12 جولائی تک اور گولی کا نشانہ بنکر مرے ان میں 11 جولائی اس واقعے کے پہلے دن ایک سات سالہ لڑکے سیاوش دیہیمی(مشہد کے سراب محلے) کا نام رجسٹر کروایا گیا ہے اور شاید یہ اس واقعے کا سب سے کم عمر شہید تھا،اور اسطرح کے کم سن بچوں کا وجود اس واقعے میں شامل ہونے والے مختلف لوگوں اور عمروں کی نشاندہی کرتا ہے اسی طرح 14 جولائی کو 10 افراد کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ کے بارے میں کچھ معلومات نہیں درج ہوئیں اسی طرح 16 جولائی کو ۸ افراد کو گولی کا نشانہ بن کر مرے اور ان کی میتیں لائی گئیں کہ صرف ایک شخص محمد جعفر کا نام مکمل تفصیلات کے ساتھ درج ہوا اس طرح ایک اور شخص چند روز بعد لایا گیا جسکی موت گولی کا نشانہ بننے کیوجہ سے ہوئی کہ ان تمام تفصیلات سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ بعد میں لائے گئے افراد وہ تھے جو اس واقعے میں شدیدزخمی ہوئے اور بعد میں چل بسے مگر ان کو بتدریج قبرستانوں میں دفن کیا گیا تاکہ اس واقعے کے حقائق کی پردہ پوشی کی جاسکے اسکے علاوہ ایک شخص اسداللہ جسکا تعلق فوج سے تھا انہی افراد میں شامل تھا یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی فوجی مرا تھا یا ان کوائف کے رجسٹروں کے علاوہ بھی کچھ دوسرے رجسٹرتھے جن میں اس واقعے میں گولی کا نشانہ بن کر مرنے والوں کا اندراج ہوا؟ ان دستاویزات اور حقائق کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آسکی ہے،جسکے باعث محققین کیلئے تحقیق و تحلیل کرنے کے حوالے سے کوئی بھی مستند دستاویز موجود نہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ مسجد گوہر شاد کے اس قتل عام پر ایک حتمی نتیجہ گیری کرسکیں ،اب جبکہ اس واقعے کو اسی(۸۰)سال گزرچکے ہیں مگر آج بھی واقعے سے متعلق کوئی مقام یا یادگار موجود نہیں جو اس شہر کے باسیوں کو اس واقع کی یاد دلاسکے۔

 

پیشہ

محلہ

معالج

فوت کی وجہ

تاریخ

عمر

ولدیت

نام

نمبر شمار

----

سراب

----

گولی لگی

11/7

7

-------

سیاوش دیہیمی

1

فوجی

ارگ

ڈاکٹر شاملو

گولی لگی

14/7

24

کربلائ صفر

اسد اللہ

2

----

ارگ

-----

گولی لگی

14/7

27

حسین

رضا

3

----

----

-----

گولی لگی

14/7

20

مرحوم محمد

رمضان

4

----

----

------

گولی لگی

14/7

35

----

غلام حسن

5

----

----

ڈاکٹر مجاذی

گولی لگی

14/7

43

مرحوم مشہدی تقی

کربلائ حبیب

6

----

----

------

گولی لگی

14/7

39

------

مرد(نامعلوم)

7

----

----

-----

گولی لگی

14/7

29

-----

مرد(نامعلوم)

8

----

----

------

گولی لگی

14/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

9

----

----

-----

گولی لگی

14/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

10

----

----

-----

گولی لگی

14/7

17

-----

مرد(نامعلوم)

11

----

----

-----

گولی لگی

16/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

12

----

----

------

گولی لگی

16/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

13

----

----

------

گولی لگی

16/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

14

----

----

-----

گولی لگی

16/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

15

----

----

------

گولی لگی

16/7

------

-----

مرد(نامعلوم)

16

----

----

-------

گولی لگی

16/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

17

----

----

------

گولی لگی

16/7

-----

-----

مرد(نامعلوم)

18

----

----

------

گولی لگی

16/7

34

-----

مرد(نامعلوم)

19

-----

----

------

گولی لگی

17/7

20

-----

مرد(نامعلوم)

20

1۔مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں قاسم پور داؤد،قیام مسجد گوہر شاد,بہ روایت تہران انقلاب اسلامی دستاویزی مرکز،2007
2۔مجد،محمد قلی رضا شاہ،موسسۂ مطالعات وسیاسی ریسرچ 2010
3۔بیات،حسین،7 لوگوں کے نام جو واقعہ مسجد گوہر شاد میں شہید ہوئے،2014
4۔گلشور،شمال مشرق میں مشہد میں واقع ہے،چودہویں صدی کے اوائل سے لیکر تقریباً آدھی صدی تک مشہد کاعمومی قبرستان تھاجو بہشت رضا قبرستان کی تعمیر کے بعد پارک میں تبدیل ہوگیا شہر مشہد کار یسرچ مرکز 2013 ،ص261


حوالہ: سائٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 634


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔