ڈاکٹر حبیبی کی یونان کے سفر سے جڑی یادیں


2015-11-10


نوٹ: اس مقالے میں ثقافتی اور فرہنگی شخصیت مرحوم ڈاکٹر حسن حبیبی اور ان کی انقلاب کی کامیابی کے موقع پر ،15سال بعد سن 1357 میں ایران واپسی،زیر بحث نہیں ہے بلکہ اس مقالے میں ان کے اس سرکاری دورے کومدنظر رکھا گیا ہے جو انہوں نے ایران کے اولین (پہلے)  نائب کے بطور ملک یونان کا کیا، اور اہم ،سن 1357 کی پہلی سے تیسری اسفند کی وہ تاریخیں ہیں جس میں پہلی بار جمہوری ریاست ایران کا نائب، سرکاری طور پر یورپ اور اس کے رکن ممالک کادورہ کررہا تھا، ڈاکٹر حبیبی، سن 1357 کی پہلی اسفند کو ایک اعلیٰ سطحی سیاسی واقتصادی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے ، تین روزہ سرکاری دورے پر یونان کے دارالحکومت ایتھنز پہنچے، یہ انقلاب اسلامی ایران کی فتح اور کامیابی کے بعد پہلا سرکاری دورہ تھا، گرچہ ان دونوں ممالک کے مابین روابط کا آغاز سن 1240 شمسی سے ہی ہوچکا تھا اور ایران کا اس دور کا سفیر، استنبول میں یونانی حکومت کے پاس بحثیت ( ایکریٹٹڈ ایمبے سڈر) Accredited Ambassador کے طور پر پہنچ گیا تھا اور ایران کا تعارف پیش کیا جاچکا تھا (1) لیکن 13، تیر 1323 شمسی یعنی  دوسری جنگ عظیم کے دوران چونکہ یونان جرمنی کی قابض فوجوں میں گھرا ہوا تھا اور اسکی حکومت قاہرہ میں تھی لہذا ایران نے اپنے سفیر کو اس عارضی حکومت (2) کے پاس بھیجا تھا۔ لہذااس مرتبہ کا سفر اس لحاظ سے نیا تھا کہ اب دونوں حکومتوں کو ایک لمبے عرصے تک ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا تھا اس سفر کی یادوں کو مصنف نے لکھ کر محفوظ کرلیا گرچہ یہ ابتدائی سفر تھا اور نہیں معلوم تھا کہ یہ تحریر آئندہ کسی کام آئے گی بھی کہ نہیں مگر بہت تفصیل سے اس سفر کو اسطرح سے لکھا گیا ہے " وفد کے یونان پہنچنے سے پہلے دارالحکومت ایتھنزز کی سڑکوں کو اور بالخصوص پارلیمنٹ ہاؤس کے نزدیک کی سڑکوں اور شہر کی اہم کانسٹی ٹیوشن چوک کو ، ایران کے جھنڈوں سے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا  تھا حکومت یونان کی طرف سے یہ ایک گرانقدر مہمان کے استقبال کاپرتپاک انداز تھا، وفد پہنچا توڈاکٹر حبیبی اور ان کے ساتھیوں کا والہانہ استقبال کیا گیا اور پھر ان سب کو شہر کے قدیمی اور بہترین ہوٹل " گرینڈ بریٹیگنی ہوٹل "میں ٹھرایا گیا،  یہ ہوٹل اس سطح کے مہمانوں کی قیام گاہ کے حوالے سے مقبول تھا جس کے بعد ڈاکٹر حبیبی اور وفد محل میں " محترم کا ستاس سیمیتیس ، یونان کے وزیراعظم سے ،ان کی کابینہ کے ہمراہ ملے (3)،اس ملاقات میں ڈاکٹر حبیبی نے ایران کے یورپ اور اسکے رکن ممالک کے ساتھ روابط اور ان کے درمیان آنے والے نشیب و فراز کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی اورا ن تعلقات کو سراہا اسکے ساتھ ساتھ اس بات کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں ایران ان ممالک کے ساتھ ، اقتصادی تبادلے کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، انہوں نے یونان اور ترکی کے دیرینہ اختلافات پربھی بات کی اوراس بات کا یقین دلایا کہ تہران اس معاملے اور اختلاف کو حل کروانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے اور کہا کہ " آپ کے ساتھ جو گفتگو انجام پائی ہے۔ اسکے بعد ہمیں امید ہے کہ ،ہمارے دوست بھی اس سے اتفاق کریں گے ،گرچہ ثالثی بننا کوئی آسان کام نہیں مگر اگر ہمارے دوست ممالک ہم سے یہ خدمت مانگیں گے توہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان کیلئے ہمیشہ حاضر ہیں " انہوں نے مزید کہا کہ اس دوستی کا اثر ہم سب ممالک پر اور اس خطے پر ہوگا جہاں بین الاقوامی قوانین کے تحت ہم اس دوستی کو فروغ دیں گے اور اپنے خطے میں امن قائم کرسکیں گے۔

 

گرچہ اس مشورے کو یونان کی طرف سے کوئی پذیرائی نہیں ملی مگر ایران نے اس مسئلے میں اپنا کردار واضح کرکے اپنے فریضے کو پورا کردیا۔ یونان نے اعلان کیا کہ ہم ایران کے ساتھ اپنے برقرار ہونے پر خوش ہیں اور ان کو استحکام بخشنے کے خواہاں ہیں، انہوں نے ایران ،یونان، بلقان و قفقاز کے درمیان سہ فریقی تعاون کو خیر مقدم کرتے ہوئے اسکو سراہا۔ ڈاکٹر حبیبی کے مطابق ایران اس دوستی میں ایک پُل کی حیثیت رکھتا ہے اور اسطرح اس رفت و آمد کا فائدہ تمام ممالک کو ہوگا،جس وقت محل میں یہ وفد ،یونان کے وزیر اعظم سے ملاقات اور گفتگو کررہا تھا،یونان میں کاریگروں کے ایک گروہ کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کی اپیل پر ریلی نکالی گئی تھی اور مظاہرے ہورہے تھے ان کی آوازیں اور نعرے اتنے بلند تھے کہ محل کے اندر تک شور شرابے اور نعروں کی آوازیں آرہیں تھیں ،  ڈاکٹر حبیبی کے  ان مظاہروں اور نعروں کے بارے میں سوال کرنے پر یونان کے وزیراعظم نے بہت ٹھنڈے انداز میں جواب دیا کہ : اس طرح کے مظاہرے یونان میں ہوتے رہتے ہیں اور حکومت کو ان سے کوئی سروکار اور نقصان نہیں ہے"


ڈاکٹر حبیبی نے اس دورے کے دوران یونان کے صدر " کنستانتین استفانوپولوس (4) (اسوقت کے صدر) اور ایک برجستہ شخصیت سے بھی ملاقات کی ،یونان کے صدر نے اس بات پر زور دیاکہ ایران ایک بڑا ملک ہے اور خطے میں خاص اہمیت کا حامل ہے، ایران نے ہمیشہ اسلامی ممالک کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں جسکی وجہ سے ہم ایران کیلئے خاص اہمیت اور عزت کے قائل ہیں یونان ایران کو تسلیم کرتا ہے اور ہر طرح کی پیش رفت میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے انہوں نے خطے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے تہران کے دوستانہ رویئے کی بھی تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔


اس سفر میں ،یونان کی نؤ ڈیموکریسی پارٹی کے صدر ،مسیتو تاکیس(5)نے بھی ڈاکٹر حبیبی سے ملاقات کی انہوں نے ملاقات میں کہا کہ ایران اور یونان صاف اور روشن سیاست کی پیروی کرتے ہیں اور ہم ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو پسند کرتے ہیں،اس سفر میں محترمہ پایاریگا،کمیونسٹ پارٹی کی مدیر نے بھی ملاقات کی، یونان میں کمیونسٹوں کی ریاست اب بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر حبیبی نے دوسرے روز محترم آوراموپولوس، ایتھنز شہر کے میئر سے بھی ملاقات کی اورشہر ایتھنز کا شہری اعزاز ونشان بھی وصول کیا ، انہوں نے کہا یہ شہری نشان دونوں ملتوں کی باہمی دوستی اورمحبت کا نشان ہے ۔ ڈاکٹر حبیبی نے،  اس ملاقات میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور یونان کی عوام ان چند ممالک کی عوام میں سے ہیں جنہوں نے تہذیب وثقافت کی تاریخ کو رقم کیاگیا ہے اور اس تاریخ میں اپنی شناخت اور مقام کو محفوظ رکھا ہے۔

 

 ہمارے ایتھنز آنے کا مقصد بھی تعاون،دوستی اور بھائی چارے کا یقین دلانا ہے اس کے علاوہ ایران یونان دوست تنظیموں کے مختلف اراکین اور نمائندوں نے بھی ڈاکٹر حبیبی اور ایرانی وفد سے ملاقاتیں کیں،ڈاکٹر حبیبی نے ایک ملاقات کے دوران فرمایا کہ ہمیں اپنی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کو بروئے کارلاتے ہوئے ،دونوں ملتوں کو ، ایک دوسرے کے قریب لانا ہوگا ، اس جلسے میں ایتھنز کی الہیٰات یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ولگاریٹ نے بھی یہ اعلان کیا کہ ایران ویونان کی دوستی کی یہ تحریک ہردن مضبوط اور وسیع ہوتی رہے گی اس جلسے میں مختلف موضوعات جیسے ملک کی ادبیات اور موسیقی پر بھی بات کی گئی اور ان پر موضوعات پر ڈاکٹر حبیبی کے سوالات اس بات کی نشاندہی کررہے تھے کہ ان کی معلومات ان شعبوں میں بھی کافی وسیع ہے۔


اس دورے میں ڈاکٹر حبیبی نے پارلیمنٹ کے صدر اور سوشلسٹ پارٹی کے سینئر رکن سے بھی ملاقات کی،کاکلامانیس صاحب (7) نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ان قوانین کو وسعت کیلئے تیار ہے جو ایتھنز اور تہران کے روابط بہتر کرسکیں انہوں نے کہا ایران کی قوم کی آزادی اور استقلال کیلئے،گراں بہا قربانیاں ،قابل تعظیم ہیں انہوں نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ،ملت ایران کا ایک جابر وظالم حکومت کے خلاف یہ جہاد اور انقلاب ان کی بہترین ثقافت کی نشانی ہے اورفطری ہے کہ ایک بڑے انقلاب کے بعد اس کے خلاف منفی پروپیگنڈے کئے جائیں ،یونان جس طرح انقلاب کے مشکل دور میں ایران کا حامی تھا بالکل اس طرح آج بھی اور ہمیشہ ایران کے ساتھ رہے گا،شہر ایتھنز ،انقلاب کی ان شرائط کو سمجھتا ہے اور آمادہ ہے کہ تہران کے ساتھ ،سیاسی ،ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں روابط برقرارکرے۔


ڈاکٹر حبیبی کے ایتھنز میں قیام کے دوران، محترم چوخاجو بولوس (8) یونان کے سول کے وزیر دفاع نے بھی ہوٹل میں ملاقات کی، ڈاکٹر حبیبی نے اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے کے تخریبی عوامل اوران کے اثرات پر بات کی اور ساتھ ساتھ ترکی اور یونان کی دوستی کے بارے میں بھی کہا کہ ایک ثالثی ہی ،گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے اس دوستی کو کرواسکتا ہے اور یہ مسئلہ باآسانی حل ہوسکتا ہے اور یونان جیسا قدیم ثقافتی اثاثہ رکھنے والا ملک ،اگر چاہے تو مذاکرات اور صلح آمیز گفتگوخطے کے ان حصوں کو بحران ،ناامنی سے نکال کر صلح اور آشتی تک لاسکتا ہے،  اور اس مسئلے کا حل صرف دوستی میں ہے اور دشمنی اور نفرت طرفین میں سے کسی کیلئے بھی سود مند ثابت نہیں ہوسکے گی۔


اپنے دورے کے آخری دن انہوں نے یونان میں قدیم ایرانیوں اور یونان یونیورسٹی کے فارسی ڈپارٹمنٹ کے طالب علموں سے ملاقات کی یہ ملاقات ان باقی ملاقاتوں سے ہٹ کر دوستانہ ماحول میں کی گئی لہذا ڈاکٹر حبیبی نے طنزومزاح کا بھی سہارا لیا اور اپنی گفتگو میں ایران سے باہر بھی فارسی زبان کو سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور اسکی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اس ملاقات کے آخری گھنٹوں میں ڈاکٹر حبیبی یونان کی ایک تاریخی جگہ " ڈلفی مندر " بھی گئے یہ ایک ایسی جگہ ہے جسکے مشتاق بہت سے

لوگ ہیں بالخصوص وہ جو تصوف اور فلسفے کے شعبوں سے وابستہ ہیں یہ ایک ثقافتی مرکز بھی ہے اور تاریخی بھی ڈلفی مندر ایک ایسی تاریخی جگہ ہے جو یونان کے دارالحکومت ایتھنز سے دوسو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے،یونانی اس جگہ کی اہمیت کے قائل تھے اور اس جگہ کو زمین کا مرکز مانتے تھے یہ ایک قدیمی شہر ہے جو پہاڑوں کے اوپر واقع ہے اس شہر کی عبادت گاہ بہت خوبصورت بڑی ہے جس نے ایک پورے پہاڑ کے دامن کو گھیرا ہواہے،اس ڈلفی مندر کایونانیوں کی خرافاتی عقائد اور تاریخ سے بہت گہرا رشتہ ہے اور یہ مندر اور عبادت گاہ آپولو کی وجہ سے خاص خصوصیت کی حامل ہے اور مشہور ہے۔ (9) یونانیان قبلی (پچھلے اورقدیم یونانی )میلادمسیح سے آٹھ صدیوں پہلے تک ڈلفی کو دنیا کامرکز مانتے تھے ،اس میں آپولو خدا کے لئے ایک معبد بنایا گیا تھا جس کے بارے میں قدیم یونانیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اس جگہ اور معبد میں آپولو ایک فرشتے کے ذریعے ،لوگوں سے باتیں کرتاہے اور ان کی فریادوں کو سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو سن کر ان مشکلات کا حل بتاتاہے۔یہ معبد ۳۹۰ میلادی کے بعد رومیوں نے بند کردیا تھا جس کے بعد ۱۹۳۰ کی دہائی میں ،تاریخ شناسان نے اس پر تحقیق کی اور زمین کو کھود کر اسکو دوبارہ سے یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا،اس معبد کو جب آپ دیکھیں تواس کے کچھ حصے بہت خوبصورت اورقابل دید ہیں جن میں محراب اور آپولو خدا کی عبادت کی جگہ ،تھیٹر ہال ،اسب سوار والی چوک ،پیشن گوئی کرنے والے،اور نجومیوں کے بیٹھنے کی جگہ اور برنزارابہ ران کا مجسمہ جسکو اب میوزیم بنادیا گیا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اسکو دیکھنے آتی ہے ،اس میوزیم کا نام ڈلفی میوزیم رکھا گیا ہے۔


ڈاکٹر حبیبی کے اس سرکاری دورے کو میڈیا کوریج بھی ملی اوراس دورے کی کوریج تین سرکاری ٹی وی چینلز نے دی جن کا نام Net,Ert-1 اور Ert 3 تھا اس کے علاوہ ملک کے مختلف اخباروں نے اب اس خبر کو چھاپا ،ان اخباروں میں تانہ آ، الفروتیپیا آوگی ،الفتروس تیپوس ،استیاورداینی و آبوگو ماتینی وغیرہ شامل ہیں امریکہ کے اسوقت کے وزیر خارجہ مادلین آلبرایت نے یورپ اوراس کے اتحادیہ ممالک کے روابط کو ایران کیساتھ بہتر بنانے کی اس کوشش کو تنقید کا نشانہ بنایا مگر بہت سے ملکوں کے ساتھ ساتھ یورپ کے رکن ممالک نے بھی ،امریکہ کی اس تنقید کی پرواہ کئے بغیر ، ایران کے گیس اورتیل کے پروجیکٹس میں سرمایہ گزاری کا اعلان کردیا ،اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حبیبی اور ان کے وفد کی یہ کوشش رنگ لائیں اور یونان کایہ سفر مثبت نتائج لے کر آیا اور مختلف سرکاری شخصیات کی رفت وآمد کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنا۔

 

 

 


 

 



 
صارفین کی تعداد: 1817


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – گیارہویں قسط

جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد، صدام کی حکومت کو یقین ہوگیا کہ فوج اس سے زیادہ کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؛ اور یہ کہ وقت کی گردش اُن کے فائدے میں نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔