میں سب سے کم سن ایرانی قیدی تھا

گفتگو: سارا رشادی زادہ
ترجمہ: سید جون عابدی

2015-11-24


اشارہ:

ایران پر عراق کی طرف سےآٹھ سالہ تحمیلی جنگ ایرانی فوج کی ہمت وشجاعت کے ساتھ تمام ہوئی۔ اس عظیم فوج کے کچھ جوان شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے اورکچھ زخمی ہوگئے تھے،لیکن جنگ کے خاتمہ کے بعد بھی ایرانی فوج کے کچھ افراد ایک عرصہ تک عراقیوں کی قید میں رہے اوراذیتوں اور ظلم کے باوجود اپنے عقائد اور اصولوں پر ڈٹے رہے۔ان میں سے بعض ایسے کم عمر قیدی بھی تھے جن کے صبر واستقامت نے دنیا والوں کو تعجب میں ڈال دیا تھا۔اسی دوران کے ایک کم سن قیدی مھدی طحانیان ہیں جن کی عمر صرف ۱۲ سال  تھی جنہوں نے ایک غیر ملکی رپورٹرسے سرڈھکنے کو کہا تھا۔یہ وہی بچہ ہے جس نے آزادی کے کئی سالوں کے بعد اپنی تمام یادداشتوں کو ’’سرباز کوچک امام رہ‘‘میں بیان کیا ہے۔ہم ان کے ساتھ کی ہوئی گفتگو کو پیش کررہےہیں۔

 

طحانیان صاحب پہلے توآپ ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔کس طرح آپ جنگ کےلئے گئے؟

میرا نام مھدی طحانیان ہے۔میری عمر 46 سال ہےاور میں صوبہ اصفہان کے شہر اردستان کارہنے والا ہوں۔

اسلامی انقلاب کے شروع ہونےہونےکے ساتھ میں اپنی عمر سے بڑھ کر کام انجام دیا کرتا تھا اورمجھ مین انقلابی ذوق و شوق پیدا ہوگیاتھا۔ اور انقلاب کی کامیابی تک اس کے لئے جو کرسکتا تھا انجام دیا۔

ابھی انقلاب اسلامی کو کامیاب ہوئے تھوڑا سا عرصہ ہی گذرا تھا کہ ایران وعراق کی جنگ شروع ہوگئی؛جنگ شروع ہوتے ہیں بسیج کے تشکیل دینےکی باتیں ہونے لگیں اوراس کو بنانے کےلئے کیمپ لگائے جانے لگے۔

مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں نے بسیجیوں کے سب سے پہلے کیمپوں شرکت کی تھی۔اس وقت میں نے خود سےکہا تھاکہ اب یہ بسیج نامی جگہ بنگئی ہے اوریہاں عمر کےسلسلہ میں زیادہ توجہ نہیں کیجاتی ہے تومیں یہاں سے آسانی سے محاذ پر جاسکتا ہوں۔

اسی فکر کے ساتھ میں بسیج میں شامل ہوگیا اور دن رات بسیج ،اس کے ٹریننگ کیمپوں اور فوجی اور عقیدتی جلسوں میں بہت جوش کے ساتھ شرکت کرنے لگا؛یہاں تک کہ پہلی بار آپریشن طریق القدس میں بھیجنےکے لئے میرا نام دیا گیا۔ لیکن میرے نام پر ایک رائے نہیں ہوسکی۔

ایسے ہی دن گذرتے رہے یہاں تک سال ۱۳۶۱ آگیا اور میں ذمہ داران کی موافقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیااورمیں نے آپریشن فتح المبین اوراس کے بعد آپریشن بیت المقدس میں شرکت کی اور اسی آپریشن کے تیسرے مرحلہ میں مجھے اسیر کرلیا گیا۔

 

کیا آپ کو یاد ہے کہ کس طرح پہلی بار جنگ کی خبر سنی تھی؟اس وقت آپ کہاں تھے اورکیا کررہے تھے؟

اس وقت ہمارا گھر بہت چھوٹا تھا ہمیں بہت اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت اپنے والد کے ہمراہ گھرتعمیرکررہا تھا کہ جنگ شروع ہونےکی خبرآئی اورمعلوم ہوا کہ عراق نے ایران پرحملہ کردیا ہے۔اور جنگ شروع ہوگئی ہے۔

 

اس وقت آپ اور آپ کے ساتھیوں کا جنگ کے بارے میں کیا نظریہ تھا؟کیا آپنے سوچا تھا کہ جنگ اتنی لمبی کھنچ جائے گی؟

میں اس عمر میں اس سلسلہ میں اتنا زیادہ نہیں سوچتا تھا۔لیکن مجھے یاد آرہا ہے کہ جب جنگ شروع ہوئی تھی تواس وقت عوام بہت زیادہ دباؤ میں تھی اور اسے بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔ مسلسل الارم کی صدائیں، لاٗئیٹ بند کا اعلان،جنگی فضا اورشہروں پربمباری کے حالاتا تھے۔عوام کی حالت اورمیری اپنی دل کی آواز کے پیش نظرمیں یہ احتمال دے رہاتھا کہ یہ بھی امریکہ کی ایک چال ہے۔اوریہ سلسلہ جاری رہے گا۔اس وقت دوسری طرف سے امام خمینی رہ ان کے مقابل میں کھڑے ہوئے تھےاورمسلسل پیغامات دے رہے تھے۔ مثلا وہ فرماتےتھے’’اگر بیس سال تک بھی یہ جنگ چلتی رہے ہم اس کے مقابلہ میں کھڑے رہیں گے۔‘‘ان کی ان باتوں نے آہستہ آہستہ ایک طولانی جنگ کے لئے ہمارے ذہنوں کو آمادہ کردیا ہے۔

 

پہلی بار جب آپ محاذ پر گئے اور قریب سے جنگ کا مشاہدہ کیا تو اسوقت اور اس عمر میں آپ کے کیااحساسات تھے؟

پہلی بار جب  ہم کو جنگی محاذ پر بھیجا گیا توپہلے ہم شہید بہشتی فوجی چھاؤنی گئے۔ ہم وہاں رات کو پہونچے تھے۔ہمیں مکمل وسائل دئے گئے اورہم اپنے ٹھکانوں میں مستقرہوگئے۔مجھےیاد ہے کہ عراقی جہاز مسلسل ہمارے سروں پرمنڈرا رہے تھے۔اس سے پہلے میں ان چیزوں کو نہیں دیکھا تھا۔ مجھے اب بھی توپ کی آوازیں یاد ہیں۔اس وقت ہم دورسےانہیں دیکھتے تھے اوران کی خوفناک آوازیں سنا کرتے تھے۔ اور خدا ہی جانتا ہے کہ میں کس جوش و جذبہ کے ساتھ اس جنگ کے بارے میں  سوچتا تھا۔

 

ہم بھی جب پہلی بار محاذ پر گئے اور آپریشن فتح المبین میں شرکت کی تو اس وقت میں نے جنگ کو کچھ حد تک محسوس کیا تھا۔اگرچہ ہم پشتپناہ فوج کے عنوان سے تھے لیکن ہم نے جنگی مناظر کو پہلی بار وہیں دیکھا تھا۔اس وقت بڑے افسران ان جوانوں کو جنہیں محاذ سے آشنائی نہیں تھی اور انہیں محاذ پر جانا تھا،ترجیح  دیتے تھےکہ پہلے سے ان کے سامنے ایسے مناظر پیش کئےجائیں تاکہ وہ اس ماحول سے آشنا ہوجائیں۔اور خود یہ فیصلہ کریں کہ آگے جانا ہے یانہیں؟

مجھے یاد ہے کہ جب ہم آپریشن سے واپس آئے تو کمانڈروں نے مجھ سے کہا کہ:’’تم محاذ کی پہلی صف کے نزدیک سے ہوکرآچکے ہو۔اوروہاں کے حالات کو دیکھ لیا ہے۔اب فیصلہ تمہارے ہاتھوں میں ہے چاہو تو رک جاؤ یا چاہو تو واپس چلے جاؤ۔‘‘مجھے یاد ہے کہ بہت سے لوگ واپس چلے گئے تھے لیکن خدا کا شکر ہےکہ ہم ڈٹے رہے اورآپریشن بیت المقدس میں شرکت کی۔

 

اپنی اسیری کے بارے میں ہمیں بتائیں کہ کس طرح عراقی فوج نے آپکو گرفتار کیا تھا؟

اس آپریشن میں دشمن کو دو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اور اسی بات کے پیش نظر صدام اپنے فوجی جنرلوں پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ حملے سخت کردئے جائیں۔اور اسی شکست سے بوکھلا کر اس نےاپنے کچھ کمانڈروں کو قتل بھی کروا دیا تھا۔

عراقیوں کے پاس نہ پلٹنے کا راستہ تھا اور نہ ہی وہ آگے جاسکتے تھے۔جیسا کہ عراقی قیدیوں نے ہمیں بعد میں بتایا تھا کہ اگر انمیں سے کوئی محاذ کو چھوڑتا یا کسی وجہ پیچھے ہٹ جاتا تو بقیہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ انہیں گولی ماردی جائے۔اور اگر سپاہی فرار کررہا ہوتا اور کوئی سپاہی اس کو ماردیتا تو اس کو انعام دیا جاتا۔

دوسری طرف سے ہم کامیابی اور مقصدکوحاصل کرنےپرمصرتھے؛ لیکن دشمن نے ہمارے اوپربہت سخت آتش کی بارش کی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہماری کامیابی کی  رفتار دھیمی پڑ گئی تھی؛جب ہمیں پیچھے  ہٹنے کا حکم آیا اورقرار پایا کہ کچھ لوگ ٹھہریں گے اوربقیہ واپس جائیں گے تو اس وقت تک صبح ہوچکی تھی ۔ میں نے رکنے کا ارادہ کیا اورمیں وہاں رکا رہا۔ میں نے اور میرے دوستوں نے گولیاں چلانا شروع کردیں اورشدید جھڑپ شروع ہوگئی تھی۔ نتیجۃ مقابلہ کرتے ہوئے ہمارے سارے ساتھی شہید ہوگئے اور کوئی نہیں بچا۔ میں  اس دن صبح سےرات تک بھاگتا رہا اوربہت تھک گیا تھا۔ بہرحال عراقی ہمارے علاقوں میں گھس رہے تھے اوروہاں تک بھی آپہونچے جہاں میں تھا۔

میں تین زخمیوں کے ساتھ پناہ میں تھا۔اور سوچ رہا تھا کہ رات تک یہاں رکوں گا اور رات کی تاریکی اوردوسرے آپریشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عراقیوں کے چنگل سے نکل بھاگوں گا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ جیسے جیسے عراقی فوجی نزدیک آرہےتھے زندہ اور زخمیوں کو گولیوں سے مارتے جارہےتھے؛کیوں کہ انہیں مال چاہئے تھا۔بالآخر وہ ہم تک بھی پہونچ گئے اورجب میرے پاس آئے تومیرے دو زخمی ساتھیوں کو ختم کرڈالا اور چونکہ میں صحیح وسالم تھا مجھے اسیر کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔اور یہیں سے میری قید کا آغاز ہوتا ہے۔

 

 آپ کی کم سنی کے پیش نظر عراقیوں نے آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا؟

جب مجھے اسیر کرکے لیاجایا گیا توعراقی بہت تعجب کررہے تھے، جس وقت عراقی ہماری سرحد سے نکل کر اپنی سرحد میں پہونچے اوراپنی چھاؤنی میں پہونچے تو سارے عراقی اپنا مورچہ چھوڑ کر میرے ارد گرد جمع ہوگئے تاکہ مجھے بہتر طور پر دیکھ سکیں۔ آپ یقین کریں کہ میں بیچ میں بیٹھا ہوا تھا اورلوگوں کا ایک ہجوم میرا حلقہ کئے ہوئے تھا۔ مجھے اوپراچھال رہے تھے تاکہ مجھے صحیح طریقہ سے دیکھ سکیں۔ مجھے یاد ہےکہ انکا کمانڈر بارآواز لگارہا تھا :’’تفرقوا‘‘،یعنی ہٹ جاؤ۔ لیکن کوئی اس کی باتوں کو سن ہی نہیں رہا تھا۔اور مسلسل شور مچارہےتھے۔ یہاں تک کہ مجھے وہاں سے دور کردیا گیا۔بلکہ وہاں سے ہٹا ہی دیاگیا۔

مجھے بصرہ کی طرف لے جایا گیااور بصرہ میں بھی مجھے صبح تک ان لوگوں نے سونے نہیں دیا۔ پوچھ تاچھ کرنے والے فوجی مسلسل مجھ سے پوچھ تاچھ کرتے رہے اورمیں صبح تک پلک تک نہ جھپک پایا۔وہ لوگ بار بار میرے سل میں آتے اور میری عمر اوردیگر مسائل کے بارے میں سوال کرتے۔اور یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے اگلے دن  عراقی انٹلیجنس کے افراد میرے پاس اور پروپگنڈا اوراپنی فوج میں جوش پیدا کرنےکے لئے مجھے ان کے سامنے پیش کیا۔ لیکن پروردگار کی عطا کردہ ہمت اورجوش کی بنیاد پر میں انکے سامنے تسلیم نہ ہوا اور ساری اذیت اورمصیبتیں سہنے کے باوجود میں نے ان کی مرضی کے مطابق کچھ نہ کیا۔اگرچہ میں ان تمام یادداشتوں کو کتاب میں لکھا ہے۔

یہاں تک کے مجھے صدام کے ماموں زاد بھائی اورچیف کمانڈر اورعراق کے وزیر دفاع کے پاس لے گئے،تاکہ وہ کچھ کرسکے۔لیکن وہ لوگ مجھے جہاں بھی لیجاتے خدا میرا یاور و مددگار رہا۔ میرے ساتھ جو مترجم تھا وہ ہربار یہی کہتا کہ مھدی اس بار تمہارا کام تمام ہے،اس بار تمہیں مارڈالیں گے۔لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود میں میں اپناکام انجام دےرہا تھا اوروہ اپنا کام کررہے تھے۔ بہرحال مجھے بغداد لے گئے اور ڈیڑھ دنوں تک مجھے وہاں انٹلیجنس کے دفتر میں رکھا اوراس کے بعد فوجی کیمپ لےگئے۔

کیمپ میں ایک نئی داستان کاآغازہوجاتا ہے۔میری قید اورمیرے دوسرے ساتھیوں کی قید میں بہت فرق تھا،کیوں کہ میں جہاں بھی جاتا لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتا اورسب میرے ذریعہ اپناکام بنانا چاہتےاور میرے ہی ذریعہ سے اپنی روٹیاں سیکنے چاہتے تھے۔میرے شانوں پر ایک بڑٰی ذمہداری تھی اوراس سلسلہ میں میرے بزرگ بہت پریشان تھے اورانہیں بھی اسی وجہ سے بہت اذیتیں دی گئیں۔ لیکن ہماری مزاحمتوں کا نتیجہ سخت اذیتیں اورتکلیفیں ہوا کرتی تھیں اورکئی سالوں یہ تک سلسلہ جاری رہا۔

 

وہاں موجود دوسرے قیدیوں کا سلوک آپ کےساتھ کیسا تھا؟کیا آپ کی عمرکا کوئی دوسرا قیدی بھی تھا؟

جس زمانہ میں مجھے قید کیا گیا تھا اور وقت میں سب سے کم سن قیدی کے عنوان سے پہچانا گیا تھا۔ اورمیں جہاں بھی جاتا بزرگ قیدی مجھ سے بہت محبت سے پیش آتے۔ میں  قیدیوں کے بچوں کی عمر کا تھا اور میرا وجود انکے لئے بچوں کی کمی پوری کررہا تھا۔ اوراسی لئے وہ لوگ میرا بہت خیال رکھتے تھے۔

 

ہم نے کئی بار خاص دنوں مثلا  فوجیوں کی آزادی کے موقع پر یا مقدس دفاع کے ہفتہ میں آپ کی اس ویڈیو کو دیکھا جس میں ایک ہندوستانی رپورٹر آپ سے انٹرویو لےرہی ہے یہ ویڈیو ۱۳۶۲ کا تھا،تو آج ہم وہ باتیں آپکی زبان سے سننا چاہتے ہیں۔ کیا ہوا تھا کہ آپنے ایسے رد عمل کا مظاہرہ کیا اورایسے جملات کہے؟

میری قید کو ایک سال ہو رہا تھا اورمیں عنبر نامی کیمپ میں تھا۔میں نے کئی رپورٹروں کا سامنا کیا تھا۔ ہربارایک رپورٹر آتا اورمیرے پاس سے ناکام ہوکر واپس جاتا۔عراقی بہت ناراض تھے اورخود کو شکست خوردہ سمجھ رہے تھے وہ میرے جوابات کے بارے میں رپورٹروں کے  پاس آتے اوراپنا دل انہیں سے خالی کرتے  تھے۔اوراس کے بعد ہم  سب کو تنبیہ بھی کی جاتی تھی؛خاص طور پر اس کیمپ میں جہاں میں تھا۔ ایک دن تقریبا ۱۰ رپورٹر میرے پاس آئےاور مجھ سے کہا:’’تعال مھدی‘‘ یعنی مہدی آؤ۔ جب میں گیا تو ایک بار پھر میرے جوابات نے انہیں بہت ناراض کیا اور معمول کے مطابق رپورٹروں کے جانےکے بعد کئی ہفتوں تک ہم پر تشدد کیا گیا۔

 دھیرے دھیرے عراقیوں نے دیکھا کہ ان کے اس طریقہ کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے اور انکا پلان ناکام ہوچکا تھا۔مجھے وہ لوگ الرمادی کے کیمپ لے گئے۔وہاں آپریشن والفجر کے ابتدائی مرحلہ میں اسیر ہونے کچھ دیگر کم سن فوجیوں کو رکھا گیا تھا۔ ان کے درمیان بھی ظاہرا میری عمر سب سے کم نظر آرہی تھی۔

مجھے یاد ہےکہ تقریبا ایک ماہ تک اس رپورٹر والے مسئلہ کو بہت اچھالا گیا اورمجھے بار بار دھمکیاں کی دی جارہی تھیں۔ کہ اگر اس باررپورٹر آئے تم ایسا کرنا اوریہ کہنا،یہ نہ کہنا اور اگرایسا نہیں کیا توہمیں تمہارے ساتھ ہرقسم کا برا سلوک کرنے کی اجازت ہے۔ اوردیکھنا کہ ہم تمہارے ساتھ کیا کرتے ہیں۔اس کے ایک مہینہ کے بعد رپورٹر پھر سے کیمپ میں آئے۔ مجھے یاد ہےکہ کیمپ کا کمانڈر چونکہ مجھے پہچانتا تھا اس  نے کہا:’’جتنا ممکن ہو اس مھدی کو  رپورٹر کی نظروں سے دور لے جاؤ۔اس کو انٹرویو کی اجازت نہیں ہے اگر اس نے ایک لفظ بھی کہا تو اس کے انجام کے ذمہ دار تم لوگ ہوگے۔‘‘

اور وہیں پر جو ایرانی کمانڈر تھے انہوں نے بھی ہم سے کہا کہ:’’مھدی تم انٹرویوں نہ دینا۔انہیں تم سے چھٹکارا پانےکا بہانہ چاہئے۔ تم انٹرویو مت دو‘‘۔

میں نےکہا ٹھیک ہے اور میں اپنے آرام کرنی کی جگہ پرجاکر چھپ گیا تاکہ رپورٹروں کی نگاہ مجھ پر نہ پڑے۔ میں نے ایک تکیہ رکھی اوراسی کے پیچھے چھپا رہا۔اسی دوران یہ خاتون رپورٹر ہمارے آرام کرنے کی جگہ پر آگئی اور کچھ افراد سے انٹرویو کیا، انکا ویڈیو بنائی اورجانےلگی۔ مجھے یاد ہےکہ وہ جارہی تھی اور میں نے سوچا کہ وہ چلی گئی ہے اورتکیہ ہٹا دیا کہ وہ عورت دوبارہ آگئی تاکہ ایک نگاہ اور ڈال لے۔اورجیسے ہی اس کی نظرمجھ پر پڑی وہ فورا میری طرف آگئی۔

دوسری طرف سے ایرانی اورعراقی کمانڈر اس کے پاس آگئے اورکہنے لگے :’’تم تو انٹرویو لے چکی ہواب اس کیا ملےگا چلو رہنے دو اس کا انٹرویو مت لو۔آؤ واپس چلیں۔‘‘ لیکن رپورٹر مصر ہوگئی اور کہنےلگی:’’میں تو اس کا انٹرویو ضرور لوں گی۔‘‘

جب میں انٹرویو دینے کے لئے جارہا تھا تو وہ عراقی کمانڈر مجھے بہت غصہ سے دیکھ رہا تھااوربہت ہی غرور اورتکبر سے باتیں کررہا تھا۔ اور رپورٹرکے سامنے غصہ سے پیر پٹخ رہاتھا کہ میرا انٹرویو نہ کرے۔خلاصہ یہ کہ جیسے ہی وہ رپورٹر میرے پاس آئی اورانٹرویو لینے چاہا میں نے معمول کے مطابق اس کو پردے کرنے کو کہا:’’میں نے اس سے کہا اگرتم میرا انٹرویو لینا چاہتی ہوتو پہلے حجاب کرو۔۔۔‘‘خلاصہ یہ کہ میں نے ان کے لئے بہت مشکلات پیدا کردیں۔ مجھے یاد ہے کہ سارے فوجی مجھ پر بھڑک اٹھے اورمجھے دھمکیاں دینے لگے۔

 

یعنی وہ خاتون  رپورٹر پہلی عورت تھی جو آپ سے انٹرویو کرنے کے لئے کیمپ میں آئی تھی۔اور اس سے پہلے خاتون رپورٹر نہیں آئی تھی جس سے آپ نے حجاب کے بارے میں گفتگو کی ہو؟

اس سے قبل ماہ رمضان میں ایک بار ایسا ہوا تھا جب میں عنبر کیمپ میں تھا۔ اور ایک واقعہ ایک ایرانی رپورٹر کےساتھ کا تھا جس کی داستان کافی طولانی ہے۔اوراس کےعلاوہ بھی بہت سے مواردہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس سلسلہ میں،میں نے بہت مار کھائی ہے۔

 

۳۲ سال کے بعد بھی یہ واقعہ ویسے ہی مشہور اور باقی ہے،اس سلسل میں آپ کا کیا کہنا ہے؟

 وہ اس لئےکہ رپورٹروں کے ساتھ  میری بقیہ ملاقاتوں کی کوئی سند اور ویڈیو نہیں ہے۔وہ صرف یاددوں میں موجود ہیں ۔لیکن اس مورد کی  ویٖڈیو فلم بنی تھی جوکہ موجود ہے اس لئے اس کو شہرت اورمقبولیت مل گئی۔ ورنہ ایسے انٹرویو بھی تھے جو اس سے زیادہ بھڑکیلے تھے؛ چونکہ اس سے متعلق کوئی رکارڈ موجود نہیں ہے لھٰذا اسے فراموش کردیا گیا۔

 

اگر آپ جنگ اورقید تمام واقعات میں سے کوئی سب سے اہم یادداشت بیان کرنا چاہیں تو کون  سی یاد کو بیان کریں گے؟

اس زمانہ کی  بہت سی یادیں ہیں اور ابتک میں نےاس سلسلہ میں یہ سوچاہی نہیں کہ سب سے بہترین یاد ان میں سے کون سی ہے۔

 

اگر ابھی آپ سوچیں تو کون سا واقعہ آپ کے ذہن میں آئیگا؟

قید کے زمانہ میں میرے سامنے جو حالات تھے انہوں نے میرا کام بہت مشکل کردیا تھا۔ لیکن ساتھ ساتھ ان واقعات میں سے کچھ ایک بعد ایک بہت اچھےاور دلچسپ تھے۔ میرے ذہن میں یادوں کا ایک انبارہے جن میں سے میں کسی ایک کو الگ کرنا اوربیان کرنا میرے لئے مشکل ہے۔

 

یقینا قید کے دوران بہت سے ایسے گروہوں سے آپ کا سامنا ہوا ہوگا جن کا اثر ورسوخ بہت زیادہ رہا ہوگا؛تو آپ اس کم سنی میں کس طرح رہایئ کی ان پیشکشوں کا سامنا کیا تھا۔اورکس طرح مخالف گروہ سے بچ پائے؟

جی ہاں؛ مختلف گروہ آیا کرتے تھے یہاں تک کہ مھدی ابریشمچی  بھی آیا کرتا تھا،جس کا مسعود رجوی کے بعد مجاہدین خلق(منافقین) میں دوسرا مقام تھا۔ وہ کانٹے دار تاروں کے اس طرف آتے تھا اور لاؤڈاسپیکر لیکر یہ اعلان کرتا تھا کہ تم لوگ فریب خوردہ ہواور اورصرف اپنے دل کو بہلا رہے ہو،اس طرح کی باتوں سے وہ لوگ تبلیغ کیا کرتے تھے۔لیکن ان میں کیمپ میں آنےکی ہمت نہیں تھی اور وہیں باہر سے باتیں کرتے تھے؛اور ہم ان کی باتوں کو مسلسل سنتے رہتے تھے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ آؤ ہماری آزاد بخش فوج کے رکن بن جاؤ تاکہ ہم تم کو یہاں سے آزاد کرواسکیں۔

اور جوانوں کو اپنی  طرف کھینچنے کی خاطر شادی اورگھرکی بھی لالچ دیا کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ لوگوں کو جذب کرنے کے لئے بہت ہی لبھاؤنے وعدے کیا کرتے تھے۔اگر انسان اعتقادی اورنفسیاتی لحاظ سے کمزور ہوتا تو فورا ان کی باتوں میں آجاتا؛لیکن خدا کے لطف وکرم سے ہم میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ ان کی باتوں میں آیا ہو اور ان کی پیش کش کو قبول کرلیا ہو۔

اگرچہ ہم سے قبل کچھ لوگ ہم سے جدا ہوگئے تھے۔اور انہیں ایک الگ جگہ پر رکھا گیا تھا حتیٰ کہ ان کا کھانا بھی بہت اچھا ہوتا تھا ۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کی باتوں کا مثبت جواب دیا تھا۔ جب رپورٹر ان سے انٹرویو کے لئے آتے تھےتو وہ لوگ ان سے وہی باتیں کرتے تھے جوعراقی کہلوانا چاہتے تھے۔ان میں سے بعض افراد اپنے اس کام پرشرمندہ ہوگئے تھے اور ایک ہفتہ کے اندر ہی کیمپ میں واپس آگئے تھے؛ بعض گئے اور واقعی ان کے حربوں میں گرفتار ہوگئے۔اس کے بعد کچھ اورلوگوں نے توبہ کرلی اوراپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور ایران واپس آگئے۔

 

آخری سوال،جب آپ قید سے چھوٹ کر واپس ایران آرہے تھے،اس وقت ایک ۲۱سالہ جوان تھے اس وقت آپ کیسا محسوس کررہے تھے اور آگے کی زندگی کے لئے آپ کا کیا  پروگرام تھا؟

میری آزادی کا ماجرا بہت ہی عجیب و غریب تھا سمجھئے معجزہ تھا۔ عراقیوں کی مجھ سے دشمنی اور نفرت کے پیش نظرمیں نے کبھی آزادی کے بارےمیں سوچا بھی نہیں تھا۔ اورساری امیدیں صرف خدا سے تھیں۔

مجھے ایک لمحہ بھی آزادی کا خیال تک نہ آیا تھا۔لیکن صدام کا کویت پر حملہ کرنا اوراس کے بعد کی درگیریاں اس بات کا سبب بنیں کہ صدام کو اپنا موقف بدلنا پڑا اوراورایک حد تک ایران کے سلسلہ میں اپنے آتشی رویہ میں کمی کردی اور ہمیں اچانک آزادی کی خبرسنائی گئی۔ اگرچہ ہمارے لئے یہ بہت ہی حیرت کی بات تھی۔ بہرحال ایسا ہی ہوا اور مجھے اتنی بھی فرصت نہ ملی کہ میں اپنے دوستوں کو خدا حافظ کہتا؛ بہرحال ہم کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم آزاد ہوگئے ہیں۔

ہم نے آزادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا کیوں کہ قید کے دوران اصلا ہمارے پاس وقت ہی نہیں تھا کہ بیٹھ کر اپنی آزادی کا پروگرام بنائیں۔واقعی ہمیں آزادی کی کوئی امید نہ تھی کیوں کہ عراقیوں کی دھمکیوں سے آزادی کی صورت بہت سخت ہوچکی تھی۔


حوالہ: سائٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 609


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔