سید مرتضیٰ نبوی اور محل کی یادیں


2015-10-11


سید مرتضیٰ نبوی ،محل کی یادوں کو بیان کرتے ہیں

مرتضیٰ نبوی،انقلاب سے پہلے کے سیاسی قیدیوں میں سے ہیں جو زیادہ تر محل کی جیل میں قید رہے لہذا انکی یادیں اور مشاہدات اسی قید سے متعلق ہیں،نبوی صاحب ابھی بھی روزنامہ رسالت کے مدیر،تشخیص مصلحت نظام کونسل وانجینئرز کی مرکزی کونسل کے رکن ہیں۔

آپ کو پہلی بار کس جرم میں گرفتار کیا گیا اور کب محل کی جیل میں لے کر گئے؟ سن 52میں مہر کے مہینے کا آغاز تھا مجھے انجمن مجاہدین خلق کی مالی امداد کرنے کے جرم میں گرفتار کیا اور 6ماہ بعد جوائنٹ انسداد دہشت گردی کمیٹی میں ہونے کیوجہ سے محل کی جیل میں منتقل کردیا گیا۔

 

آپکی سزا کی مدت کیا تھی ؟ یعنی آپکو کتنے سال کی سزا ہوئی؟
پہلے مرحلے میں تین سال کی سزا ہوئی تھی جوکہ بعد میں تجدید نظر کے باعث دو سال کم کردئے گئے لیکن سزا کے اختتام کے بعد مجھے محل کی جیل سے تو نکال دیا مگر اوین جیل منتقل کردیا جو کہ قوی قیدیوں کی وجہ سے بڑا مشہور تھا۔


یعنی بغیر کسی نئے جرم اور سزا کے آپکو نئے جیل بھیج دیا گیا ؟
جی بالکل،کیونکہ وہ لوگ ڈرتے تھے کی اگر میں رہا ہوگیاتو دوبارہ انقلابی سرگرمیوں میں مشغول ہوجاؤں گا لہذا مجھے قید رکھا بس میری جیل بدل دی۔


مجاہدین کی انجمنوں کی مالی امداد کاالزام،ایسا عنوان ہے جسکی بناء پر کافی سیاسی قیدیوں،جیسے آغا سنجابی کو قید کی سزا ہوئی ؟توکیا یہ حمایت اور امداد منظم طور پر کی جاتی تھی ؟
نہیں ایسی بات نہیں ہے،میں بذات خود شہید ڈاکٹر لبافی نژاد سے متاثر ہوکر اس گروہ کیلئے مالی امداد جمع کرنے لگا تھا ہم ایک اجلاس میں شریک تھے جہاں انہوں نے اس تنظیم کے ارکان کی خفیہ زندگیوں اور ان کی اقتصادی بدحالی کا تذکرہ کیا تھا جس سے متاثر ہوکر میں نے ایک دوست کے ساتھ مل کر رقم اکھٹی کی اور آغاعلی یار محمدی جوان کے قریبی دوستوں میں سے تھے ان کو دی اور پھر ایسا ی کرنے لگے بعد میں جب میں گرفتار ہوا تو معلوم چلا کہ آغا یارمحمدی تھی اس رقم کو صحرا کار تک پہنچایا کرتے تھے اور وہ بھی اسکو محمد مہر آیین جوکہ اس زمانے میں داؤد آبادی کے نام سے مشہور تھے ان کو دے دیا کرتے تھے وہ اس زمانے میں ایک فیڈریشن کے انچارج ہونے کے ساتھ ساتھ مجاہدین کے جوڈو کراٹے کے استاد بھی تھے،ان مجاہدین کی خفیہ زندگیوں کیوجہ سے ان کے اہلخانہ کرائے اور روزمرہ کے اخراجات کیلئے پریشان رہتے تھے لہذا فطری طور پر ہمیں ان سے ہمدردی ہوئی کیونکہ وہ ایک ایسا گروہ تھا جو مسلح ہوکر جنگ کررہا تھا او ربحیثیت اسلامی اورمذہبی جماعت کے اپنے اعلانات میں اس جابرانہ حکومت کے خلاف احتجاج کررہاتھا۔


پانچ چھ ماہ مشترکہ کمیٹی گذارنے کے بعد اب جب محل کے قید خانے میں آتے ہیں تو یہ بتائیے کہ آپ کے ساتھ اور کون کون اس قید خانے میں قید تھا؟
جہاں تک مجھے یاد ہے ایک آغا عبدلمجید معاد یخواہ تھے،آغا پوررنجانی،شہید تند گویان اور ایک بزرگ عالم بھی تھے جو بعد میں سات تیر کے واقعے میں شہید ہوئے،آغا حسینی بھی تھے جو زابل کے ابتدائی دور کے نمائندے بھی تھے اس کے علاوہ کچھ مجاہدین بھی تھے جیسے ابوذر و رداسبی وغیرہ۔۔۔۔۔

 

قید خانے میں آپ کا کیا روٹین تھا اور زیادہ تر وقت کس کے ساتھ گزارتے تھے؟ یاکس سے بات چیت کیا کرتے تھے؟
جب مجھے اس جیل میں ڈالا گیا تو میں نے یہ سوچا یہ مطالعے کیلئے سب سے اچھا اور مناسب موقع ہے میں کچھ وقت اپنے جیسے کیس میں اندر آنے والوں کے ساتھ گزارتا تھا کیونکہ آغا یارمحمدی،صحرا کار اور مہر آیین کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا اور ان کو بھی اسی قید میں رکھا گیا تھامگر ان سب میں آغا یار محمدی سے میری زیادہ دوستی تھی تو پھر انہی کے ساتھ مل کر قرآن کی تفسیر پڑھنا شروع کردی تھی۔


آپ کونسی تفسیر پڑھا کرتے تھے ؟
وہاں مرحوم فیض کاشانی کی تفسیر ہی میسر تھی،تفسیر صافی کے عنوان سے جسکا متن بھی عربی تھا گرچہ مجھے عربی زبان آتی تھی مگر پھر بھی شروع میں مشکل ہوئی اسکے علاوہ استاد مرتضیٰ مطہری کی ایک دو تصانیف پڑھا کرتے تھے جنمیں مارکسٹوں کے ساتھ مقابلہ بہت کام آئی ۔

 

مگر آغا مطہری کا شمار تواس زمانے کے اپوزیشن گروپ میں ہوتا تھا تو کس طرح ان کی کتابیں زندان میں میسر تھیں؟
دراصل آغا مطہری ،آغا برودجردی کی شاگرد تھے اور وہ اپنے استاد کے کہنے پر ہی یونیورسٹی آئے تھے اور تعلیمی ادب سے آشنائی اورجدید علوم سے آراستہ ہونے کے باعث،نئے شبہات کا قرآن و اسلام سے جواب دیا کرتے تھے،جسکے نتیجے میں ان کے لیکچرز الہیات میں مشہور ہوگئے اوران کا یہ نصاب مختلف انجمنوں اور تنطیموں میں استعمال ہونے لگا مجھے یاد ہے ان کی دو کتابیں عدل الہٰی اورمادیت کی طرف مائل ہونے کی وجوہات میں نے جیل میں ہی پڑہی تھیں اور مجھے بہت پسند آئیں کیونکہ مجاہدین اور مارکسٹوں کے بہت سارے سوالات کے جوابات اسمیں موجود تھے لہذا مکمل طور پر آغا مطہری کی کتابیں اور تصانیف عام تھیں۔


کیا آپ کا ان قیدیوں کے ساتھ بحث و مباحثہ بھی ہوا کرتا تھا؟
نہیں مارکسٹ زیادہ بحث کرنے والے نہ تھے ان کا شکار زیادہ ترجوان ہوا کرتے تھے لہذا وہ ان جوانوں کے پیچھے لگے رہتے تھے کہ ان کو نماز روزہ سے غافل کرکے بعد میں کاملا دین اسلام سے خارج کرسکیں ایک دفعہ جمشید سپہری جوکہ کافی پڑھا لکھا اور قابل مارکسٹ تھا ہم نے چاہا اس سے بات کریں تو وہ کہنے لگا کہ آغا نبوی ہماری آپسمیں کوئی بحث نہیں ہے،ہم نے کہا مارکسٹوں نے دنیا کے کچھ ملکوں میں سرمایہ داری نظام کے خلاف انقلاب برپا کیا ہم بھی آج دین کی بنیاد پر انقلاب برپا کرنا چاہ رہے ہیں تو آئیں آپسمیں گفتگو کرتے ہیں وہ اس نے بہت عملی واضح اور دو ٹوک جواب دیا کہ وہ زمانہ انقلابوں کا زمانہ تھا اور عقیدہ تھا کہ انقلاب ماڈرن ہے اور دین کیونکہ سنت کی بنیاد پر ہوتا ہے اسلئے بوسیدہ اور پراناہے اور دونوں کا کوئی جوڑنہیں ہم نے اس عقیدے کی بنیاد پر کئی ملتوں کیلئے انقلاب برپا کئے ۔

 

شاید مذہبی لوگ بھی اس زمانے میں ایک مذہبی انقلاب کی یاایک دینی حکومت کی سوچ نہیں رکھتے تھے؟آپکا کیا خیال ہے۔
جی ایسا ہی تھا کیونکہ جب مجھے ٹارچر کرتے تھے تو تفتیش کرنے والا افسر قہقہے لگاتا اور یہ کہتا تھا،،یہ چاہتے ہیں حکومت قائم کریں،، اور یہ جملہ ان کیلئے مزاح اور مذاق تھا اور سچ پوچھیں تو ہمارے ذہنوں میں بھی اس حکومت ہٹا کر کسی خاص حکومت جو کہ مذہبی ہو، کو لانے کے بارے میں کوئی واضح خیال نہ تھا مگر یہ کہ ہم اصولوں کے پکے تھے او رجانتے تھے کہ اسلام کی مخالف حکومت کی ہرگز حمایت نہیں کرنی گرچہ حقیقت میں اسوقت ولایت فقیہہ اور امام خمینیؒ سے شناسائی تک نہ تھی اور ہم اس طاقتور جابر حکومت کا نعم البدل جانتے تک نہ تھے۔

 

آغا مطہری کی کتابوں کے علاوہ قیدیوں کو کونسی کتابیں پسند تھیں؟
میں خود جب جیل سے باہر تھا تو ڈاکٹر شریعتی کی کتابیں شوق سے پڑھتا تھا کیونکہ یہ کتابیں بھی مارکسٹوں کو جواب دینے کیلئے مواد فراہم کرتی تھی مگر جب جیل گیا اور آغا مطہری کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو جان گیا کہ ڈاکٹر شریعتی کے کتابوں کی نسبت یہ کتابیں زیادہ معلومات فراہم کرتی ہیں کیونکہ ڈاکٹر شریعتی کی کتابیں سماجی پہلو رکھتی ہیں لہذا آغا مرتضٰی مطہری کی کتابیں ہی زیادہ پسند تھیں۔


نظریاتی اختلافات کیوجہ سے آپ کے تعلقات مارکسٹوں سے کیسے تھے؟ کیا آپ لوگ آپسمیں ملکر کوئی کام کرتے تھے۔؟
ایسا نہیں تھا کہ بالکل ہی روابط نہ ہوں جیسے انمیں سے ایک کافی پڑھا لکھا تھا تو ہم دونوں مثنوی پڑہتے تھے مولانا رومی نے کئی جگہ احادیث استعمال کی ہیں تومیں عربی عبارات میں اسکی مدد کیا کرتا تھا جبکہ جو کوئی ہم دونوں کو ساتھ دیکھتا تھا تعجب کرتا تھا مگریہ سچ تھا۔


جیل کے حکام کا برتاؤ کیسا تھا؟
بہت برا اور سخت رویہ تھا انمیں سے صرف ایک افسر ایسا تھا جو ہم انقلابیوں کی مدد کیا کرتاتھا ابھی اسکا نام ذہن میں نہیں آرہا مگر اس کے علاوہ سب اذیتیں دینے اور سختیاں کرنے میں ماہر تھے خصوصاَ ہم مذہبی قیدیوں پر،جیسا کہ مجھے یاد ہے کہ ہمیں صبح کی نماز اٹھنے کی اجازت نہ تھی شہید تندگویان کی یہ بات مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کو نماز پڑھنے کی وجہ سے بہت اذیتیں دی گئی ایک دفعہ عید کی نماز کا قنوت انہوں نے بلند آواز سے پڑہایا تاکہ ہم بھی پڑھ سکیں تو اُس وقت ان کو اٹھا کر لے گئے اور بہت زیادہ ٹارچر کیا ۔

 

اس وقت جیل کا حاکم (افسر)کون تھا؟
میرے خیال میں سرگرد زمانی تھا۔


جیل کے اندر کا انتظام کیسا تھا ؟جیل کے اندر کے کاموں میں مذہبی اور غیر مذہبی ایک دوسرے کا کتنا ساتھ دیتے تھے؟
مجموعی طور ہمارے آپسمیں اچھے تعلقات تھے مگر سوائے ان لوگوں کے جو نیوٹرل تھے وہ اپنا حساب کتاب الگ ہی رکھتے تھے ان کا ایک چھوٹا ساکمرہ تھا وہ اسی میں رہتے اور کسی اور سے نہیں گھلتے ملتے تھے کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو مسلح جنگ کے خلاف تھے اور اگر دیکھا جائے تو جیل کے حکام بھی بس دو گرہوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے تھے ایک غیر مذہبیوں میں ان نیوٹرل لوگوں (قیدیوں) کے ساتھ اوردوسرا انجمن حجتیہ والوں کے ساتھ۔۔۔


جیل میں اتحاد اور تنظیموں کے مسائل کے حوالے سے ان دوگروہوں کے علاوہ باقی غیر مذہبی قیدیوں کے ساتھ آپ لوگوں کے تعلقات کیسے تھے۔؟

ہمارا جیل میں ایک نیٹ ورک یا تنظیم تھی اور ظاہر سی بات ہے دوسو،تین سو لوگ تھے بغیر کسی نظم وضبط اور تنظیم کے کام نہیں کرسکتے تھے لہذا ہم نے خفیہ طور پر ایک کمیٹی بنائی ہوئی تھی ہر دن ایک نمائندہ انتخاب کرتے جو باقی کاموں کی تقسیم بندی کرتا،ساتھ ہی یہ بھی بتاتا چلوں کی جیل میں مل کر کام کرنا،میرے پسندیدہ اور یادگار لمحوں میں سے ہے،جیسے جس دن ہماری باری ہوتی تو صبح جلدی اٹھ کر قہوہ بنانا،دسترخوان لگانا،سبکو بلانا پھر برتن دھونا پھر دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے انتظامات میں سارا دن اتنا مصروف گزرتا کہ پتہ ہی نہ چلتا۔

 

یہ نمائندہ آپکے گروپ کا ہوتا تھا یا مارکسٹوں کے گروپ کا؟
ویسے توان کی تعداد ہم سے زیادہ تھی لیکن کیونکہ یہ سب کام ٹیم ورک کے تحت انجام پاتے لہذا اسمیں آپس کا تعاون ضروری تھا اور ہم ملکر ہی کام کرتے تھے،چاہے نمائندہ کسی بھی گروپ کا ہو۔

 


کیا آپ مذہبی مناسبتوں پر،پروگرام وتقریبات کا اہتمام کرتے تھے اس پر مارکسٹوں اور جیل کی انتظامیہ کاردعمل کیا ہوتا تھا؟
ہمیں تو روزہ رکھنے کی اجازت بھی نہ تھی ،تقریبات تو بہت دور کی بات ہے،ہم انتظامیہ سے چھپ کر بستر میں ہی مختصرا سحری کرلیتے تھے اور نماز جماعت کی اجازت نہ تھی جسکے باعث ہم نے کچھ عرصے بعد یہ طے کیا کہ نماز کے اول وقت میں ہی چٹائیوں کے ٹکڑے لے کرسب صحن میں آجائیں گے اور ایک ہی جگہ فرداَ نمازیں پڑھ لیں گے گرچہ یہ طریقہ بھی انتظامیہ کو بہت ناگوار گزرتا اور وہ کسی نہ کسی طرح ہمارے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرتے گرچہ ہمارے درمیان بھی کچھ مجاہدین اور علماء ایسے تھے جوکہا کرتے تھے کہ ہمیں اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔

 

عام طور پر تقریبا سارے ہی لیڈر علماء جیلوں میں تھے؟تو محل کی جیل میں لیڈر کا کردار کونسا عالم ادا کرتا تھا؟
میں جب محل کی جیل میں تھا تو زیادہ تر عالم دین اوین کی جیل میں تھے مجھے یاد ہے کہ جب میں اوین جیل بھیجا گیا تو بہت سے لوگ آغا محمد جواد حجتی کے کہنے پر چلا کرتے تھے مجھے بذات خود،مرحوم سید نورالدین طالقانی بہت پسند تھے وہ بہت شجاع عالم تھے لہذا میں ان کے پاس زیادہ وقت گزارتا مگر جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ محل کی جیل میں کچھ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے مولانا تھے جن سے ہم سب اپنے مختلف مسائل میں رہنمائی حاصل کیا کرتے تھے جیسے عربی وغیرہ پڑھا کرتے تھے۔۔

 


کیا کوئی ایسا وقت بھی آیا جب آپ لوگ کمزور ہوگئے ہوں ؟یاجذبہ کم ہوگیا ہو؟
عام طور پر مذہبی لوگ اور قیدی سب سے زیادہ استقامت کامظاہرہ کرتے تھے اوران سب میں زیادہ پرجوش تھے باقی لوگ ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہوجاتے تھے لیکن ہم قرآن اور دعاؤں کا سہارا لے کر خود کو مضبوط بنائے ہوئے تھے۔

 

کیا جیل میں ورزش یا کسی اور سرگرمی کے امکانات تھے؟
بعض اوقات مناسب وقت ملتے ہی ہم فرصت سے فائدہ اُٹھا کرورزش کرلیا کرتے تھے یا سات سے آٹھ کے درمیان والی بال کھیلا کرتے تھے میرے مستقل ساتھی آغا سید یادی خامنہ ای ہوا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ انقلاب کے بعد بھی ہم کافی عرصے تک ساتھ مل کر ورزش کیلئے جاتے تھے۔

 

اسکے بعد کے سوالات جیل کے بعد کے یعنی آپکی رہائی کے بعد کے ہیں تویہ بتائیے کس حد تک جیل کا ماحول،پابندیاں ،ٹارچر،سختیاں،آپکی انقلاب کے بعد کی زندگی پر اثر انداز ہوئیں؟ جیساکہ آپکو اب کئی عہدے دیئے گئے ہیں تو وہ زندگی کتنی موثر ثابت ہوئی آپکے لئے؟
خاص بات یہ ہے کہ ہماری جیل میں کسی خاص شخص سے تکرار اورلڑائی نہ تھی یا اگر یوں کہوں کہ ہماری ذاتی کوئی دشمنی نہ تھی کہ بعد میں اسکی معافی تلافی کرتے ہم سب کا دشمن مشترک تھا جوکہ شہنشاہی حکومت تھی لہذا یہ جذبہ ہمیں بنانے کافی موثر ثابت ہوا اگرچہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سارے گروہ اور افراد اس انقلابی نظام اور امام خمینی ؒ کے مقابل بھی کھڑے ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ پھر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع مجھے میسر نہیں آسکا۔محضوصاَمجاہدین خلق کہ جنکا دعوٰی تھا کہ ایران کا رہبر ان کے گروہ میں سے ہونا چاہیے لہذا یہ سب عوام بہت ساری صلاحیتوں کو سلب کرنے کا باعث بنے اور بہت سارے کام جیسے ہونے چاہیں تھے نہ ہوسکے۔

 

کیا ان سب کا آپ کو دکھ ہوا؟
بالکل،ہوا،کیونکہ انمیں سے زیادہ تر افراد مسلمان تھے اور وہ انقلاب کیلئے معاون ہوسکتے تھے


کیا آپکا او ر ان کا ساتھ اور وہ جیل کی یادیں باعث بنیں کہ آپ انکی رہنمائی کرتے یا ان کو سمجھاتے؟
ہم نے اپنی سی پوری کوشش کی مگروہ نہیں چاہتے تھے لہذا نہ مانے میں آپکو ایک واقعے کے ذریعے سے سمجھاتا ہوں کہ ہمارے ہی کیس میں سے ایک شخص،جکا نام آغا ذاکری تھا میرے ساتھ یونیورسٹی میں بھی تھا گرچہ مجھ سے ایک سال سینئر تھا مگر جان پہچان کافی تھی۔جب ہماری سزا ختم ہوئی تو ہمیں آزادکردیا گیا مگر کچھ عرصے بعد اسکو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ان سے دوستی اور شناسائی کی وجہ سے میں ان کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر جاتا تھا ان کے بچے اسوقت چھوٹے تھے لہذا گھروالوں کی مدد کیا کرتاتھا کہ ان کی غیر موجودگی میں اہلخانہ کو کوئی تکلیف نہ ہو یہاں تک کہ وہ رہا ہوگئے مگر جب باہر آئے تو مکمل طور پربدل چکے تھے اور ہم انقلابیوں سے ملنا جلتا پسند نہیں کرتے تھے لہذا انہوں نے خود ہی ہم سے تعلقات توڑ لئے مثلا ملین مارچ میں مجھے یاد ہے کہ وہ خاص لوگو اور جھنڈے لے کر آئے ہوئے تھے اوراپنے آپ اور لوگوں کی پہلی صف کے درمیان فاصلہ رکھتے تھے کہ ان کی موجودگی اور شرکت سب پر عیاں ہوسکے کہ بعد میں ان ہی کی طرف سے کافی شورش برپا کی گئی اورمدعی بھی بنے۔


ان تنظیموں کے علاوہ بھی ،جیل میںآپ کے مذہبی گروہ کے کچھ اشخاص آج بھی دوسرے سیاسی حلقوں میں ہیں توکیا اب بھی آپ لوگ ساتھ بیھٹتے ہیں؟
جی بالکل،انقلاب سے پہلے بھی مسلمان لڑکوں نے انقلاب سے پہلے سیاسی قیدیوں کی ایسوسی ایشن بنائی ہوئی تھی اب چاہے وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں مگر پھر بھی ان سے ایک قلبی لگاؤ ہے کیونکہ وہ اس حکومت کے ایسے مخالف نہیں ہیں۔

 

لیکن اس تنظیم کا قائد کیوان صمیمی تو اب بھی جیل میں ہے؟
اتفاقاَ وہ اس گرفتاری سے پہلے اسی دفتر میں مجھ سے ملنے میرے پاس آئے ہوئے تھے لہذا یہ فطری ہے اور قلبی لگاؤ ہمارا برقرار ہے اور یہ دوستی الگ چیز ہے

 

میرا آخری سوال محل کی جیل کو میوزیم میں تبدیل کرنے سے متعلق ہے کچھ قیدیوں کے نام اس جیل پورے نہیں لکھے گئے ہیں مثلا لطف اللہ میثمی کا نام صرف لطف اللہ لکھاگیا ہے جو ان کی پہچان نہیں ؟ آپ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟

مجھے اس رائے سے اختلاف ہے اور میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیئے اور تاریخی واقعات کو سچا اور کھرا اورتمام منافقتوں سے پاک ہونا چاہیئے بالاخر کچھ کو آج ہم نہیں مانتے جوکہ سابقہ سیاسی قیدی رہ چکے ہیں لہذا ہمیں اس حقیقت سے انکار نہیں کرنا چاہیئے اور کتنا اچھا ہوکہ لطف اللہ کی جگہ لطف اللہ میثمی لکھا جائے۔۔۔؟
                                                                                      ابوذر مولوی
                                                                         ماخذ مہرنامہ 27نمبر آزر1391
                                                                                  صفحات 108-109



 
صارفین کی تعداد: 1778


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔